| قندوز صوبے میں اے- ایل- پی کے طلباء گریجویٹ ہو گئے |
منجانب Petty Officer 1st Class Cassandra Thompson, Combined Joint Special Operations Task Force Afghanistan Media Operations Center شئیرمتعلقہ خبریں
افغان لوکل پولیس ٹریننگ کورس کا ایک گریجویٹ 26 مئی کو نو آباد گاؤں میں گریجویشن تقریب کے دوران ایک مقامی اے-ایل- پی کمانڈر سے تکمیلی سرٹیفیکیٹ وصول کرتے ہوۓ۔ (فوٹو منجانب پیٹی افسر فرسٹ کلاس کسانڈرا تھامپسن)
تقریب نے ایک تین ہفتے کے کورس کا اختتام کیا جس کو افغان نیشنل آرمی کے سپیشل فورسز کے فوجیوں اور اتحادی مشیروں نے سکھایا۔ کورس میں پولیس کی بنیادی طریقہ کار، پہرہ دینا، ہتھیار سنبھالنا، خود ساختہ دھماکہ خیز آلات ڈھونڈنا، اور اپنے گاؤں کو محفوظ رکھنا سکھایا گیا۔ وہاں موجود لوگوں میں پولیس چیف، صوبائی پولیس چیف کے نمائندے، اُس ضلع کے اے- ایل- پی سربراہ اور اتحادی نمائندے شامل تھے۔ گریجویٹ ہونے والے طلباء کو ان کے متعلقہ علاقوں کے اے ایل پی کمانڈروں کی جانب سے سرٹیفکیٹ موصول ہوۓ جنہوں نے اس اعتماد پر زور دیا جو اے-ایل-پی کےمقامی رہنماؤں کو ان کی تربیت اور تیاری پر ہے۔ ارباب عائکل ، جو نو آباد کے اے ایل پی کمانڈر ہیں، نے کہا کہ ہمارے نۓ گریجویٹس اے-ایل-پی اور اتحادیوں کی سپورٹ حاصل کر کے بہت جوش محسوس کرتے ہیں ۔ وہ واقعی میں بہت خوش ہیں اور اپنے معاشرے کی خدمت کرنے کے لیۓ پُرجوش ہیں۔ اس حمایت کا مظاہرہ بہت اہم تھا کیونکہ گریجویشن سے ایک دن قبل، ایک طالب علم باغیوں کے ٹریننگ کیمپ پر بلا اشتعال حملے میں قتل ہو گیا تھا۔ زیر تربیت عبد الرؤف اس وقت زخمی ہوا جب باغیوں نے آؤٹ پوسٹ پر راکٹ پرپیلڈ گرینیڈ سے حملہ کر دیا۔ اسے اتحادیوں کے طبی عملے کی جانب سے وہاں سے نکالا گیا مگر وہ علاج کے دوران اپنی جان گنوا بیٹھا۔ طلباء نے تقریب کے احتتام پر، اے-این-اے-ایس-ایف کی قیادت میں، اس کی قربانی کے اعزاز میں، اس کے نام کے نعرے لگاۓ۔ اے-ایل-پی کے ایک حالیہ گریجویٹ اکرام الدین، قاری ساپ سے تعلق رکھنے والے، نے کہا کہ وہ دیہات کی حفاظت اور شورش پسندوں کے حملوں کے ساتھ وابستہ مشکلات کے باوجود اپنے گاؤں کی خدمت کرنے کے لئے پر جوش ہیں۔ اکرام الدین نے کہا کہ میں اے-ایل-پی میں شامل ہونے کے لئے اور اپنے ملک اور معاشرے کی خدمت کرنے پر بہت خوش ہوں ۔ میں افغانستان کے لئے ایک زیادہ پرامن مستقبل تخلیق کرنے میں مدد کرنا چاہتا ہوں، تو جب میں شادی کروں اور میرے بچے ہوں، تو وہ اسکول جا سکیں اور محفوظ محسوس کر سکیں۔ |
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 






















