نیوزی لینڈ صوبائی تعمیر نو کی ٹیم اور افغان قومی پولیس (اے۔ این۔ پی۔) کا گشتی دستہ ایک ناقابل تصور حد تک ناہموار ترین علاقے میں سے گزرتا ہے- خم کھاتی ہوئی پگڈنڈی پہاڑ کی تقریباً عمودی ڈھلوان پر چلتی چلی جاتی ہے۔ زور لگاتے ہوئے گاڑیوں کے انجن چنگھاڑ رہے ہیں اور چاروں پہئَے چکنی چٹانوں اور ان کے ٹوٹے پھوٹے پتھروں پر گرفت مضبوط کرنے کے لئے تیزی سے گھوم رہے ہیں۔ گشتی دستہ چوٹی پر پہنچتا ہے تو یہ پگڈنڈی کاردندے گاؤں میں نیچے اترتی ہے جو برف سے ڈھکی ہوئی ایک خوبصورت وادی میں واقع ہے۔
کاردندے تیرجیران اور ریشقو کے رہنما کئی میل کا سفر طے کر کے ایک ایسے جرگے میں شرکت کرنے پہنچے ہیں جس کا بڑی شدت سے انتظار تھا۔ ان میں سے کئی رہنما سابق مجاہدین اور طالبان کمانڈر ہیں۔ وہ پہاڑی کے دامن میں جہاں گاؤں کی مسجد میں جرگہ ہونے جارہا ہے وہاں پر جمع ہیں اور مسجد کے قریب واقع میدان میں جرگے کی باقاعدہ دعوت سے پہلے رسم کے مطابق شبر کے صوبائی گورنراعظم فرید اور شبرپولیس کے ضلعی سربراہ میجر چرگیکول راکم الحروف این۔ زیڈ۔ پی۔ آر۔ ٹی۔ کمانڈر کرنل مارٹن ڈرینزفیلڈ یو۔ایس۔ڈی۔او۔ایس۔ کے ایرک میہلر اور گشتی دستے کے ہر ایک رکن سے مصافحہ کرتے ہیں۔
گزشتہ سات سال سے این۔زیڈ۔پی۔آر۔ٹی بامیان کے وسیع و عریض صوبے میں واقع مختلف دیہاتوں سے تعلقات بہتر کرنے کے لئے کام کر رہی ہے تاکہ ان کی برادریوں میں تحفظ اور ترقی کو بڑھاوا دیا جائے۔ جرگے نہ صرف معلومات پھیلانے کا ایک اہم ذریعہ بلکہ برادری کے تحفظات اور ضروریات پر بات کرنے کا بھی ایک وسیلہ ہیں۔
تعریف کے مطابق جرگہ (پشتو زبان کا لفظ جرکہ یا کبھی کبھار جرگہ کھلواتا ہے) قبائیلی عمائدین کا اجتماع ہے جو رائے شماری کے ذریعے فیصلے کرتے ہیں۔ جرگے افغانستان بھر میں اور پاکستان میں (خصوصاً افغان سرحد کے قریب) اور انڈین کشمیر کی وادی میں منعقد ہوتے ہیں۔ انتظام کے لحاظ سے یہ نیوزی لینڈ کے "مارائے" نامی اجتماع سے ملتا جلتا ہے جہاں پر علاقے کے لوگ اہم معاملات پر بات کرتے ہیں۔ اسی مناسبت سے یہاں موجود نیوزی لینڈ کے رہنے والوں کے لئے یہ معروف سا عمل ہے اور انہیں موقع فراہم کررہا ہے کہ وسیع علاقے سے جمع ہونے والوں رہنماؤں سے ایک جگہ پر مل سکیں۔
بامیان میں ہونے والے یہ سلسلے وار جرگے خصوصی اہمیت کے حامل تھے کیونکہ پی۔آر۔ٹی جن علاقوں میں داخل ہو رہی ہے وہ اہل بامیان کے لئے سیکوریٹی تحفظات رکھتے ہیں۔
حال ہی میں شکاری نامی وادی میں دو قتل ہوئے تھے اور اس جگہ کے قریب ہی ہوئے تھے جہاں یکم نومبر ۲۰۰۹ کے دن پی۔آر۔ٹی کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس معاملے کے متعلق بہت چہ مگوئیاں ہوئی تھیں کہ ان کا ذمے دار کون ہے، اور اب یہ مناسب وقت ہے کہ ارد گرد کے دیہاتوں سے آئے ہوئَے رہنماوں کے ساتھ ان معاملات سے نمٹا جائَے۔
جرگے سے قبل ہونے والی ملاقاتوں سے یہ بات سامنے آئی کہ سیکوریٹی کے یہ معاملات جزوی طور پر علاقے کے خراب بنیادی ڈھانچے اور تنہا ہونے کے احساس کا نتیجہ ہیں۔ سابق طالبان کمانڈر ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے تیجیران کی شوریٰ کے منتخب سربراہ ملا شفیع اللہ نے وضاحت کی کہ ملاقات میں شریک بنام گاردندہ، تیرجیران اور ریشقو تین شوریٰ (دیہاتیوں کا گروپ) ۸۰۰۰ لوگوں کی نمائندگی کررہا ہے۔
اس کے باوجود ان کے پاس کوئی مرکز صحت نہیں اور یہ صرف کچی پگڈنڈیوں سے جڑے ہوئے ہیں اور صرف ایک دیہات میں صرف ایک سکول ہے جو کہ خیموں سے بنایا گیا ہے۔ اس نے مزید برآں کہا کہ ملازمتوں کی کمی اور ان عوامل نے مل کر کچھ لوگوں کو جرائم اور کبھی کبھار بغاوتی سرگرمیوں کی طرف راغب کردیا ہے۔ اس نے یہ بھی کہا کہ ان مسائل کو حل کرنے کے لئے ہمیں قبائلی سرداروں کے ساتھ بیٹھ کر ان کے معاملات سننا اور مختلف برادریوں کو افغانستان کے مستقبل میں شامل کرنے کے لئے اقدامات کرنا ہوں گے۔
جرگے میں دوپہر کے کھانے اور باہمی صلاح مشروے سے پہلے کئی تقریریں ہوئیں۔ جرگے کے سربرہ مولوی محمد عثمان روحانی نے نہ صرف علاقے میں سیکوریٹی اور بنیادی ڈھانچے کی اہمیت بیان کی بلکہ مقامی دیہاتوں کی مجرموں اور طالبان کے لئے مجموعی ناپسندیدگی کا بھی اظہار کیا۔ شبر کے ضلعی نائب گورنر اعظم فرید نے توجہ دلائی کہ ۳۰ سالہ جنگ نے مقامی لوگوں کی زندگیاں سوہان روح بنا کررکھ دی ہیں اور اپنی جغرافیائی تنہائی اور بنیادی ڈھانچے کی کمی کی وجہ سے وہ اب بھی ناقابل یقین تلخیاں جھیل رہے ہیں۔
تاہم اس نے امید ظاہر کی اور زور دیا کہ جنگ کا وقت ختم ہو چکا ہے اور اب بین الاقوامی برادری اور افغان حکومت کی مدد سے مستقبل مثبت ہو سکتا ہے۔
مولوی عثمان نے اسی موضوع کو آگے بڑھاتے ہوئے خیال ظاہر کیا کہ اس علاقے میں مجرمانہ اور بغاوتی سرگرمیاں حکومت اور بین الاقوامی برادری کو ترقی کےعمل سے ہٹاتی ہیں۔ اس نے دیہاتی بزرگوں پر زور دیا کہ وہ اپنے نوجوانوں کی اے۔این۔پی میں شمولیت کی حوصلہ افزائی کریں۔ دیہاتی بزرگوں کی تقریروں سے ظاہر ہوا کہ ان پیغامات کو انہوں نے خوش آمدید کہا ہے اور مولوی محمد عثمان روحانی اور ملا شفیع اللہ دونوں نے بزرگوں سے درخواست کی کہ وہ افغان حکومت اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر کام اور اے۔این۔پی کی حمایت کرتے ہوئے اس حل کا حصہ بنیں۔
اس کے بعد عمائدین اور مہمان باہمی صلاح مشورے کے ذریعے مقامی ترقی کی ضروریات پر گفتگو اور ان کی فہرست مرتب کرنے ایک علیحدہ جگہ چلے گئے۔ اپنی آمد کے چھ گھنٹوںبعد پی۔آر۔ٹی اور اے۔این۔پی کے گشتی دستے نے دوبارہ ڈھلوانی دروں کی طرف واپسی کی راہ اس یقین کے ساتھ لی کہ حکومت اور مختلف برادریوں کو جنہیں وہ سمجھے کہ اُنہیں بھلا دیا گیا تھا اُن کے درمیان لمبے شراکتی عمل کا پہلا قدم اٹھایا جا چکا ہے۔
اس جرگے کے ذریعے عوام کو باغیوں سے جدا کرنے اور ممکنہ حد تک کچھ باغیوں کو راہ راست پر لانے کے منصوبے کا پہلا قدم اٹھ چکا ہے۔ |
|
|
حالیہ ٹویٹز
حالیہ فلکر پر تصویریں
RIDE002
viewed 19 times
حالیہ یو ٹیوب وڈیوز
عيد الأضحى اور حج کے موقع پر مبارک باد
viewed 0 times
فیس بُک پر دوست
33,143+