| افغان بیس کی سیکورٹی سلنگ لوڈ کے ذریعے اپگریڈ ہوئی |
منجانب Staff Sgt. Nadine Y. Barclay, 438th Air Expeditionary Wing
ٹیک سارجنٹ نیتھن سپارڈلے اور فرسٹ لیفٹیننٹ ولیم بولٹن، جو کہ 838ویں فضائیہ ایکسپڈیشنری مشاور گروپ کے ساتھ سیکورٹی فورسز کے مشیر ہیں، انٹیلی جنس، نگرانی اور جاسوسی ٹاور کی، شندند فضائیہ بیس، افغانستان سے، 6 فروری کو منتقلی کے دوران ایک سی-ایچ-47 ایف چنوک ہیلی کاپٹر کی آمد کا انتظار کر رہے ہیں۔
کابل، افغانستان (3 مارچ، 2012) - ایک کثیر القومی مشترکہ ٹیم جس میں 19 امریکی ائیرمین جو کہ 838ویں ایئر ایکسپڈیشنری مشاورتی گروہ سے ہیں، یو-ایس آرمی کے فوجی، جو کہ ٹاسک فورسز گرفن سے ہیں، سنٹر اور سپئیر ھیڈ، اور اطالوی آرمی کی سیکورٹی فورسز نے فروری 6-8، 2012 کو شندند فضائیہ بیس، افغانستان سے چھوٹی فارورڈ آپریٹنگ بیس بوجی، افغانستان جو کہ 95 میل جنوب میں ہے، تک خصوصی آلات کی منتقلی کے لیۓ ایک ساتھ کام کیا۔ جنوب مشرق ٹاسک فورس کے سیکورٹی مشن کے لئے اور وہاں تعینات اطالوی فوج کے لیۓ انٹیلی جنس، نگرانی، اور تحقیقی نظام جو دشمن کی سرگرمی یا ممکنہ خطرات سے بچنے کے لیۓ لگائی گئی باڑ کی لائنز کی نگرانی کے لئے استعمال کیا جاتا تھا، اس کو 'سلنگ لوڈ' – ہیلی کاپٹروں کے یہ سے لٹکے مال- کی ایک سیریز کے ذریعے بوجی منتقل کر دیا گیا۔ 3.4 ملین ڈالر کی قیمت کے تکنیکی سامان کی منتقلی میں اس قسم کے مشکلات بھی شامل تھے جیسے ایک پروپیلر موومنٹ سے پیدا شدہ سٹیٹک بجلی کا صحیح ڈسچارج اور مجموعی طور پر طیارے کو ایک مستحکم حرکت میں رکھنا۔ ڈیفنس آپریشن سنٹر فلائیٹ کمانڈر ہیں اور838ویں اے-ای-اے-جی کے ساتھ تعینات فرسٹ لیفٹیننٹ ولیم بولٹن نے کہا کہ یہ ہوائی حملے کے دوسالہ کیریئر میں پہلی بار میں ایسا کچھ کرنے کے قابل ہوا، یہ بہت اچھا گزرا۔ حکام کا کہنا ہے سامان کو مختصر نوٹس پر شندند آپریٹنگ بیس پر اس وقت منتقل کر دیا گیا جب ایک سی ایچ-47 ایف چنوک ہیلی کاپٹر، جو کہ ہرات، افغانستان، سے سامان کو بوجی منتقل کرنے کے شیڈول پر تھا، واپسی کا سفر نہ کر سکا۔ سی- 130 ہرکیولس شندند فضائیہ بیس پر پہنچا کیونکہ بوجی ایک ایسے ہوائی جہاز جو کہ بڑے نظام کو لے جانے کے لئے کافی تھا، کو قبول نہیں کر سکتا تھا ۔ بولٹن نے کہا کہ ہم یہ نہیں جانتے تھے کہ ہم کس کا سامان حاصل کر رہے ہیں۔ میں اپنی کرسی کے کنارے پر بیٹھا بے چين تھا جب تک مجھے پتہ چلا کہ ساز و سامان کچھ ایسا تھا جس سے میں آشنا تھا۔ دو مکمل آئی-ایس-آر کے نظام ٹاورز، ٹریلرز اور کونیکس پر مشتمل تھے۔ اس کام میں شندند سے بوجی تک دو گھنٹوں کی ایک سے زیادہ پروازیں درکار تھیں۔ منتقلی کے دوران، بوجی کی پرواز میں سلنگ کرسی کی ایک ٹانگ کی ٹریلر سے رگڑ کھانی شروع ہو گئی۔ بولٹن نے کہا کہ دوسرا ٹاور بھیجنے کے بعد، ہمیں اِطلاع آئی کہ ایک سلنگ ٹوٹ گئی تھی۔ میرا مُنہ کھُلا کا کھلا رہ گیا، اور میں نے فوری طور پر پرواز کے عملے سے پوچھا کہ کیا سامان وہاں تک پہنچ جاۓ گا؟ ہمارے پاس یہ تسلی تھی کہ وہ بیس کے قریب تھے، اور اسے پہنچ جانا چاہئے۔ بولٹن نے کہا "نقصان کا اندازہ کرنے کے بعد، یہ معلوم ہوا کہ اس کے آخر میں لگی ربڑ چھل کر اتر گئی تھی۔ یہ بہت بُرا ہو سکتا تھا۔ خوش قسمتی سے، اس پرواز کے آخر میں ہوا اور ایک بڑا مسئلہ نہیں بنا۔ تمام آلات فارورڈ آپریٹنگ بیس پر حفاظت سے اور وقت پر پہنچ گۓ، بغیر کسی ہنگامے کے۔ بو لٹن نے کہا اپنے آئی-ایس-آر کے نظام کو جتنا ہم شندند میں استعمال کرتے ہیں، مجھے لگتا ہے یہ سامان وہاں تعینات تمام اتحادی افواج اور اثاثوں کے بنیادی طاقت کے تحفظ کی سطح میں اضافہ کرے گا ۔ |
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 




















