| افغان طبی عملے کی اپنے لوگوں کو تربیت دینے کی قابلیت سے مرینز اور ملاح متاثر ہوئے |
منجانب Lance Cpl. Timothy Lenzo, Regimental Combat Team 6 شئیرمتعلقہ خبریں
افغان نیشنل آرمی سٹاف سارجنٹ عصمت اللہ، طبی پلاٹون سارجنٹ ہیڈکوارٹر طولائی، چوتھی کندک، سیکینڈ بریگیڈ، 215ویں کور کے ساتھ، ایک اے-این-اے کی طبی کلاس کے دوران 10 مارچ، 2012 کو نس میں سوئی لگانے کے مناسب طریقہ کار کا مظاہرہ کرتے ہوۓ۔ (فوٹو منجانب لانس کارپورل ٹموتھی لینزو)
فارورڈ آپریٹنگ بیس دل آرام II، افغانستان (15 مارچ، 2012) تمام فوجی خیمے کے اندر جمع ہوۓ، افغان نیشنل آرمی فوجیوں کے چہروں پر فلوروسینٹ روشنی نے سائے ڈالے۔ طبی سامان پٹیاں، روئی کے پھوہے اور مختلف آلات پانچ آدمیں کی قطار کے پیچھے لگی الماری پر رکھا تھا، جب وہ سٹریچر پر لیٹے اپنے ساتھی کے چاروں طرف کھڑے ہوئے تھے۔ سٹریچر پر لیٹے فوجی نے انسٹرکٹر کو دیکھنے کے لئے سر اٹھایا، اے-این-اے سٹاف سارجنٹ عصمت اللہ، جو کہ ہیڈکوارٹر طولائی، سیکینڈ بریگیڈ، 215ویں کور کے ساتھ طبی پلاٹون سارجنٹ ہیں، نے ایک آلہ اس کے بازو کی نس میں لگایا۔ مناسب طریقے سے ایک آئی-وی لگانے کے بعد عصمت اللہ اور ان کے طالب علموں نے اس بات پر مذاق کیا کہ اب کون رضاکارانہ طور پر اپنے بازو میں آئی-وی لگواۓ گا۔ اس بات پر کئی فوجیوں نے ایک دوسرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنے دوست کو نامزد کیا۔ اس طرح کا عملی تجربہ طلباء کو کورس کے نظریات کو جلدی سمجھنے میں مدد کرتا ہے، جو کہ زندگی کی حقیقی طبی صورتحال سے نمٹنے میں مدد دی گا۔ عصمت اللہ نے کامبیٹ طبی کورس آٹھ ہفتوں تک سکھایا، جو زیادہ تر جنگی چوٹوں کے علاج پر مرکوز تھا۔ ، کورس کے سپروائزر اور رجیمنٹل کامبیٹ ٹیم 6 کے ساتھ چیف طبی مشیر نائیجل کیسون نے کہا کہ ان کو طبی تربیت کے تمام پہلوؤں کے بارے میں تربیت دی گئی تھی: رسد سے، ریڈیو، انخلاء، بہتے خون کو روکنا، اور ايمرجنسی دوا۔ اس تربیت کے کئی پہلو تھے جن کو انھوں نے انجام دیا۔ آر- سی- ٹی 6 کے ساتھ صحت کی دیکھ بھال کے مُنتَظِم اور طبی منصوبہ ساز بحریہ کے لیفٹیننٹ ولفریڈو لوکس نے مزید کہا ہے کہ یہ کورس وہی سب کچھ سکھاتا ہے جو بحریہ کے فیلڈ فوجیوں کو ان کی تربیت میں سکھایا جاتا ہے۔ یہ پہلا کورس ہے جس میں اے-این-اے کے سینئر طبی عملے نے اپنے فوجیوں کو تربیتی کلاسیں فراہم کی اور مشقوں کی قیادت اپنے ہاتھ لے لی۔ کیسون نے کہا کہ انھوں نے اے-این-اے کے اساتذہ کا انتخاب ان کی سنیارٹی، تجربے، اور اہلیت کی بنیاد پر کیا۔ کیسون نے کہا کہ ان لوگوں میں سے بیشتر نے اے-این-ایس-ایف [افغان نیشنل سیکورٹی فورسز] کے ذریعے یا جے ایس- اے-ایس [جوائنٹ سسٹینمنٹ اکیڈمی جنوب مغرب] سے ماضی میں سرٹیفیکٹ حاصل کیۓ ہیں۔ اے -این -اے کے اساتذہ کے ذریعے تربیت کی فراہمی نے اس خودمختاری کی کچھ جھلک دکھائی جو افغانوں نے قائم کی ہے اوریہ کہ کس طرح وہ تمام طبی ضروریات کے لئے اتحادی افواج پر انحصارکرنے کے بجائے خود تربیت فراہم کرنے پر زور دے رہے ہیں۔ عصمت اللہ نے کہا کہ اے- این- اے کے لیۓ طبی اساتذہ کا ہونا بہت اہم ہے کیونکہ اگر ان کے پاس طبی اساتذہ ہوں تو، وہ دیگر طبی عملے کو تربیت اور ہر یونٹ کے طبی سیکشن کی مدد کر سکتے ہیں۔ عصمت اللہ نے اے- این- اے میں شمولیت سے پہلے طبی میدان میں کام کیا تھا، جس نے اسے ایک انسٹرکٹر کے طور پر ایک مثالی انتخاب بنا دیا۔ کیسون نے کہا کہ وہ عصمت اللہ کے کام کی اخلاقیات اور طبی موضوعوں میں ان کا لگن دیکھ کر متاثر ہوئے۔ عصمت اللہ کی محنت نے اس کورس کے طلباء کو زندگی بھر کی مہارتیں سیکھنے میں مدد دی۔ لوکس نے چینی فلسفی لاؤ ٹز کے اقتباس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ انہیں مچھلی پکڑنا سکھاتا ہے۔ ایک آدمی کو مچھلی دینا اُسے ایک دن کے لئے کھانا کھلانے کر برابر ہے. ایک آدمی کو مچھلی پکڑنا سکھاؤ تو وہ اُسے زندگی بھر کے لئے کھلانے کے برابر ہے۔ عصمت اللہ نے مزید کہا کہ افغان اساتذہ کے ہونے کی وجہ سے اے-این- اے نے طبی دنیا میں اپنے پیروں پر آپ کھڑا ہونے کی طرف ایک اور قدم اٹھایا ہے۔ لوکس، جو بوئی، میری لینڈ کے ایک مقامی ہیں، نے کہا کہ یہ انھیں وہ مہارتیں فراہم کرتا ہے جن سے وہ مسلسل سیکھتے رہیں گے ۔ ہمارا یہاں پورا مقصد یہ ہے کہ انہیں طبی خودمختاری حاصل کرنے دی جاۓ۔ جب امریکہ [واپس] جاۓ، تو افغان لوگ خود اپنے لئے سہولتوں کی فراہمی جاری رکھ سکیں۔ اے-این-اے کے اساتذہ کی موجودگی سے طالب علموں کو زبان کی رکاوٹ کے بغیر تیزی سے سیکھنے میں مدد ملتی ہے۔ کیسون نے مزید کہا کہ جس طرح سے وہ کسی چیز کی وضاحت کرتے ہیں وہ ایک افغان کی طریقے وضاحت سے مختلف ہو گی ۔ اس بنیادی ثقافتی فرق کو سمجھنے نے اس کورس کی ذمہ داریوں کو مزید اے –این- اے کی قیادت میں دینے کی کوششوں کو بڑھایا۔ کیسون نے کہا کہ وہ اپنے لوگوں کی طاقتوں اور کمزوریوں کو جانتے ہیں، جیسا کہ ہمیں اپنے فوجی اہلکاروں کی طاقت اور کمزوریوں کا پتہ ہے اور معلومات کو سمجھانے کے قابل ہیں ۔ وہ مزید بیان کرتے ہیں کہ اے- این -اے کے فوجیوں نے کورس کے فوائد کو براہ راست دیکھا۔ جبکہ گشت کے دوران اے-این-اے کے طبی عملے نے گاڑی الٹ جانے سے زخمی ہونے والوں سے لے کر خود ساختہ دھماکہ خیز آلات سے متاثر شدہ تک کی کئی پیچیدگیوں کو سنبھالا۔ عصمت اللہ کا کہنا ہے کہ یہ کورس اے –این- اے کے لئے بہت اہم ہے کیونکہ ہمیں میدان جنگ میں مریضوں اور زخمیوں کو سنبھالنا پڑے گا۔ ہمارے پاس ایسی صلاحیتیں ہونی چاہیں جو مریضوں کی زندگیاں بچائیں اور میدان جنگ میں مریضوں کا علاج کریں۔ |
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 






















