| لیڈروں کا کہنا ہے کہ افغانوں کا حملے کا جواب فورسز میں بہتری کو ظاہر کرتا ہے۔ |
منجانب American Forces Press Service
16 اپریل، 2012 کو آرمی جنرل مارٹن ای۔ ڈمپسی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف، دائیں، وزیر دفاع سیکرٹری لیون ای۔ پنیٹا کے ساتھ پنٹاگان میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران سوالوں کے جواب دیتے ہوۓ۔ (ڈی او ڈی فوٹو منجانب ایرن اے۔ کرک-کیومو)
واشنگٹن، 16 اپریل، 2012 - افغانستان میں درپیش مشکلات جاری رہیں گیں، لیکن افغان سیکورٹی فورسز کا حالیہ حملوں کے جواب ، ان کی پختگی کی طرف اشارہ کرتے ہیں، امریکی دفاعی رہنماؤں نے آج یہاں کہا۔ پینٹاگون کے ایک نیوز کانفرنس میں آرمی جنرل مارٹن ای۔ ڈمپسی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے ساتھ وزیر دفاع سیکرٹری لیون ای۔ پنیٹا نے اس بات پر زور دیا ہے کہ گزشتہ سال کی اپنائی گئی حکمت عملی کامیاب ہو رہی ہے، اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور افغانستان کے درمیان پارٹنرشپ مضبوطی سے قائم ہے۔ پنیٹا نے اس بات کی تصدیق کی کہ انٹیلیجنس رپورٹیں پچھلے ہفتے ہونے والےمربوط حملوں کے پیچھے حقانی نیٹ ورک کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ "ہمیں بہت سی انٹیلیجنس نے اشارہ دیا ہے کہ حقانی اس قسم کے حملوں کا منصوبہ بنا رہے تھے،" انہوں نے کہا۔ "ظاہر ہے، ہم ہمیشہ سے اس قسم کے حملوں کے بارے میں فکر مند ہوتے ہیں۔ وہ اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ طالبان ابھی بھی مضبوط ہیں، اور وہ ابھی بھی پر عزم ہیں۔ لیکن پھر بھی میرے خیال میں ہمیں بھی اس بات کا یقین ہے کہ افغانوں نے اس قسم کے حملوں کے ساتھ نمٹنے کے لیئے اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کیا ہے۔" حملے دہشت گردی کے حملوں سوا کچھ نہیں تھے، جو توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہے، لیکن آخر میں کچھ بھی ثابت نہیں کر سکے، سیکریٹری نے صحافیوں کو بتایا۔ "یہاں ان کو کوئی حکمت عملی کے فوائد حاصل نہیں ہوۓ،" انہوں نے کہا۔ "یہ الگ الگ حملے علامتی مقاصد کے لیئے کیۓ گۓ ہیں، اور انھوں نے کسی بھی علاقے کو دوبارہ حاصل نہیں کیا ہے۔" سیکرٹری نے کہا کہ افغانستان میں دشمن 2010 کے بعد سے ایک بامعنی، منظم مہم مرتب کرنے کے قابل نہیں ہوا ہے۔ کل کے حملوں سے اثرات کی کمی افغان فورسز میں بہتری کی طرف اشارہ کرتی ہے، انہوں نے کہا۔ "افغان فوج اور پولیس نے ان حملوں پر ردعمل ظاہر کرنے کا ایک عظیم کام کیا ہے،" انہوں نے کہا۔ "انھوں نے فوری طور پر امن امان بحال کیا، انھوں نے فوری طور پرعلاقوں میں سیکورٹی کو بحال کیا، اور اس نے ہمیں اشارہ دیا ہے کہ وہ واقعی اپنے آپ کو تحفظ فراہم کرنے کی صلاحیت کو بہتر بنا رہے ہیں۔" یہ طالبان کی لڑائی کے موسم کا صرف آغاز ہے، پنیٹا نے نشاندہی کی۔ تاہم، نیٹو اور امریکی حکام کو یقین ہے کہ انٹرنیشنل سیکورٹی اسسٹنس فورس اور افغان فوجیں خطرے کا سامنا کر سکتی ہیں، انہوں نے کہا۔ ڈمپسی نے کہا کہ جبکہ "ثبوت ہمیں اس بات کا یقین دلاتا ہے کہ حقانی نیٹ ورک اس میں ملوث تھا، یہ اس دفعہ واپس پاکستان کی طرف اشارہ نہیں کرتا۔" حکام نے کہا ہے کہ حقانی نیٹ ورک خطے میں سب سے زیادہ قابل دہشت گرد گروپ ہے۔ اس کے کچھ رہنما کوئٹہ، پاکستان میں رہتے ہیں، اور ماضی میں وزارت دفاع کے حکام نے کہا کہ پاکستانی انٹیلیجنس ایجنسی کی انگلی اس دہشت گرد گروپ کی نبض پر ہے۔ ہم یہ تجویز کرنے کے لیئے کہ یہ پاکستان سے آرہے ہیں تیار نہیں ہیں، "ڈمپسی نے کہا۔ "میرا مطلب یہ ہےکہ ثبوت شائد ہمیں کسی موقعے پر وہاں تک لے جاۓ، لیکن ہم ابھی وہاں تک نہیں پہنچے۔" جنرل نے کہا کہ پچھلے ہفتے کے اختتام پر ہونے والے حملوں کا مطلب یہ ہے کہ "ہم ابھی تک ایک جنگ میں ہیں۔" کچھ لڑائیاں مشکل ہوں گی، اور وہاں جانی نقصان ہو گا، انہوں نے تسلیم کیا۔
"ہم اس حقیقت کے بارے میں بہت کھل کر بات کر رہے ہیں کہ ہمارے پاس مزید تین لڑائی کے موسم ہیں جس سے دونوں [افغان نیشنل سیکورٹی فورسز] کی تعمیر اور طالبان اور ان سے متعلقہ نقل و حرکت کی صلاحیت میں کمی کرنی ہے،" انہوں نے کہا۔ ڈمپسی نے اپنی گزشتہ ذمہ داریوں کے دوران عراق اور افغانستان میں سیکورٹی فورسز کی تعمیر پر کام کیا ہے، اور انہوں نے آج کہا کہ ان کی گزشتہ ہفتے کے اختتام پر افغان فورسز کے جواب سے حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔ "میں آپ کو بتا دوں، جب حملہ ہوا تو افغان سیکورٹی فورسز نے خوبی کے ساتھ اپنے فرائض کو انجام دیا، اگرچہ یہ گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران بہت مختصر نوٹس تھا،" انہوں نے کہا۔ |
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 




















