| افغان قومی پولیس 2010 کے بعد سے پہلی بار انسداد دھماکہ خیز مواد کی مہارتیں سیکھتے ہیں |
منجانب Australian Capt. Jesse Platz, Combined Team Uruzgan
سارجنٹ ڈیو والس، دھماکہ خیز مواد کی تلفی کے ٹروپ سے منسلک، افغان نیشنل آرمی سے طالب علموں کو تارن کوٹ میں بین الاقوامی بیس پر دھماکہ خیز مواد کے خطرے میں کمی لانے کے کورس کے دوران ایم 18 فائرنگ انیشیئیٹر کے اہم نُقطے سمجھاتے ہوۓ۔ (آسٹریلین کارپورل ہامش پیٹرسن)
تارن کوٹ، افغانستان (13 جولائی، 2012) – اروزگان صوبے کی مقامی پولیس کو دو سالوں میں پہلی دھماکہ خیز مواد سے خطرے میں کمی لانے کے کورس ( ایکسپلوسو ہیزرڈ ریڈکشن کورس – ای-ایچ-آر-سی) میں خطرناک دھماکہ خیز مواد کو تلف کرنے کی مہارتوں کے ذریعے مظبوط بنایا جا رہا ہے۔ ای-ایچ-آر-سی، جون 2010 سے جاری، ایک انتہائی کامیاب تعلیمی پروگرام ہے جو مقامی افواج کو خودساختہ دھماکہ خیز آلات (آئی-ای-ڈی) اور غیر فعال دھماکہ خیز مواد (یو-ایکس-او) کو تلف کرنے کی صلاحیت دینے کے لئے پیش کیا گيا ہے۔ اس 21 روزہ کورس کو آسٹریلیا اور سنگاپور کے دھماکہ خیز مواد کی تلفی (ای-او-ڈی) کے ماہرین اور تعلیم یافتہ افغان اساتذہ پورے سال فعال رکھتے ہیں۔ یہ پروگرام اب افغان نیشنل پولیس (اے-این-پی) کی مسلسل تربیت کرتا ہے، جن کی حرکت کرنے کی آزادی میں اکثر چوکیوں کے قریب آئی-ای-ڈی اور یو-ایکس-او کی وجہ سے رکاوٹ پیدا ہو جاتی ہے۔ کورس مینیجر آسٹریلین چیف پیٹی افسر شان ایلیٹ نے کہا کہ ای-ایچ-آر-سی اس مسئلے کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ سی-پی-او ایلیٹ نے کہا کہ اے-این-پی اپنی چوکیوں میں بہت وقت گزارتے ہیں اور یہ بہت عام ہے کہ انھیں ائی-ای-ڈی دکھتی ہے یا کوئی مشکوک شے ان کے حوالے کی جاتی ہے۔ "ہم ان کو وہیں اُسی جگہ پر اس طرح کے خطرات سے نمٹنے کے لئے صلاحیت مہیا کر رہے ہیں بجائے اس کے کہ وہ اتحادی افواج اور افغان نیشنل آرمی (اے-این-اے) کا انتظار کریں تاکہ وہ آکر اس خطرے کا سامنہ کریں ۔ 18 جولائی، 2012، کی گریجویشن 9 اے-این-پی اور 18 اے-این-اے کے طالب علموں کے گروپ کے لیۓ تایخی ہے، جو بالآخر اپنے ساتھیوں کو سکھائیں گے۔ “سی پی او ایلیٹ نے کہا کہ "استاد کی تربیت سے ہمارے کام کا اختتام ہوتا ہے، اگر ہم انہیں اس سطح پر پہنچا دیں جہاں وہ کامیابی سے اپنے عملے کی تربیت کرسکیں تو ہمیں یقین ہے کہ وہ صوبے کے ارد گرد خود مختاری سے کام کر سکتے ہیں ۔ مقامی پولیس اہلکار رؤف اللہ نے کہا کہ کورس سلامتی کی صورت حال اور منتقلی کے عمل کو بڑھانے کے لئے لازمی ہے۔ رؤف اللہ نے کہا کہ " میں اس کورس کے انسٹرکٹروں کا بہت شکر گزار ہوں، یہ ہمارے ملک کے لئے، اے-این-پی کے لئے بہت ہی اہم اور ضروری ہے۔ ہمارے ملک کو اس مسلسل تربیت کی ضرورت ہے اس سے پہلے کہ ہمارے اتحادی یہاں سے جائیں۔ مجھے اے-این-پی کے یہ سیکھنے، کہ دھماکہ خیز مواد کو کس طرح تلف کیا جائے اور معصوم جانوں کو کس طرح بچایا جا سکتا ہے، پر بہت فخر ہے۔ ۔ رؤف اللہ نے کہا کہ اس سے پہلے جب ایک آئی-ای-ڈی ملتی تھی تو ہمیں اس کے ساتھ بہت سے مسائل پیش آتے تھے اور ہمیں مدد کے لئے فون کرنا پڑتا تھا، لیکن اب اے-این-پی اور اے-این-اے کے پاس ایسا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ مقامی افواج اور اپنے لوگوں کے لئے خطرناک علاقوں کو محفوظ بنانے کا یہ احساس بہت اچھا ہے ۔ ای-ایچ –آر- سی کے ایک سابق طالب علم اور اے-این-اے کے استاد سارجنٹ عبد رحمان نے کہا کہ اے-این-پی اس کو اچھی طرح ضم کر رہی ہے اور اس کے بنیادی اصولوں کو بہت جلدی سیکھ رہے ہیں۔ سارجنٹ رحمان نے کہا کہ "جو کام وہ یہاں کر رہے ہیں وہ بہت اچھا ہے، وہ جانتے ہیں کہ کس طرح گشت پر ایک آئی-ی-ڈی کو ڈھونڈنا چاہیے، اسے کس طرح دھماکے سے تباہ کرنا چاہیے اور کس طرح علاقے کو محفوظ بنایا جاسکتا ہے۔ ہمیں اے-این-پی پر اس کورس کے لیۓ بہت فخر ہے، ہمارے ملک کو اس بات کی ضرورت ہے کہ اے-این-پی اور اے-این-اے اس مہارت میں تربیت حاصل کریں اور مستقبل میں کئی سالوں تک اس کی مشق کریں ۔ ای-ایچ-آر-سی کو آئی-ای-ڈی کے انسداد کی غرص سے تشکیل دی گی عمارت میں چلایا جاتا ہے تاکہ اسے کارآمد اور حقیقی تربیتی ماحمول کی حد تک رکھا جاۓ۔ سی پی او ایلیٹ کا کہنا ہے کہ "ہم نے انہیں دھماکہ خیز مواد کے خطرات، متعلقہ خطرے کی سطح، ہر منظر نامے کے لئے مختلف چارج اور کاروائی کی مثالی حل نکالنے کے طریقوں کی تمام اقسام پر تعلیم دیتے ہیں۔ ہم ایسا بیس سے باہر کے ملتے جلتے ماحول میں کرتے ہیں۔" مشترکہ اساتذہ ٹیم اروزگان (سی-ٹی-یو)، ایساف کی کاروائیوں کی کمان کے لئے ذمہ دار ہیڈکوارٹر سے منسلک ہیں۔ آسٹریلیا اس سال کے آخر میں سی-ٹی- یو کی قیادت سنبھالے گا۔ |
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 




















