| افغانوں نے مرینز کی مدد سے ایک مسجد کو دوبارہ تعمیر کیا |
منجانب Sgt. Michael Cifuentes, 1st Marine Division شئیرمتعلقہ خبریں
کیپٹن جیسی ہلز، 3 ٹیم کے ٹیم لیڈر، سول افئیرز ڈیٹیچمنٹ 11-2، 11ویں مرین رجیمنٹ، 25 فروری کو نشین خان کے ضلع میں، دوبارہ تعمیر کی گئی عظیم الشان مسجد کے سامنے ایک مقامی کے ساتھ بات چیت کرتے ہوۓ۔ (فوٹو منجانب مائیکل سیفوئنٹس)
نشین خان، صوبہ ہلمند، افغانستان (28 فروری، 2012) - اتحادی افواج اور اسلامی جمہوریہ افغانستان کی حکومت کے ساتھ شراکت کے تحت افغان تعمیری کارکنوں نے ایک شاندار مسجد کو دوبارہ نیا بنانے کے لیئے تعمیراتی کام انجام دیا جو نشین خان کے ایک ویران گاؤں میں ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھی ۔اس مسجد کو اب گاؤں کی مرکزی آرائیش کے طور پر مقامی حکومت کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ مٹی کی دیواروں اور اندر لگے پلاسٹر پر ٹوٹ پھوٹ کے ملاپ، ہلمند کے صحرائی موسم کےعناصر، اور دیکھ بھال کے فقدان کے مجموعے نے 300 سال پُرانی مسجد پر اثر کیا۔ مزید براں، اس علاقے میں مقامی لوگوں کے مطابق باغیوں کے کنٹرول کے دوران مسجد کی دیکھ بھال ضروری نہیں سمجھی گئی تھی۔ 2009 میں اتحادی افواج نے پاکستانی سرحد کے قریب جنوبی افغانستان میں خان نشین سے صرف چند میل دور اپنی گرفت مضبوط کرلی اور گاؤں میں ایک مسلح کمپاؤنڈ پر قبضہ کر لیا جس کی دفاع کبھی وہاں موجود باغیوں کے ہاتھوں تھا۔ اتحادی افواج کی موجودگی کی وجہ سے اس علاقے میں افغان قوم مقامی حکومت قائم کرنے کے قابل ہوۓ تھے۔ مرین کپٹان جیسی ہلز ٹیم 3 کے لیڈر، سول افئیرز ڈیٹیچمنٹ11-2، 11ویں مرین رجیمنٹ، تعمیر نو کے پروجیکٹ مینیجر تھے۔ ان کی ذمہ داری یہ معلوم کرنا کہ مسجد کی مرمت کرنے کے لیۓ کس چیز کی ضرورت تھی جیسے تعمیرنو کو مکمل کرنے کے لئے وقت، ضروری وسائل، اخراجات کا تخمینہ، اور ایک افغان کمپنی کو اس کا کانٹریکٹ دینا۔ انہوں نے کہا کہ انھیں حاجی زاہد اللہ، شمالی افغانستان میں جلال آباد کے علاقے سے ایک افغان کنٹریکٹر، کی خدمات حاصل کرنے سے ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوئی۔ ہلز نے کہا کہ زاہد اللہ اور ان کے 14 رکنی عملہ ان کی توقعات سے بڑھ کر اور مسجد کو خوبصورت کے قابل تھا۔ زاہد اللہ نے کہا کہ مقامی لوگ شہر میں آزادی سے عبادت نہیں کر سکتے تھے ۔ جب باغی یہاں رہتے تھے تو سب کی زندگیوں میں بے حد عدم استحکام تھا۔ زاہد اللہ نے اندرونی دیواروں پر پلاسٹر کیا، دروازے اور کھڑکیاں بدلیں، سامنے کے داخلی دروازے اور باغ کی دوبارہ تعمیر کی، ایک لاؤڈ سپیکر نصب کیا، اور نمازیوں کے لئے نماز سے پہلے وضو کرنے کے لئے ایک جگہ بنائی۔ ہلز نے کہا کہ ایک بہت اہم طریقہ کار جو مسلمان نماز سے پہلے ادا کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ اپنے آپ کو ایک بہت ہی روایتی انداز سے دھونا اس لیئے پانی بہت ضروری ہے۔ وضو کی جگہ تھیک حالت میں نہیں تھی اور وہاں کنویں کے پانی تک کی رسائی نہیں تھی۔ یہ منصوبہ 2011 نومبر میں شروع ہوا تھا۔ 3 ٹیم کی تعیناتی کی مدت کے دوران انھوں نے افغانستان کی ثقافت اور مذہب کے بارے میں جانا اور ان کی انکھوں میں اس کی قدراور بھی بڑھ گئی۔ ٹیرا ہوٹ، انڈیانا کے 28 سالہ ہلز نے کہا کہ یہ ان کی روزمرہ کی زندگی کا ایک بڑا حصہ ہے - نہ صرف عبادت کرنے کے لئے، بلکہ جو کچھ بھی وہ کرتے ہیں یہ اس میں راسخ ہے۔ مسجد اب تعلیم دینے کی جگہ بن گئی ہے، ایک جگہ جہاں بزرگ ایک دوسرے سے ملتے ہیں، ایک ایسی جگہ جہاں سرکاری حکام اورعمائدین مواصلات کابل اور لشکر گاہ کے درمیان اور یہاں تک کہ نشین خان میں بھی پہنچ سکتا ہے۔ ٹیم 3 کے رکن کارپورل جاشوا بروکس، 28 سالہ جو کہ سلیسٹ، ٹیکساس کے مقامی ہیں، نے کہا کہ کامیابی کی پیمائش کرنے کے لئے بہترین طریقہ یہ ہے کہ جب کمیونٹی عبادت کی جگہ پر جمع ہو تو وہ خود کو محفوظ محسوس کرسکیں۔ بروکس نے کہا کہ اس چیز کا شروع سے مشاہدہ کرنا ایک پر لطف بات تھی، ایک 300 سالہ پُرانی عمارت کو بنیادی طور پر ملبے سے بدل کر اس حالت میں لانا میری رائے میں ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ مسجد کی بڑی افتتاحی تقریب 2 مارچ کو شیڈول پر ہے۔ لیکن مقامی لوگ پہلے ہی عبادت کے لیۓ آنا شروع ہو گۓ ہیں، اور ضلع کے گورنر نے پہلے ہی گاؤں کے بزرگوں کے ساتھ ایک شوری منعقد کی ہے۔ زاہد اللہ نے کہا کہ وہ بہت فخر محسوس کرتے ہیں انھوں نے نشین خان کے گاؤں کے لوگوں کی واپس اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے میں مدد کی۔ میرین سارجنٹ اینڈریو سینفرڈ کوسٹا میسا، کیلیفورنیا سے 24 سالہ 3 ٹیم کے ایک رکن نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ یہ منصوبہ حکومت کو صوبہ ہلمند کے اس حصے میں جمنے میں مدد دے گا۔ زاہد اللہ نے کہا کہ وہ بہت پر اُمید ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جب سے جیسی یہاں آیا ہے، اچھے کام ہو رہے ہیں ۔ ایک مسجد کی تعمیر ہوئی، یہ ایک ترقی ہے۔ ایڈیٹر کا نوٹ: تھرڈ بٹالین، فرسٹ مرین ڈویژن (فارورڈ)، افغان نیشنل سیکورٹی فورسز اور انسداد بغاوت کی کاروائیاں کرنے کے لئے افغانستان کی اسلامی جمہوریہ حکومت کے ساتھ شراکت میں کام کرتی ہے۔ یونٹ افغان عوام کی حفاظت، باغی افواج کو شکست دینے، اور این-ایس-ایف کو اپنے آپریشنز کے علاقے کے اندر سیکورٹی کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیۓ استحکام، ترقی، اور جائز حکومت کی توسیع میں مدد کرنے کے لیے وقف ہے۔ |
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 






















