| افغان کمانڈو نے وادی شونکرائی میں مقامی افغان پولیس کے لیۓ خطرے کو کم کرنے لیۓ باغیوں کے نیٹ ورک کو منتشر کیا |
منجانب Maj. Cindi King, Combined Joint Special Operations Task Force شئیرمتعلقہ خبریں
فرسٹ کمانڈو کندک سے افغان نیشنل آرمی کے کمانڈوز 30 جون کو کونر صوبے، افغانستان میں جنگی کارروائیوں کی تیاری میں مشن سے قبل پڑاؤ کیۓ ہوۓ۔ اتحادی افواج اس وقت خطے میں مسلسل سلامتی اور استحکام میں مدد کے طور پر جنگی کارروائیوں کو منظم کرنے کے لیۓ فرسٹ کمانڈو کندک کے کمانڈوز کے ساتھ شراکت کر رہے ہیں۔ (فوٹو منجانب پیٹی افسر تھرڈ کلاس جاشوا ڈیویس)
صوبہ کونر، افغانستان (9جولائی، 2012) – سیکینڈ کمپنی، فرسٹ کمانڈو کندک کے ارکان نے 30 جون سے 1 جولائی میں ایک کاروائی، جس کی مشاورت اتحادی سپیشل آپریشن فورسز نے کی تھی، کے دوران وادی شونکرائی، ضلع خاص کو باغیوں کی پناہ گاہوں سے صاف کر دیا۔ مشن کے دوران، 100 افغان کمانڈوز اور اتحادی خصوصی آپریشن فورسز مشیر کے ایک حصے نے باغیوں کے تین لڑائی کے مورچَوں کو تباہ کر دیا، ایک خود ساختہ دھماکہ خیز آلہ کو غیر فعال بنایا اور 30 پونڈ کی اعلٰی گریڈ کی امونیم نائٹریٹ برآمد کی۔ ایک اتحادی خصوصی آپریشن فورسز کے مشیر نے کہا کہ ان عمارتوں میں سے ایک کے دروازے پر ایک آرمڈ پریشر پلیٹ لگی ہوئی تھی ۔ "شکر ہے کہ اُس کو غیر فعال بنا دیا گیا اس سے پہلے کہ یہ کسی کو مار ڈالتی۔" یہ آپریشن اُن باغیوں کو، جو کونر دریا کے ساتھ ساتھ سڑکوں پر آئی-ای-ڈی لگاتے ہیں، منتشر کرنے کے لئے شروع کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ یہ بھی اطلاعات تھیں کہ شورش پسند علاقے میں دیہاتیوں کو پریشان اور اغوا کر رہے تھے۔ وادی میں داخل ہونے کے بعد دو گھنٹوں سے بھی کم وقت میں افغان کمانڈوز پر باغیوں کی طرف سے، جو ایک چوٹی پر تین لڑائی کی مورچوں پر قبضہ کیۓ ہوۓ تھے، چھوٹے خود کار ہتھیاروں سے گولیاں برسنا شروع ہو گئیں۔ انہوں نے جوابی فائرنگ کی اور تمام باغیوں کو ہلاک کر دیا۔ کمانڈو اور خصوصی آپریشن فورسز اس جگہ پر آئی-ای-ڈی اور بم بنانے کے مواد کو تباہ کر دیا، اس بات کو یقینی بنانے کے لیۓ کہ وہ معصوم دیہاتیوں کو نقصان پہنچانے کے لئے استعمال نہ کیا جا سکے۔ اتحاد کے خصوصی آپریشن فورسز کے مشیر نے کہا کہ افغان کمانڈوز لوگوں کی راۓ کے بارے میں انتہائی فکر مند ہیں اور اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ معصوم شہریوں کو نقصان نہ پہنچے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ آپریشن بہترین طریقے سے کیا گیا اور کوئی دیہاتی زخمی نہیں ہوا، افغان نیشنل سکیورٹی فورسز [اے-این-ایس-ایف] اور اسلامی جمہوریہ افغانستان کی حکومت [جی-آئی-آر-او- اے] کو مزید مستند ٹھراتے ہوۓ۔ فرسٹ کندک کے کمانڈوز ایک اہم لائٹ انفینٹری فورس کے طور پر 2007 میں اپنے قیام کے آغاز سے لے کر اب تک سب سے طویل عرصے تک خدمات انجام دینے والی کندک ہے۔ ان کو ایک امریکی انفینٹری بٹالین کے مادل پرقائم کیا گیا تھا اور اتحاد کی خصوصی آپریشن فورسز نے ان کی تربیت کی ہے۔ اتحادی خصوصی آپریشن فورسز کے مشیر نے کہا کہ افغان کمانڈوز نے سیکھا کہ ان کی طاقت ذمہ داری اور اعتماد کو اپنے نان کمیشنڈ افسران [این-سی-او] کو سونپنے میں ہے ۔ یہ کامیاب منصوبہ بندی اور کارروائیوں میں دیکھا جا سکتا ہے، کیونکہ یہ امریکی ایس-او-ایف کی عکاسی کرتا ہے، بنیاد جو این-سی-او کی طاقت، فطری استعداد، اور لچک پر تعمیر کی گئی ہے۔ وادی شونکرائی کی صفائی کے اس مشن، جس کی منصوبہ بندی اور جس پر عمل افغان کمانڈوز کی طرف کیا گيا تھا، میں ایک بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل ہوئی تھی کیونکہ اس میں زیادہ سے وہ منصوبے سے بھی زیادہ کامیاب حاصل ہوئی۔ آئی-ای-ڈی اور بم بنانے کے مواد کی تباہی سے متعدد معصوم دیہاتی، اے-این-ایس-ایف اور اتحادی اراکین کی زندگیاں بچا لی گئیں۔ اتحاد کے خصوصی آپریشن فورسز کے مشیر نے کہا کہ "کمانڈوز بہت پُر جوش ہیں اور انھوں نے ثابت کردیا ہے کہ وہ مشن کرنے کے قابل ہیں کارکردگی دکھائیں گے ۔ یہ ایک مثالی آپریشن ہے جس کو کمانڈوز نے ایک سے زیادہ پیچیدہ کاموں کو اپنی سلسلہ کمانڈ کو استعمال کرتے ہوۓ، اپنے این-سی- او کو بااختیار بناتے ہوۓ، اور کمانڈوز پرانفرادی طور پر زیادہ ذمہ داریاں ڈالتے ہوۓ، سر انجام دیا۔" |
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 






















