صفحہ اول | CJIATF435 | افغان قومی فوج کے جوانوں نے کمپیوٹر نیٹ ورک کا تربیتی کورس شروع کیا

 Combined Joint Interagency Task Force-435 

افغان قومی فوج کے جوانوں نے کمپیوٹر نیٹ ورک کا تربیتی کورس شروع کیا
منجانب Sgt. Jason Boyd, Combined Joint Interagency Task Force 435

صوبہ پروان، افغانستان 23 نومبر 2010 - پروان کے قید خانے میں افغان قومی فوج کے جوانوں کی کمپیوٹر میں مہارت کو بہتر بنانے کے لیے کمپیوٹر نیٹ ورکنگ کا تربیتی کورس شروع ہو گیا۔

ان جوانوں کی تربیت 46 فوجی پولیس کمانڈ اور 193 فوجی پولیس بٹالین کے اہلکار کر رہے ہیں اور اس کورس میں افغان نیشنل آرمی کے جوانوں کو کمپیوٹر کے بنیادی افعال سکھائے جا رہے ہیں اور انہیں بتایا جا رہا ہے کہ ملک بھر میں پھیلی دیگر تنصیبات کے ساتھ رابطے کے لیے کمپیوٹر کو کیسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

کورس کے نصاب میں نیٹ ورک بنانے کے لیے درکار کیبلز، کمپیوٹر کو کھولنے اور اس کے فنکشن شامل ہیں۔ اس میں نیٹ ورک قائم کرنے کا طریقہ بھی سکھایا جا رہا ہے جس سے پروان، کابل، امریکہ اور دنیا بھر سے انٹرنیٹ کے ذریعے رابطہ ممکن ہو سکے گا۔

افغان نیشنل آرمی کے لیفٹیننٹ کرنل قطب الدین، جو فوج میں انفارمیشن ٹیکنالوجی آفیسر ہیں کا کہنا ہے کہ یہ کورس شروع کرنے سے قبل مجھے صرف یہی علم تھا کہ ایک ڈاکیومنٹ بنانے کے لیے کمپیوٹر کیسے استعمال کیا جاتا ہے۔ اب میں اس سے کہیں آگے جا سکتا ہوں اور کمپیوٹر میں مسائل تلاش بھی کر سکتا ہوں۔

مختلف مقامات پر تعینات افغان قومی فوج کے جوان بھی کمپیوٹر نیٹ کی تربیت میں شامل ہو سکتے ہیں۔

افغان قومی فوج میں نائب انفارمیشن ٹیکنالوجی آفیسر کپتان غلام مستقیم کہتے ہیں کہ ہمارے بعد افسروں اور نان کمیشنڈ افسروں کو پلِ چرخی سے اس کورس میں شمولیت کے لیے لایا جا رہا ہے۔ میں ہر ممکن حد تک زیادہ سے زیادہ کلاسوں میں شامل ہوں گا تا کہ میں اس میں زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کر سکوں۔

اس تربیتی کورس کے بعد افغان قومی فوج کے جوان اپنے سپاہیوں کو انفارمیشن ٹیکنالوجی اور نیٹ ورکنگ کے حوالے سے تربیت دے سکیں گے۔

مستقیم کہتے ہیں کہ اپنے لوگوں کو تربیت دینے کے قابل ہونے سے نہ صرف اخراجات کم ہوں گے بلکہ نتائج بھی بہتر ہوں گے۔

مزید براں، DFIP کی مشروط منتقلی کے بعد افغان قومی فوج انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اپنے کورس بھی شروع کرنے کے قابل ہو جائے گی۔

اسلامی جمہوریہ افغانستان، امریکہ اور انٹرایجنسی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے تعاون سے CJIATF-435 قید، اصلاحی، عدالتی شعبے اور بائیومیٹرکس میں آپریشن کرتی ہے۔ بالاخر، حالات سازگار ہونے پر CJIATF-435 قانون کی حکمرانی کو یقینی بنا کر قید خانوں کو بھی افغان کنٹرول میں دے دے گی۔

46 فوجی پولیس کمانڈ، امن رکھنے والی ٹاسک فورس ، جو CJIATF-435 کمانڈ کی ماتحت ہے، DFIP پر قیدیوں کے متعلق تمام معاملات کی نگرانی کرتی ہے۔ ٹاسک فورس یقینی بناتی ہے کہ قیدی محفوظ ہوں اور ان سے انسانی سلوک کیا جا رہا ہو اور پروان کے قید خانے میں ان کی مناسب دیکھ بھال کی جا رہی ہو۔ ان کی کوششوں سے ہی افغان نیشنل آرمی اپنے امریکی ہم منصبوں سے یہ ذمہ داری اپنے کندھوں پر اٹھانے کے قابل ہو سکے گی۔

DFIP  ایک جدید ترین تھیٹر انٹرنمنٹ فسیلیٹی ہے اور بگرام فضائیہ فیلڈ سے کئی کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس عمارت کو ستمبر 2009 میں تعمیر کیا گیا تھا جبکہ دسمبر 2009 کے اواخر میں یہاں قیدیوں کی آمد شروع ہوئی تھی۔ DFIP میں طبی عملہ، اہل خانہ سے ملاقات کا مرکز، ووکیشنل تربیت اور تعلیم سہولیات دستیاب ہیں۔ DFIP کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ CJIATF-435 قیدیوں کو افغان معاشرے میں دوبارہ شامل کرنے کی کوششوں میں کامیاب ہو تا کہ افغانستان میں انتہا پسندوں کی مزاحمت کو شکست دی جا سکے۔

 
ویڈیو، بصری / آڈیو، سمعی / تصویریں

تصویریں

Podcasts

There are no podcasts available at this time.

@CentcomNews //Social Media//

حالیہ ٹویٹز
حالیہ فلکر پر تصویریں
RIDE002

RIDE002
viewed 22 times

فیس بُک پر دوست
33,163+