Combined Joint Interagency Task Force-435
| پروان شوریٰ کے بعد 10 قیدیوں کی رہائی |
|
منجانب Sgt. Jason Boyd, Combined Joint Interagency Task Force 435 صوبہ پروان، افغانستان 6 دسمبر 2010 ۔۔ 24 نومبر کو شوریٰ کے ذریعے 10 قیدی پروان کے قید خانے سے رہائی پانے کے بعد اپنے علاقوں میں پہنچ گئے۔ تشدد ترک کر کے پُر امن زندگی گزارنے کے معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد ان 10 قیدیوں کو دوستوں، اہل خانہ اور بزرگوں کے حوالے کر دیا گیا۔ افغان حکومت کی سرپرستی میں چلنے والے اس پروگرام کا آغاز جنوری 2010 میں کیا گیا اور اس میں قیدیوں کو دوبارہ افغان سماج میں شامل ہونے کا موقعہ دیا جاتا ہے۔ اپنے آغاز سے اب تک پروگرام کے تحت 50 شوریٰ کے نتیجے میں 300 قیدی رہا کیے جا چکے ہیں۔
اس موقعے پر افغان نیشنل آرمی کے میجر جنرل مرجان شجاع، جو کمبائنڈ ٹاسک فورس 435 کے افغان کمانڈر بھی ہیں نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ تم لوگ اپنے اہل خانہ کے پاس واپس جا کر سماج کے مفید حصے بنو گے۔
افغانستان کے نائب وزیرِ داخلہ نے اس موقع پر کہا کہ ان قیدیوں کی رہائی اور ان کے اپنے اہل خانہ سے مل جانے پر افغانستان مزید مضبوط ہو گا۔
جبکہ افغان نیشنل آرمی کے لیفٹیننٹ جنرل جمیل جمبش عزیزی کہتے ہیں کہ کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو افغانستان کو مستحکم اور مضبوط ملک نہیں دیکھنا چاہتے۔ لہذا ہم سب کو عالمی برادری کی مدد کرنی چاہیے کہ وہ ہمارے ملک میں امن و سلامتی لائیں۔
تقریب کے دوران قیدیوں کی نمائندگی کرتے ہوئے ایک قیدی نے کہا کہ اگر ہم افغانستان کو ایک پُر امن اور مستحکم ملک دیکھنا چاہتے ہیں تو میں سمجھتا ہوں کہ ہر انسان کو اپنے کاموں پر غور کرنا چاہیے اور اپنے مسائل پُر امن طریقے سے حل کرنے چاہیں۔
قیدی نے مزید کہا کہ افغان قومی فوج اور امریکی فوجیوں نے تمام قیدیوں سے عزت واحترام کا سلوک کیا اور انہوں نے بھی ڈی ایف آئی پی میں اپنی قید کے دوران فوجیوں کو بے عزت کرنے کے لیے کچھ نہیں کیا۔
اس کا کہنا تھا کہ میں نے جو دو سال یہاں گزارے، ان میں میں قرآن پڑھنا سیکھایا گیا اور مجھے نماز ادا کرنے اور کلاس لینے کی بھی تلقین کی جاتی تھی۔ میں نے اب بہت سے سبق یاد کر لیے ہیں جنہیں میں واپس جا کر بچوں کو پڑھا سکتا ہوں۔ پروان کے قید خانے میں قیدیوں کو تعلیم اور ووکیشنل ٹریننگ حاصل کرنے کا موقعہ دیا جاتا ہے۔ سماج میں دوبارہ شمولیت کے پروگرام کے تحت انگریزی، پشتو زبانیں، سلائی، زراعت اور روٹی بنانے سمیت مختلف کورس قیدیوں کو پیش کیے جاتے ہیں۔ ڈی ایف آئی پی پہنچنے پر قیدیوں کا ووکیشنل انٹرویو میں لیا جاتا ہے جس میں یہ اندازہ لگانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ان کی تعلیمی سطح کیا ہے اور کون سا کورس ان کے لیے دلچسپ ہے۔ بحالی کے یہ پروگرام قیدیوں کو ایسے ہنر سیکھنے کا موقعہ فراہم کرتے ہیں جنہیں وہ رہائی کے بعد اپنے گائوں میں جا کر کام میں لا سکتے ہیں تاکہ گھر لوٹنے کے بعد عسکریت پسندی کے علاوہ بھی ان کے پاس اور راستے ہوں۔
اسلامی جمہوریہ افغانستان اور امریکہ کے انٹر ایجنسی اور بین الاقوامی ساتھیوں کے اشتراک سے سی جے آئی اے ٹی ایف۔435 عدالتی شعبے اور بائیو میٹرکس میں قید اور اصلاح کا کام کرتی ہے۔ بالاخر، حالات سازگار ہوئے تو، سی جے آئی اے ٹی ایف۔435 کا کنٹرول افغان حکومت کے حوالے کر دے گا جبکہ اس کے ساتھ قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جائے گا۔
46th ملٹری پولیس کمانڈ، ٹاسک فورس پیس کیپر، سی جے آئی اے ٹی ایف-435 کا ماتحت، ڈی ایف آئی پر قیدیوں سے متعلق تمام معاملات دیکھتے ہیں۔ ٹاسک فورس پروان کے قید خانے میں قیدیوں سے انسانی سلوک، کنٹرول اور دیکھ بھال کو یقینی بناتی ہے۔ 96th ملٹری پولیس بٹالین، ٹاسک فورس سپارٹن افغان سپاہیوں ڈیٹینشن آپریشنز کی تربیت دیتی اور ترجمان فراہم کرتی ہے کہ زبان کے فرق کے باعث مسائل پر غلبہ حاصل کیا جا سکے۔ یہ کوششیں افغان قومی فوج کو اس قابل کریں گی کہ وہ اپنے امریکی ہم منصبوں سے ذمہ داری لے کر قید خانے کو خود چلا سکیں۔ ڈی ایف آئی پی پروان میں بگرام فضائیہ فیلڈ سے کئی کلومیٹر دور واقع جدید ترین انٹرنمنٹ فسیلیٹی ہے جسے ستمبر 2009 میں مکمل کیا گیا اور دسمبر 2009 میں یہاں قیدی منتقل کیے گئے۔ ڈی ایف آئی پی کے ڈیزائن میں قیدیوں کی بحالی کی کوششوں کو مدِ نظر رکھا گیا ہے اور سی جے آئی اے ٹی ایف۔435 اسکو اس قابل بناتا ہے کہ وہ گرفتاری ورہائی کی سرگرمیوں کو افغانستان میں انتہا پسندی کو شکست دینے کی سرگرمیوں سے ہم آہنگ کر سکیں۔ |
Detention Facility in Parwan Province, Afghanistan
تصویریں
Podcasts
There are no podcasts available at this time.








