| 'اندرونی' حملوں کی روک تھام کے لئے افغانوں، اتحادیوں کی کوشش |
منجانب Karen Parrish, American Forces Press Service شئیرمتعلقہ خبریںواشنگٹن (مارچ 28، 2012) ۔ افغان اور اتحادی رہنما افغانستان میں "اندرونی خطرے" کی وجہ سے ہونے والی اموات کو کم کرنے کی کوشش کررہے ہیں، آج یہاں یو-ایس اور نیٹو افواج کے کمانڈر نے یہ بات صحافیوں کو بتائی۔ مرین کور کے جنرل جان آر۔ ایلن نے پنٹاگون کی ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ افغان اور اتحادی افواج نے افغان سپاہیوں اور پولیس فورسز کی جانب سے اتحادی اہلکاروں کی ہلاکت کا تدارک کرنے کے لئے اپنی کاروائیوں کو تبدیل کردیا ہے، جسے "گرین۔آن۔بلیو" واقعات کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ ایلن نے کہا کہ اس سال اس طرح کے واقعات میں پندرہ اتحادی اہلکار ہلاک ہوئے۔ میرے خیال میں آپ کو معلوم ہوگا کہ کل رات ہمارے ساتھ ایسا ہی ایک المیہ واقع پیش آیا جہاں ہلمند صوبے میں دو نوجوان برطانوی فوجیوں کو ہلاک کردیا گیا ۔ افغان رہنماؤں نے آٹھ مرحلوں پر مبنی چھان بین کے طریقہ کار کا آغاز کیا ہے، ایلن نے کہا، اور انھوں نے آرمی اور پولیس اسکولوں، بھرتی ہونے کے مراکز اور مختلف عہدوں میں جوابی جاسوسی کاروائیوں کی پیش قدمی کی ہے تاکہ ایسے اشخاص کی جانچ پڑتال کی جاسکے، یا انھیں روکا جاسکے، جو ممکنہ طور پر ایک شدّت پسند یا درحقیقت طالبان کے ساتھی ہوں۔ جنرل نے کہا کہ کچھ اہم معلومات سامنے آئے ہیں۔ افغان تفتیش کاروں نے کچھ افراد کو حراست میں لیا ہے جو وردی میں ملبوس ہوکر 'گرین۔آن۔بلیو" لڑائی کے لئے ممکنہ طور پر آمادہ کرنے والوں میں سے ہوسکتے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ لہذا یہ طریق عمل حقیقت میں کامیاب ہے ۔ ایلن نے کہا کہ انھوں نے بین الاقوامی حفاظتی امدادی افواج کے تحت افواج مہیا کرانے والے ممالک کو ہدایت جاری کردی ہے کہ تعینات کی جانے والی افواج کی تربیت میں اضافہ کیا جائے۔ انھوں نے مزید کہا کہ آئی-ایس-اے-ایف کے سپاہیوں نے سونے، بیس پر رہنے اور حفاظت کے انتظامات کو تبدیل کردیا ہے تاکہ اتحادی افواج کی بہتر طور پر حفاظت کی جاسکے۔ انھوں نے کہا کہ افغان عوام نے اپنے لیئے کیا کیا ہے ، ہم خود کے لیئے کیا کیا کررہے ہیں اور ہم ایک دوسرے کا ساتھ کس طرح دے رہے ہیں، ان ساری باتوں کو مد نظرے رکھتے ہوئے ہم اس المیہ کو انتہائی ممکنہ حد تک کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جیسے طالبان اس طرح کے تمام حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں، ان میں سے اکثریت طالبان کی سرایت کا براہ راست نتیجہ نہیں ہیں۔ انھوں نے توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ لیکن اب یہ کوئی راز نہیں ہے کہ طالبان کچھ عرصے سے افغان افواج اور ان عناصر میں شامل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں جو براہ راست افغان اور اتحادی افواج کی مدد کرتے ہیں ۔ جنرل نے کہا کہ بہت سے معاملات میں، افغان اور اتحادی افواج کے درمیان تعلقات مضبوط ہیں ۔ انھوں نے تسلیم کیا کہ اب بھی یہ حملے دہشت گردی کو ختم کرنے کے ہی مہم سے وابستہ ہیں۔ جنرل ایلن کا کہنا ہے کہ ہم نے عراق میں ان حملوں کا سامنا کیا، [اور] ہم نے ویتنام میں ان کا سامنا کیا۔ 'کسی بھی موقع پر جہاں آپ دہشت گردی سے نبرد آزما ہورہے ہوں اور ایسی جگہ پر جہاں آپ ایک مقامی فوج کو پروان چڑھا رہے ہوں -- جو بلاشبہ اس دہشت گردی کی بنیادی مخالف ثابت ہوگی -- دشمن وہ تمام اقدامات اپناتے ہیں جس کے ذریعہ وہ دہشت گردی کے خلاف ہونے والی کاروائیوں میں رکاوٹ ڈال سکیں، لیکن ایک کوشش ان کی یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ پروان چڑھنے والی مقامی افواج کی بڑھتی ہوئی دیانتداری میں خلل پیدا کرسکیں۔
|
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 






















