| اے-این-اے کے کمانڈوز نئے فوجیوں کو مارٹر نظام سکھاتے ہیں |
منجانب Sgt. Bryan Peterson, 2nd Marine Expeditionary Force (Foreward) شئیرمتعلقہ خبریں
افغان نیشنل آرمی انفنٹری کے فوجی جو حال ہی میں اے این اے کی بنیادی تربیت سے گریجویٹ ہوۓ ہیں، کیمپ شورا باک، ضلع واشر، صوبہ ہلمند، افغانستان میں ریجنل ملٹری ٹریننگ سینٹر میں ایم224 60 ایم ایم مارٹر کی تربیت کی کارروائیاں کرتے ہوۓ۔ (فوٹو منجانب سارجنٹ برائن پیٹرسن)
ضلع واشر، افغانستان (12 اپریل، 2013) افغان نیشنل آرمی سارجنٹ جان آغا، 215 ویں کور، 7 ویں کندک کے ساتھ ایک کمانڈو، انفنٹری مین کے کام کے اوزاروں کو خوب جانتے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ تین سالوں سے اتحادی فورسز کے ذریعے تربیت حاصل کی اور ان کے شانہ بشانہ لڑا ہے۔ ان کی کندک یا بٹالین میں، انھوں نے اور ان کے دوسرے کمانڈو فوجیوں نے 8 اپریل کو کیمپ شورا باک، ضلع واشر، افغانستان میں اپنے علاقائی ملٹری ٹریننگ سینٹر میں ایم-224 60 ایم-ایم مارٹر نظام پر اے-این-اے کے نئے فوجیوں کو تربیت دینے کے لئے اپنے میدان جنگ کے تجربے کا استعمال کیا۔ آر-ایم-ٹی-سی میں، اے-این-اے کے فوجی خاص فوجی تربیت حاصل کرنے سے پہلے ابتدائی جنگی تربیت سے گزرتے ہیں۔ آغا اور دیگر کمانڈوز نے مارٹر نظام کے بارے میں کلاس کے ساتھ دن کا آغاز کیا۔ آغا نے بیس پلیٹ کو کس طرح لگانے، نظام کو کس طرح جوڑنے اور کس طرح فاصلے اور سمت کا تعین کرنے کے بارے میں تفصیل سے بات کی۔ ایک مختصر سے مظاہرے کے بعد، فوجیوں نے ایک ایک کر کے راؤنڈ چلانے کی باریاں لگائیں۔ آغا نے کہا کہ وہ اے-این-اے کے فوجیوں کو سکھانا پسند کرتے ہیں کیونکہ یہ اے-این-اے کے رہنماؤں کی "اے-این-اے کے بالکل نئے فوجیوں میں ساکھ پیدا کرتا ہے۔" آغا نے کہا کہ "یہ ان کے لئے اہم تعلیم ہے" ۔ "انھوں نے واقعی میں بہت غور سے سنا اور بہت سے سوال پوچھے۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ جب ہم نے [مارٹر سسٹم] جوڑا تو انھوں نے توجہ دی۔ وہ واقعی مین بہت چست تھے اور اسے جلدی سے درست طریقے سے جوڑ لیا۔" آغا اور کمانڈو اساتذہ نے تربیت کے دوران ایک شدید نقطہ نظر کا استعمال کیا۔ انہوں نے تقریبا 300، 500 اور 800 میٹر کے فاصلے پر مقرر اہداف پر فائرنگ کے دوران فائرنگ لائن پر آگے پیچھے بھاگ کر چلاتے ہوۓ فوجیوں کو ہدایات دیں۔ ان کی ہدایات نے اچھےنتائج دکھاۓ۔ ہر راؤنڈ اپنے مطلوبہ ہدف پر نہیں لگتا، لیکن آغا کہا کہ نئے فوجیوں علم حاصل کر لیا اور اس کا اچھی طرح سے اطلاق کیا۔ آغا نے کہا کہ "انھیں اس بات کی سمجھ آ گئی تھی کہ کس طرح ہدف کے فاصلے اور سمت کو جانچنا ہے" ۔ "وہ زیادہ تراپنے اہداف پر نشانہ لگا لیتے تھے، یا اس کے بہت قریب تھے۔ ہم نے زیادہ راؤنڈ صرف اس وقت استعمال کیۓ جب ہمیں لازماً ایسا کرنا تھا تاکہ (فائرنگ لائن) چھوڑتے وقت ہر فوجی پُراعتماد محسوس کرتا۔"
60 –ایم-ایم مارٹر کی تربیت ٹی-سی میں بنیادی تربیت حاصل کرنے والے فوجیوں کے لئے پہلی بار تھی، اور اے-این-اے کے میجر جنرل سعید ملوک، 215 ویں کور کے کمانڈنگ جنرل، اور امریکی مرین میجر جنرل ڈبلیو لی ملر، علاقائی کمان (جنوب مغرب) کے کمانڈر، نے اس کا مشاہدہ کرنے کے لئے شرکت کی۔ ملوک نے اس کو چلاتا دیکھنے کے لیۓ اپنے فوجیوں کو ارد گرد جمع کیا اور پھر اس کے بعد چند راؤنڈ چلانے کی باری بھی لی۔ 215 ویں کور سکیورٹی فورس معاونت مشیر کی ٹیم کے ساتھ مرینز بھی موجود تھے، لیکن صرف تربیت کا مشاہدہ کرنے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیۓ کہ حفاظتی ضروریات پوری کی گئی تھیں۔ انھوں نے نظام کو درست طریقے سے جوڑنے کو دیکھا اور اس بات کو یقینی بنایا کہ فوجی فائرنگ لائن کے پیچھے تھے اور گولہ بارود احتیاط سے سنبھالا گیا تھا۔ اس کے علاوہ وہ اب جب اے-این-اے پورے افغانستان میں قیادت سنبھال رہی ہے، ایس-ایف-اے کے اہلکاروں کی "ٹرینر کی تربیت" کے نقطہ نظر کے مطابق مکمل طور پر اس سے علیحدہ رہے۔ " ٹرینر کی تربیت" کا تصور اتحادی افواج کی ایس-ایف-اے ٹیموں کے ارد گرد بنایا گیا ہے، جو اے-این-اے کے فوجیوں اور افغان پولیس کے ان اہلکاروں کا انتخاب کرنے، جو اتحادی فوجیوں کی واپسی کے بعد دوسروں کی تربیت کر سکیں، کے لیۓ اہم صلاحیتیں سکھاتا ہے۔
توپخانے کے سارجنٹ جوزف سوتھ، جو ایس-ایف-اے-اے-ٹی آرٹلری مشیر اور سینٹا آنا، کیلیفورنیا کے مقامی ہیں، نے اے-این-اے کے انسٹرکٹروں کو فوجیوں کی تربیت کرتے دیکھا اور بہت متاثر ہوۓ۔ سمتھ نے کہا کہ"اے این اے کے اساتذہ واقعی اپنا کام بہت اچھے طریقے سے کر رہے تھے" ۔ "نئے فوجیوں کو یہ پسند آیا کہ [سینئر] اے-این-اے کے فوجی انہیں سکھا رہے تھے۔ اساتذہ نے نئے فوجیوں کو ان کے نظام میں اعتماد اور اعتبار دیا، یہ جانتے ہوۓ کہ ایک بار جب ہم چلے جائیں گے، ان کے پاس ان کے اپنے ماہرین ہوں گے انھیں نئی چیزیں سکھانے کے لئے۔"
آغا نے کہا کہ "انھیں اپنے کام کو لازماً جاننا ہے۔ "ہم نرمی دیکھا کر ان نتائج کی توقع نہیں کر سکتے جو ہمیں آج حاصل ہوۓ ہیں۔ ہمیں ان سے سختی سے پیش آنا ہے کیونکہ مرینز ہمارے ساتھ اسی طرح تھے اور ہم نے بہت سی ایسی چیزیں سیکھیں جو ہمیں اپنے ملک کے لئے لڑنے میں مدد دیں گیں۔ افغانستان کا مستقبل ہمارے ہاتھوں میں ہے۔"
|
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 





















