صفحہ اول | خبریں | نیپال
News Articles & Press Releases
nepal.jpg

نیپال کی سیاسی ترقی 

1996-1990: پارلیمانی شہنشاہیت  

  1. 1. 1990 تک نیپال میں، بادشاہی انتظامی کنٹرول کے تحت ایک شہنشاہیت تھی۔  شہنشاہیت کے خلاف لوگوں کی تحریک کے باعث 1990 میں بادشاہ بیریں در نے حکومت کے سربراہ کے ایک پارلیمانی شہنشاہیت کی تشکیل کے لیۓ بڑے پیمانے پر سیاسی اصلاحات کرنے پر اتفاق کیا جس میں بادشاہ سلطنت کا سربراہ اور وزیر اعظم حکومت کا سربراہ ہو گا۔ 

  1. 2. نیپال مقننہ دو ایوانی تھی، جو ایوان نمائندگان اورقومی کونسل کے ایک ایوان پر مشتمل ہے۔ ایوان نمائندگان کے205 ارکان کا انتخاب لوگ براہ راست کرتے ہیں۔  قومی کونسل کے 60 ارکان ہیں، جن میں سے دس کا انتخاب بادشاہ کرتا ہے، 35 کا انتخاب  ایوان نمائندگان کرتے ہیں اور باقی 15 کا انتخاب انتخابی کالج کی طرف سے کیا جا تا جو کہ دیہات اور شہروں کے نمائندوں پر مشتمل ہوتا ہے۔  مقننہ کی مدت پانچ سال تھی، لیکن بادشاہ کی طرف سےاس کو اپنی مدت سے پہلے ہی تحلیل کر دیا گیا۔ ان اصلاحات کے تحت  18 سال اور اس سے بڑی عمر کے تمام نیپالی شہری ووٹ دینے کے اہل بن گئے۔  

  1. 3. ایگزیکٹو دفتر بادشاہ اور وزراء کی کونسل (کابینہ)  پر مشتمل تھا۔ اتحاد یا اس جماعت کے رہنما جس نے انتخابات میں زیادہ نشستیں حاصل کیں ہوں کو وزیر اعظم کے طور پر مقرر کیا گیا تھا۔ کابینہ کو وزیر اعظم کی سفارش پر بادشاہ کی طرف سے مقرر کیا گیا تھا۔ 

  1. 4. نیپال میں حکومت انتہائی غیر مستحکم رہتی ہے، 1991 کے بعد سے کوئی بھی حکومت دو سال سے زیادہ کے لئے نہیں چل سکی، یا تو اندرونی توڑ پھوڑ کے نتیجے میں یا بادشاہ کی طرف سے پارلیمانی تحلیل کے ذریعے۔ 

  1. 5. 1991 میں نیپال میں پہلے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات میں نيپالی کانگریس کو فتح حاصل ہوئی۔ 

  1. 1994 کے انتخابات میں نیپالی کانگریس پارٹی کی  نیپال کی کمیونسٹ پارٹی (متحدہ مارکسیسٹ لیننسٹ) (سی پی این (یو ایم ایل)) کے ہاتھوں انتخابی شکست کی وجہ سے نیپال ایشیا میں پہلی کمیونسٹ قیادت میں شہنشاہیت والی ریاست بن گیا جس کے وزیر اعظم موہن ادھیکرے تھے۔  1994 ء کے وسط میں نیپالی کانگریس پارٹی کے اندرونی اختلاف کی وجہ سے پارلیمنٹ کو تحلیل کر دیا گیا تھا۔  اس کے نتیجے میں ہونے والے عام انتخابات 15 نومبر، 1994 کو منعقد ہوۓ، کوئی بھی پارٹی اکثریت حاصل نہ کر سکی جس کی وجہ سےکئی سال تک غیر مستحکم اتحادی حکومتیں آتی رہیں۔  مئی 1999 کے عام انتخابات میں، نیپالی کانگریس پارٹی نے ایک بار پھر اکثریت حاصل کی اور حکومت بنائی۔  1999 کے انتخابات کے بعد سے نیپالی کانگریس پارٹی کے تین وزراء اعظم آۓ ہیں: بھٹارے (31 مئی، 1999 سے 17 مارچ، 2000 تک)، گریجا پرساد کوارالا (20 مارچ، 2000 سے 19 جولائی 2001) اور شیر بہادر دیابا (23 جولائی سے 2001-2003 تک) - نشستوں کی آخری تقسیم نے نیپالی کانگرس کو 113، سی پی این (یو ایم ایل) 69؛ آر پی پی 11، آو جے ایم  5، این ایس پی 5، کارکنوں اور کسانوں پارٹی 1 اور یونائیٹڈ پیپلز فرنٹ کو 1 نشست ملی۔ نیپالی کانگریس پارٹی دو حصوں میں تقسیم ہے ایک نیپالی کانگریس پارٹی جی پی کوارالا کی قیادت میں اور ایک نیپالی کانگریس (ڈیموکریٹک) شیر بہادر دیابا کی قیادت میں۔ منتخب شدہ پارلیمنٹ کے اراکین میں سے 39 کا تعلق نيپالی (ڈیموکریٹک) کانگریس سے ہے۔ سابقہ وزیراعظم اور با اثر کرشنا پرساد بھٹارے نے نيپالی (ڈیموکریٹک) کانگریس کی حمائت کی ہے۔ دونوں کانگریس جماعتیں کرشنا پرساد بھٹارے کو اپنا اہم قائد تصور کرتی ہیں۔

 

1996: ماؤوسٹ کی بغاوت

  1. فروری 1996 میں، نیپال کی کمیونسٹ پارٹی (ماؤ نواز) نے ملک کے 75 اضلاع کے 50 سے زائد میں ایک متشدد شورش کا آغاز کیا۔  1996 سے لے کر 13،000 پولیس، عام شہری، اور باغی اس جنگ میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ جولائی 2001 میں، وزیر اعظم دیابا نے جنگ بندی کا اعلان کیا جس میں ماؤ نواز باغیوں نے حکومت سے بات چیت کے ذریعے تنازعات کے حل کو تلاش کرنے کی کوشش کے ایک حصے کے طور پر اس جنگ بندی پر عمل کرنے کے وعدہ کا اعلان کیا ہے۔ اگرچہ ماؤنوازوں کی دھمکیوں اور فروتی وصولیوں کا سلسلہ جاری رہا، جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے قتل بڑی حد تک کم ہو گۓ۔  حکومت اور ماؤنواز باغیوں نے اگست اور ستمبر 2001 میں بات چیت کی۔

 

  1. سیاسی جماعتوں نے 1991 میں اس بات پر اتفاق کیا کہ ثقافتی متنوع نيپالی لوگوں کے لئے قومی شناخت کی ایک اہم علامت کے طور پر اور سیاسی استحکام کو بڑھانے کے لئے شہنشاہیت کو قائم رکھا جاۓ گا۔  بادشاہ کو محدود طاقتیں دی گئیں جن میں وزراء کی کونسل اور وزیر اعظم کے مشورے اور رضامندی سے جنگ یا مسلح بغاوت کی صورت میں ہنگامی حالت کا اعلان شامل ہے۔ آئین کے مطابق، بادشاہ کے ہنگامی حالت کے اعلان کو پارلیمنٹ کے ایوان زیریں کے میں دو تہائی اکثریت کی طرف سے منظور ہونا ضروری ہے۔

 

2001: شاہی قتل عام

 

  1. 1 جون، 2001 کو اس بات کا باظابطہ طور پر اعلان کیا گیا کہ شہزادہ دیپیں در نے اپنے والد بادشاہ بریندر، ماں، ملکہ ایشوریا، اپنے بھائی، اپنی بہن، اپنے والد کے چھوٹے بھائی شہزادہ دریندر، بہت سی چاچیوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا اور پھر خود کو بھی گولی مار لی۔ اگرچہ شہزادہ دپندر کومرنے سے پہلے کبھی ہوش نہ آیا مگر پھر بھی نیپالی شاہی جانشینی کے قانون کے تحت بادشاہ تھا۔ اس کی موت کے دو دن بعد بادشاہ  کے بچ جانے والے بھائی گیانندر کو بادشاہ بنایا گیا۔

 

2007 -2005: پالیمنٹ اور عوامی تحریک کی معطلی

10.  یکم  فروری، 2005 کوبادشاہ گیانندرنے پارلیمنٹ کو معطل کر دیا، اپنی قیادت میں حکومت مقرر کردی اور ملک بھر میں ہنگامی صورتحال کا اعلان کر دیا۔ بادشاہ کا کہنا تھا کہ سول سیاستدان ماؤ نواز شورش کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں تھے۔ حزب اختلاف کے رہنما بھارت چلے گئے اور وہاں دوبارہ اکٹھے ہوۓ۔ شاہی قبضے کی مخالفت میں ایک وسیع اتحاد جس کا نام سات پارٹی الائنس (ایس پی اے) قائم کیا گیا تھا جس میں سات پارلیمانی پارٹیاں شامل تھیں۔

 

11.  22 نومبر، 2005 کو پارلیمانی جماعتوں کی سات پارٹی  الائنس (ایس پی اے) اور کمیونسٹ پارٹی آف نیپال (ماؤ نواز) نے امن اور جمہوریت کے لئے ایک مفاہمت کی تاریخی اور ریکارڈ 12 نکاتی یادداشت (معاہدہ شتھاپن) پر اتفاق کیا۔  اس 12 نکاتی یاداشت نے ایک احتجاجی تحریک کو جنم دیا اور اس کو لوک تانترا کا نام دیا گیا اور اس کا آغاز اپریل 2006 میں ہوا۔ تمام سیاسی قوتوں جن میں سول سوسائٹی اور پیشہ ورانہ تنظیمیں شامل تھیں نے فعال طور پر لوگوں کو اس میں شامل کیا۔ اس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر اور بغیر منصوبے کے مظاہروں اور ریلیوں کا سلسلہ تمام نیپال بھر میں بادشاہ گیانندر حکومت کے خلاف شروع ہوا۔

 

12.  لوگوں کی شرکت اتنی بڑی، اہم اور وسیع تھی کہ 21 اپریل، 2006 کو، بادشاہ گیانندر نے اعلان کیا کہ "اقتدار لوگوں کو واپس کیا جائے گا۔"  اس کا لوگوں پر کوئی اثر نہ ہوا اور انھوں نے کھلے عام دن کے وقت کرفیو کی پرواہ نہ کرتے ہوۓ کھٹمنڈو کی سڑکوں اور دیگر شہروں پر قبضہ کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ بادشاہ گیانندر نے 24 اپریل، 2006 کی آدھی رات کو ایوان نمائندگان کی بحالی کا اعلان کیا اور یہ ایس پی اے کے اہم مطالبات میں سے ایک تھا۔ اس عمل کے فورا" بعد سیاسی قوتوں کے اتحاد نے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔

 

13.  19 مئی، 2006 کو پارلیمنٹ نے کل قانون سازی کا اختیار سنبھالا اور انتظامی طاقت حکومت نیپال (جو پہلے اس ہز ہائی نس کی حکومت کہا جاتا تھا) کو دی گئی۔  کئی اداروں (جس میں فوج بھی شامل ہے) کے نام "شاہی" کی اضافت ہٹا لی گئی اور راج کونسل (بادشاہ کے مشیروں کی کونسل) کو ختم کر دیا گیا۔  بادشاہ کی سرگرمیاں پارلیمانی جانچ پڑتال کا موضوع بن گیا اور بادشاہ کی جائیداد پر ٹیکس لگا دیا گیا۔  اس کے علاوہ، نیپال کو ایک لادینی ریاست قرار دے دیا گیا اپنی سابقہ ​​ہندو بادشاہت کی حیثیت سے دور ہٹتے ہوۓ۔  تاہم، زیادہ تر تبدیلیوں پر ابھی تک عملدرآمد نہیں کیا گیا۔  19 جولائی، 2006 کو وزیر اعظم جی پی کوارالا نے نیپالی حکومت کی طرف سے اقوام متحدہ کو ایک خط بھیجا اور اس نیت کا اعلان کیا کہ نیپالی حکومت اپریل 2007 میں ایک آئینی اسمبلی کے لیے انتخابات کا انعقاد کرواۓ گی۔

 

دسمبر 2007 سے مئی 2008: شہنشاہیت کا خاتمہ  

 

14.  23 دسمبر، 2007ء کو نیپال نے ایک معاہدے کے تحت شہنشاہیت کا خاتمہ کر دیا  اور ملک  ایک وفاقی جمہوریہ بن گیا جس کا سربراہ وزیر اعظم تھا۔ سیاسی پنڈت کو جھٹلاتے ہوۓ، جنہوں نے اس کی اپریل 2008 کے انتخابات میں شکست کی پیش گوئی کی تھی، کمیونسٹ پارٹی نیپال (ماؤ نواز) ہر طرف سے خوف اور دھمکیوں کےایک عام ماحول میں  سب سے بڑی پارٹی بن گیا۔  مئی 2008 میں نیپال ایک وفاقی جمہوریہ میں تبدیل ہوگيا، جس سے نیپال میں شاہی حکمرانی کے 240 سال ختم ہو گۓ اور 601 کی نشستوں کی آئینی اسمبلی میں سے صرف چار ارکان نے تبدیلی کے خلاف ووٹ دیا۔

 

موجودہ (2008 اور جاری)

15.  بہت سی اہم کمیونسٹ پارٹیوں جیسا کہ نیپال کی یونیفائیڈ کمیونسٹ پارٹی (ماؤ نواز)، نیپال کی کمیونسٹ پارٹی (یونیفائیڈ مارکسیسٹ- لننسٹ) اور نيپالی کانگریس نے ایک آئین لکھنے پر اتفاق کیا جو کہ دو سال کے اندر اندر عبوری کی جگہ لے لے گا۔  تاہم سیاسی جماعتوں کی نا اتفاقی اور  "خود غرض" رویے نے امن کے عمل کو پٹری سے اتار دیا۔  ملک کی سب سے بڑی پارٹی کے طور پر ماؤ نواز باغیوں کی  پارٹی، نے`` ملک کی سب سے بڑی پارٹی کے طور پر، فوری طور پر منعقد ہونے والے انتخابات جیت لیے اور پشپا کمال دھال جن کو پراچنڈ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے کو وزیر اعظم نامزد کیا۔ سی پی این یو ایم ایل نے اس حکومت میں شمولیت اختیار کی لیکن نيپالی کانگریس نے حزب اختلاف میں شمولیت اختیار کر لی۔ یہ واضح تھا کہ ملک کی صورتحال بگڑ گئی اور سیاسی بحران آیا ہی چاہتا تھا۔ پرچنڈ نے جلد ہی اس وقت کے آرمی چیف رکمنگد کتوال کے ساتھ جھگڑے میں الجھ گیا، اور اس کو اپنے عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا۔  لیکن صدر رام باراں یادو نےملک میں فوجی طاقت کی سپریم قیادت ہونے کے حوالے سے یہ فیصلہ منسوخ کردیا فوج کے سربراہ کو اپنے عہدے پراضافی وقت دیا۔ ناراض ہو کر    پرچند اور ان کی پارٹی نے وجہ بیان کرتے ہوۓ حکومت کو چھوڑ دیا اور اپنے بعد آنے والی سی پی این یو ایم ایل اور نيپالی کانگریس میں شریک پارٹنر کی سربراہی میں بننے والی حکومت کے لئے حزب اختلاف بننے کا فیصلہ کیا۔ مادھو کمار نیپال کو وزیر اعظم نامزد کیا گیا۔ ماؤ نواز باغی آج بھی فوج پر سویلین حکومت کی بالادستی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اس سے ملک میں بحران پیدا ہوا اور یہ واضع ہو گیا کہ سیاسی رہنما اب بھی طاقت کے لیۓ آپس میں لڑ رہے تھے جس کی وجہ سے کسی بھی قسم کی ترقی میں مزید تاخیر ہو گی۔ ماؤ نواز باغی ملک بھر میں جس کو بند کے طور پر جانا جاتا تھا کو زبردستی نافذ کر رہے ہیں، ملک میں اور بھی ملک میں تقریبا تمام نسلی گروہوں کے لیۓ خود مختار علاقوں کا اعلان کر رہے ہیں ان کے یہ اقدامات ان کی فوج کے سربراہ کو خارج کرنے کا فیصلے کی ناکامی خلاف بدلے کا ایک حصہ ہے۔ سیاسی رہنما اس بحران کو ختم کرنے کے منصوبہ پر بحث کر رہے ہیں، لیکن بات چیت کامیاب نہیں ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی ، اقتصادی بحران ، غربت، عدم تحفظ اور غیر یقینی صورتحال بڑے مسائل ہیں. بہت سے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ان واقعات نے ملک میں انتشار پھیلایا ہے۔ بہت سے لوگ اس بات پر یقین نہیں رکھتے کہ سیاسی جماعتیں ایک آئین لکھنے میں کبھی کامیاب ہوں گی۔

 

16.   30 جون، 2010 کو وزیر اعظم مادھو کمار نے قوم سے ایک ٹی وی خطاب کے دوران اقتدار میں 13 ماہ کے بعد اپنے استعفی کا اعلان کیا کیونکہ انہیں حزب اختلاف کے ماؤ نواز باغیوں کی طرف سے "اتفاق رائے" سے قومی حکومت کے لئے راستہ  ہموار کرنے کے شدید دباؤ کا سامنا تھا۔  ماؤ نواز باغی کئی ماہ سے ان کے استعفی اور اپنی قیادت میں ایک نئی قومی حکومت کی تشکیل کا مطالبہ کر رہے تھے۔  وزیر اعظم نے جانب اشارہ کیا ہے کہ ماؤ نواز باغیوں غصب شدہ چيز واپس کر دیں، اپنی نیم فوجی تنظیم ینگ کمیونسٹ لیگ کو تحلیل کر دیں، اور تین نکاتی معاہدے کے تحت جو انہوں نے 28 مئی کو اہم اتحادی پارٹنرز کے ساتھ کیا تھا اپنے جنگجوؤں کو منظم کرنے پر اتفاق کیا تھا، آئینی اسمبلی کی مدت میں توسیع کرتے ہوۓ۔  کمار نے کہا کہ ماؤ نواز باغی جنگجوؤں کو اگلے تین ماہ کے اندر امن کے عمل کو مکمل کرنے کے لئے معاشرے کا دوبارہ حصہ بننے اور اپنی بحالی کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان تعاون قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے اور کہا کہ امن کا عمل آئین بنانے کا عمل اس کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔   2008 میں ایک آئینی اسمبلی (سی اے) منتخب ہوئی، جس کو دو سال کا موقع ملا تھا کہ ایک نئے آئین کا مسودہ تیار کرنے کے لئے کے ماؤ باغیوں اور حکومت کے درمیان 10 سالہ سول جنگ کو ختم کرے۔  سی اے وقت پر اپن کام کرنے میں ناکام رہی جس میں ماؤ نواز باغیوں اور ان کے سیاسی مخالفوں کے درمیان شدید اختلافات رکاوٹ بنے رہے۔

 

17.  3 فروری، 2011 کو جس میں سیاسی بندش کے سات ماہ کے بعد جس میں کوئی بھی اپنے امیدوار کو وزیر اعظم کے طور پر منتخب کرنے کے لئے کافی ووٹ اکٹھے نہیں کر سکا، جھلا ناتھ خنال کو آئینی اسمبلی کی طرف سے وزیر اعظم کے طور پر منتخب کیا گیا۔  خنال کو601 اراکین میں سے 368 کے ووٹ موصول ہوۓ ، جبکہ ان کے قریبی حریفوں، نيپالی کانگریس کے رام چندر پوڈل اور مدہیسی پیپلز رائٹ فورم (ڈیموکریٹک) کے بی جے کمار گچہندر کو 122 ووٹ اور 67 ووٹ حاصل ہوۓ۔ جب سے مادھو کمار نیپال نے جون 2010 میں استعفی دیا،  نیپال کو ایک مناسب حکومت نہیں ملی۔ جولائی کے بعد سے لے کر اب تک پارلیمنٹ میں ووٹنگ کے سولہ راؤنڈ ایک نئے وزیر اعظم کو پیدا کرنے کے قابل نہیں ہوۓ کیونکہ کوئی سیاسی جماعت اکثریت حاصل نہیں کر سکی۔  تاہم، 3 فروری 2011 کو نیپال کی (ماؤ نواز) یونیفائیڈ کمیونسٹ پارٹی جو کہ نیپال کی سب سے بڑی پارٹی، اس کے امیدوار پشپا کمال دھال ("پرچنڈ")، نے خنال کی حمائت حاصل کی اس کے نتیجے کے طور پر وہ نیپال کے تیسرے وزیر اعظم بن گئے جب 2008 سے لے کر اس وقت تک نیپال ایک جمہوریہ بنی تھی۔

 

  1. وزیر اعظم کے طور پر خنال کے فوری ذمہ داریوں میں سے ایک نئی جمہوری آئین کی تیاری کے لیۓ مئی 28  کی ڈیڈ لائن اور 20،000 کے قریب ماؤ نواز جنگجوؤں کے مستقبل کے بارے میں مذاکرات شامل تھے۔

 

19.  15 اگست، 2011 کو وزیر اعظم کے طور پر چھ ماہ کی خدمت سر انجام دینے کے بعد، خنال جھلا ناتھ نے ایک نئی اتحادی حکومت اور ایک نئے آئین کے مسودے کی تشکیل کے مقابلے میں بڑھتی ہوئی سیاسی کشمکش کے درمیان استعفی دے دیا. خنال نے اپنے مستعفی ہونے کے بعد رپورٹروں کو بتایا کہ انھوں نے ایک قومی اتفاق رائے کی حکومت کے لئے راہ ہموار کرنے کے لیے ایسا کیا تھا۔ تاہم قومی اتفاق رائے کی حکومت کا قیام عمل میں نہ آ سکا اور سی اے نے نۓ وزیر اعظم کے انتخاب کے لیۓ آئنی اسمبلی کے اراکین کے دوران نۓ انتخابات کا اعلان کیا۔

 

20.  (ماؤ نواز) یو سی پی این  کے وائس چیئرمین ڈاکٹر بھٹاری بابو رام نئے وزیر اعظم منتخب ہوۓ، 28 اگست، 2011 کو انہیں ​​601 سیٹ کے پارلیمنٹ میں 304 ووٹ ملے۔ ان کے واحد حریف، نيپالی کانگریس رام چندر پوڈل کو کل 575 ڈالے گۓ ووٹوں میں سے 235 ووٹ ملے۔ وزیر اعظم نے قومی میڈیا سے بات کرتے ہوۓ چار اہم ترجیحات کا اعادہ کیا۔  پہلی ترجیح ماضی کے معاہدوں کے مطابق امن کے عمل کو مکمل کرنا تھیں۔ دوسری ترجیح آئینی اسمبلی کے ذریعے ایک منظم اور مستقبل پر نظر والے آئین کا مسودہ تیار کی کوشش کرنا تھی۔  تیسری ترجیح غربت ، بے روزگاری، اور بدعنوانی سے نمٹنا ی اور آخری انہوں نے بہتر اسلوب حکمرانی اور اقتصادی اور سماجی تبدیلی کے قیام کا وعدہ کیا۔ ان کی وزارت عظمی کے ساتھ، سی اے کی مدت کو مزید 3 ماہ کی توسیع دی گئی۔

 

قانون ساوی کی شاخ

2006 سے پہلے

2002- 1991 تک پارلیمنٹ کے دو ایوان (سنسد) تھے۔ ایوان نمائندگان (پرتیندھی سبھا) جس کے 205 اراکین ایک نشت والے حلقے سے پانچ سال کے لیۓ منتخب ہوتے تھے۔ قومی کونسل (راشٹریا سبھا) کے 60 اراکین تھے: 35 کا انتخاب پرتیندھی سبھا کرتی تھی اور 15 نمائندے علاقائی ترقیاتی علاقوں سے آتے تھے اور 10 کو بادشاہ مقرر کرتا تھا۔ 2002 میں بالآخر بادشاہ نے پارلیمنٹ یہ کہتے ہوۓ توڑ دی کہ وہ ماؤ نواز باغیوں سے نمٹنے کے قابل نہیں تھیں۔

عوامی تحریک سے آئینی اسمبلی (سی اے) تک

عوامی تحریک کی 2006 کے موسم بہار میں کامیابی کے بعد، ایک ایوان پر مشتمل عبوری مقننہ نے گزشتہ پارلیمنٹ کی جگہلی۔  نئ پارلیمنٹ میں پرانے پارلیمنٹ کے رکن کے ساتھ ساتھ نئے نامزد اراکین بھی شامل تھے۔  دسمبر 2007 تک، مقننہ کی مندرجہ ذیل تشکیل تھی۔


پارٹی                                                                             نشستں

نیپالی گانگرس                                                                 133

کمیونسٹ پارٹی آف نیپال                                                    84

نیپال کی کمیونسٹ پارٹی (یونیفائیڈ مارکسیسٹ لیننسٹ)              83

راشتریا پراجنترا پارٹی                                                      9

نیپال سد بھوانا پارٹی (آنند دیو)                                             5

جنماوچا نیپال                                                                  4

نیپال ورکر پیزنٹ پارٹی                                                     4

راشتریا جنا مورچہ                                                           3

یونائٹڈ لیفٹ فرنٹ                                                              2

کمیونسٹ پارٹی آف نیپال (یونیفائیڈ)                                       2

راشتریا جنا شکتی پارٹی                                                    1

 

پہلی آئینی اسمبلی کے انتخابات 

مئی 2008 میں پہلی آئینی اسمبلی کے انتخابات نیپال کی کمیونسٹ پارٹی (ماؤ نواز) کو آئینی اسمبلی میں سب سے بڑی پارٹی بنا دیا جس کو دو سال کی مدت ملی۔


پارٹی                                                                             نشستں

کمیونسٹ پارٹی آف نیپال (ماؤ نواز)                                      220

نیپالی گانگرس                                                                 110

نیپال کی کمیونسٹ پارٹی (یونیفائیڈ مارکسیسٹ لیننسٹ)              13

مدیشی جناادھیکار فورم نیپال                                               52

تارا- مدھیش لوک تانتریک  پارٹی                                         20

سد بھوانا پارٹی                                                                9

راشتریا پراجاجنترا پارٹی                                                   8

کمیونسٹ پارٹی آف نیپال (مارکسیسٹ لیننسٹ)                         8

جنا مورچہ نیپال                                                               7

کمیونسٹ پارٹی آف نیپال (یونائیٹڈ)                                        5

راشتری پراجنترا پارٹی نیپال                                               4

راشتریا جنا مورچہ                                                           4

نیپال ورکر پیزنٹ پارٹی                                                     4

راشتریا جنا شکتی پارٹی                                                    3

سنگھیا لوک تانتریکا راشتریا مانچ                                        2

نیپال سندھ بھون پارٹی (آنند دیوی)                                        2

راشتریا جنا مکتی پارٹی                                                     2

نیپال جنتا دل                                                                    2

کمیونسٹ پارٹی آف نیپال (یونیفائیڈ)                                       2

دالیت جناجاتی پارٹی                                                          1

نیپا راشتریا پارٹی                                                             1

سماج بادی پراجاتنتریک پارٹی نیپال                                     1

چوری بہاور راشتریا ایکتا پارٹی، نیپال                                 1

نیپال لوک تانترک سماج بادی دل                              1

نیپال پریوار دل                                                    1

خودمختار                                                           2

دوسرے                                                              26

قانون ساز شاخ

عدلیہ، سپریم کورٹ (سربوچا عدالت) اپیلٹ عدالتیں اور مختلف مقدمے کی سماعت کی عدالتوں پر مشتمل ہے۔ آئینی کونسل کی سفارش پر بادشاہ کی طرف سے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس مقرر کیا جاتا تھا، دوسرے ججوں کو جوڈیشل کونسل کی سفارش پر بادشاہ کی طرف سے مقرر کیا جاتا تھا۔

نیپال کی عدلیہ قانونی طور پر انتظامی اور قانون ساز شاخوں سے الگ ہے اوراس نے تیزی سے سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد ہو نے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ عدلیہ کو آئین کے تحت عدالتی نظرثانی کا حق ہے۔

بین الاقوامی تنظیموں کی شراکت

اے ڈی بی، سی سی سی، سی پی، ای ایس سی اے پی، ایف اے او، جی-77، آئی بی آر ڈی، آئی سی اے او، آئی سی ایف ٹی یو، آئی سی آر ایم، آئی ڈی اے، آئی ایف اے ڈی، آئی ایف سی، آئی ایف آر سی ایس، آئی ایل او، آغی ایم ایف، انٹیل سیٹ، انٹر پول، آئی او سی، آئی او ایم، آئی ایس او، ائی ٹی یو، ایم او این یم سی، این اے ایم، او پی سی ڈبلیو، سارک، یو این، یو این سی ٹی اے ڈی، یو این ڈی پی، یو نیسکو، یو این آئی ڈی او، یو این ائی ایف آئی ایل، یو این ایم آئی بی ایچ، یو این ایم آئی کے، یو این ایم او پی، یو این ایم او ٹی، یو این ٹی اے ای ٹی، یو پی یو، ڈبلیو ایف ٹی یو، ڈبلیو ایچ او، ڈبلیو ایم او، ڈبلیو ٹی او۔

title Filter     عدد دکھائیے 
عدد Item Title
 

Media Gallery

ویڈیو، بصری
تصویریں

جنگی کیمرہ -->

مرکزی کمان کی تصویریں -->

no press releases available at this time
No audio available at this time.
Content Bottom

@CentcomNews //Social Media//

حالیہ ٹویٹز
حالیہ فلکر پر تصویریں
RIDE002

RIDE002
viewed 19 times

فیس بُک پر دوست
33,143+