| افغانستان کے دورے نے ڈمپسی کو حوصلہ افزائی دی |
منجانب , American Forces Press Service
چئیرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل مارٹن ڈمپسی 23 اپریل کو کیمپ مورہیڈ کابل، افغانستان میں امریکی اور افغان سپیشل فورسز سے ایک پہاڑی کی چوٹی پر معلومات حاصل کرتے ہوۓ۔ (ڈی-او-ڈی فوٹو منجانب ڈی۔ مائیلز کلن)
برسلز (25 اپریل، 2012) – چئیرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف نے 24 اپریل کو اپنے افغانستان کے دو روزہ دورے کا اختتام کیا اور کہا کہ جو کچھ انھوں نے وہاں دیکھا اور سنا اس سے ان کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔ آرمی جنرل مارٹن ڈمپسی نے امریکی افواج کی پریس سروس کو بتایا کہ نیٹو کے دفاعی سربراہان کے اجلاس کے لئے یہاں آتے ہوۓ انھیں کل نیٹو کے کیمپ مور ہیڈ، کابل، افغانستان میں تربیتی مشن کے سپیشل فورسز ٹریننگ سینٹر کے دورے نے خاص طور پر متاثر کیا۔ انہون نے کہا کہ میں نے دن کا زیادہ تر حصہ [افغان] کمانڈو، اسپیشل فورسز اور اپنے ہم منصب جنرل شیر محمد کریمی کے ساتھ گزارا، صرف اس بات کا احساس کرنے کے لیۓ کہ وہ خود کے بارے میں کیا محسوس کرتے ہیں۔ چیئرمین نے اس بات پر توجہ مرکوز کی کہ انھوں نے ان امریکی فوجیوں سے بھی بات چیت کی جو ان افغان کمانڈوز کے معلم تھے۔ انہوں نے کہا کہ دو ایک باتوں نے میری حوصلہ افزائی کی۔ انہوں نے جاری رکھتے ہوۓ کہا کہ ان کی خود اعتمادی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ وہ بہت فاخر ہیں۔ وہ نہ صرف لیس ہیں اور انھیں تربیت کا ایک اچھا ماڈل مل گیا ہے، بلکہ وہ ایک مقصد کا احساس اور اقدار کے معنی قائم کر رہے ہیں ... یہ ایک ایسی طاقت کا مظاہرہ ہے جس کا میں نے اس سے پہلے سامنا نہیں کیا تھا، اور میں اسے بہت قابل سمجھتا ہوں، اور میرے خیال میں، اور آگے بڑھتے ہوئے ان کے سکیورٹی اپریٹس کا ایک بہت ہی اہم حصہ بن رہا ہے۔ اپنے افغانستان کے دورے کے دوران، ڈمپسی نے امریکی افواج کی واپسی پر نقطہ نظر حاصل کرنے کے لیئے مرین کور کے جنرل جان آر ایلن، انٹرنیشنل سیکورٹی اسسٹنس فورس کے کمانڈر کے ساتھ ملاقات کی۔ چیئرمین نے کہا کہ یہ ٹھیک چل رہا ہے ۔ انہوں نے ہمیں آج اور ستمبر کے اختتام کے وقفے کے درمیان 23،000 فوجیوں کی واپسی کے لئے اپنی منصوبہ بندی پیش کی۔ انھوں نے مجھے بتایا کہ لسبن میں بیان کیے گۓ ہمارے مقاصد کو حاصل کرنے کی مہم کی منصوبہ بندی پر عملدرآمد جاری رکھتے ہوۓ وہ اس کام کو پورا کر سکتے ہیں ۔ نیٹو کے ریاستی اور حکومتی سربراہان نے پرتگالی دارالحکومت میں 2010 کے نومبر میں اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ افغان سکیورٹی فورسز کو افغانستان کی تمام سکیورٹی کی ذمہ داریاں 2014 کے آخرتک منتقل کر دی جائیں گی۔ وہ اگلے ماہ شکاگو میں مل ایں گے تاکہ وہ اس سے آگے کے کام کا تعین کر سکیں۔ جرنل نے توجہ دلائی کہ واپسی میں رسد اور نقل و حمل کی کچھ مشکلات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس ملک میں سے 10 سال کی جنگ کے بعد کا سامان ڈھونڈ نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تو ہمارے آگے کچھ مشکلات ہیں اور اس جنگ کے بہت متحرک حصے ہیں۔ ہم اپنی فورسز یہاں وہاں بھیج رہے ہیںاور وہ اپنی فورسز کو حرکت دے رہے ہیں۔ ہم اس عبوری دور کو سنبھالنے کے بہتر طریقے تلاش کر رہے ہیں اور یہ سب ممکن ہے۔ ڈمپسی نے امریکی فوجی نظم و انصرام کی مشکل چیلنجوں کا سامنا کرنے کی دائمی کوششوں کی تعریف کی، اس بات کی طرف توجہ دلاتے ہوۓ کہ ٹرانسپورٹیشن کمانڈ اور تمام فوجی رسد کے ارکان ہمیشہ کام ختم کرنے کے لیۓ کوئی نہ کوئی راستہ ڈھونڈ لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "ٹرانسکام" ناقابل یقین حد تک شاندار ہے ۔ مجھے ابھی بھی یاد ہے کہ "ڈیزرٹ سٹارم" کے دوران رسد کے ارکان نے کیا کامیابی حاصل کی تھی۔ لیکن یہ رسد کے ارکان آج ایک نیا معیار قائم کر رہے ہیں۔
|
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 




















