صفحہ اول | CJIATF435 | امن کی تلاش میں افغان اراکین اسمبلی کی جانب سے سابق قیدیوں کو خوش آمدید

 Combined Joint Interagency Task Force-435 

امن کی تلاش میں افغان اراکین اسمبلی کی جانب سے سابق قیدیوں کو خوش آمدید
منجانب MCC (SW) Maria Yager, Combined Joint Interagency Task Force 435
parwanshura
29 جنوری 2011، ہفتہ، ایک افغانی پروان کے قید خانے سے رہائی پانے پر اپنا رہائی کا سرٹیفیکیٹ دیکھ رہا ہے۔ جنوری 2010 سے لے کر اب تک افغان حکام کی سربراہی میں ہونے والی شوریٰ کے نتیجے میں 300 قیدیوں کو رہا کیا جا چکا ہے۔ تصویر امریکی مواصلات کے نئے سربراہ ایس ڈبلیو ماریا یاگر۔

صوبہ پروان، افغانستان 31- جنوری  2011 - 29 جنوری کو قیدیوں کی رہائی کے لیے منعقد کی جانے والے شوریٰ میں ایک افغان رکنِ پارلیمنٹ پروان کے قید خانے سے رہائی پانے والے پانچ قیدیوں کو افغانستان میں امن و سلامتی کے قیام کے لیے اپنے تعاون کا یقین دلایا ہے۔

افغانستان کے صوبے غزنی سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمنٹ عبدالجبار شیلغرے نے اپنے ہم وطنوں پر افغان حکومت کو ساتھ دینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر افغان سچے دل سے ملک میں امن قائم کرنا چاہیں تو یہ ان کے لیے ممکن ہے۔ لیکن اگر انہیں اس کی خواہش نہیں ہے تو ایسا کبھی نہیں ہونے والا۔

شلغرے نے کہا کہ اس ملک میں جنگ و جدل کی لمبی تاریخ ہے اور یہاں امن کا انحصار افغانیوں پر ہے۔

انہوں نے کہا کہ غیر ملکی فوجیں یہاں آئی ہیں لیکن یہ بھی ہمارے تعاون کے بغیر اسے پوری طرح پُرامن نہیں کر سکیں گے۔ اگر ہم حکومت سے تعاون نہ کریں تو افغانستان میں بالکل امن نہیں ہو گا۔

پروان اور پُلِ چرخی فوجی پولیس بریگیڈ کے کمانڈر اور افغان قومی فوج کے بریگیڈیئر جنرل سیف اللہ صفی نے شوریٰ کی صدارت کی اور شلغرے، ننگرہار سے تعلق رکھنے والے سابق رکنِ پارلیمنٹ صفی صادق، قبائلی عمائدین، معززین علاقہ اور قیدیوں کے اہلِ خانہ کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے رہائی پانے والے قیدیوں کو دوبارہ سماج میں شامل کرنے اور ان کی سرگرمیوں کی نگرانی کرنے پر رضامندی کا اظہار کیا ہے۔

سیف اللہ نے کہا کہ بہت خوشی کی بات ہے کہ یہ لوگ آزاد ہو رہے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ یہ لوگ اپنے گھروں کو جا کر افغانستان کے لیے مفید شہری ثابت ہوں گے۔

پروان اور پُلِ چرخی کی فوجی پولیس بریگیڈ پورے افغانستان میں قیدیوں اور قومی سلامتی کو لاحق خطرات سے نپٹنے اور اس کے ساتھ اے این اے کے اہلکاروں کی تربیت، انہیں سازوسامان سے لیس کرنے اور ڈی ایف آئی پی میں ان کی تعیناتی کے ذمہ دار ہیں۔

شوریٰ سے خطاب کرنے کے بعد سیف اللہ، شلغرے اور صادق رہائی پانے والے قیدیوں سے گلے ملے اور انہیں رہائی کے سرٹیفیکیٹ دئیے۔

شلغرے نے سابق قیدیوں کو بتایا کہ آپ کا کام ہے کہ یہ پیغام اپنے بڑے بوڑھوں اور گائوں کے لوگوں تک پہنچائیں کہ ایک دوسرے کی جان لے کر ہم حکومت قائم نہیں کر سکیں گے اور اپنے لوگوں کی مدد نہیں کر سکیں گے اور اپنے ملک کو پُر امن نہیں بنا سکیں گے۔

جنوری 2010 میں افغان حکومت کی جانب سے شروع کیے جانے والے قیدیوں کی رہائی کے پروگرام کا مقصد، جس میں اب تک 300 قیدیوں کو رہا کیا جا چکا ہے، انہیں دوبارہ افغان معاشرے میں شامل کرنے کی اہمیت ثابت کرنا ہے۔

قیدیوں کو رہا کر کے انہیں دوبارہ سماج میں شامل کرنے کے اس جامع پروگرام میں ہر مرحلے پر یقینی بنایا جاتا ہے کہ انسدادِ مزاحمت کے تمام اصولوں کی پاسداری کی جا رہی ہے۔ شوریٰ کے ذریعے رہائی کے عمل میں نچلے اور درمیانے درجے کے جنگجوئوں اور ان کے کمانڈروں کو رہا کر کے انہیں دوبارہ معاشرے کا حصہ بننے کا موقعہ دیا جاتا ہے۔ مشترکہ انٹرایجنسی ٹاسک فورس 435 اور اسلامی جمہوریہ افغانستان کی حکومت ان طریقہ کاروں کو پھیلنے کی غرض سے ساتھی تلاش کرنے کے لیے افغان وزارتِ دفاع کے ساتھ مل کر  کام کر رہی ہے۔ اس سے تسلسل اور یکسانیت کو یقینی بنایا جاتا ہے جس سے رہائی کا عمل مزید موئثر ہو گیا ہے۔ اس کا حتمی مقصد رہا ہونے والے قیدی کی دوبارہ مزاحمت کا حصہ بننے کے امکان کو کم سے کم کرنا ہے۔

سے جے آئی اے ٹی ایف۔435 اسلامی جمہوریہ افغانستان اور امریکہ کی انٹر ایجنسی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے تعاون سے قید، اصلاح اور عدلیہ اور بائیو میٹرکس کے شعبوں میں کام کرتی ہے۔ بالاخر حالات سازگار ہونے پر قانون کی حکمرانی کو یقینی بناتے ہوئے سی جے آئی اے ٹی ایف-435 کو افغان حکام کے حوالے کر دیا جائے گا۔

 
ویڈیو، بصری / آڈیو، سمعی / تصویریں

تصویریں

Podcasts

There are no podcasts available at this time.

@CentcomNews //Social Media//

حالیہ ٹویٹز
حالیہ فلکر پر تصویریں
RIDE002

RIDE002
viewed 22 times

فیس بُک پر دوست
33,163+