| اے این اے، وائٹ پلاٹون بالا مرغاب کی سیکیوریٹی کے لیے بہت اہم |
منجانب Tech. Sgt. Kevin Wallace, 100th Air Refueling Wing Public Affairs شئیرمتعلقہ خبریں
جوناتھن سوئیٹ مین، بلڈاگ ٹروپ، 7 ویں سکواڈرن، 10ویں کیولری رجمنٹ سے ایک وائٹ پلاٹون سکاؤٹ، 9 جنوری، 2011 کو بالا مرغاب، صوبہ بغدیس، افغانستان کے قریب کامبیٹ پوسٹ ڈیلوریئین کے قریب ایک تفتیشی گشت کے دوران چھوٹے ہتھیاروں کے ذریعے زیر حملے آنے کے بعد باغیوں کی سرگرمی کا معائنہ کرتے ہوۓ۔ اسکاؤٹس نے چار گھنٹے کی ایک پیچیدہ گھات لگا کر زیر حملہ آنے کے بعد گشت لگائی اور مستقبل میں مورٹار کے مشن کے لئے باغیوں کے چھپنے کی جگہوں کی نشاندہی کی۔ (فوٹو منجانب سارجنٹ کیون والس)
بالا مرغاب، افغانستان - (2 فروری، 2012) 6 جنوری کو تین مختلف سمتوں سے دشمن کے پے در پے حملہ آور ہونے کے بعد وائٹ پلاٹون کے نام سے جانی والی امریکی فوج کی ایک چھوٹی ٹیم جو کہ کامبیٹ آؤٹ پوسٹ ڈیلوریئین پر تعینات ہے کو بالا مرغاب کی وادی میں میدان جنگ کی جانچ پڑتال کرنے کا حکم ملا۔ وائٹ پلاٹون بالا مرغاب کے مرکز مین فارورڈ آپریٹنگ بیس پر موجود بلڈاگ فوجیوں کو رپورٹ کرتی ہے۔ یہاں کے فوجی 7 میں سکواڈرن، 10 ویں کیولری رجیمنٹ، فرسٹ بریگیڈ، چوتھی انفنٹری ڈویژن فورٹ کارسن، کالوراڈو میں سے تعینات کئے گئے ہیں۔ امریکی فوج کے فرسٹ لیفٹیننٹ نیکولس کاسٹیلو،وائٹ پلاٹون کے رہنما نے کہا کہ باہر پیدل گشت کرنے اور قریبی رہنے والے افغانوں سے بات چیت کرکے ہم نے کامیابی حاصل کر لی۔ ان سے ذاتی طور پر ملاقات کرنے سے ان پر یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہم بھی انسان ہیں۔ سٹاف سارجنٹ نکولس لیوس، جو یہ وہائیٹ پلاٹون کے ساتھ نان کمیشنڈ درجے کے افسر ہیں نے کہا کہ مجھے کسی پیدل گشت میں نہ مشغول ہونا پسند نہیں ہے۔ لیوس نے کہا کہ میں جب وہاں نہیں ہوتا تو ہمیشہ اپنے لڑکوں کے بارے میں فکر مند رہتا ہوں ۔ میں جانتا ہوں کہ وہ خود کو سنبھال سکتے ہیں لیکن مجھے اس بات کے بارے میں سوچنا بھی دشوار کن لگتا ہے کہ کسی ایک کو اگر چوٹ لگ جاۓ تو میں وہاں مدد کے لیۓ موجود نہیں ہوں گا۔ وائٹ پلاٹون نے بالا مرغاب میں مقیم افغان نیشنل آرمی فوجی، دو ٹیکٹکل ایئر کنٹرول پارٹی ائیر مین، زمینی فوجی یونٹوں سے منسلک ایک ایئر فورسگراؤنڈ ایسٹ اور ضرورت پڑنے پر بلانے کے لیۓ قریبی فضائی مدد، اور علاقائی کمان مغربی پبلک افیئرز سے دو فوجی صحافیوں کے اشتراک سے ایک ٹیم بنائی ہے۔ کاسٹیلو نے کہا کہ ہمیں چوکی کے مشرق میں دریا کے پرانے راستے کی جانچ پڑتال کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم یہ جان سکیں کہ دشمن کے دائرے میں کیسے گھس کر کیسے گھیر سکتے ہیں ۔ کاسٹیلو نے کہا کہ افغان نیشنل آرمی اور پولیس بہت شاندار ہیں۔ ہم ان کے ساتھ بہت کام کرتے ہیں اور ان کو تمام کارروائیوں اور تربیتی مشقوں میں شامل کرتے ہے ۔ جیسے ہی ہم پرانے دریا کے راستے پر پہنچے تو ان کو جنوبی مشرق جانب سے چھوٹے ہتھیاروں کے ساتھ نشانہ بنایا گیا۔ پلاٹون نے ابتدائی طور پر آڑ لی کہ اس کے بعد لیوس نےجوابی حملہ کیا اور فوجیوں کو آگے بلایا، ہر کوئی اپنی فائرنگ لائین پر آیا اور علاقے کا اچھی طرح سے مُعائِنہ کیا۔ اسی دوران، امریکی فضائیہ فوج کے سینئر فوجی ہوزے کروز- رچرڈسن، جو کہ ایک مشترکہ ٹرمینل اٹیک کنٹرولر ہیں، نے قریبی فضائی مدد کے لیۓ درخواست کی۔ کروز رچرڈسن نے کہا کہ ہم ان فوجیوں کو وہ سب کچھ دیتے ہیں جو ہم دے سکتے ہیں ۔ ہم ان کے ساتھ گشت کرتے ہیں اور ان کے ساتھ مل کر جنگ میں حصہ لیتے ہیں۔ جب دشمن بہت قریب ہو جاتا ہے، تو میرا کام یہ ہے کہ میں جیسے بھی ہو سکے قریبی ایئر فورس سے فضائی مدد یا ہماری فضائی طاقت ظاہر کرنے کے لیے مدد مانگوں۔ یہ لوگ میرے بھائی ہیں۔ کاسٹیلونے فیصلہ کیا کہ پلاٹون آگے اس طرف بڑھے گی جہاں سے گولیاں آ رہی تھیں اور وہ کھیتوں اور دریائی راستوں کی جانچ پڑتال کرئیں گی۔ کاسٹیلو لیوس، اور سارجنٹ جوناتھن سوئیٹ مین، ایک یونٹ کے این-سی-او، نے فوجیوں کوتین ٹیموں میں تقسیم کیا۔ انہوں نے جنگ کی جگہ سے انٹیلیجنس جمع کی۔ پیدل گشت کے بعد، سروس کے ارکان سی او پی ڈیلوریئین واپس چلے گیے، اپنی واپسی پر وہ کچھ گاؤں کے بزرگوں سے بات کرنے کے لیۓ رکے۔ گاؤں کے بزرگ کاسٹیلو کو آگاہ کرتے ہیں جب علاقے میں نئے لوگ آتے ہیں۔ جب سے اے-این-اے اور وہائیٹ پلاٹون نے بالا مرغاب کی جنوبی نوک پر اپنی جڑیں مظبوط کر لی ہیں، بہت سے دیہاتی جو کہ باغیوں کے خوف سے پہاڑیوں کی جانب بھاگ گۓ تھے وہ اب واپس آگۓ ہیں۔ کاسٹیلو نے کہا کہ یہاں پر اپنا قبضہ برقرار رکھنے سے باغیوں کو یہاں سے دور رکھا جاسکتا ہے ۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ جہاں ہم اپنی کارروائیاں کرتے ہیں اور جہاں ہم موجود ہوں ان علاقوں میں آنے سے دشمن خوفزدہ ہو اور ان کو یہ معلوم ہو کہ اے-این-اے یہاں دائمی طورپر موجود ہو گی ۔ وہ بالا مرغاب کی عوام میں مزید دہشت نہیں پھیلا سکتے۔ |
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 






















