| افغان فوجی آئی ای ڈی کو شکست دینے میں قیادت سنبھالتے ہوۓ |
منجانب Sgt. 1st Class Abram Pinnington, 101st Combat Aviation Brigade Public Affairs شئیرمتعلقہ خبریں
کیمپ پارسا (8 دسمبر، 2012) – کیمپ پارسا، افغانستان میں افعان نیشنل آرمی کی قیادت میں خود ساختہ دھماکہ خیز آلات کے انسداد کا ایک چھ ہفتوں کا کورس 40 نۓ، بہت مہارت یافتہ افغان فوجیوں جو آئی ای ڈی سے لڑنے کے لیۓ پر جوش ہیں، کو تیار کر کے نکالنے کے لیۓ اپنے راستے پر ہے۔ یہ تربیت افغان فوجیوں کو یک طرفہ کاروائیاں جاری رکھنے اور افغانستان کو تحفظ فراہم کرنے کے لیۓ ضروری صلاحیت فراہم کرتی ہے۔ آئی کیژولٹی ڈاٹ آرگ کی طرف سے ایک رپورٹ کے مطابق، جنوری 2008 سے ستمبر2012 تک افغانستان نیشنل سکیورٹی فورسز اور بین الاقوامی سکیورٹی اسسٹنس فورسز کے 63 فی صد زخمی یا ہلاکتیں آئی ای ڈی کی وجہ سے تھیں، اس طرح اس قوی اور مہلک خطرہ کو شکست دینے کے لئے مکمل توجہ لائی گئی۔ اس خطرے کو جاننے اور اس کو شکست دینے کے ذرائع کے ساتھ لیس، اے این اے کی اعلی سطح کی قیادت نے اپنی ترجیحات میں انسداد آئی ای ڈی کی تربیت کو سب سے اوپر رکھا ہے۔ اتحادیوں کے راستے کی صفائی کے لیۓ کمپنیوں کی کامیابی سے حوصلہ افزائی حاصل کر کے، اے این اے نے اپنے راستے کی منظوری کی صلاحیتوں پر عمل کرنے کی اشد ضرورت کو محسوس کیا۔ "ہم نے دیکھا کہ اتحادی فوجیوں نے کتنی اچھی طرح سے اپنے انسداد آئی ای ڈی کے طریقوں کا استعمال کیا،" فرسٹ لیفٹیننٹ عبد حلیم، کیمپ پارسا میں اے این اے کے انسداد آئی ای ڈی کی تربیت کے انچارج افسر نے کہا۔ "ہم نے فیصلہ کیا کہ ہمارے اپنے ملک کی حفاظت کرنے کی اپنی کوششوں کو برقرار رکھنے کے لئے، ہمارے لیۓ اس کی تربیت لینا اور حاصل کرنا اہم ہو گا۔" کورس ہمیشہ بدلتی ہوئی آئی ای ڈی کی حکمت عملیوں اور ان کے اصلاق کے بارے میں بیداری بڑھانے کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ فوجیوں کو سکھایا گيا ہے کہ کس طرح اس کی شناخت کرنی، محفوظ بنانا اور بم کو غیر فعال کرنا ہے۔ "سب سے پہلے، ہمارے فوجی دھماکہ خیز مادوں کی تربیت کے لیۓ شمالی مزارے شریف جاتے ہیں،" حلیم نے کہا۔ "جب وہ وہاں مکمل کر لیتے ہیں، تو وہ سیکھے گۓ اسباق پر فیلڈ تربیت کے لئے یہاں آتے ہیں۔ ہم ان کی مہارتوں اور صلاحیتوں کا بہت سخت امتحان لیتے ہیں۔" پارسا میں اس کورس کے دوران فوجی جدید انسداد آئی ای ڈی ٹیکنالوجی کے ذریعے سیکھتے ہیں۔ "ہم انھیں اس بات کی تربیت کرتے ہیں کہ (کس) طرح بارودی سرنگوں کا پتا چلانے اور انھیں ضائع کرنے کے جدید آلات استعمال کرتے ہیں،" حلیم نے کہا۔ "ہمارے پاس اب روبوٹ، بم سوٹ اور اسے روکنے کا سازو سامان ہے جو ہمیں ان خطرناک بارودی سرنگوں کو شکست دینے میں مدد دیتے ہیں۔ میں اس بات کو یقینی بناتا ہوں کہ یہاں سے جانے سے پہلے وہ ان کا پتا لگانے اور انھیں شکست دینا جان لیں۔" اگرچہ اے این اے نے اس کورس کی تربیت اور اطلاق کا آغاز کیا تھا، اتحادی فوجی اس بات کو یقینی بنانے میں مدد دیتے ہیں کہ تربیت کاروں کو انسداد آئی ای ڈی کے جدید ترین اسباق سکھاۓ جائیں۔ "ہم یہاں تربیت کار-کی-تربیت کرتے ہیں،" انسداد آئی ای ڈی شراکت داری کے انچارج افسر کیپٹن مائیکل ولڈا نے کہا۔ "اگر ان کے کورس میں کسی نئی چیز کا اطلاق کرنے کی ضرورت ہو تو ہم لیفٹیننٹ حلیم کو تربیت دیتے ہیں اور اس کے بعد وہ اس پر اپنے طالب علموں کو تربیت دیں گے۔" اگرچہ ولڈا اور دیگر امریکی فوجی امداد پیش کرتے ہیں، بہت کم کی ضرورت پڑتی ہے یا اس کی درخواست کی جاتی ہے۔ "یہ لوگ اپنے کام میں ماہر ہیں،" ولڈا نے کہا۔ "شاذ و نادر ہی وہ ہم میں سے کسی چیز کا سوال کرتے ہیں۔ اور جب وہ کچھ پوچھتے ہیں تو ہم ان کو مشورہ دیتے اور اس بات کا یقین کرتے ہیں کہ جو کچھ ہم انہیں دکھا رہے ہیں وہ سمجھ رہے ہیں اور اس کے بعد وہ اس کو خوب استعمال کریں۔" والڈا کے ہم منصب، حلیم جو کچھ اپنے ملک کی فوج کے لیۓ کر رہے ہیں اس پر بہت فخر کرتے ہیں۔ "میں نے بارودی سرنگوں کے خلاف جنگ کے ذریعے اپنے لوگوں کی خدمت کا انتخاب کیا ہے،"حلیم نے کہا۔ "میں زیر تربیت لوگوں کو پیشہ ورانہ مہارت سکھانا چاہتا ہوں اور بالآخر اس پلاٹون اور کمپنی کو ہماری باقی کی فوج کے لئے ایک ماڈل کے طور پر بنانا چاہتا ہوں۔" ایک بغاوت جو روایتی آمنے سامنے کی لڑائی کی بجاۓ سڑک کنارے نصب بموں کو ترجیح دیتی ہے، آئی ای ڈی افغانستان کے عوام اور اس کی سکیورٹی فورسز کے لیۓ مسلسل خطرہ ہیں۔ "یہ ایک روایتی جنگ کی بجائے آئی ای ڈی کی جنگ ہے،" حلیم نے کہا۔ "ہم دنیا اور اپنے لوگوں کو دکھانا چاہتے ہیں کہ افغانستان کے پاس ایک پیشہ ور فوج ہو سکتی ہے جو اپنے طور پر آئی ای ڈی کے مسائل کے ساتھ نمٹ سکتی ہے۔" |
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 






















