صفحہ اول | خبریں | خبریں | ائیر فورس مشیر اور افغان فضائی عملے نے دور دراز کے گاؤں میں طبی سامان پہنچایا
ائیر فورس مشیر اور افغان فضائی عملے نے دور دراز کے گاؤں میں طبی سامان پہنچایا
منجانب Tech. Sgt. Jeremy Larlee, 438th Air Expeditionary Wing
120206_supplies
738ویں فصائیہ کاروائی مشاور گروہ کے مشیر 27 جنوری، 2012 کو انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر مہیا کردہ سامان کو افغانستان میں دیہاتی علاقوں کے گاؤں میں فضا سے گراتے ہوۓ۔ ( کورٹسی فوٹو)

کابل، افغانستان (6 فروری، 2012) – شندند فضائیہ بیس سے 738 ویں فصائیہ کاروائی مشاور گروہ اور افغان فضائیہ فوج کے ہیلی کاپٹر نے، دو دوردراز گاؤں میں خسرے کی وبا سے بری طرح متاثر باشندوں کے لئے 27 جنوری کو اہم طبی سامان پہنچایا۔

مشیروں نے کہا کہ اس وبا نے سارجی اور گاوکوشتہ کے دیہات میں 12 بچوں کی زندگیاں لے لی تھی۔  دیہاتیں پہاڑوں کی وجہ سے ایک دوسرے سے الگ تھلگ ہیں اور ان کو سامان پہنچانا صرف ہوائی نقل و حمل کے ذریعے ممکن تھی۔

فضائیہ فوج کے تکنیکی سارجنٹ جیسن سٹٹ، ایک ہوائی ایم-آئی-17 گنر مشیر، نے کہا کہ افغان فضائی عملے نے مشن کے دوران شاندار کام کیا ہے اور ان کو ضرورت مندوں کی مدد کرنے سے اچھا محسوس ہو رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ مشن اچھا رہا۔  ہم نے 5 افغان ڈاکٹروں اور 2،200 پاؤنڈ طبی سامان ساتھ لیا، یہ اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر مدد کرنے کے دفتر اور اسلامی جمہوریہ افغانستان کی حکومت کی ہم آہنگی سے مرتب کیا گیا تھا، اور چغچران سے افغان فضائیہ فوج کے ذریعے ہوائی راستے سے دوردراز کے گاؤں تک پہنچا گیا۔

ٹیم کو مشن کے دوران بہت سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، مشیروں نے وضاحت کی۔ دشوار گزار پہاڑی علاقوں کے راستوں کے علاوہ اضافی احتیاطی تدابیر اختیار کی گئی تھیں تاکہ کوئی افغان فضائیہ فوج کے کا رکن بھی وائرس سے بیمار نہ ہو جاۓ ۔  سٹٹ نے کہا کہ وہ بے یقینی کا شکار تھے کہ کس افغان فضائیہ عملے کے رکن کو مناسب ویکسین ملی تھی۔

مشاور ٹیم نے خسرے کے پھیلاؤ کی تحقیقات میں وقت گزارا اور یہ فیصلہ کیا کہ جن ارکان کو ویکسکن نہیں ملی ہوئی تھی وہ ہوائی جہاز سے نیچے نہیں اتریں گے۔  سٹٹ نے کہا کہ بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے عملے کے سب ارکان نے حفاظتی احتیاطی تدابیر کے طور پر ماسک اور دستانے پہنے ہوۓ تھے۔

ٹیم کو ایک مشکل لینڈنگ کا بھی سامنا کرنا پڑا کیونکہ لینڈنگ زون جو سطح سمندر سے 7،500 فٹ کی اونچائی پر تھا وہ برف سے ڈھکا ہوا تھا۔

سٹٹ نے کہا کہ جس طرح سب نے مل کر خوش اسلوبی سے کام کیا وہ اس پر بہت فاخر ہیں۔

سٹٹ نے کہا  کہ میرے لئے اپنے افغان ہم منصبوں کے ساتھ کام کر کے اس مشن کو پورا کرنے اور ان دو الگ تھلگ دیہاتوں کو مدد پہنچانا اہم تھا ۔ کسی بھی وقت کسی کی مدد کرنے کا موقع ملنے پر اچھا لگتا ہے، خاص طور پر جب آپ کو ایک ایسے گاؤں کی مدد کا موقع ملتا ہے جس نے پہلے ہی بیماری کی وجہ سے 12 بچوں کو کھو دیا تھا۔

 

Media Gallery

ویڈیو، بصری
تصویریں

جنگی کیمرہ -->

مرکزی کمان کی تصویریں -->

no press releases available at this time
No audio available at this time.
Content Bottom

@CentcomNews //Social Media//

حالیہ ٹویٹز
حالیہ فلکر پر تصویریں
RIDE002

RIDE002
viewed 25 times

فیس بُک پر دوست
33,184+