صفحہ اول | خبریں | خبریں | افغان فورسز جنوبی ہلمند صوبے میں اپنی قیادت کو مسلسل بڑھاتے ہوۓ
افغان فورسز جنوبی ہلمند صوبے میں اپنی قیادت کو مسلسل بڑھاتے ہوۓ
منجانب Staff Sgt. Brian Buckwalter, Regimental Combat Team 6
20120802_marine
لانس کارپورل جورج ایسکویل، انفنٹری مین، انڈیا کمپنی، تیسری بٹالین، 8ویں مرین رجیمنٹ، رجیمنٹل کامبیٹ ٹیم 6، فارورڈ آپریٹنگ بیس مرجا، افغانستان میں 26 جولائی، 2012 کو ہوشیار کھڑے ہیں۔ (فوٹو منجانب سٹاف سارجنٹ، برائن بک والٹر۔)

کامبیٹ چوکی دھلی، افغانستان (2 اگست2012)  - مرینز نے جنوبی صوبے ہلمند کے تنگ مٹی کی سڑکوں پر گاڑی چلاتے ہوۓ کسانوں کو اپنے مکئی کے کھیتوں میں کام کرتے اور مویشیوں کی دیکھ بھال کرتے دیکھا۔ انہوں نے بچوں کو گاڑیوں کے ساتھ ساتھ چلتے اور بچوں کو اس دریا میں تیراکی  کرتے دیکھا جو اس کے ارد گرد کے کھیتوں کی آبپاشی کرتا ہے۔  گندم اور دیگر مصنوعات کے تھیلے لادے ٹرک مرینز کے قافلے کے پاس سے باقاعدگی سے گزرتے ہیں جو علاقے میں بازاروں اور گاہکوں کو ان کے سامان کی فراہمی کے لیۓ جاتے ہوۓ۔

مرکزی ہلمند کے دریا کی وادی میں اس سڑک پر افغان نیشنل فوج میں بھرتی کے اشتہاری بورڈ لگے ہوۓ ہیں جو وردی میں ملبوس مسکراتے فوجیوں کو دکھاتے ہیں۔ بغاوت کے خلاف اشتہارات بھی موجود ہیں ایک اشتہاری بورڈ جیل میں بیٹھے ایک آدمی کو دکھاتا ہے جو اپنا سر تھامے ہوۓ ہے۔ اُس کے سر پر ایک سوچ کا بلبلا ہے جو اس کی بیوی اور بچے، جنہیں وہ پیچھے چھوڑ آیا ہے، ظاہر کرتا ہے۔

یہ اشتہاری بورڈز اس بات اور بھی مضبوط بناتا ہے جو سب لوگ علاقے میں دیکھ رہے ہیں، اے-این-اے کا مزید اثر و رسوخ اور کم تعداد میں باغی۔

اس روٹ پر اے-این-اے کے فوجی یا افغان پولیس کو ‎اپنی گاڑیوں میں سڑک پر آتے جاتے دیکھنا،  اور اپنی چوکیوں، جہاں فوجی تعینات ہیں اور دوسری چوکیوں کے درمیان جاتے دیکھنا کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔

مرجا، نوا، اور گرمسر جیسی جگہوں میں، افغان فورسز سامنے تعینات ہیں، اپنے لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیۓ۔ مرینز، جو افغان فورسز کے ساتھ مل کر لڑتے رہے ہیں اب ایک قدم پیچھے رہ گئے ہیں۔

سارجنٹ. میجر میتھیو پٹنم،  تیسری بٹالین، 8 ویں میرین رجیمنٹ، رجیمنٹل کامبیٹ ٹیم 6 نے کہا کہ " پہلے تو یہ کندھے سے کندھا ملا کر کام کرنا تھا ۔ اب یہ کندھے سے آگے ہے۔"

یہ تبدیلی سال کے اوائل میں آنی شروع ہوئی جنوبی صوبے ہلمند میں آپریشن کے علاقے کے سابق کمانڈنگ افسر کرنل راجر بی ٹرنر جونیئر نے کہا۔ خطے میں مرین کور کا مشن آگے ہو کر قیادت کرنے سے ہٹ کر افغانوں کو کاروائیوں میں قیادت لینےمیں تبدیل ہو رہا ہے۔

بین الاقوامی سکیورٹی فورس کے حکام کے مطابق مرینز، سکیورٹی فورس اسسٹنٹ  ایڈوائزری ٹیم کے حصہ کے طور پر، بنیادی طور پر افغان فورسز کو مشورہ اور تربیت دینے پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں ۔ مرینز ان صلاحیتوں، جو افغان ابھی سیکھ رہے ہیں، میں مدد دے رہے ہیں مثلاً میدان جنگ میں طبی انخلا اور دھماکہ خیز مواد کو ضائع کرنا۔

کمانڈنگ افسر کرنل جان آر شیفر، آر-سی-ٹی 6 کہا کہ کردار میں یہ تبدیلی مرینز کے لیۓ غیر متوقع ہے جن کی تربیت لڑائی پر مرکوز ہوتی ہے۔ یہ ریجیمیںٹ اب جنوبی ہلمند صوبے میں میرین بٹالین کو کنٹرول کرتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ "ہم بندوق چلنے کی آواز کو پسند کرتے ہیں ۔ کامیابی اس بات میں ہے کہ ہمیں کبھی بھی بیس سے باہر نہ نکلنا پڑے۔"

آئی-ایس-اے-ایف حکام نے کہا کہ جب تک خطرہ موجود ہے، اسسٹنٹ ٹیمیں اپنے افغانی شراکت داروں کے ساتھ کاروائیاں کریں گی ۔ لیکن، اسسٹنٹ ٹیموں کی بنیادی توجہ افغان ہم منصبوں کو پیدل فوج کی حکمت عملی اور جوابی خودساختہ دھماکہ خیز آلہ تکنیک سے لے کر گاڑیوں کی دیکھ بھال اور انتظامیہ تک کی  باتوں میں مشاورت اور تربیت دینے پر ہے۔

 

پٹنم، جو کہ سیراٹوگا، نیو یارک سے ہیں، جنوب مغرب افغانستان میں افغانوں کے ساتھ اضافی شراکت کے نتائج کو دیکھا ہے۔ انہوں نے صوبہ ہلمند میں آخری بار ایک سال سے بھی کم عرصہ پہلے تیسری بٹالین 8 ویں مرینزکے ساتھ آۓ تھے۔ وہ اور ان کے مرینز سنگین کے جنوب میں روٹ 611 کے ساتھ ساتھ تحفظ فراہم  کر رہے تھے جب اس روٹ کو پکا کیا جا رہا تھا تو کچھ بھی "شراکت میں نہیں ہو رہا تھا" جہاں وہ کام کر رہے تھے ۔

اب جنوبی صوبے ہلمند میں تعینات، پٹنم نے کہا کہ افغان، جن کو مرینز کی طرف سے تربیت دی جا رہی ہے، کامیابی سے سکیورٹی آپریشن کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا "مجھے گیارہ مہینوں کے اندر اندر اس کے محفوظ ہونے کی کبھی توقع نہیں تھی" ۔

مرجا میں، اے-این-اے " اپنے کام کی خود دیکھ بھال،" کر رہے ہیں لانس کارپورلٹیرنس بونیلی نے کہا، جو ایک انفنٹری مین، انڈیا کمپنی، تیسری بٹالین، 8ویں مرینز کے ساتھ ہیں۔

بونیلی جو سینٹ تھامس، جزائر ورجن سے ہیں، افغان فوجیوں کے ساتھ کبھی کبھار گشت پر چلے جاتے ہیں، اور انھوں نے کہا ہے کہ اے –این-اے اپنے اعتماد کی تعمیر جاری رکھے ہوئے ہے اور سکیورٹی کے مشن میں اپنی شمولیت بڑھاتی جا رہی ہے۔

اس وسیع تر، زیادہ قابل اے این اے کی موجودگی کے ساتھ، میرینز کو بیس سے باہر بہت کم نکلنا پڑتا ہے۔

لانس کارپورل ریان کریگرجو انڈیا کمپنی کے ساتھ ایک انفنٹری مین  ہیں، نے کہا کہ "ان کا ایک دوست، جو مرجا سے جا رہا ہے، اس نے کریگر کو وقت گزارنے کے لیۓ یہ مشورہ دیا، "اگر تم اپنے پیک میں ایک ایکس باکس کو فٹ کر سکتے تو، کر لو۔"

پورے خطے میں افغان، مرجا سے گرمسر تک، مرکزی ہلمند کے دریا کی وادی میں زیادہ سے زادہ شورش پسندوں کی سرگرمیوں کی غیر موجودگی میں خاموشی کا لطف اٹھا رہے ہیں۔

ان لوگوں نے بحران کے 30 سال سہے ہیں اور ان کی زندگیوں میں کوئی بھی چیز یقینی نہیں تھی جب تک 18 ماہ قبل سلامتی حاصل کرنے کے قابل ہوۓ تھے،" ٹرنر نے حالیہ آر سی ٹی 5 کی کہانی میں کہا۔ "یہ واقعی میں سیکورٹی  کو عزیز رکھتے ہیں۔"

لانس کارپورل جورج ایسکویل،  انفنٹری مین، انڈیا کمپنی نے باغیوں کے بارے میں کہا کہ "ہم نے ان کو اس جگہ تک دھکیل دیا ہے کہ اب وہ ہم سے آمنے سامنے لڑ نہیں سکتے" ۔

جیسا کہ سلامتی کی صورت حال کی بہتری جاری ہے، علاقے میں چند ماہ پہلے کے مقابلے میں اب وہاں بہت کم یرینز موجود ہیں۔

پٹنم نے کہا کہ تیسری بٹالین، 8 ویں میرینز، نے اس ذمہ داری کو سنبھالا جو کہ پہلے تین بٹالینیں سنبھالے ہوئی تھیں: سیکینڈ بٹالین، 6 ویں میرینز، مرجا میں تھی، اور سیکینڈ بٹالین، 6 ویں میرینز نوا میں تھی، اور  تیسری بٹالین، تیسری میرینز، گرمسر میں تھی۔

آئی-ایس-اے-ایف کے حکام کا کہنا ہے کہ کیونکہ سکیورٹی کی ذمہ داری کی اے-این-ایس-ایف کو منتقلی کا انحصار حالات پر ہے، کم مرینز کا مطلب کم سکیورٹی نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ افغان فورسز زیادہ قابل ہیں۔

حکام نے یہ بھی کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنانے کہ افغان2014  کے آخر تک اپنے ملک کی مکمل سکیورٹی کی ذمہ داری سنبھال لیں کے لیۓ مصروف عمل ہیں۔

 

Media Gallery

ویڈیو، بصری
تصویریں

جنگی کیمرہ -->

مرکزی کمان کی تصویریں -->

no press releases available at this time
No audio available at this time.
Content Bottom

@CentcomNews //Social Media//

حالیہ ٹویٹز
حالیہ فلکر پر تصویریں
RIDE002

RIDE002
viewed 22 times

فیس بُک پر دوست
33,148+