صفحہ اول | خبریں | اے-این-اے کی 209ویں کور کامبیٹ انجنئیر مکمل طور پر خودمختاری سے کاروائیاں شروع کرتے ہیں
اے-این-اے کی 209ویں کور کامبیٹ انجنئیر مکمل طور پر خودمختاری سے کاروائیاں شروع کرتے ہیں
منجانب 1st Lt. Brittany Ramos, 841st Engineer Battalion
130104_ANA
افغان نیشنل آرمی (اے-این-اے) 209ویں کور دوسری بریگیڈ روٹ کلیئرنس کمپنی سے انجینئرز میٹل ڈٹیکٹر کے استعمال سے ممکنہ خود ساختہ دھماکہ خیز آلات (آئی ای ڈی) کے لئے علاقہ چھانتے ہوۓ جبکہ ان سے آگے موجود افغان نیشنل پولیس گشت کرتے اور مقامی دیہاتیوں کے ساتھ خاص طور پر بغاوت کے بارے میں معلومات کے لئے بات چیت کرتے ہوۓ۔ (فوٹو منجانب یو ایس آرمی لیفٹیننٹ برٹنی راموس، ٹاسک فورس کامٹ پبلک افئیرز)

علاقائی کمان (آر-سی) شمالی افغانستان - صرف چند ماہ پہلے افغان نیشنل آرمی (اے-این-اے) کے 209ویں کور سے جنگی انجینئرز کی پہلی کمپنی نے علاقائی کمان میں پہلی بار (آر-سی) شمالی افغانستان کے لئے مکمل طور پر آزادانہ آپریشن کرنے شروع کیۓ تھے۔ اب، دیگر دو لڑاکا انجنیئر کمپنیوں کو امریکی فوج کے انجینئر ڈیویلوپمنٹ (ای-ڈی-ٹی-ایس) ٹیموں نے توثیق کر دی ہے جن کے ساتھ انھوں نے تقریباً ایک سال کام کیا ہے اور انھوں نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ اتحادی امداد کے بغیر کام کرنے کے لئے تیار ہیں۔

افغان قومی حفاظتی افواج (اے-این-ایس-ایف) کے لئے یہ بڑی کامیابی کی بات ہے کہ اس وقت، جب اہم میڈیا کی توجہ اس سوال کے لیۓ وقف ہے کہ کیا فورس 2014 میں ذمہ داری سنبھالنے کے قابل ہو گی یا نہیں، کے دوران وہ قابل ذکر ترقی کی روشن مثال کی طرح چمک رہی ہے۔ 209ویں کور کے جنگی انجینئرز اس بات کا مظاہرہ جاری رکھے ہوۓ ہیں کہ ایک مضبوط، موثر اے-این-ایس-ایف محض صرف ایک خیال نہیں ہے، بلکہ ایک حقیقی اور قابل حصول مقصد ہے جو کہ حاصل کیا جا رہا ہے۔

کسی بھی تنظیم میں، یہ قیادت کی صلاحیت ہوتی ہے جو نظم و ضبط اور لگن کے ماحول کو تشکیل دیتی ہے جو کہ دیر پا بہترین مہارتوں کی تعمیر کے لیۓ ضروری ہے اور یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ اے این اے 209ویں کور کی دوسری اور تیسری بریگیڈ کے راستے کی صفائی کی کمپنیوں نے اس طرح کی کامیابی حاصل کر لی ہے۔ اندرونی اور بیرونی دونوں ذرائع نے ان تنظیموں کے رہنماؤں کی تعریف کا اظہار کیا ہے، اکثر "پُرعزم، قابل اعتماد، پر خلوص،" "سب سے محنتی کارکنوں" کے طور پر ان کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ اس کے جواب میں رہنما ہمیشہ عاجزی سے اپنے فوجیوں تک یہ تعریف پہنچاتے ہیں اور اس بات کا مسلسل اعادہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے ملک کے لئے ہمہ وقت تیار خدمت گار ہیں۔

"میرا لوگوں کو یہ پیغام ہے کہ میں اس (اے-این-اے کی) وردی کو پہنتا ہوں اور جب تک زندہ ہوں افغانستان کی حفاظت کروں گا۔ یہ میرا وعدہ ہے۔"

ایک انٹرویو کے دوران دوسری بریگیڈ آر-سی-سی کمانڈر کیپٹن نوید نے اپنے دل پر ہاتھ رکھا اور دری زبان میں یہ جذباتی الفاظ بولے، ان کی جنگی انجینئروں کی کمپنی کے توثیقی مشن مکمل کرنے اور باضابطہ طور پر آزاد تصور ہونے کے اعلان کے کچھ ہی دن بعد۔

اسی طرح تیسری بریگیڈ کے آر-سی-سی کمانڈر کیپٹن عبدالقاہر، ایک مظبوط اور فاخر قائد جن کا اے-این-اے کا کمانڈر بننے کا ارادہ اسکول کے زمانے ہی سے تھا، نے جذباتی لہجے میں بات کی جو ان کی جذباتی اور سچی آنکھوں سے میل کھاتے ہیں جب انھوں نے یہ کہا کہ،"ہم نے صرف ایک سال میں ان گنت آئی-ای-ڈی (خود ساختہ دھماکہ خیز آلات) کو غیر فعال بنایا ہے۔ ہم خدا، کاؤنٹی، اور خاندان کے لئے یہ کرتے ہیں؛ اسی ترتیب میں۔ یہ ایک بہتر افغانستان کی تشکیل کے لیۓ ہے اور اس کے لیۓ وہ رہنماؤ دوکار ہیں جو صابر، خود پر ضبط رکھتے، اور اپنے فوجیوں کو جانتے ہیں۔"

گزشتہ دس ماہ سے، ان کمپنیوں نے اپنے متعلقہ ای-ڈی-ٹی کے ساتھ روزانہ تربیت حاصل کی ہے، 420ویں روٹ کلیئرنس کمپنی، انڈیانا، پنسلوینیا سے ایک امریکی کمپنی، جو کہ جو آر-سی شمال میں انجینئر یونٹوں کے گروپ جسے ٹاسک فورس کامٹ کہا جاتا ہے، کے تحت آتا ہے، یہ 411ویں انجینئر بریگیڈ کی ٹھیٹر بھر کو اور مشترکہ ٹاسک فورس ایمپائر کے انجینئر کی کاروائیوں میں مدد دیتی ہے۔ شروع میں چھ ٹیمیں تھیں، 209ویں کور کے اندر ہر ایک تین میں سے ایک تعمیراتی کمپنیوں اور تین میں سے ایک آر-سی-سی کو تفویض تھیں۔

62,607مربع میل پر پھیلی ٹیم جو آر-سی شمالی کہلاتی ہے، ٹیموں کو آزادانہ طور پر کام کرنا تھا اور غیر معمولی طور پر با وسائل ہونا تھا۔ ہر گروپ کو منفرد حالات کا سامنا کرنا پڑا جس نے ان کے تجربات کی تشکیل کی۔

ای-ڈی-ٹی 3 کے رکن کارپورل کرسٹوفر مکال، پٹسبرگ، پنسلوینیا سے چوبیس سالہ، نے بتایا کہ تفویض فوجیوں کو کوئی معلومات یا انہیں ان کی اے این اے کے ساتھ کام کرنے کے نئے مشن کی تیاری کے لیے بہت کم تربیت دی گئی تھی ۔

"ہمارے یہاں پہنچنے سے پہلے، ہمیں صرف یہ معلوم تھا کہ ہم اے این اے کے ساتھ کام کرنے جا رہے تھے۔ ہم نے خود ان کا جائزہ لینے کی پوزیشن میں ڈالا اور ہمیں یہ معلوم ہوا کہ وہ پہلے ہی سے بہت مظبوط تھے، عملی طور پر۔ وہ راستوں کو صاف کر رہے تھے، خود ساختہ دھماکہ خیز آلات کو ناکارہ بنا رہے تھے؛ مشن پورا ہو رہا تھا۔"

ان مہینوں کے دوران ٹیموں نے مسلسل تربیت کی اور کمپنیوں کی صلاحیتوں کا تعین کیا ہر چیز میں دیکھ بھال کے طریقہ کار اور انتظامی کاغذی کارروائی سے لے کر سے بنیادی فوجی صلاحیتوں تک۔ ای-ڈی-ٹی 3 جس میں تھرڈ بریگیڈ آر-سی-سی کو تفویض کیا گیا تھا، نے جانا کہ کمپنی کو پہلے سے ہی وسیع تجربے حاصل تھا اور انھوں نے ایک سے زیادہ آئی-ای-ڈی کو کامیابی سے ڈھونڈتا نکالا تھا۔

انہوں نے منصوبہ بندی کے عمل، مخصوص حکمت عملی اور تکنیک جو اس مشن کی کارکردگی کو تیز کریں گے پر توجہ مرکوز کی، اور سب سے اہم بات گاڑیوں کی بحالی تھی جس نے کمپنی کے مشن کو زیادہ کثرت سے کرنے میں مدد دی۔ یہاں تک کہ کیپٹن عبد کاہیر نے کہا بطور کمانڈر وہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کی سب سے بڑی کامیابی یہ سیکھنے میں تھی کہ کس طرح ٹرکوں کو مسلسل چلتا رکھیں اور ان کی مرمت کے طریقہ کار کو جب وہ خراب ہو جائیں۔

جب مشن کی رفتار تیز ہوگئی اور ای-ڈی-ٹی وقت کے ساتھ ساتھ ترقی کا مشاہدہ کرنے کے قابل ہوئی، وہ حکمت عملی میں مخصوص بہتری کی شناخت کے قابل تھے۔

ای-ڈی-ٹی 3 کے رکن سپیشل لیوائی پرسک، جوکرونسول، پنسلوینیا سے ہیں، نے فخر سے کہا کہ "ہم نے دیکھا وہ تحفظ برقرار رکھنے میں بہتر کام کر رہے تھے، مخصوص "اشاروں" کی تلاش میں یا ایک آئی-ای-ڈی کا احساس، جو کہ قریبی ہی لگائی گئی تھی، اور وہ ان کے الیکٹرانک انسدادی آلات مخصوص قسم کے دھماکوں کو روکنے کے لیۓ اچھی طرح سے کام کر رہے تھے" ۔ "جس دن میں نے انھیں امریکہ اور سویڈن کی گاڑیوں کے ایک قافلے کی قیادت کرتے دیکھا اور انھوں نے سب سے پہلے ایک آئی-ای-ڈی کو تلاش کیا اور اسے سڑک سے کھود کر نکالا وہ ایک بہت فخر والا دن تھا۔"

ٹیموں نے اپنے جائزے انٹرنیشنل سیکیورٹی اسسٹنس فورس کی صلاحیتوں کی فہرست کا اپنی متعلقہ کمپنیوں کے مشن کی منصوبہ بندی اور ان پر عملدرآمد کے دوران اپنے براہ راست جائزوں سے موازنہ کر کے تیار کیے۔

"ہم نے دیکھا وہ جانتے تھے کہ وہ کیا کر رہے تھے اور یہ کہ ہمارا اصل کام سے انہیں اور زیادہ فعال بننے میں مدد دینے کا تھا۔ ہم نے ان کے اپنے پاس موجود آلات، ان سے کس طرح سب سے زیادہ مؤثر طریقے سے استعمال کرنے، اور کس طرح ان کودرست حالت میں برقرار رکھنے کے علم کو تیز کرنے پر توجہ مرکوز کی۔"

ای-ڈی-ٹی5، جو کہ دوسری بریگیڈ آر-سی-سی کو تفویض ہے، کا تجربہ بہت مختلف تھا۔ کمپنی اپنی اکٹھی تربیت مکمل کرنے کے بعد بمشکل ہی آر-سی شمال میں اپنے نئے اسٹیشن میں پہنچی تھی۔ ای-ڈی-ٹی 5 کے رہنما سارجنٹ جیسن بیل یاد کر کے مسکرائے،

"ان جوانوں کو فارورڈ آپریٹنگ بیس پر اپنی سیکورٹی کی بھی اجازت بھی نہیں تھی جب وہ یہاں آۓ تھے۔ اب یہ اس جگہ سے سالوں کے آگے ہیں جہاں وہ پہلے تھے اور اپنے طور پر راستے کی کلئیرنگ کر رہے ہیں۔ انہوں نے علاقے میں افغان نیشنل پولیس اور افغان مقامی پولیس کے درمیان بھی اپنے لئے نام بنایا ہے۔"

ای-ڈی-ٹی 5 کے رکن سپیشل ڈیریک ویلش، بروک فیلڈ پنسلوینیا سے ہیں، نے اپنی جھنجھلاہٹ کو یاد کرتے ہوۓ کہا کہ "کمپنی نئی ہونے کی وجہ سے ٹیم نے بنیادی فوجی کام اور مشقوں پر تربیت شروع کی لیکن یہ بھی ایک چیلنج ثابت ہوا" ۔

"زبان کی رکاوٹ مضحکہ خیز تھی۔ لسانی مدد گار کو دری اور پشتو دونوں میں ہر بات کا ترجمہ کرنا ہوتا تھا کیونکہ بہت سے فوجی صرف ایک زبان بولتے تھے۔ ہم حیران تھے کہ وہ کس طرح مشن کو مل کر منظم کرتے تھے لیکن انھوں نے ہاتھ اور بازو کے اشاروں سے اپنا نظام ابلاغ بنا لیا تھا۔ ہمیں بار بار آرام کا وقفہ لینا پڑتا تھا کیونکہ یہ بہت پورے سبق کو سمجھانا بہت تھکا دینے والا کام تھا۔"

کلاسوں کو زیادہ تفریحی ​​اور پرکشش بنانے میں مدد دینے کے لئے، ٹیم تخلیقی بن گئی اور بنیادی کاموں پر چھوٹے چھوٹے مقابلے کرنے شروع کر دیۓ۔ ہاتھوں سے کام کرنے کے مختلف چیلنجوں نے عمل کو تیز کر دیا اور کمپنی اور ٹرینر کے درمیان مضبوط تعلقات کی تعمیر کی۔ سارجنٹ. بیل نے مذاق سے سپیشل ٹرن بل کو کہنی مارتے ہوۓ مذید کہا،

"آخر میں انھوں نے ٹرن بل کو 240 بی مشین گن کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے اور واپس جوڑنے کے مقابلے میں ہرا دیا۔ انھوں نے نعرے لگاۓ اور وہ بہت فاخر تھے!"

یہ کلاس روم میں اور اس کے ساتھ ساتھ جنگ کے میدان میں ان کی کردار کو دیکھنا تھا جس سے اے-این-اے کے فوجیوں کی قربانیوں اور عزم کے باعث ان کی عزت اور تعریف میں اضافہ ہوا۔ بیل نے ایک خاص بے غرض موقعے کو یاد کیا جس نے انھیں بہت متاثر کیا۔

"ہمارا ایک ہسکی تھا جو الٹا ہو رہا تھا۔ آپریٹر باہر بھی نہ نکل سک رہا تھا کیونکہ وہ بالکل الٹنے کے قریب تھا۔ کسی سے پوچھے بغیر، آر-سی-سی کو فوری طور پر باہر کود پڑی اور ہمیں باہر نکالا۔ ان کی مدد کے بغیر ہم خطرے میں بہت زیادہ دیر تک پھنسے رہتے۔"

اسی طرح، ای-ڈی-ٹی کے کارپورل مکال نے کہا، "ہمارے رہنما سارجنٹ لیوس کو واقعی میں یہ کام پسند تھا اور کمپنی سے محبت کرتے تھے اور وہ اپنے کئیر پیکج ہمارے ساتھ بانٹتے تھے۔ ان میں سے بہت سے لوگ دوسرے صوبوں میں موجود اپنے خاندانوں کو اپنی تمام تر آمدنی بھیجتے تھے اور اپنے لیۓ بالکل کچھ بھی نہیں رکھتے تھے۔ ہم نے جلد ہی محسوس کیا کہ وہ اپنے لیۓ کچھ بھی نہیں رکھ رہے تھے۔ وہ نہانے دھونے کا سامان اور ٹافیاں مقامی ضرورت مند بچوں میں تقسیم کر دیتے تھے۔"

ان کی ذاتی کامیابیوں کے علاوہ، دونوں کمپنیوں نے اپنی اعلی قیادت اور مقامی آبادی کی آنکھوں میں زبردست ترقی کی ہے۔ اے-این-اے کی 209 ویں کور، دوسری بریگیڈ کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل خیر محمد خوری نے فخر کے ساتھ کہا،

"انجینئرز جو بھی مشن ان کے سامنے رکھا گيا اسے پورا کیا۔ ہم نے ان کے فعال رویے سے خوش ہیں۔ ایک کمانڈ کے طور پر، ہم جانتے ہیں کہ آر-سی-سی کتنی اہم ہے۔ ہم ان کے بغیر مشن نہیں کرتے۔ وہ بریگیڈ اور کور کا ایک اثاثہ ہیں۔ دشمن ہمارا سامنا نہیں کر سکتا، ان کے پاس اس وقت واحد راستہ آغی-ای-ڈی نصب کرنا ہے اور ہماری آر-سی-سی ان ڈھونڈ نکالتی ہے اور ان کو مؤثر طریقے سے ناکارہ بنا دیتی ہے۔ وہ مشہور ہیں۔"

یہ دہشت گردی آپریشنوں کا ایک مرکزی نظریے یہ ہے کہ شہری آبادی کی حمایت کے بغیر کامیابی ناممکن ہے۔ آر-سی-سی کو لوگوں نے قبول کر لیا ہے اور وہ زیادہ تر انٹیلی جنس اپنے مشن کے دوران دیہاتیوں کے درمیان گھل مل کر اکٹھی کرتے ہیں۔. تاہم، یہ ہمیشہ سے ایسے نہیں تھا۔

"انہیں پتہ نہیں تھا کہ انھیں مشن کے دوران لوگوں سے بات کرنی چاہئے،" 420 ویں آر-سی-سی پلاٹون لیڈر فرسٹ لیفٹیننٹ برینڈن کرٹس نے کہا، جنھوں نے اکثر اے-این-اے کی 209 ویں کور، دوسری بریگیڈ آر-سی-سی کے ساتھ شراکت میں مشن کیۓ۔

سارجنٹ.بیل نے سر ہلایا، انہوں نے مزید کہا "اب وہ باہر جاتے، لوگوں سے بات کرتے ہیں اور اس کے ایک براہ راست نتیجہ کے طور پر ہفتے میں کم سے کم ایک آئی ای ڈی تلاش کر لیتے ہیں۔"

بروک فیلڈ، پنسلوینیا کے سپیشل اینڈریو ٹرن بل اور نیو برائٹن، پنسلوینیا کے گیرن اوونز فخر کے ساتھ اپنی تفویض کے دوران ان خاص لمحات کو یاد کرتے ہیں جب اے-این-اے آر-سی-سی نے اس سلسلے میں فیصلہ کن ترقی کی۔

"اے-این-اے آر-سی-سی اتحادی افواج کی شراکت میں ایک مشن کی قیادت کر رہی تھی جب اس نے ایک آئی ای ڈی کو سامنے دیکھا۔ کمانڈر نے فوری طور پر قیادت سنبھال لی، سیکورٹی کو باہر نکالا اور علاقے کا احاطہ کیا، شہریوں کو ایک محفوظ فاصلے پر رکھتے ہوۓ،" اوونز نے کہا۔

"ایک اور مرتبہ، جب ایک پلاٹون نے ابھی اپنے چھ گھنٹے کی گشت ختم کی تھی، ایک سائیکل سوار شہری نے ان سے کہا کہ وہ جانتا تھا کہ جہاں بم بنانے والا موجود تھا۔ فوجیوں نے متعلقہ علاقے کا احاطہ کر لیا، مقامی شہریوں کو پانی دیا اور بہت پیشہ ورانہ طریقے سے کام لیا۔ انہوں نے تعلقات بناۓ تھے جو آج تک انہیں اپنے مشن کو پورا کرنے میں مدد دیتے ہیں،" ٹرن بل نے کہا۔

انہوں نے کہانی کے بعد کہانی یاد کی جس سے دونوں کمپنیوں جو نہ صرف راستے کی کلیئرنس آپریشن کے لیۓ مناسب طور پر تیار ہیں، بلکہ اپنے کام کے لیے وقف اور پرجوش ہیں کی تصویر کو مزید تقویت ملتی ہے۔ حالانکہ اے-این-اے کے بہت سے فوجی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ انہوں نے بہتر تعلیم اور اپنے خاندان کے لئے ایک بہتر زندگی کے لئے اے-این-اے میں شمولیت اختیار کی تھی، جیسا کہ اسٹاف سارجنٹ عبدالغفور، سنجیدگی سے کہا،

"جب سے میں نے اپنے دائیں اور بائیں ہاتھ کو جانا ہے، میں جنگ لڑ رہا ہوں۔ مجھے اس بات کی پرواہ نہیں اگر میں اپنے ملک کی خدمت کے دوران ہلاک ہو جاؤں۔ مجھے صرف یہ چاہتا ہوں کہ میرے بچے اسکول جائیں اور محفوظ رہیں۔ میں صرف امن چاہتا ہوں۔"

یہ ہی وہ لگن اور ثابت شدہ اثر ہے جس کے ساتھ فاخر جنگی انجنیئر کارپورل مکال نے خود اعتمادی سے یہ کہا،

"میں ان پر اعتماد کرتا ہوں۔ میں اس راستے پر جسے انھوں نے کلئیر کیا ہو جانے پر اتنا ہی اعتماد کرتا ہوں جتنا اس راستے پر جسے امریکیوں نے کلئیر کیا ہو۔"

 

 

Media Gallery

ویڈیو، بصری
تصویریں

جنگی کیمرہ -->

مرکزی کمان کی تصویریں -->

no press releases available at this time
No audio available at this time.
Content Bottom

@CentcomNews //Social Media//

حالیہ ٹویٹز
حالیہ فلکر پر تصویریں
RIDE002

RIDE002
viewed 19 times

فیس بُک پر دوست
33,142+