صفحہ اول | خبریں | خبریں | افغانستان کے سفیر کی امریکی فوجی کو دعوت
افغانستان کے سفیر کی امریکی فوجی کو دعوت
منجانب , Army News Service
120417_knife
سارجنٹ سٹیفن ہرٹ، امیجری تجزیہ کار اور چوتھی بریگیڈ کامبیٹ ٹیم، 101ویں ائیربورن ڈویژن (ائیر اسالٹ)، اکلیل احمد حکیمی، افغانستان سے ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے سفیر سے 13 اپریل۔ 2012 کو واشنگٹن ڈی سی میں افغان سفارت خانے میں ملاقات کی۔ (فوٹو کریڈٹ سی۔ ٹاڈ لوپیز)

واشنگٹن (17 اپریل، 2012) - افغانستان میں ایک امریکی فوجی کے سادہ اعمال نے گزشتہ سال ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں اس قوم کے سفیر کی توجہ حاصل کی جنہوں نے، 13 اپریل کو واشنگٹن ڈی سی میں سفارت خانے پر فوجی سے ذاتی طور پر بات چیت کی۔

سارجنٹ اسٹیفن ہرٹ ایک امیجری تجزیہ کار اور چوتھی بریگیڈ کامبیٹ  ٹیم، 101ویں ائیربورن ڈویژن کا حصہ ہیں۔ افغانستان میں اپنی دوسری تعیناتی کے دوران، 2010 ء اور 2011 کے درمیان، ہرٹ نے افغان بچوں کے لیئے اسکول کے سامان کی ایک چھوٹی رقم جمع کرنے اور پھر اسے تقسیم کرنے کی کوشش کی۔

جبکہ سامان کی تقسیم کے دوران، انھوں نے مقامی دیہاتیوں کے ساتھ نماز ادا کرنے کے لیئے وقفہ لیا۔ ہرٹ ایک امریکی فوجی، متوقع  20،000-10  کے درمیان مسلمانوں امریکہ فورسز کے ارکان میں سے ایک ہیں۔ 

"کمانڈر کومعلوم تھا کہ اگر ممکن ہو تو میں مقامی لوگوں کے ساتھ نماز ادا کرنا چاہوں گا،" ہرٹ نے کہا۔ "اور ہم عین موقعے پر وہاں پہنچے جب نماز کا وقت تھا اور وہ نماز ادا کر رہے تھے، تو کمانڈر نے پوچھا، اور انہوں نے جواب میں کہا کہ ٹھیک ہے، وہ حیران تھے کہ میں مسلمان تھا، میں نے اپنا سامان رکھا اور اپنا ہتھیار کمانڈر کے حوالے کیا اور مقامی لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی۔ 

اکلیل احمد حکیمی، افغانستان سے ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے سفیر نے کہا کہ انھوں نے اس کہانی میں دلچسپی لی۔ 

"میں یہ سن کو متوجہ ہوا خاص طور پر اس کے تجربے سے، اس نے جنوب میں افغان کمیونٹی، جہاں اس نے خدمات سر انجام دیں،  نماز پڑھی،" حکیمی نے کہا۔ "میں نے اس سے کہا کہ  ہمیں افغانستان میں کسی نہ کسی طرح یہ بات پہنچانی چاہیۓ۔ بعض لوگوں کو یہ معلوم نہیں ہے کہ امریکی فوج کے اندر مختلف عقائد کے لوگ، اکٹھے خدمات سر انجم دیتے [ہیں]، کسی بھی امتیاز کے بغیر، کسی بھی مسئلہ کے بغیر۔ ہمارے عوام یہ چیزیں نہیں جانتے ہیں، وہ اس طرح کی باتیں سن کر بہت خوش ہو جائیں گے۔" 

واشنگٹن، ڈی سی، 13 اپریل، میں ہرٹ اور سفیر حکیمی نے ایک گھنٹے کے لیئے افغانستان کے سفارت خانے میں ملاقات کی۔ ہرٹ نے تحفہ کے طور پر ایک  باکس فریم کے اندر لگا ٹیکٹیکل چاقو حکیمی کو پیش کیا۔ 

ہرٹ نے کہا کہ جب انہوں نے یہ  پوچھا کہ اگر وہ افغان گاؤں کے مقامی مردوں کے ساتھ نماز ادا کر سکتے ہیں، تو انہیں یہ شبہ تھا کہ وہ اس کے ارادے پر شک کر سکتے ہیں۔

"میرے خیال میں ان میں سے بہت سوں کو شک تھا کہ مجھے معلوم تھا کہ کیسے پڑھنی ہے،" انھوں نے کہا۔ ہرٹ پچھلے آٹھ سال سے ایک عمل پیرا مسلمان ہے۔ "میرے خیال میں وہ سمجھتے تھے کہ میں خوش اخلاقی کا مظاہرہ کر رہا تھا، جیسا کہ ان کے ساتھ بیٹھ کر چاۓ پینا۔"

ہرٹ نے کہا کہ انہوں نے دو دیگر مردوں کے شانہ بشانہ نماو ادا کی، اور یہ کہ ایک اور نے "مجھے اپنے سر کا سکارف فراہم کیا تاکہ میں اس کو نیچے بچھا کر نماز ادا کر سکوں۔"

بعد ازاں، ہرٹ نے کہا، کہ وہ وہاں افغانستان میں یہاں تک کہ اجنبیوں کے درمیان بھی، اور زبان کی رکاوٹ کے ساتھ بھی، انھوں نے دیہاتیوں اور کچھ دوسروں کے ساتھ کسی چیز کا اشراک کیا۔

"میں دیکھ سکتا تھا کہ انھوں نے یہ محسوس کیا جیسے میرے اور ان کے درمیان کچھ مشترک تھا، اگرچہ ہم ایک زبان نہیں بول سکتے تھے، انہوں نے کہا۔"

مزید اہم، ہرٹ نے کہا کہ اسے شک تھا کہ ان کے عمل نے کسی حد تک اس فریب کو غلط ثابت کرنے میں مدد کی ہو گی جو خطے میں دونوں امریکہ اور افغانستان کے دشمنوں کی طرف سے پھیلایا جا رہا ہے۔

"اس علاقے میں۔ مجھے شبہ ہے کہ اس سے لوگ اس پروپیگنڈا جو طالبان 'اسلام کے خلاف امریکہ کی جنگ' کے بارے میں  پھیلا رہے ہیں کے بارے میں سوال کریں گے،" ہرٹ نے کہا۔

حکیمی نے بھی یہی کہا کہ، انہوں نے مزید کہا کہ ہرٹ کو ان کے ساتھ نماز ادا کرتے دیکھ  کر، اس فوجی نے اسے  غلط ثابت کرنے میں مدد دی، کم از کم وہاں، اس کہانی کو کہ امریکہ اور دیگر غیر ملکی اسلام پر قبضہ کرنے آ رہے ہیں۔

سفیر نے کہا کہ افغانستان میں حزب اختلاف کی فورسز ہیں جو کہ دیہاتیوں کو اس بات پر قائل کرنے کے ارادے رکھتی ہیں کہ ایساف، نیٹو فورسز اور امریکہ سمیت تمام فورسز وہاں ، ملک پر حملہ کرنے کے لیئے ہیں۔

"ایسا معاملہ نہیں ہے،" حکیمی نے کہا۔ "[امریکہ] ہمیں دہشت گردی سے چھٹکارا حاصل کرنے میں مدد کے لیۓ وہاں آیا۔ [امریکہ]، ایک ساتھ، ہم نے دہشت گردوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیئے خون اور خزانیں بہائے ہیں اور جمہوری اقدار کی بنیادوں پر اداروں کو قائم کرنے کے لیئے۔ یہ وہ چیزیں ہیں جو آپ کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے ایک بہت بڑی، بہت بڑی قیمت ادا کی ہے۔ یہ مثال کے [ہرٹ کی نماز کے] نہ صرف لوگوں کے ذہن تبدیل کرے گی، بلکہ یہ دشمن کے ایجنڈے کا مقابلہ بھی کرے گی۔

 

Media Gallery

ویڈیو، بصری
تصویریں

جنگی کیمرہ -->

مرکزی کمان کی تصویریں -->

no press releases available at this time
No audio available at this time.
Content Bottom

@CentcomNews //Social Media//

حالیہ ٹویٹز
حالیہ فلکر پر تصویریں
RIDE002

RIDE002
viewed 25 times

فیس بُک پر دوست
33,184+