| افغان بارڈر پولیس نے جنوبی افغانستان میں کامیاب کاروائی کی قیادت کی |
منجانب Sgt. Brendan Mackie, Combined Taskforce Viper
دو افغان بارڈر پولیس کے ارکان 13 جون، 2012 کو پشاہ درہ، افغانستان میں آپریشن جنوبی زد II کے دوران سکیورٹی اسسٹٹنس ٹیم 8 کے ساتھ فرسٹ لیفٹیننٹ پیٹرک رائن سے گفتگو کرتے ہوۓ۔ (فوٹو منجانب برینڈن میکی)
کامبیٹ آؤٹ پوسٹ لکارے، افغانستان (18 جون، 2012) – افغان بارڈر پولیس اور انٹرنیشنل سکیورٹی اسسٹنس فورس کے ارکان نے 16-2 جون کے دوران یہاں سپن بولدک ضلعے میں آپریشن جنوبی زد II میں حصہ لیا۔ آپریشن، جس کی قیادت افغان سرحدی پولیس، یا اے بی پی کی تیسری کندک نے کی، مقامی شہریوں کے ساتھ بات چیت کے ساتھ ساتھ علاقے میں اہم دروں کے آس پاس میں دشمن فارمیشنوں کو تہ و بالا کرنے پر مرکوز تھا۔ "توجہ کے اہم علاقوں میں گنجٹسو درہ، پھر پشاہ درہ اور ظاہری طور پر ووناکی یا انجرگے درہ شامل تھے،" کیپٹن شان نولن نے کہا جو، سی کمپنی کے کمانڈر، فرسٹ بٹالین، کے 17ویں انفنٹری رجمنٹ، سیکنڈ انفنٹری ڈویژن کے ساتھ ہیں۔ "یہ ہمارے علاقے میں اہم درے ہیں جن کو دشمن جنگ کی حمایت کرنے کے لیئے چیزیں اور سامان اور مردوں کے ذریعے دونوں سپن بولدک کے علاقے میں اور افغانستان میں بھیجنے کے لیئے استعمال کرتا تھا۔" آپریشن کے دوران 17 باغیوں کو ہلاک اور چار مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا تھا اور دھماکہ خیز مواد اور ہتھیاروں کے متعدد ذخیرے دریافت کیئے گۓ۔ برآمد کی گئی اشیاء میں 1،400 پونڈ سے زیادہ دھماکہ خیز مواد، اہلکاروں کے خلاف استعمال کے لیۓ 19 بارودی سرنگیں، 12 پریشر پلیٹیں، چار رائفلیں، دو راکٹ لانچر، دو طرفہ ڈائریکشنل فریگمنٹیشن، ایک پستول اور گولہ بارود کے متعدد راؤنڈ شامل تھے۔ خود ساختہ دھماکہ خیز آلات کے متفرق اجزاء بھی برآمد کیۓ گۓ جن میں 12 سیل فونز، 13 پاور کے ذرائع، آٹھ بلاسٹنگ ٹوپیاں، آٹھ موٹر سائیکل، 18 فٹ کی دھماکے کی تار اور 50 فٹ لیمپ تار شامل ہیں۔ نولن نے کہا کہ اگرچہ ان کے اعداد و شمار اہم ہیں، اے بی پی کی طرف سے سب سے بڑی کامیابی ان کی کارکردگی تھی۔ "یہ ہماری ان کے ساتھ پہلی بڑی کارروائی تھی اور ہمیں معلوم نہیں تھا کہ ایک بڑی سطح پر کس طرح کام ہوں گے،" انہوں نے کہا۔ "یہ ہر طرح سے بہت متاثر کن تھا۔" آپریشن کے دوران اے بی پی نے ایک ٹیکٹائل اور اسٹریٹجک سطح پر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے جو اس ضلع میں اس سے پہلے نہیں دیکھی گئی۔ انہوں نے خود کو رسد کی فراہمی کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا جس میں پانی، خوراک اور ایندھن کی فراہمی شامل ہے۔ "میں ان سے بہت متاثر ہوا،" نولن نے کہا۔ "جو واقعی میں دیکھنے کے قابل تھا، جیسے آپریشن شروع ہوا، انھوں نے زیادہ سے زیادہ قیادت کا کردار سنبھال لیا۔" آپریشن کے شروع ہی میں، اے بی پی اور آئی ایس اے ایف فورسز نے ان علاقوں کو ہدف بنایا جن کی انٹیلی جنس ذرائع کے ذریعے نشاندہی کی گئی تھی۔ ان دیہاتوں میں، مقامی لوگ اے بی پی کے لیئے دشمن اور ان کی نقل و حرکت کے بارے میں قیمتی معلومات فراہم کرنے کے قابل تھے۔ "وہ درمیان سے لے کر آخر تک [اے بی پی] اہداف کی طرف اشارہ کر رہے تھے،" نولن نے کہا۔ "وہ لیڈ لے رہے تھے اور ہمیں بتا رہے تھے، 'ہمیں یہاں جانا ہے اور یہ کرنے کی ضرورت ہے،' اس وقت تک جب ہمیں اصل میں ان کو روکنا پڑا تاکہ اثاثوں کو ہم آہنگ کیا جا سکے۔ ان کو واقعی میں قیادت لیتا دیکھنا اور اپنے علاقے کے اندر ملکیت کااظہار کرتے دیکھنا بہت متاثر کن تھا۔" نولن نے کہا آگےکی طرف دیکھتے ہوۓ، سمجھنے کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ افغان اس مشن کو سنبھالنے کے لیۓ کتنے تیار ہیں۔ "وہ ہم سے یہ چاہتے ہیں کہ ان کو جیت کے قابل بنا دیں،" انہوں نے کہا۔ "یہ اب ان گۓ دنوں کی طرح نہیں ہے کہ جب ہمیں انھیں مقصد کے لیئے کھیچنا پڑتا تھا اور دیکھانا پڑتا تھا کہ درست کام کس طرح ہوتا ہے۔ اب وہ خود جانا چاہتے ہیں، انھیں معلوم ہے کہ کہاں جانا ہے۔ انھیں معلوم ہے کہ جب وہ وہاں پہنچیں تو کیا کرنا ہے۔" اگرچہ یہ نولن کی کمپنی اور مقامی اے بی پی کے درمیان صرف پہلا آپریشن تھا، وہ اگلی قسط کے انتظار میں لگا ہوا ہے۔ "یہ مجھے میری باقی کی مدت کے لیئے اور ہماری یہاں ایک کمپنی کے طور پر مدت کے دوران پرجوش بناتا ہے، يہ جانتے ہوۓ کہ ہمارے ساتھی بہت پرجوش ہیں اور ہمیں صرف ان کی کامیابی کو فعال بنانا ہے، اور یہ واقعی وہ ہے جو ہم چاہتے ہیں۔" |
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 




















