صفحہ اول | خبریں | خبریں | افغان سکیورٹی فورسز نے طالبان کو ان کے زیر قابو علاقے سے مار بھگایا
افغان سکیورٹی فورسز نے طالبان کو ان کے زیر قابو علاقے سے مار بھگایا
منجانب Lance Cpl. Kenneth Jasik, Regional Command Southwest
120321_soldiers.jpg
تھرڈ کندک کے ساتھ افغان فوج 215ویں کور کے آپریشن نو روز کے لیے 15 مارچ کو تیاری کرتے ہوئے۔ آپریشن کے دوران، افغان نیشنل سکیورٹی فورسز نے بہت سے بڑے عہدے کے طالبان ارکان کو پکڑ لیا اور کئی خود ساختہ دھماکہ خیز آلات کو دریافت کیا۔ (فوٹو منجانب کارپورل کینیتھ جیسک)

صوبہ ہلمند، افغانستان (21 مارچ، 2012) - افغان فوجیوں نے بین الاقوامی حفاظتی امدادی افواج کی مدد سے مارچ 19-16 آپریشن نو روز کے دوران یکچل وادی میں طالبان کو ان ہی کے زیر اختیار علاقے  سے مار بھگایا۔

کاروائی کے دوران، افغان نیشنل سیکورٹی فورسز نے 40 سے زیادہ خود ساختہ دھماکہ خیز آلات دریافت کیۓ، مشہور طالبان کو گرفتار کیا اور اجزاء اور خود آئی-ای- ڈی اور خود کش واسکٹوں کے اجزاء کا ذخیرہ دریافت کیا۔

سینئر افغان نیشنل آرمی کی قیادت نے منصوبہ بندی کی اور مقصد کے حصول کے لئے کاروائی کی قیادت کی۔

برطانوی سارجنٹ کرس جی بینن، برطانیہ کے ایڈوائزری گروپ کے ساتھ ایک پلاٹون سارجنٹ ، تھرڈ کندک، 215ویں کور، (دو رائفلس بیٹل گروپ) نے کہا کہ اے-این-اے کافی موثر انداز میں زمین پر حاوی لگ رہی تھی ۔ ان کا مقامی شہریوں پر مثبت اثر پڑا، جو اے- این-اے کو دیکھ کر خوش تھے۔ یہ کہنا بہت آسان ہے کہ زمین پر ان کی موجودگی نے باغیوں کو بھاگنے پر مجبور کر دیا۔

اے-این-اے کی ترقی کے کئی سال کے بعد، افغانستان میں فرض کے دوسرے دورے پر برطانوی فوجیوں نے اے-این-ایس-ایف کی صلاحیتوں میں کافی بہتری نوٹ کی۔

29 سالہ بینن، جو لے برن، یارکشائر کے مقامی ہیں، نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ یہ لازماً آگے کی طرف ایک قدم ہے۔ میں نے اے-این-اے کمپنی کو دو سال پہلے دیکھا تھا اور وہ ان کے پاس اس کی انتظامیہ نہیں تھی۔ اب یہ بہتر ہے کیونکہ اے این-اے خود مختار ہے۔ انہیں اپنے ملک میں قیادت کرتے ہوئے دیکھ کر اچھا لگ رہا ہے۔

صرف اے-این-ایس-ایف افواج ہی زمین پر نہیں تھیں۔ برطانوی اور ڈینش فوجی بھی وہاں تھے، لیکن صرف مددگار کے کردار میں۔

برطانوی کیپٹن اولیور سی۔ایس۔ لٹل، دو رائفلس کے ساتھ ایک ٹولے ایڈوائیزر ٹریننگ ٹیم کمانڈر نے کہا کہ صرف ایک بات کے لیئے ان کو کبھی ہماری ضرورت پڑ سکتی ہے وہ زخمیوں کو نکالنے کے لیے ہیلی کاپٹر، گولہ بارود، اور (نگرانی) ہے ۔ یہ کہنے کے بعد، جب ہم چھوڑ کر چلے جائیں گے تو انہیں یہ بھی مئیسر نہیں ہو گا۔

ٹسبری، ولٹ شائیر سے26 سالہ لٹل نے مزید کہا کہ اے-این-ایس-ایف کو اس کا حل نکالنا ہو گا اور انھوں نے اس کے مطابق کی منصوبہ بندی شروع کر دی ہے۔

لٹل نے کہا کہ جیسا کہ ہم نے اس آپریشن میں دیکھا ہے، وہ زمین پر بڑی آسانی سے دشمن کو زخمی کر سکتے ہیں ۔ وہ بہت جلد ایسا کرسکتے ہیں اسے اکیلے کرنے کے بہت قابل ہیں۔

جہاں آئی-ایس-اے-ایف اور اے-این-ایس ایف کے کردار تبدیل ہو رہے ہیں، افغان فوجی اپنے ملک کے بارے میں اپنے علم کو بڑھا رہے ہیں اور انھوں نے اس طرح لڑنا شروع کر دیا ہے جس کی مقامی آبادی حمایت کر سکتی ہے۔

بینن نے کہا  کہ ان کے تصورات اور جس طرح سے وہ کام کرتے ہیں ہمارے طریقے کار سے مختلف ہے اس لیئے کہ وہ ایک مغربی فوج نہیں ہیں ۔ وہ اچھی طرح کام کر لیتے ہیں اور انھیں مقامی شہریوں کی طرف سے احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔

مشن نے تاریخی طور پر طالبان کے مضبوط گڑھ کو خالی کروانے سے زیادہ اور بھی کچھ کیا ہے، اس سے ظاہر ہوا ہے کہ اے این ایس ایف کی پیشہ وارانہ صلاحیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

بینن نے کہا  کہ اس نے باغیوں کو یہ پیغام بھیجا کہ اے-این-ایس-ایف واضع طور پرمنصوبہ بندی اور آپریشن نو روز جیسے بڑے آپریشن کامیابی سے مکمل کرنے کے قابل ہیں ۔

 

Media Gallery

ویڈیو، بصری
تصویریں

جنگی کیمرہ -->

مرکزی کمان کی تصویریں -->

no press releases available at this time
No audio available at this time.
Content Bottom

@CentcomNews //Social Media//

حالیہ ٹویٹز
حالیہ فلکر پر تصویریں
RIDE002

RIDE002
viewed 25 times

فیس بُک پر دوست
33,184+