| منتقلی کی طرف ایک قدم |
منجانب CJIATF-435 Public Affairs, Combined Joint Interagency Task Force 435 شئیرمتعلقہ خبریں
کیمپ فینیکس، افغانستان-- افغان قومی فوج کے حراستی آپریشنز کمانڈنگ جنرل، میجر جنرل غلام فاروق (درمیان میں) پلے چرکی میں حراستی آپریشنز کمان ہیڈکوارٹرز کی تعمیر کی سائٹ پر ٹاسک فورس ٹائٹن کے کمانڈنگ جنرل، بریگیڈیئر جنرل فلپ چرن (درمیان سے بائیں) اور کمبائنڈ جوائنٹ بین الایجنسی ٹاسک فورس 435 کے ڈپٹی کمانڈنگ جنرل، بریگیڈیئر جنرل بالن ائیار (درمیان سے دائیں) کے ساتھ 9 جنوری، 2013 کو علاقے کی گشت کرتے ہوۓ۔ (فوٹو منجانب مس کیتھرین تھریٹ)
کیمپ فینکس، افغانستان - ان شہ سرخیوں جن کا دعویٰ ہے کہ افغان افواج قیادت لینے کے لئے تیار ہیں، کو ثابت کرنے کے لیئے کمبائنڈ مشترکہ بین الایجنسی ٹاسک فورس 435 کے دفتر میں سکیورٹی فورس کی معاونت انٹیگریشن سیل کے پاس ثبوت ہے۔ پُلے چرخی میں موجود افغان قومی حراستی مرکز میں افغان نیشنل آرمی ملٹری پولیس گارڈ کمان جو کہ ٹاسک فورس ٹائٹن کے ساتھ نگرانی اور معاونت کے لیۓ شراکت داری میں کام کر رہی ہیں، خودمختاری کی طرف ٹھوس، مستحکم قدم اٹھا رہی ہیں۔ ایک اہم انگیجمنٹ رہنما جس کا انعقاد 9 جنوری، 2013 کو اے-این-ڈی-ایف – پی-ای-سی اور کیمپ غازی میں کیا گيا نے افغان حراستی آپریشن کمانڈ، سی-جے-آئی-اے-ٹی-ایف 435، اور ٹاسک فورس ٹائٹن کو اکٹھا کیا ان کے ساتھ ساتھ اے-این-اے ایم-پی-جی-سی، اے-این-اے کی فوری رد عمل کی فورس، ایس-ایف-اے-آئی-سی اور سی-جے-آئی-اے-ٹی-ایف 435 کے دوسرے ارکان بھی تھے۔ فوج کے میجر میتھیو لا بلانک، جو ایس-ایف-اے-آئی-سی کی ٹیم کے رکن ہیں، نے کہا کہ "اے-این-ڈی-ایف – پی-ای-سی اور کیمپ غازی میں افغان قیادت نے اجلاس کی میزبانی کی اور وہ مکمل طور پر مہم کی منصوبہ بندی میں شامل تھے۔ انہوں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ مناسب سکیورٹی موجود تھی اور دونوں عمارتوں تک رسائی میں آسانی فراہم کرنے کے لیۓ ملحقہ یونٹوں کے ساتھ پہلے سے ہم آہنگی موجود تھی۔ فورس تحفظ کے عنصر نے اس اعلی سطح کے اجلاس کے لیے آپریشنل سیکورٹی کی مشق کرتے ہوۓ انتہائی احتیاط برتی قیادت کے ماتحتوں کو بھی اس اجلاس کی اطلاع اجلاس کی صبح دیتے ہوۓ" ۔ جبکہ مشن کا بنیادی توجہ صرف اہم رہنماؤں، امریکہ اور افغانستان کے دونوں حراست کی عمارتوں کے روزانہ کے کام کاج کے بارے میں اور گارڈ فورس اور قیدیوں کی ضروریات کو یکساں طور پر پورا کرنے کے بارے میں ایک اجلاس منعقد کرنا تھا، لاجسٹکس اور سیکورٹی کے زیادہ پیچیدہ کام اے-این-اے ایم-پی-جی-سی کے ہاتھوں میں تھی۔ افغان اور امریکی جرنیل اور افسران کو بھی حراست آپریشنز کمانڈ ہیڈ کوارٹر کے علاقے کی گشت کی، جو کہ اس وقت زیر تعمیر ہے، اور کیمپ غازی میں ایم-پی-جی-سی کے ڈویژن ہیڈ کوارٹر کی سہولیات کا ایک حصہ ہے۔ سی-جے-آئی-اے-ٹی-ایف 435 کے ساتھ انجینئرز تعمیر کی سائٹ کے علاقے کی گشت کے دوران اہم رہنماؤں کے سوالات کا جواب دینے کے لیے موجود تھے۔ آرمی کیپٹن جیف سلیوان کے مطابق، سی-جے-آئی-اے-ٹی-ایف 435 انجینئر سوالات اٹھائے گۓ اور ان کے ہر پہلو سے جوابات دیے گۓ مشن اچھا رہا۔ سلیون نے کہا کہ"مشن اے-این-ڈی-ایف – پی-ای-سی سے شروع ہوا، جہاں دونوں کمانڈ سے اہم رہنماؤں نے پلے چرکی میں حراستی آپریشنز کمانڈ کے ہیڈکوارٹر کے مستقبل پر تبادلہ خیال کیا۔ تعمیر کی سائٹ کا چکر لگانے کے بعد، ہم کیمپ غازی گۓ جہاں ایم-پی-جی-سی اس وقت اپنا حراستی افسران کا ٹریننگ اسکول چلاتی ہے۔ انہوں نے اپنے ڈویژن ہیڈکوارٹر کے عناصر کو بھی کیمپ غازی منتقل کر دیا گیا ہے" ۔ افغان کمانڈ نے کیمپ غازی میں میں جو ترقی کی ہے اس کا تجزیہ واضح تھا جب افغان اور امریکی کمانڈروں نے سہولیات کا دورہ کیا۔ لا بلانک نے کہا کہ "میں اس ترقی کو دیکھ کر بہت متاثر ہوا جو ایم-پی-جی-سی نے کیمپ غازی میں اپنے طور پر بنیادی سہولتوں کے ڈھانچے کی بہتری کی اور سسٹینمنٹ کی خدمات کے قیام کے لیۓ کی ہے" ۔ "میرے نقطہ نظر سے سب سے اہم بات سیکینڈ بریگید کے افغان فوجیوں کو کاروائی کے دوران دیکھنا ہے جب انھوں نے محفوظ طریقے سے اتحادی ہم منصبوں کی اس عمارت میں میزبانی کی جو کہ زیادہ تر افغان کنٹرول میں ہے۔" ایس-ایف-اے-آئی-سی نے سی-جے-آئی-اے-ٹی-ایف 435 کی کمانڈ اور اپنے افغان شراکت داروں کے درمیان اہم رابطہ فراہم کیا ہے۔ . ایس-ایف-اے-آئی-سی نے بھی اپنے افغان شراکت داروں کو روزانہ کی بنیاد پر، مسائل کے حل اور ایک پائیدار حل کے قیام میں سہولت پیدا کرنے، حراست کی کارروائیوں کے بارے میں اپنے خود مختاری کی منتقلی میں مسلسل ترقی کرنے میں مدد فراہم کی ہے۔ اب جب کہ افغان کنٹرول میں مکمل منتقلی دور نہیں، امدادی ٹیمیں زیادہ تر ایک مشاورتی کردار اپنا رہی ہیں اور ایس-ایف-اے-آئی-سی اس مشن کو افغان فورسز برتری کے ایک ٹھوس ثبوت کے طور پر دیکھتا ہے۔
|
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 






















