صفحہ اول | خبریں | ایلن کو موسم گرما کے دوران افغانستان میں بہت سی سرگرمیوں کی توقع ہے
ایلن کو موسم گرما کے دوران افغانستان میں بہت سی سرگرمیوں کی توقع ہے
منجانب Karen Parrish, American Forces Press Service
20120524_genallen
مرین کور جنرل جان ایلن، یو-ایس اور افغانستان میں بین الاقوامی فورسز کے کمانڈر، 23 مئی، 2012 کو پنٹاگان میں صحافیوں سے بات کرتے ہوۓ۔ (فوٹو منجانب یو-ایس بحریہ پیٹی افسر فرسٹ کلاس چیڈ جے۔ مک نیلی)

واشنگٹن (23 مئی، 2012) - افغانستان میں نیٹو اور امریکی افواج کے کمانڈر نے آج نامہ نگاروں کو واضع طور پر بتایا کہ ان کی تشخیص وہاں سے زیادہ تر اضافی امریکی افواج کی واپسی اور 2014 میں نیٹو کے کامبیٹ کردار کے اختتام سے قبل کی کارروائیوں کی تعداد اور رفتار  کا فیصلہ کرے گی۔

مرین کور کے جنرل جان آر ایلن، بین الاقوامی سیکورٹی اسسٹینس فورس کے کمانڈر، نے پینٹاگان میں صحافیوں کو بتایا کہ "صدر کے لیۓ اس موضوع پر مجھے کچھ حقیقی تجزیہ پیش کرنا  ہے۔ ہمیں جنگی طاقت کی ضرورت پڑے گی، میرا نہیں خیال کہ اس بارے میں کسی کے ذھن میں کوئی سوال ہے۔"

ایلن نے کہا کہ اس موسم گرما میں افغانستان میں اہم واقعات ہوں گے، جس میں کچھ فوجیوں کی واپسی، جنگ کے ڈھانچے میں تبدیلی، مشیر شامل کرنا، اور افغان افواج کو قیادت میں تیزی سے منتقل کرنا شامل ہے۔

کمانڈر نے کہا کہ اس مشن میں ہمارے پاس 30 یا 31 ماہ رہ گۓ ہیں ۔ ابھی تک اے-این-ایس-ایف کے لیۓ بھرتی ہونے والے لوگوں کی تعداد ابھی مکمل طور پر پوری نہیں ہوئی۔ یہ جلد ہی مکمل کی جائے گی، لیکن اس پر ڈیڈ لائن 1 اکتوبر تھی۔

جنرل نے نوٹ کیا کہ افغان فوج اور پولیس کی تعداد گزشتہ سال کے مقابلے 276،000 سے بڑھ کر 340،000 ہو گئی ہے، اور وہ اکتوبر میں شیڈول کے ڈیڈ لائن سے قبل اپنی مکمل طاقت تک پہنچ جائیں گے۔

23،000 باقی ماندہ امریکی فوجیوں کے ستمبر کے آخر تک افغانستان چھوڑنے کے بعد، ایلن نے کہا کہ، وہ بغاوت کی حالت ، افغان فورسز کی جنگی کارروائیوں کی منصوبہ بندی، قیادت میں کامیابی، اور اس آپریشنل ماحول جس کی وہ 2013 میں توقع کرتے ہیں ، پرایک خاص نظر ڈالیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ان عناصر کو جمع کرنے سے بالآخر یہ طے ہو گا کہ مجھے امریکی اور غیر امریکی ایساف کی کتنی جنگی طاقت کی ضرورت ہو گی تاکہ 2013 اور 2014 کے دوران اے-این-ایس-ایف کو قیادت کے کردار میں آگے بڑھانے کے سلسلے کو جاری رکھ سکیں اور انھیں کامیاب ہونے کے لیئے مدد فراہم ک۔

جنرل نے مزید کہا کہ ہم لڑائی کے موسم اور 23،000 فوجیوں کے حصول کے بعد اس کا تجزیہ کریں گے ۔

جنرل نے کہا کہ بین الاقوامی سکیورٹی اسسٹنس فورسز کی مشاورتی ٹیموں کی وجہ سے مظبوط تر افغان فورسز نیٹو کے فوجیوں کی جگہ لیں گی۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ، مطلق شرائط میں، آخرکار ہماری تعداد گھٹ جاۓ گی، ہمارا ارادہ یہ نہیں ہے کہ ہم  طالبان کو اس سرزمین پر قبضہ کرنے دیں گے۔

ایلن نے کہا کہ افغان فورسز افغانستان کے مشرقی اور جنوب مغربی علاقوں میں سب سے مشکل علاقوں میں لڑی گئی جنگ سے حاصل شدہ سیکورٹی کے فوائد کو برقرار رکھنے کے لئے توجہ مرکوز کرے گا۔

شکاگو میں نیٹو کے سربراہی اجلاس میں جو پیر کے روز ختم ہوا، اتحادی ارکان نے ذکر کیا کہ ایساف کے کمانڈر آپریشنل حالات اور افغان افواج کی صلاحیت کا باقاعدگی سے جائزہ لیں گے، ایلن نے کہا۔

انہوں نے مزید کہا  کہ اس وقت ہم ہر چھ ماہ منصوبہ بندی کر رہے ہیں، تاکہ ہم 2014 کے بعد کے دور میں حالات کے مطابق بالاخر افواج افغان فوج اور پولیس کے حتمی سائز اور ساخت کے مطابق اپنی منصوبہ بندی کر سکیں 2014 میں حالات کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے۔

ایلن نے کہا کہ افغانستان میں نیٹو کی مہم طویل، مشکل اور مہنگی رہی ہے، لیکن ان کا خیال ہے کہ یہ اپنی درست راہ پر ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں ہر روز ترقی کی ٹھوس ثبوت دیکھتا ہوں ۔ اور ہم ایک مسبت فرق پیدا کر رہے ہیں۔ ہم تبدیلی کے عمل کے لزبن میں طے شدہ تبدیلی کے نقشے کو پورا کر رہے ہیں، اور بین الاقوامی برادری اب افغانستان کے اچھے لوگوں کے ساتھ کھڑی ہے اور افغانستان اب اور تبدیلی کی دہائی میں ہے۔

 

Media Gallery

ویڈیو، بصری
تصویریں

جنگی کیمرہ -->

مرکزی کمان کی تصویریں -->

no press releases available at this time
No audio available at this time.
Content Bottom

@CentcomNews //Social Media//

حالیہ ٹویٹز
حالیہ فلکر پر تصویریں
RIDE002

RIDE002
viewed 23 times

فیس بُک پر دوست
33,167+