نیپال کی سیاسی ترقی
1996-1990: پارلیمانی شہنشاہیت
1996: ماؤوسٹ کی بغاوت
2001: شاہی قتل عام
2007 -2005: پالیمنٹ اور عوامی تحریک کی معطلی 10. یکم فروری، 2005 کوبادشاہ گیانندرنے پارلیمنٹ کو معطل کر دیا، اپنی قیادت میں حکومت مقرر کردی اور ملک بھر میں ہنگامی صورتحال کا اعلان کر دیا۔ بادشاہ کا کہنا تھا کہ سول سیاستدان ماؤ نواز شورش کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں تھے۔ حزب اختلاف کے رہنما بھارت چلے گئے اور وہاں دوبارہ اکٹھے ہوۓ۔ شاہی قبضے کی مخالفت میں ایک وسیع اتحاد جس کا نام سات پارٹی الائنس (ایس پی اے) قائم کیا گیا تھا جس میں سات پارلیمانی پارٹیاں شامل تھیں۔
11. 22 نومبر، 2005 کو پارلیمانی جماعتوں کی سات پارٹی الائنس (ایس پی اے) اور کمیونسٹ پارٹی آف نیپال (ماؤ نواز) نے امن اور جمہوریت کے لئے ایک مفاہمت کی تاریخی اور ریکارڈ 12 نکاتی یادداشت (معاہدہ شتھاپن) پر اتفاق کیا۔ اس 12 نکاتی یاداشت نے ایک احتجاجی تحریک کو جنم دیا اور اس کو لوک تانترا کا نام دیا گیا اور اس کا آغاز اپریل 2006 میں ہوا۔ تمام سیاسی قوتوں جن میں سول سوسائٹی اور پیشہ ورانہ تنظیمیں شامل تھیں نے فعال طور پر لوگوں کو اس میں شامل کیا۔ اس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر اور بغیر منصوبے کے مظاہروں اور ریلیوں کا سلسلہ تمام نیپال بھر میں بادشاہ گیانندر حکومت کے خلاف شروع ہوا۔
12. لوگوں کی شرکت اتنی بڑی، اہم اور وسیع تھی کہ 21 اپریل، 2006 کو، بادشاہ گیانندر نے اعلان کیا کہ "اقتدار لوگوں کو واپس کیا جائے گا۔" اس کا لوگوں پر کوئی اثر نہ ہوا اور انھوں نے کھلے عام دن کے وقت کرفیو کی پرواہ نہ کرتے ہوۓ کھٹمنڈو کی سڑکوں اور دیگر شہروں پر قبضہ کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ بادشاہ گیانندر نے 24 اپریل، 2006 کی آدھی رات کو ایوان نمائندگان کی بحالی کا اعلان کیا اور یہ ایس پی اے کے اہم مطالبات میں سے ایک تھا۔ اس عمل کے فورا" بعد سیاسی قوتوں کے اتحاد نے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔
13. 19 مئی، 2006 کو پارلیمنٹ نے کل قانون سازی کا اختیار سنبھالا اور انتظامی طاقت حکومت نیپال (جو پہلے اس ہز ہائی نس کی حکومت کہا جاتا تھا) کو دی گئی۔ کئی اداروں (جس میں فوج بھی شامل ہے) کے نام "شاہی" کی اضافت ہٹا لی گئی اور راج کونسل (بادشاہ کے مشیروں کی کونسل) کو ختم کر دیا گیا۔ بادشاہ کی سرگرمیاں پارلیمانی جانچ پڑتال کا موضوع بن گیا اور بادشاہ کی جائیداد پر ٹیکس لگا دیا گیا۔ اس کے علاوہ، نیپال کو ایک لادینی ریاست قرار دے دیا گیا اپنی سابقہ ہندو بادشاہت کی حیثیت سے دور ہٹتے ہوۓ۔ تاہم، زیادہ تر تبدیلیوں پر ابھی تک عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ 19 جولائی، 2006 کو وزیر اعظم جی پی کوارالا نے نیپالی حکومت کی طرف سے اقوام متحدہ کو ایک خط بھیجا اور اس نیت کا اعلان کیا کہ نیپالی حکومت اپریل 2007 میں ایک آئینی اسمبلی کے لیے انتخابات کا انعقاد کرواۓ گی۔
دسمبر 2007 سے مئی 2008: شہنشاہیت کا خاتمہ
14. 23 دسمبر، 2007ء کو نیپال نے ایک معاہدے کے تحت شہنشاہیت کا خاتمہ کر دیا اور ملک ایک وفاقی جمہوریہ بن گیا جس کا سربراہ وزیر اعظم تھا۔ سیاسی پنڈت کو جھٹلاتے ہوۓ، جنہوں نے اس کی اپریل 2008 کے انتخابات میں شکست کی پیش گوئی کی تھی، کمیونسٹ پارٹی نیپال (ماؤ نواز) ہر طرف سے خوف اور دھمکیوں کےایک عام ماحول میں سب سے بڑی پارٹی بن گیا۔ مئی 2008 میں نیپال ایک وفاقی جمہوریہ میں تبدیل ہوگيا، جس سے نیپال میں شاہی حکمرانی کے 240 سال ختم ہو گۓ اور 601 کی نشستوں کی آئینی اسمبلی میں سے صرف چار ارکان نے تبدیلی کے خلاف ووٹ دیا۔
موجودہ (2008 اور جاری)
15. بہت سی اہم کمیونسٹ پارٹیوں جیسا کہ نیپال کی یونیفائیڈ کمیونسٹ پارٹی (ماؤ نواز)، نیپال کی کمیونسٹ پارٹی (یونیفائیڈ مارکسیسٹ- لننسٹ) اور نيپالی کانگریس نے ایک آئین لکھنے پر اتفاق کیا جو کہ دو سال کے اندر اندر عبوری کی جگہ لے لے گا۔ تاہم سیاسی جماعتوں کی نا اتفاقی اور "خود غرض" رویے نے امن کے عمل کو پٹری سے اتار دیا۔ ملک کی سب سے بڑی پارٹی کے طور پر ماؤ نواز باغیوں کی پارٹی، نے`` ملک کی سب سے بڑی پارٹی کے طور پر، فوری طور پر منعقد ہونے والے انتخابات جیت لیے اور پشپا کمال دھال جن کو پراچنڈ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے کو وزیر اعظم نامزد کیا۔ سی پی این یو ایم ایل نے اس حکومت میں شمولیت اختیار کی لیکن نيپالی کانگریس نے حزب اختلاف میں شمولیت اختیار کر لی۔ یہ واضح تھا کہ ملک کی صورتحال بگڑ گئی اور سیاسی بحران آیا ہی چاہتا تھا۔ پرچنڈ نے جلد ہی اس وقت کے آرمی چیف رکمنگد کتوال کے ساتھ جھگڑے میں الجھ گیا، اور اس کو اپنے عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا۔ لیکن صدر رام باراں یادو نےملک میں فوجی طاقت کی سپریم قیادت ہونے کے حوالے سے یہ فیصلہ منسوخ کردیا فوج کے سربراہ کو اپنے عہدے پراضافی وقت دیا۔ ناراض ہو کر پرچند اور ان کی پارٹی نے وجہ بیان کرتے ہوۓ حکومت کو چھوڑ دیا اور اپنے بعد آنے والی سی پی این یو ایم ایل اور نيپالی کانگریس میں شریک پارٹنر کی سربراہی میں بننے والی حکومت کے لئے حزب اختلاف بننے کا فیصلہ کیا۔ مادھو کمار نیپال کو وزیر اعظم نامزد کیا گیا۔ ماؤ نواز باغی آج بھی فوج پر سویلین حکومت کی بالادستی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اس سے ملک میں بحران پیدا ہوا اور یہ واضع ہو گیا کہ سیاسی رہنما اب بھی طاقت کے لیۓ آپس میں لڑ رہے تھے جس کی وجہ سے کسی بھی قسم کی ترقی میں مزید تاخیر ہو گی۔ ماؤ نواز باغی ملک بھر میں جس کو بند کے طور پر جانا جاتا تھا کو زبردستی نافذ کر رہے ہیں، ملک میں اور بھی ملک میں تقریبا تمام نسلی گروہوں کے لیۓ خود مختار علاقوں کا اعلان کر رہے ہیں ان کے یہ اقدامات ان کی فوج کے سربراہ کو خارج کرنے کا فیصلے کی ناکامی خلاف بدلے کا ایک حصہ ہے۔ سیاسی رہنما اس بحران کو ختم کرنے کے منصوبہ پر بحث کر رہے ہیں، لیکن بات چیت کامیاب نہیں ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی ، اقتصادی بحران ، غربت، عدم تحفظ اور غیر یقینی صورتحال بڑے مسائل ہیں. بہت سے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ان واقعات نے ملک میں انتشار پھیلایا ہے۔ بہت سے لوگ اس بات پر یقین نہیں رکھتے کہ سیاسی جماعتیں ایک آئین لکھنے میں کبھی کامیاب ہوں گی۔
16. 30 جون، 2010 کو وزیر اعظم مادھو کمار نے قوم سے ایک ٹی وی خطاب کے دوران اقتدار میں 13 ماہ کے بعد اپنے استعفی کا اعلان کیا کیونکہ انہیں حزب اختلاف کے ماؤ نواز باغیوں کی طرف سے "اتفاق رائے" سے قومی حکومت کے لئے راستہ ہموار کرنے کے شدید دباؤ کا سامنا تھا۔ ماؤ نواز باغی کئی ماہ سے ان کے استعفی اور اپنی قیادت میں ایک نئی قومی حکومت کی تشکیل کا مطالبہ کر رہے تھے۔ وزیر اعظم نے جانب اشارہ کیا ہے کہ ماؤ نواز باغیوں غصب شدہ چيز واپس کر دیں، اپنی نیم فوجی تنظیم ینگ کمیونسٹ لیگ کو تحلیل کر دیں، اور تین نکاتی معاہدے کے تحت جو انہوں نے 28 مئی کو اہم اتحادی پارٹنرز کے ساتھ کیا تھا اپنے جنگجوؤں کو منظم کرنے پر اتفاق کیا تھا، آئینی اسمبلی کی مدت میں توسیع کرتے ہوۓ۔ کمار نے کہا کہ ماؤ نواز باغی جنگجوؤں کو اگلے تین ماہ کے اندر امن کے عمل کو مکمل کرنے کے لئے معاشرے کا دوبارہ حصہ بننے اور اپنی بحالی کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان تعاون قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے اور کہا کہ امن کا عمل آئین بنانے کا عمل اس کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔ 2008 میں ایک آئینی اسمبلی (سی اے) منتخب ہوئی، جس کو دو سال کا موقع ملا تھا کہ ایک نئے آئین کا مسودہ تیار کرنے کے لئے کے ماؤ باغیوں اور حکومت کے درمیان 10 سالہ سول جنگ کو ختم کرے۔ سی اے وقت پر اپن کام کرنے میں ناکام رہی جس میں ماؤ نواز باغیوں اور ان کے سیاسی مخالفوں کے درمیان شدید اختلافات رکاوٹ بنے رہے۔
17. 3 فروری، 2011 کو جس میں سیاسی بندش کے سات ماہ کے بعد جس میں کوئی بھی اپنے امیدوار کو وزیر اعظم کے طور پر منتخب کرنے کے لئے کافی ووٹ اکٹھے نہیں کر سکا، جھلا ناتھ خنال کو آئینی اسمبلی کی طرف سے وزیر اعظم کے طور پر منتخب کیا گیا۔ خنال کو601 اراکین میں سے 368 کے ووٹ موصول ہوۓ ، جبکہ ان کے قریبی حریفوں، نيپالی کانگریس کے رام چندر پوڈل اور مدہیسی پیپلز رائٹ فورم (ڈیموکریٹک) کے بی جے کمار گچہندر کو 122 ووٹ اور 67 ووٹ حاصل ہوۓ۔ جب سے مادھو کمار نیپال نے جون 2010 میں استعفی دیا، نیپال کو ایک مناسب حکومت نہیں ملی۔ جولائی کے بعد سے لے کر اب تک پارلیمنٹ میں ووٹنگ کے سولہ راؤنڈ ایک نئے وزیر اعظم کو پیدا کرنے کے قابل نہیں ہوۓ کیونکہ کوئی سیاسی جماعت اکثریت حاصل نہیں کر سکی۔ تاہم، 3 فروری 2011 کو نیپال کی (ماؤ نواز) یونیفائیڈ کمیونسٹ پارٹی جو کہ نیپال کی سب سے بڑی پارٹی، اس کے امیدوار پشپا کمال دھال ("پرچنڈ")، نے خنال کی حمائت حاصل کی اس کے نتیجے کے طور پر وہ نیپال کے تیسرے وزیر اعظم بن گئے جب 2008 سے لے کر اس وقت تک نیپال ایک جمہوریہ بنی تھی۔
19. 15 اگست، 2011 کو وزیر اعظم کے طور پر چھ ماہ کی خدمت سر انجام دینے کے بعد، خنال جھلا ناتھ نے ایک نئی اتحادی حکومت اور ایک نئے آئین کے مسودے کی تشکیل کے مقابلے میں بڑھتی ہوئی سیاسی کشمکش کے درمیان استعفی دے دیا. خنال نے اپنے مستعفی ہونے کے بعد رپورٹروں کو بتایا کہ انھوں نے ایک قومی اتفاق رائے کی حکومت کے لئے راہ ہموار کرنے کے لیے ایسا کیا تھا۔ تاہم قومی اتفاق رائے کی حکومت کا قیام عمل میں نہ آ سکا اور سی اے نے نۓ وزیر اعظم کے انتخاب کے لیۓ آئنی اسمبلی کے اراکین کے دوران نۓ انتخابات کا اعلان کیا۔
20. (ماؤ نواز) یو سی پی این کے وائس چیئرمین ڈاکٹر بھٹاری بابو رام نئے وزیر اعظم منتخب ہوۓ، 28 اگست، 2011 کو انہیں 601 سیٹ کے پارلیمنٹ میں 304 ووٹ ملے۔ ان کے واحد حریف، نيپالی کانگریس رام چندر پوڈل کو کل 575 ڈالے گۓ ووٹوں میں سے 235 ووٹ ملے۔ وزیر اعظم نے قومی میڈیا سے بات کرتے ہوۓ چار اہم ترجیحات کا اعادہ کیا۔ پہلی ترجیح ماضی کے معاہدوں کے مطابق امن کے عمل کو مکمل کرنا تھیں۔ دوسری ترجیح آئینی اسمبلی کے ذریعے ایک منظم اور مستقبل پر نظر والے آئین کا مسودہ تیار کی کوشش کرنا تھی۔ تیسری ترجیح غربت ، بے روزگاری، اور بدعنوانی سے نمٹنا ی اور آخری انہوں نے بہتر اسلوب حکمرانی اور اقتصادی اور سماجی تبدیلی کے قیام کا وعدہ کیا۔ ان کی وزارت عظمی کے ساتھ، سی اے کی مدت کو مزید 3 ماہ کی توسیع دی گئی۔
قانون ساوی کی شاخ 2006 سے پہلے 2002- 1991 تک پارلیمنٹ کے دو ایوان (سنسد) تھے۔ ایوان نمائندگان (پرتیندھی سبھا) جس کے 205 اراکین ایک نشت والے حلقے سے پانچ سال کے لیۓ منتخب ہوتے تھے۔ قومی کونسل (راشٹریا سبھا) کے 60 اراکین تھے: 35 کا انتخاب پرتیندھی سبھا کرتی تھی اور 15 نمائندے علاقائی ترقیاتی علاقوں سے آتے تھے اور 10 کو بادشاہ مقرر کرتا تھا۔ 2002 میں بالآخر بادشاہ نے پارلیمنٹ یہ کہتے ہوۓ توڑ دی کہ وہ ماؤ نواز باغیوں سے نمٹنے کے قابل نہیں تھیں۔ عوامی تحریک سے آئینی اسمبلی (سی اے) تک عوامی تحریک کی 2006 کے موسم بہار میں کامیابی کے بعد، ایک ایوان پر مشتمل عبوری مقننہ نے گزشتہ پارلیمنٹ کی جگہلی۔ نئ پارلیمنٹ میں پرانے پارلیمنٹ کے رکن کے ساتھ ساتھ نئے نامزد اراکین بھی شامل تھے۔ دسمبر 2007 تک، مقننہ کی مندرجہ ذیل تشکیل تھی۔ پارٹی نشستں نیپالی گانگرس 133 کمیونسٹ پارٹی آف نیپال 84 نیپال کی کمیونسٹ پارٹی (یونیفائیڈ مارکسیسٹ لیننسٹ) 83 راشتریا پراجنترا پارٹی 9 نیپال سد بھوانا پارٹی (آنند دیو) 5 جنماوچا نیپال 4 نیپال ورکر پیزنٹ پارٹی 4 راشتریا جنا مورچہ 3 یونائٹڈ لیفٹ فرنٹ 2 کمیونسٹ پارٹی آف نیپال (یونیفائیڈ) 2 راشتریا جنا شکتی پارٹی 1
پہلی آئینی اسمبلی کے انتخابات مئی 2008 میں پہلی آئینی اسمبلی کے انتخابات نیپال کی کمیونسٹ پارٹی (ماؤ نواز) کو آئینی اسمبلی میں سب سے بڑی پارٹی بنا دیا جس کو دو سال کی مدت ملی۔
پارٹی نشستں کمیونسٹ پارٹی آف نیپال (ماؤ نواز) 220 نیپالی گانگرس 110 نیپال کی کمیونسٹ پارٹی (یونیفائیڈ مارکسیسٹ لیننسٹ) 13 مدیشی جناادھیکار فورم نیپال 52 تارا- مدھیش لوک تانتریک پارٹی 20 سد بھوانا پارٹی 9 راشتریا پراجاجنترا پارٹی 8 کمیونسٹ پارٹی آف نیپال (مارکسیسٹ لیننسٹ) 8 جنا مورچہ نیپال 7 کمیونسٹ پارٹی آف نیپال (یونائیٹڈ) 5 راشتری پراجنترا پارٹی نیپال 4 راشتریا جنا مورچہ 4 نیپال ورکر پیزنٹ پارٹی 4 راشتریا جنا شکتی پارٹی 3 سنگھیا لوک تانتریکا راشتریا مانچ 2 نیپال سندھ بھون پارٹی (آنند دیوی) 2 راشتریا جنا مکتی پارٹی 2 نیپال جنتا دل 2 کمیونسٹ پارٹی آف نیپال (یونیفائیڈ) 2 دالیت جناجاتی پارٹی 1 نیپا راشتریا پارٹی 1 سماج بادی پراجاتنتریک پارٹی نیپال 1 چوری بہاور راشتریا ایکتا پارٹی، نیپال 1 نیپال لوک تانترک سماج بادی دل 1 نیپال پریوار دل 1 خودمختار 2 دوسرے 26 قانون ساز شاخ عدلیہ، سپریم کورٹ (سربوچا عدالت) اپیلٹ عدالتیں اور مختلف مقدمے کی سماعت کی عدالتوں پر مشتمل ہے۔ آئینی کونسل کی سفارش پر بادشاہ کی طرف سے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس مقرر کیا جاتا تھا، دوسرے ججوں کو جوڈیشل کونسل کی سفارش پر بادشاہ کی طرف سے مقرر کیا جاتا تھا۔ نیپال کی عدلیہ قانونی طور پر انتظامی اور قانون ساز شاخوں سے الگ ہے اوراس نے تیزی سے سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد ہو نے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ عدلیہ کو آئین کے تحت عدالتی نظرثانی کا حق ہے۔ بین الاقوامی تنظیموں کی شراکت اے ڈی بی، سی سی سی، سی پی، ای ایس سی اے پی، ایف اے او، جی-77، آئی بی آر ڈی، آئی سی اے او، آئی سی ایف ٹی یو، آئی سی آر ایم، آئی ڈی اے، آئی ایف اے ڈی، آئی ایف سی، آئی ایف آر سی ایس، آئی ایل او، آغی ایم ایف، انٹیل سیٹ، انٹر پول، آئی او سی، آئی او ایم، آئی ایس او، ائی ٹی یو، ایم او این یم سی، این اے ایم، او پی سی ڈبلیو، سارک، یو این، یو این سی ٹی اے ڈی، یو این ڈی پی، یو نیسکو، یو این آئی ڈی او، یو این ائی ایف آئی ایل، یو این ایم آئی بی ایچ، یو این ایم آئی کے، یو این ایم او پی، یو این ایم او ٹی، یو این ٹی اے ای ٹی، یو پی یو، ڈبلیو ایف ٹی یو، ڈبلیو ایچ او، ڈبلیو ایم او، ڈبلیو ٹی او۔ |
|
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 


















حالیہ ٹویٹز
حالیہ فلکر پر تصویریں
RIDE002
viewed 19 times
حالیہ یو ٹیوب وڈیوز
عيد الأضحى اور حج کے موقع پر مبارک باد
viewed 0 times
فیس بُک پر دوست
33,143+