صفحہ اول | مرکزی کمان کے متعلق | اے او آر ممالک | افغانستان
افغانستان
imgMapAfghanistan.gif

امریکی مرکزی کمان کے سربراہ اور فوج کے کمانڈر جنرل ڈیوڈ ایچ پیٹرس کا سینیٹ مسلح سروسز کمیٹی کے سامنے پاک افغان سٹریٹجک جائزے اور امریکی مرکزی کمان کی صورتحال کے حوالے سے بیان

 16 مارچ 2010 

جیسا کہ صدراوباما نے اپنی نئی پالیسی کے اعلان کے موقع پر کہا تھا کہ یہ ہمارے اہم قومی مفاد میں ہے کہ افغانستان میں مزید تیس ہزار اضافی فوجی بھیجے جائیں اور جیسا کہ ان کاخیال تھا کہ یہ دستےایسے وسائل فراہم کریں گے جن کی افغانستان کی تعمیر کی استعدادکار میں اضافے کیلئے ابتدائی اقدامات کے طور پر ہمیں اشد ضرورت پڑے گی اور جو ہمیں افغانستان سے باہر ہماری فوج کی ذمہ دارانہ  تبدیلی کیلئے مدد دے سکتے ہیں۔ افغانستان میں چیلنجز واضح طور پر قابل غور ہیں لیکن وہاں کامیابی کے امکانات بھی موجود ہیں جیسا کہ جنرل میکرسٹل کا مشاہدہ ہے کہ دونوں چیزیں اہم اور قابل حصول ہیں، افغانستان اور اس خطے میں ہماری منزل مقصود انتہائی واضح ہے، ہمارے مقاصد میں القاعدہ اور اس کے شدت پسند اتحادیوں کو منتشر کرنا، تارتارکرنا اور اسے شکست سے دوچار کرنا ہے اور ایسے حالات پیدا کرنے ہیں جن سے قومی سطح پرشدت پسندوں کے ٹھکانوں کو پھرسے قائم ہونے سے روکا جا سکے۔ اس فریضے کی تکمیل کیلئے ہم ایساف بین الاقوامی سیکورٹی فورسز اور افغان پارٹنرز کے ساتھ مل جُل کرکام کر رہے ہیں تاکہ افغان شہریوں کو طالبان اور دیگر جنگجوعناصرسے تحفظ  فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی سیکورٹی کو بہتر بنایا جاسکے، اس کے ساتھ ساتھ افغان سیکورٹی فورسز کو بہتر کیا جا سکے اور افغان عوام کی نظروں میں جائزحکومت کی حیثیت سے مقام رکھنے والی افغان حکومت کے قیام میں بھرپور حمایت جاری رکھی جا سکے۔

گزشتہ کئی سال افغانستان میں ہم نے مندرجہ زیل مقاصد کے نتائج کے لیے جدوجہد کرتے ہوئے گزارے:

  • ایک جامع سول ملٹری مہم جاری رکھنے کیلئے بنیادی ڈھانچوں اور تنظیموں کا قیام
  • ان تنظیمی اداروں کا انتظام سنبھالنے کیلئے اپنی بہترین قیادت کی تعیناتی
  • اپنے آپریشنزمیں رہنمائی کیلئے مثبت تصورات کا فروغ، ایک جامع مہم کا منصوبہ، ایساف کی انسداد دہشتگردی رہنمائی اورجنرل میکرسٹل کی جانب سے ماہرا نہ جوڑتوڑ کے ہدایت ناموں کا اجراء
  • حکام کو ایسے وسائل کی فراہمی اور تعیناتی جو کہ متفقہ جدوجہد کے حصول اور تیار کئے گئے تصورات کے نفاذ  کیلئے ضروری ہیں۔ ان وسائل میں فوجی دستوں کی 2009 میں اضافی تیس ہزار امریکی فوجی دستوں کی تعیناتی، مزید نوہزاراضافی فوجی ساتھی اقوام سے لئے جانے، اضافی شہری ماہرین کا انتظام، آپریشنزکو قابل عمل بنانے کیلئے فنڈزکا بندوبست، اگلے ڈیڑھ سالوں میں افغان سیکورٹی فورسز کے ایک لاکھ اضافی کارکنوں  کو ہتھیاروں اور تربیت کی فراہمی شامل ہیں۔ میں یہاں اس بات کا ضرور ذکر کرنا چاہوں گا کہ اضافی فوجی دستوں اور ان سے متعلقہ سازوسامان کی فراہمی کا سلسلسہ آپ کی مسلسل حمایت کے بغیر بالعموم ممکن نہیں  جبکہ ہماری فوجی مہمات کے تعمیری پروگرام  کی توسیع  کیلئے آپ کی خصوصی حمایت درکار ہے۔

ان اقدامات  کے وسیع تر تناظرمیں ہم لوگ ابتدائی نتائج کو دیکھنے کی شروعات کرنے والے ہیں، حقیقت میں افغان صوبے ہلمند کے وسط میں حالیہ کاروائی اس قسم کے اقدامات کی پہلی کڑی ہے۔ شہری فوجی مہم کی منصوبہ بندی  ایساف اور اس کے شہری ساتھی ادارے، افغان شہری اور سیکورٹی فورسز کے رہنماؤں کی مدد سے  تیار کی گئی ہے۔

مرکزی حیثیت کی پالیسی افغانستان کی ترقی کو افغان سیکورٹی فورسز کو پروان چڑھائے گی، یہ ایک ایسی کوشش ہے جو کہ آپ کی جانب سے افغان سیکورٹی فنڈز کی مسلسل فراہمی کی صورت میں ہی ممکن بنائی جاسکتی ہے۔ افغان سیکورٹی فورسزکی توسیع کا کام افغانستان اور عالمی برادری کے اس  فیصلے کے مطابق جاری ہے کہ  اب سے سن دوہزار گیارہ تک مزید ایک لاکھ افغان سیکورٹی فورسز کے اضافی جوانوں کو زیادہ سے زیادہ اختیارات تفویض کیے جائیں۔ ان تمام کوششوں کو حال ہی میں ایل ٹی جی بل کالڈول LTG Bill Caldwell کی قیادت میں قائم کئے جانے والے نیٹو کے تربیتی مشن افغانستان کی جانب سے قابل غورحد تک سہولیات میسررہی ہیں، ایساف کے رکن ممالک بھی اضافی تربیت کار، معلم، دیگرساتھی عناصر اورمنتقلی ٹیموں کو مناسب تربیت، بھرپورشراکت اور بھرتیوں کے عمل کو جاری رکھنے کیلئے سخت جدوجہد میں مصروف ہیں جو کہ اس اہم دورمیں آگے بڑھنے کیلئے انتہائی ضروری ہے۔

شہری فوجی مہم جو کہ ہم نے افغانستان میں شروع کی ہے آنے والے اٹھارہ ماہ میں مزید وسعت اختیارکرے گی اورجیسا کہ ہمارا اکثر یہی مشاہدے رہا ہے کہ کوئی بھی چیز آسان ہونے سے پہلے شروع شروع میں کافی مشکل ہوتی  ہے۔ جیسے کہ ہم لوگ افغان شہریوں کی سیکورٹی میں وسعت اور اہم علاقوں سے طالبان کا قبضہ واپس لینے والے اقدامات کی تلاش میں ہیں، دُشمن یقینی طور پر جوابی لڑائی لڑے گا۔ مزید یہ کہ جیسا کہ عراق میں جنگ کے چھ ماہ کے دوران ہمیں دیکھنے کوملا تھا ہمیں اس دوران تشدد کے واقعات میں ڈرامائی حد تک کمی کی کوئی امید نہیں ،کچھ حصوں میں افغانستان میں موجودہ تشدد کی لہربالکل ویسی ہی ہے جیسے عراق میں فرقہ ورانہ فسادات عروج پر تھے، اگرچہ تشدد کے وہ واقعات واضح طور پرایک ایسی سطح پر تھے جو شعبوں میں بڑی مشکل سے بہتری لاتے تھے۔ کسی بھی واقعے کے لحاظ سے سن دوہزار دس ایک مشکل سال ہو گا، ایک ایسا سال جس میں کئی اہم علاقوں میں بہتری اور طالبان کے تسلط کے خاتمے کے سلسلے میں پیش رفت دکھائی دے گی لیکن یہ ایک ایسا سال بھی ہو گا جس میں سخت لڑائی اورموسمی یا دوری پسپائی کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

title Filter     عدد دکھائیے 
عدد Item Title
 

Media Gallery

ویڈیو، بصری
تصویریں

جنگی کیمرہ -->

مرکزی کمان کی تصویریں -->

no press releases available at this time
No audio available at this time.
Content Bottom

@CentcomNews //Social Media//

حالیہ ٹویٹز
حالیہ فلکر پر تصویریں
RIDE002

RIDE002
viewed 19 times

فیس بُک پر دوست
33,142+