صفحہ اول | خبریں | خبریں | 83ویں ای-آر-کیو-ایس: زندگیاں بچانے کے لیۓ بھاگ دوڑ
83ویں ای-آر-کیو-ایس: زندگیاں بچانے کے لیۓ بھاگ دوڑ
منجانب Staff Sgt. Eric Burks, U.S. Air Forces Central Command Public Affairs
121129_pararescue
امریکی ائیر فورس کے پیرا ریسکیو مین، 83ویں مہماتی ریسکیو سکوارڈرن، افغانستان میں 7 نومبر، 2012 کو یو-ایس ائیر فورس کے ایچ ایچ-60 پیوو ہاک سے نیچے اتارے جانے کے بعد علاقے کو محفوظ بناتے ہوۓ۔ ۔ (امریکی فضائیہ فوٹو/سٹاف سارجنٹ جاناتھن سنائیڈر)

بگرام ائیر فیلڈ، افغانستان (29 نومبر، 2012) – تقریباً شام کا وقت تھا اور 83 ویں مہماتی ریسکیو سکواڈرن کے لیۓ کچھ زیادہ سرگرمی نہیں تھی۔

ایچ ایچ- 60 جی پیوو ہاک ہیلی کاپٹر جہازوں کی پارکنگ میں کھڑے تھے، بے حرکت اور خالی۔ سکواڈرن میں بھی نسبتاً خاموشی تھی۔ کچھ ائیرمین کمپیوٹر پر کام کر رہے تھے، ای میل دیکھ رہے تھے، جبکہ باقی بریک روم میں آرام سے بیٹھے تھے۔

اچانک فون کی گھنٹی بجی اور پوری عمارت میں جیسے کسی نے جان پُھونک دی۔ ایک "ایلفا کیٹیگری" کی طبی انخلا کی درخواست آئی کہ ایک زخمی کو نجات دی جائے اور سکوارڈن میں ہر شخص – پیوو ہاک کی دیکھ بھال کے عملے اور پائیلٹوں سے لے کر مشن کی منصوبہ بندوں اور پیرا ریسکیو جوانوں (پی-جے) تک – سب کام پر لگ گئے۔

کیپٹن کرس اوبرناووچ، 83ویں ای-آر-کیو-ایس جنگی ریسکیو پائیلٹ، نے کہا کہ اس صرح کی صورت حال میں رفتار نہائت اہم ہے۔

انھوں نے کہا کہ"ایک 'کیٹ اے' کے مریض کے لیۓ اڑنے میں، ہمارا مقصد یہ ہے کہ ہم اطلاع ملنے کے ایک گھنٹے کے اندر اندر جدید ترین طبی سہملت تک اسے واپس لے کر آئیں" ۔ "تو جب اس طرح کی کال آتی ہیں، ہر ایک منٹ بہت اہم ہوتا ہے۔"

ابتدائی، یا نو لائن کی رپورٹ میں تمام بنیادی معلومات ہوتی ہیں جن کی سکواڈرن کو جوابی کاروائیوں کے لیۓ ضرورت ہوتی ہے جس میں محل وقوع، زخمی کی حالت، وہ کہاں ہیں، اور علاقے میں کسی بھی دشمن کی سرگرمیوں کے واقعات شامل ہوتی ہیں۔ جب وہ معلومات مل جاتی ہیں تو ٹیم حرکت میں آ جاتی ہے۔

جب وہ پیوو ہاکس کو آڑانے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں تو طیارے کے دو کمانڈر زندہ بچ جانے والے کو محفوظ طریقے سے لانے کی منصوبہ بندی کرنے کے لیۓ جنگی ریسکیو افسر اور پی-جے ٹیم لیڈ کے ساتھ مشن کے بارے میں مشورہ کرتے ہیں۔

جنگی ریسکیو افسر کیپٹن برائن کیری، 83ویں ای-آر-کیو-ایس نے کہا کہ ان کی ٹیم کے پاس "کیٹ-اے" کے دوران تیار ہو کر اپنی راہ پر اڑنے کے لیۓ 15 منٹ ہوتے ہیں، جہاں سے انہوں نے زخمی اہلکاروں کو اٹھا کر انہیں واپس ایک جنگی امدادی ہسپتال تک لانا ہوتا ہے۔

کیری نے کہا کہ "جب ایک شخص زخمی ہو جاتا ہے، تو ہم' سنہری گھنٹے' کے اصول کی پیروی کرتے ہیں،" ۔ اگر ہم کسی زخمی کو ساٹھ منٹ کے اندر اندر جنگی امدادی ہسپتال میں واپس لا سکتے ہیں، تو اس کے زندہ بچ جانے کی امید بڑھ جاتی ہے۔"

اہم سی-اے-ایس-ای-ویک مشنوں کے علاوہ، سکواڈرن افغانستان میں اہلکاروں کی بازیافت (پی آر) کی کاروائی کا کام بھی کرتا ہے۔

الرٹ کے اوقات اور جوابی کاروائی کے لیۓ وقت مشن اور محل وقوع کی قسم کے لحاظ سے مختلف ہوتے ہیں، لیکن 83ویں ای-آر-کیو-ایس کے ایئرمین دن میں 24 گھنٹے، ہفتے میں ساتوں دن، اگلے فون کا جواب دینے کے لئے تیار ہوتے ہیں ۔

اوبرانووچ نے کہا کہ "ہمارا مشن ایک زخمی ائیرمین کو لانے سے لے کر جنگ میں تلاش اور نجات کے دوران ایک اہلکار کی بازیابی کی قسم تک ہو سکتا ہے، علاقے یا زخمی شہریوں یا فوجی اہلکاروں کی میدان جنگ میں کئی جانیں بچانے تک ہو سکتے ہیں" ۔

کیری نے کہا کہ "ہمارے پاس ایک مسلح بحالی فورس ہے جو شدید خطرناک حالات میں ایک فعال ٹی-آئی-سی دشمن سے لڑتے فوجی، میں جا سکتے ہیں اور بازیافت کی کاروائی کر کے اہلکاروں کو واپس محفوظ مقام پر لا سکتے ہیں کسی مسلح فوج کی ہمراہی یا دوسرے زمینی اثاثوں کے بغیر۔"

انہوں نے کہا کہ بگرام سےسکواڈرن کو علاقائی کمان مشرقی علاقے کے ایک بڑے حصہ کو سنبھالنے کا کام سونپا گيا ہے۔

کپتان نے کہا کہ "ہم ایک سے دو گھنٹے کے دوران کہیں بھی اہلکاروں کی بازیافت کے لئےجا سکتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر ہمارے پاس فضا میں ایندھن بھرنے کی صلاحیتیں بھی ہیں ۔ جو فاصلے ہم علاقے میں طے کرتے ہیں اور جن جغرافیائی حالات میں ہم یہاں آر-سی مشرق میں کام کرتے ہیں، وہ بہت مشکل ہے۔"

تیاری اور تربیت- دونوں تعیناتی کے دوران اپنے مقرر کردہ اسٹیشن – اس بات کو یقیینی بنانے ،کہ سکواڈرن کے ایئرمین کسی بھی چیلنج پر قابو پا سکتے ہیں، کے لیۓ بہت کام آتے ہیں۔

اوبرانووچ نے کہا کہ جنگی ریسکیو پائیلٹ باقاعدگی سے پی جے کے ساتھ تربیت کرتے ہیں، اور عام طور پر اکٹھے تعینات ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اپنے ملک میں پیرا ریسکیو مین کے ساتھ تربیت کرنے کے قابل ہونے کی وجہ سے یہاں بہت مدد ملتی ہے،" ۔ "مل کر تربیتی مشق کرنے سے ان کی ضروریات کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے اور یہ بھی کہ کس طرح اور ایک مؤثر ٹیم کے طور پر یہاں کام کرنے کے لئے بات چیت کی جاۓ۔"

کیری نے کہا کہ افغانستان میں تربیتی مشن بھی اتنے ہی فائدہ مند ہیں، اور حقیقی دنیا میں حقیقی علاقے اور حالات میں کاروائی کرنے کا تجربہ فراہم کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "صلاحیتں جو ہمارے پاس یہاں ہیں، ہمیں باہر جانے اور اپنی مہارتوں کو قائم رکھنے کا موقع دیتی ہیں" ۔ "ہم مسلسل اپنے دیگر اثاثوں کے ساتھ تربیتی مشق کرتے ہیں، اپنی ٹیم کے ساتھ تربیت کرتے ہیں تاکہ اپنی مہارتوں کو فعال رکھنے کے لئے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ ہم کسی بھی وقت ایک مشن کرنے کے لئے تیار ہیں۔"

اس کے ساتھ ساتھ اس بات کی خواہش ہونا "کہ دوسرے زندہ رہیں" کا مطلب ایک جنگی آپریشن کی کامیابی سے زیادہ ہے۔ اگست میں یہاں پہنچنے کے بعد سے، 83ویں ای-کیو-آر-ایس جنگی ریسکیو پائلٹ اور پی- جے نے اب تک 149 لڑاکا پروازیں مکمل کی ہیں، کم از کم 18 جان بچائی ہیں۔

کیری نے کہا کہ "اس کام کا سب سے زیادہ اطمینان بخش حصہ یہ جاننا ہے کہ ہر روز آپ باہر جائيں اور ان لوگوں کو لے کر آئیں جو بُری حالت میں ہیں، آپ انہیں ایک بہتر صورت حال میں واپس لاتے ہیں، اور ان کے واپس اپنے ملک جانے اور اپنے خاندان تک پہنچنے کے امکانات بہتر بناتے ہیں۔"

 

 

Media Gallery

ویڈیو، بصری
تصویریں

جنگی کیمرہ -->

مرکزی کمان کی تصویریں -->

no press releases available at this time
No audio available at this time.
Content Bottom

@CentcomNews //Social Media//

حالیہ ٹویٹز
حالیہ فلکر پر تصویریں
RIDE002

RIDE002
viewed 22 times

فیس بُک پر دوست
33,148+