| صوبہ ہلمند میں افغان فوج قدم بڑھاتے ہوۓ، مرینز پیچھے ہٹتے ہوۓ |
منجانب Lance Cpl. Timothy Lenzo, Regimental Combat Team 6
افغان نیشنل آرمی بریگیڈئیر جنرل کمانڈنگ جنرل عبد وسیع، سیکینڈ بریگیڈ، 215ویں کور، مشاورتی ٹیم، تھرڈ بٹالین، 7ویں مرین رجیمٹ کے مرینز کو خوش آمدید کہتے ہوۓ۔ (فوٹو منجانب لانس کارپورل ٹموتھی لینزو)
فارورڈ آپریٹنگ بیس جیکسن، افغانستان (4 اپریل، 2012) - جیسا کہ اتحادی افواج افغانستان سے اپنی تعداد کم کرتی جا رہی ہیں اور مزید مرینز ہر ماہ گھر واپس آ رہے ہیں، ذمہ داری افغان افواج پر بڑھتی جا رہی ہے۔ سیکنڈ کندک، سیکینڈ بریگیڈ، 215 کور کے افغان فوجی اس پکار کا جواب دینے کے لیۓ تیار ہیں۔ حال ہی میں بریگیڈیئر جنرل کمانڈنگ جنرل عبد وسیع، سیکینڈ بریگیڈ، 215ویں کور، نے مختلف افغان نیشنل سیکورٹی فورسز کے رہنماؤں کے ساتھ بات کرنے اور فوجیوں سے خطاب کرنے کے لئے افغان نیشنل آرمی کے علاقے کا دورہ کیا۔ جنرل وسیع نے 29 مارچ کو طبی کورس کی گریجویشن میں شرکت کی اور افغان فوجیوں پر جانچ پڑتال کی۔ اس گریجویشن نے کندک کے علاقے میں ذمہ داری سنبھالنے کی ان کی بڑھتی ہوئی خود مختاری اور تیاری کا مظاہرہ کیا۔ جنرل وسیع فوجیوں کا خیال رکھنے کے لیۓ، مختلف اے-این-ایس-ایف کے لیڈروں سے بات چیت کرنے اور علاقے کا جائیزہ لینے کے لیۓ بیس کا باقاعدگی سے دورہ کرتے ہیں۔ میجر الٹون اے۔ وارتھن، کمانڈنگ افسر، مشاورتی ٹیم، تھرڈ بٹالین، 7ویں مرین رجیمنٹ نے کہا کہ وہ ہمیشہ فوجیوں کے بارے میں پوچھتے اور ان سے بات چیت کرتے ہیں۔ وہ عام طور پر سیکینڈ کندک کی کارکردگی سے بہت خوش ہوتے ہیں۔ گزشتہ چند مہینوں میں، سیکینڈ کندک کے افغان فوجیوں نے اہداف، جن کو دوسری زبان میں باغیوں کے محفوظ ٹھکانوں کے نام سے جانا جاتا ہے، کو نشانہ بنانے کے لئے اے-این-ایس-ایف کے ساتھ کئی خود مختار آپریشن کیے ہیں۔ اے-این-اے کے اسٹاف سارجنٹ شیر حسن، سینئر طبی، سیکیند کندی، سیکینڈ بریگیڈ، نے کہا کہ ہم اپنے طور سے گشت کرتے ہیں، اپنے لوگوں کی دیکھ بھال کر رہے ہیں ۔ صوبہ ہلمند کے ضلع سنگین میں یہ گشت، چوکیاں، اور دیگر انسداد بغاوت کی سرگرمیاں ان کی ایک مدد گار کے کردار سے ایک لیڈر کے کردار میں منتقلی کا حصہ ہیں. تھرڈ بٹالین، 7 ویں مرینز مشاورتی ٹیم سے تعلق رکھنے والے مرینز اور ملاحوں نے اے-این-اے کے فوجیوں کی طبی، انفرادی صلاحیتوں اور قیادت سنبھالنے کی تربیت میں ان کی مدد کی۔ شیر حسن، ایک طبی کورس کے حالیہ گریجوئٹ، نے کہا کہ جو مہارتیں انھوں نے سیکھیں ہیں وہ اے-این-اے کو مزید خود مختاری کی طرف بڑھنے میں مدد کریں گی ۔ وہ اے-این-اے کے نۓ طبی عملے کی تربیت میں مدد دینے کے لیۓ تیار ہیں۔ مرینز نے اے-این-اے کے حالیہ اور مستقبل کے سربراہوں کی تربیت بھی کی۔ وارتھن جو نیوپورٹ نیوز، ورجینیا سے ہیں، نے کہا کہ ہم نے ان کے افسران کو تربیت، ان کی منصوبہ بندی اور فیصلے کرنے کی صلاحیتوں میں بہتری فراہم کی ۔ ہم نے ان کے اسکواڈ لیڈروں کی تربیت میں بھی بہت وقت وقف کیا ہے۔ ہم نے ایک اسکواڈ لیڈر کا کورس مہیا کیا جو انتہائی مؤثر تھا۔ تربیت یافتہ سکواڈ کے رہنما صوبے بھر میں گشت کی قیادت کر رہے ہیں۔ حال ہی میں، انھوں نے سنگین ضلعے کے انتخابات میں مرین کی کم سے کم شمولیت کے ساتھ سکیورٹی فراہم کی۔ شیر حسن نے کہا کہ ہم مرینز کے یہاں ہونے سے لطف اندوز ہوتے ہیں لیکن یہ ضروری ہے کہ ہم ان کے یہاں سے چلے جانے کے بعد تیار ہوں ۔ تربیتی کورس کا فائدہ ہوا، اے این ایس ایف زیادہ ذمہ داری لینے اور اتحادی افواج کی طرف سے آزادانہ طور پر کام کرنے کے قابل ہوا۔ ورتھن نے کہا کہ جب انھوں نے پہلی مرتبہ افغان فورسز کے ساتھ کام کرنا شروع کیا تو وہ ان فوجیوں پر تقریباً مکمل طور پر انحصار کر رہے تھے اور آپریشن کی قیادت نہیں کرتے تھے۔ اس کے برعکس، اے-این-ایس-ایف ایک مدد گار کے کردار میں کام کرتی تھی اور افغان پولیس میں نظم و ضبط کا فقدان تھا۔ مشاورتی ٹیم اور سیکینڈ کندک کے ساتھ افغانوں نے اتحادی افواج کا علاقے سے نکل جانے کے بعد قیادت سنبھالنے کے لیۓ بہت محنت کی۔ وارتھن نے کہا کہ وہ مل کر کام کرتے ہیں، جب ہم یہاں آۓ وہ ایسا نہیں کرتے تھے اور انفرادی فوجیوں اور پولیس اہلکار کے معیار میں بے حد اضافہ ہوا ہے ۔ شیر حسن نے کہا کہ وہ اس بات سے خوش ہیں کہ اے-این-اے قیادت سنبھالنے کے اپنے کردار میں بدل رہے ہیں۔ ذمہ داری کی منتقلی سے ظاہر ہوا کہ افغان فورسز اپنے اگلے چیلنج کے لیے تیار ہیں۔ سنگین علاقے کی امن و سلامتی جلد ہی صرف ان کی ذمہ داری ہو گی۔ وارتھن نے کہا کہ وہ اس کی اہلیت سے بھی بڑھ کر ہیں اور وہ باغیوں کے مقابلے میں بہتر طور پر تیار ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھے ان پر فخر ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ ہم قیادت کے عبوری دور میں ہیں اور یہاں سے جا رہے ہیں۔ انھوں نے اس چیلنج کے لیۓ آگے قدم بڑھایا ہے۔ یہ آسان نہیں رہا ہے لیکن وہ اس کو بہتر بنانے کے لئے مزید کام پر تیار رہے ہیں۔ |
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 




















