صفحہ اول | خبریں | خبریں | ائیر فورس ٹیم نے برفانی تودے کے شکار افغانوں کو اہم طبی امداد فراہم کی
ائیر فورس ٹیم نے برفانی تودے کے شکار افغانوں کو اہم طبی امداد فراہم کی
منجانب Tech. Sgt. Jeremy Larlee, 438th Air Expeditionary Wing
120126_rescue
سٹاف سارجنٹ. جوناتھن ہل، 438ویں ایئر ایکسپڈیشنری ایڈوائزری سکواڈرن کے ہیلی کاپٹر ایم آئی 17 کے انجنیئر، 24 جنوری، 2012 کو دیہاتیوں کی اپنے ہیلی کاپٹر کی طرف رہنمائی کرتے ہوۓ۔ امریکی اور افغان ایئرمین نے بدخشاں صوبے، افغانستان میں شیوا گاؤں میں برفانی تودے میں پھنسے اور زخمی لوگوں کے لیۓ امدادی مشن کا انتظام کیا۔ (یو ایس فوٹو/ماسٹر سارجنٹ شین اے۔ کومو)

افغانستان (26 جنوری، 2012) -- امریکی اور افغان ائیر فورس کے عملے اور امدادی اہلکاروں کی ایک ٹیم نے 24 جنوری، 2012 کو ایک کارروائی کے زریعے  برفانی تودے کے شکار 31 افغان متاثرین کی زندگیاں بچانے کے لیے مدد فراہم کی۔

ٹیم نے ایک افغان فضائی عملے کی بھی مدد کی جن کا طیارے برفانی تودے کے متاثرین کی مدد کرتے  دوران شمالی افغانستان میں فیض آباد شھر کے قریب گر گیا تھا۔

لیفٹیننٹ کرنل  چیس ٹیکنی، 438 ایئر ایکسپڈیشنری ایڈوائزری گروپ کے نائب کمانڈر، اس مشن کے لئے ٹیم تیار کرنے کے انچارج تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پہلی ترجیح اس بات کا یقین دلانا تھا کہ اس مشن کی وجہ سے زخمیوں کی تعداد میں اضافہ  نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں پہنچ کر آپ سب سے پہلے زندہ رہنے کے وسائل کے بارے میں سوچتے ہیں۔  "آپ اپنے گروہ یا سامان کو مزید نقصان نہیں پہنچانا چاہتے۔

پورٹ لینڈ، اوریگن کے مقیم نے کہا کہ انہوں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ دو ایم 17 ہیلی کاپٹروں کے درمیان پھیلے لوگوں کی ٹیم میں طبی اور حفاظتی اہلکار بھی موجود ہوں۔ اور سب کے پاس اس علاقے کے لیے مناسب سامان سے لیس ہوں۔ کاروائی کے موقعے پر درجہ حرارت آرکٹک -15 فارن ہائیٹ ڈگری تھا۔

تجات دلانے والی ٹیم نے مشن کی کارکردگی اور توقع سے بڑھ کر کام کیا۔  ٹیم کو حادثے کی جگہ پر صرف ہوائی حفاظتی معائنہ سر انجام دینے کے لئے کہا گیا تھا، لیکن ان کی آمد سے ایک گھنٹے قبل، انھوں نے مشن کے لئے انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر لوگوں کی نجات کے بارے میں بتایا گیا۔ تمام متاثرین کو ائیر لفٹ کرنے کے لیۓ دو پروازوں کی ضرورت پڑی ۔ گرے ہوۓ طیارے کے عملے نے اس ٹیم سے رابطہ کیا تھا اور ان کو اس حادثے سے سب سے زیادہ متاثرلوگوں کے بارے میں بتایا جن کو مدد کی زیادہ ضرورت تھی ۔ انہوں نے مقامی دیہاتیوں کے ساتھ  مل کر ریسکیو ٹیم کے جہاز کے لئے بیلچوں سے ایک جگہ برابر کی۔

لیفٹیننٹ کرنل جان کانمی، 438 ویں کے کمانڈر اور اس مشن میں ایم-آئی-17 کے پائلٹ نے کہا کہ یہ مشن بہت تیزی سے تبدیل ہو گیا طیارا اتارنے کی جگہ تھیک نہیں تھی۔ بہت کم ٹیمیں ایسے حالات میں کام چلا سکتی ہیں۔

ٹیکنی نے کہا کہ سب سے بڑی مشکل سائٹ پر محفوظ طریقے سے اترنا تھا. سائٹ 9،000 فیٹ کی بلندی پر تھی اور ہندوکش پہاڑی سلسلے کی دشوار گزار حصے کے پار تھی۔ افغان عملہ کے اہلکار اس مشن کا ایک لازمی حصہ تھے کیونکہ انھوں نے ریسکیو سائٹ تک پائلٹوں کی رہنمائی کی۔

ٹیکنی نے کہا کہ افغان عوام اس ملک اور علاقے کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ انہوں نے پہاڑوں کے پار اور منزل تک ہماری رہنمائی کرنے کے اس اہم کام کوبخوبی انجام دیا۔

افغانوں نے بھی اس مشن پر حفاظتی اہلکاروں کو بھیجا۔ وہ اپنے ہم وطنوں کی مدد میں اپنا حصہ پورا کرنے کے موقعے کے لیۓ بے چین تھے۔

افغان ایئر فورس میجر فرید ثمین نے کہا کہ ہمیں خطرے کا سامنا  کرنے والے لوگوں کی مدد کرنے کرنے میں بہت خوشی ملتی ہے۔ طیارے میں تمام اہلکاروں نے ایک ٹیم کے طور پر مل کر کام کیا۔

 

کیپٹن مارک مورالس جو کہ 438 ویں ایئر ایکشپڈیشنری ایڈوائزری سکواڈرن کے ساتھ ایک انسٹرکٹر پائلٹ ہیں انہوں نے کہا کہ کسی ماہر کی رہنمائی کے ساتھ بھی، سائٹ کی طرف محفوظ طریقے سے سفر کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ مورالس نے تین ہیلی کاپٹروں میں سے ایک کو اڑایا۔

انہوں نے کہا کہ اونچے پہاڑوں اور چھوٹے لینڈنگ زون کے مجموعے کی وجہ سے مشن میں شامل سب کی بہترین اہلکاروں کی کوششوں کی ضرورت تھی۔ انہوں نے کہا کہ لینڈنگ برف کی وجہ سے اور بھی مشکل تھی، جو کہ بعض علاقوں میں پانچ فیٹ سے زیادہ  گہریتھی جس کی وجہ سے لینڈنگ زون ناقابل شناخت تھی۔

موریلس نے کہا کہ مشن میں پرواز کے حالات میں بہت مشکلیں پیش آئیں اور میں اس بات پر بہت فخر کرتا ہوں کہ کس طرح سے ہماری ٹیم نے ان مشکلات کو مؤثر طریقے سے سنبھالا۔  تاہم یہ صرف ہوائی عملہ نہیں تھا۔  بہت سے لوگ مل کر پہاڑ پر چڑھے اور دوسروں کو مصائب سے بچانے میں ہماری مدد کی۔

ماسٹر سارجنٹ کرس بینکس، ایک زمینی طبی عملے کے رکن، 438 ویں ایئر ایکسپڈیشن ونگ کے ساتھ، انھوں نے بھی اس مشن میں ایک اہم کردار ادا کیا۔ واحد طبی رکن کے طور پر، انہیں یہ یقین کرانا تھا کہ برفانی تودے کے تمام 31 متاثرین اور گر جانے والے طیارے ایم-آئی-17 کے فضائی عملے کو نجات دینے کے انچارج تھے۔

انہوں نے کہا کہ یہ شاید سب سے شدید مشن تھا جس میں میں نے کبھی بھی کام کیا تھا ۔  جب آپ بہت سے مریضوں کے ساتھ کام کر رہے ہوں تو واقعی آپ ہارمون پر چل رہے ہوتے ہیں۔

تقریباً 15 منٹ کے واپس فیض آباد تک کے سفر کے دوران، سارجنٹ،  جو کہ آرلینڈو، فلوریڈا کے ایک مقامی ہیں، ایک مریض سے دوسرے کا علاج کرنے کے لیےبھاگتے رہے، ان کی گیلی پٹیوں کو خشک سے بدلتے ہوۓ اور زخمیوں کی جتنی بھی دیکھ کر سکتے تھے کرتے ہوۓ۔ انہوں نے کہا کہ اگر امدادی مشن کچھ دیر سے اتا تو وہ سب متاثرین کو بچانے کے قابل نہیں ہو سکتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ میں نے ذاتی طور پر پالا مار کا ایسا بدترین کیس کبھی نہیں دیکھا تھا ۔ میں نے صرف تصاویر میں اتنے شدید معاملات دیکھے تھے۔

مورالیس، سان انتونیو کے ایک مقیم، نے کہا کہ حقیقت میں ایک پوری ٹیم کی کوشش تھی۔ افغانوں کی پہاڑوں کے راستوں کی رہنمائی فراہم کرنے کے علاوہ، ایک جرمن صوبائی تعمیر نو ٹیم نے ابتدائی معائنے کی بروقت تصاویر مہیا کیں جو کہ مشن کے لئے قابل قدر معلومات ثابت ہوئیں۔

مورالس نے کہا کہ امریکہ ، جرمنی اور افغانوں کے درمیان ٹیم ورک اور مواصلات ہی اس پورے آپریشن کی بنیاد تھی۔ جرمن انٹیلی جنس کے بغیر، ہم گاؤن اور حادثے کی جگہ کی تلاش میں قیمتی وقت اور ایندھن ضائع کر دیتے۔

ٹیکنی نے کہا کہ وہ گر جانے والے طیارے کا زمینی معائنہ کرنے کے قابل نہ ہونے پر نادم ہیں، لیکن انہوں نے کہا کہ مشن کا سب سے اہم حصہ جو کہ لوگوں کی جانیں بچانا تھا وہ کامیاب رہا۔

انہوں نے مزید بیان کیا کہ مشن کا انسانی ہمدردی کی  بنیادوں کا حصہ کامیاب ترین تھا ۔ مجھے اپنی ٹیم پر انتہائی فخر ہے۔ انھوں نےقابل فخر کام کیا۔

 

Media Gallery

ویڈیو، بصری
تصویریں

جنگی کیمرہ -->

مرکزی کمان کی تصویریں -->

no press releases available at this time
No audio available at this time.
Content Bottom

@CentcomNews //Social Media//

حالیہ ٹویٹز
حالیہ فلکر پر تصویریں
120511-N-NN926-057

120511-N-NN926-057
viewed 22 times

فیس بُک پر دوست
17,356+