صفحہ اول | خبریں
افغان عورتیں مستقبل کو شکل دے سکتی ہیں
منجانب Staff Sgt. David Overson, 115th MPAD
121221_fet.jpg
امریکی فوج کے ایک فوجی 18 دسمبر، 2012 کو بگرام ائیر فیلڈ، افغانستان میں اتحادی فوجوں کی زیر قیادت خواتین کی شمولیت کی ٹیم میں حصہ لیتے ہوۓ۔ (فوٹو منجانب سٹاف سارجنٹ ڈیوڈ جے۔ اوورسن)

بگرام ائیر فیلڈ، افغانستان - بعض کا کہنا ہے کہ افغانستان کا آگے کی طرف سفر اس کی خواتین کے ذریعے ہے۔ اس حوالے سے اتحادی افواج کی زیر قیادت خواتین کی انگیجمنٹ ٹیمیں اب بھی بہت مصروف ہیں۔ سیکھے گۓ اسباق کو مرتب کرنے اور ٹیموں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے، پہلی بار بگرام ایئر فیلڈ پر 18-20 دسمبر کو ریجنل کمانڈ ایسٹ ای-ایف-ٹی کانفرنس منعقد کی گئی تھی۔

اس کانفرنس کا مقصد افغانستان وردیداری پولیس میں خواتین کی بھرتی اور حمایت کی حکمت عملی، جس میں ٹیم مستقبل میں کامیابی کی شرح میں مدد ملے گی کی ترقی کا ایک متحدہ منصوبہ کو تیار کرنا تھا۔

آر-سی مشرقی میں چار ٹاسک فورس ہیں جن میں سے ہر ایک کے ساتھ پانچ سے دس ٹیمیں ہیں، جن کا مشن افغان خواتین تک پہنچنے کا ہے۔ ایف-ای-ٹی کے ساتھ ہر ٹاسک فورس کی کانفرنس میں نمائندگی تھی، جنھوں نے ان کامیابیوں اور ناکامیوں جن کا ٹیموں نے اب تک تجربہ کیا تھا کا براہ راست علم پیش کیا۔

آر-سی مشرقی کے انضمام کے ڈپٹی چیف افسر لیفٹیننٹ کرنل سکاٹ پیری ناڈ، کا خیال ہے کہ اب تک سب سے بڑی رکاوٹ جس کا انھیں سامنا ہوا ہے وہ اہم صوبائی رہنماؤں، گورنر اور پولیس کے سربراہان کی حمایت حاصل کرنا ہے، تاکہ ان کے تربیتی پروگرام کی توثیق کی جاۓ اور اسے قائم کیا جاۓ۔ پولیس رہنماؤں کو اس بات پر متاثر کرنا کہ بہتر مہارت کے ساتھ خواتین افسران انہیں اپنے آپریشن کے علاقوں کے اندر رسائی، اثر و رسوخ، اور انٹیلی جنس حاصل کرنے میں مدد دیں گیں اور وہ ان کے لئے ایک اہم آلہ کے طور پر ہوں گی، انہوں نے کہا۔

"اس کانفرنس نے ہمیں ایک بنیادی تربیتی ہدایات نامے مسودہ تیار کرنے کا موقع دیا، جو قومی اکیڈمی میں استعمال کیا گیۓ پہلے سے قائم ایک منصوبے پر بنیاد کیا گیا تھا۔ ہم نے خواندگی، اہم حکمت عملی کی پوچھ گچھ، شہادتوں کی بنیاد پر آپریشن، اور گواہوں کے بیانات، اور ایک افغان امن اور دوبارہ انضمام کا پروگرام شامل کرنے کے لیۓ ان اہم عناصر کو شامل کیا۔"

آر-سی مشرقی اور کمبائنڈ جوائنٹ ٹاسک فورس 1 کے سینئر ترقییاتی افسر اور ڈپٹی سینئر سویلین نمائندے، نادرے سی۔ لی، نے سویلین نقطہ نظر کی نمائندگی کو یقینی بنانے کے لیۓ کانفرنس میں شرکت کی۔

"میرے خیال میں شہریوں کی طرف سے سب سے زیادہ اہم بات یہ دیکھنا ہے کہ فوج بھی انھی مسائل کے بارے میں سوچتی ہے جن کے بارے میں ہم سویلین سوچتے ہیں، اور میرے خیال میں ہم سب نے جو اسباق سیکھے ہيں ان پر کام کر سکتے ہیں،" لی نے کہا۔

" افغانستان کو آگے کی طرف سفر کرنے کے قابل ہو نے کے لیے بہت ضروری ہے کہ خواتین کو ہر چیز میں شامل کیا جاۓ۔ ہمیں عورتوں کے بارے مختلف طرح سے سوچنا شروع کرنے کی ضرورت ہے، طاقتور اقتصادی اداکاروں کے طور پر، مختلف سیکورٹی فورسز میں اور افغانستان کی زندگی کے ہر پہلو میں،" لی نے کہا۔

کانفرنس میں نہ صرف سویلین اور فوجی نقطہ نظر اور تجربات سے نتیجہ اخذ کرنے کا موقع تھا بلکہ اس میں مسلمان نقطہ نظر بھی تھا۔ اردن کی فوج وہ فراہم کرتی ہے جسے اردنی مشغولیت کی ٹیم کہا جاتا ہے، وہ بھی وہاں حاضر تھی۔ دراصل، اتحادی افواج افغانستان میں ثقافتی اور مذہبی امور کے بارے میں نقطہ نظر کے لیۓ جے-ای-ٹی پر بہت انحصار کرتی ہیں۔

خواتین کو 1950 کے بعد سے اردن کے فوج اور پولیس میں شامل کیا گیا ہے، جس نے جے-ای-ٹی کو پیشہ ورانہ کام کی قوت میں خواتین کی شمولیت کی اپنی تاریخ کی رکاوٹوں سے سیکھنے کے قابل کیا ہے۔

اردن کی فوج کی سیکینڈ لیفٹیننٹ ہوتاف المہاسنہ، ایک سیکورٹی انضمام افسر کانفرنس میں دونوں ایک خاتون اور ایک مسلم نقطہ نظر لے کر آئیں۔

"اس پروگرام کو کرنے خیال اچھا ہے،" المہاسنہ نے کہا۔ "خواتین کی ذاتی خلوت کی حفاظت مسلمانوں کے لیۓ بہت اہم ہے۔ خواتین کے لئے ایک ایسے ماحول کی ضرورت ہے اور ہمیں اس پر زور دینے کی ضرورت ہے۔ مجھے امید ہے کہ افغان خواتین کو اس پروگرام کو قبول کریں گیں۔"

 

 

Media Gallery

ویڈیو، بصری
تصویریں

جنگی کیمرہ -->

مرکزی کمان کی تصویریں -->

no press releases available at this time
No audio available at this time.
Content Bottom

@CentcomNews //Social Media//

حالیہ ٹویٹز
حالیہ فلکر پر تصویریں
RIDE002

RIDE002
viewed 22 times

فیس بُک پر دوست
33,148+