| کمانڈر امریکہ کا مرکزی کمان، امریکی میرین کور جنرل جیمس میٹِس کا بیان |
|
کمانڈر امریکہ کا مرکزی کمان، امریکی میرین کور جنرل جیمس میٹِس کا بیان دی سینیٹ مسلح سروسز کمیٹی بتاریخ مارچ 1، 2011، روبرو بابت نقطہ نظر یو۔ ایس۔ سنٹرل کمانڈ I۔ تعارف ایک کمانڈ بحالت جنگ: امریکی سنٹرل کمانڈ، سینٹکام، اپنے اتحادیوں، شراکت داروں اور دوست ممالک کے اشتراک سے دنیا کے انتہائی بحرانی خطے میں کاروائیوں کی نگرانی کرتی ہے۔ سینٹکام گریٹر مشرقِ وسطٰی اور جنوب وسطی ایشیا ہمہ جہت جنگ میں برسر پیکار ہے اور امن، استحکام اور خوشحالی کے وسیع تر مقاصد میں معاونت کے ساتھ ساتھ جنگجو شدت پسندوں کی پُرتشدّد جارحیت اور استبداد کے خلاف کھڑی ہے۔ اپنے سپاہیوں، شہریوں اور شراکت داروں کی شناخت: جنگ کے اس دسویں سال میں ہمارے سپاہی اور ان کے اہلِ خانہ ہی شدید ترین جسمانی اور جذباتی صدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ آج سینٹکام اے-او-آر میں 200,000 امریکی سپاہی اور لاکھوں شہری تعینات ہیں۔ یہ مرد اور خواتین تمام کے تمام کم از کم رضاکارقاتل دشمن کا خطے میں سخت ترین مقابلہ کرتے ہوئے ہماری آزادیوں کا عظیم جرات سے دفاع کر رہے ہیں اور ہمارے سپاہی صومالیہ سے پار پانیوں سے لیکر افغانستان کے پہاڑوں تک، جہاں حالیہ تاریخ کا عظیم ترین جنگی اتحاد بر سرپیکار ہے، اتحادی کاروائیوں میں مصروف لاکھوں بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ایک حرکیاتی خطے میں کاروائی: میرے مشاہدے میں آنیوالی وہاں 1979 میں پہلی تعیناتی کے بعد سینٹکام اے۔او۔آر اب نسبتاً زیادہ متحرک ہے۔ اس میدانِ کارزار کی وسعتوں میں ایسی فوجی لچک کو برقرار رکھنا پڑتا ہے جو اس سے قبل کبھی مشاہدے میں نہیں آئی۔ اس کے ساتھ ساتھ واشنگٹن میں مالی حقائق کے پیش نظر ہم ایک ایک پیسہ خرچ کرتے وقت خود کو سخت منتظمی حکمت کا پابند بناتے ہیں۔ اس احساس کے ساتھ کہ سینٹکام کی سرگرمیاں اس علاقے کی سلامتی اور خوشحالی کے لیے امریکہ کے مسلسل، طویل مدتی عزم کا مظاہرہ کرتی ہیں، مندرجہ بالا سیاق و سباق میں کامیابی سے کاروائیاں جاری رکھنے کی غرض سے، ہم اپنے شراکت داروں سے قومی افواج کے مابین مضبوط تعلقات استوار کرنے کے متمنی ہیں۔ اس پورے خطے میں ہم حکومتی اداروں کو مقامی پرشباب آبادی کی امنگوں کی تعبیر کے لیے مصروف دیکھتے ہیں۔ جیسے ہی خطے کے لوگوں کی آواز سنی گئی، مقامی فوجوں نے تاحال اپنی مہارت اور ایسی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے جوحادثاتی طور پر یا پلک جھپکتے وجود میں نہیں آئی۔ امریکہ اور ہمارے شراکت داروں کے مابین مضبوط دفاعی تعلق کئی دہائیوں سے پنپ رہے ہیں اور انہیں آج کی مہارتی افواج بننے میں مددگار رہے ہیں اور یہ عمل ہماری افواج کے لیے بھی مفید رہا۔ اپنے شراکت داروں کے حالات کی تفہیم کی کوشش کے ساتھ ساتھ، سینٹکام اپنے فوجی ہم منصبوں کی کوششوں اور تحفظ کی شراکت داری کی حمایت کا عزم رکھے ہوئے ہے جو سیاسی بے چینی کے دوران انتہائی اہم ثابت ہوا ہے۔ ابتداً ہم ایسا دوسروں کا موَقف سن کر، سیکھ کر اور سمجھ کر کرتے ہیں اور بعد ازیں ہم اسے باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر مل کر کام کی صورت میں جاری رکھتے ہیں۔ ہمارا مشن: مجموعی طور پر،ان حالات کے دوران ہم اپنے مشن کی تعمیل کے لیے پُرعزم رہتے ہیں: ہمارے قومی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ہمراہ، سینٹکام اقوام کے مابین تعاون برائے سلامتی کی اعانت کرتی ہے؛ بحران کا مقابلہ کرتی ہے، ریاستی اور غیرریاستی جارحیت کو روکتی ہے یا شکست دیتی ہے؛ ترقی کے لیے مدد کرتی ہے اور، جب ضروری ہو، علاقائی سلامتی، استحکام، اور خوشحالی کے حالات کے قیام کے لیے تعمیر نو کرتی ہے۔ کاروائیوں کا خاکہ: ہماری اصل کاوش افغانستان ہے اور اگرچہ ہماری کامیابیوں کا کچھ حصہ غیرمحفوظ اور معکوسی ہو سکتا ہے، وہاں کامیابی غیرمتنازعہ ہے۔ ہم اور ہمارے نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن نیٹواور اتحادی شراکت دار یہ امر یقینی بنانے کے لیے کہ افغانستان دوبارہ کثیرقومی شدت پسندوں کی جنت نہ بن جائے، ایک ہمہ گیر لیکن مرتکز انسدادِ سرکشی کی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ہماری افواج 49 ملکی بین الاقوامی اتحاد کا حصہ ہیں جس کی قیادت نیٹو بین الاقوامی سیکیورٹی امدادی فورس آئی ایس اے ایف کر رہی ہے، اور صدر کرزئی کے 2014 تک سلامتی امور کی قیادت بین الاقوامی کمیونٹی سے افغان سیکورٹی فورسز کو منتقلی کے مقصد کے پیچھے متحد کھڑی ہے۔ افغان حکومت کے ساتھ مکمل شراکت میں، ہم القاعدہ اے-کیو کو فقید المثال نقصان پہنچا رہے ہیں۔ جو ایک ایسی حقیقت ہے جسے صدر اوباما کے "افغانستان-پاکستان سالانہ ریویو" میں تسلیم کیا گیا ہے۔ مزید برآں، ہم افغانستان کے ساتھ اپنی طویل مدتی تزویراتی شراکت کے ساتھ غیرمبہم عزم کے مظاہرے سے اپنے دشمن کو درہم برہم کر دیتے ہیں۔ اسی دوران پاکستان میں، ہم پاکستان کے اندر برسرپیکار اور پاکستان اور افغانستان کو خطرات سے دوچار کرنیوالے شدت پسندوں کے خلاف فوجی اقدامات کی تائید جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم اسلام آباد کے ساتھ وسیع تر امریکی تزویراتی شراکت بڑھانے کے مقاصد کے تحت کردار ادا کر رہے ہیں۔ حالیہ یو۔ایس۔-پاکستان حکمت عملی کے مزاکرات اورڈیپارٹمنٹ آف اسٹیٹ کی مالی امداد سے چلنے والے معاونت برائے ترقی کے پروگرام اس امر کی اچھی مثالیں ہیں کہ کیسے یو۔ایس۔ پاکستانی عوام اور حکومت کے ساتھ اعتماد سازی کر رہا ہے۔ عراق میں، سات سالہ سخت جدوجہد سے حاصل کردہ فوائد کے بعد ہم سلامتی کی مکمل ذمہ داریاں اپنے عراقی شراکت داروں کو سونپتے ہوئے اپنے فوجی دستے نکال رہے ہیں۔ عراق میں دشمن ڈرامائی جارحیت کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن عراقی حکومت کے لیے قابلِ ذکر خطرات مجتمع کرنے کی قابلیت نہیں ثابت کر سکا ہے۔ امریکی ڈیپارٹمنٹ آف سٹیٹ کے مربوط تعاون سے سینٹکام حکومتِ عراق کے ساتھ دیرپا سیکیورٹی معاونت اور تعاون کی سرگرمیاں زیرعمل لانے کے لیے آفس آف دی سیکیورٹی کوآپریشن-عراق قائم کر رہا ہے۔ عراقی اور امریکی حکومتوں کے مشترکہ عزم کے مطابق ہم ایک ایسی تنظیم کی منصوبہ سازی کر رہے ہیں جس کا عملہ اور تعیناتی عراق میں امریکہ کے طویل مدتی مقاصد کے حصول میں مددگار ہو، تاکہ ہم مقامی شہری قیادت کے ساتھ آئیندہ تعلق کو بہترین طور پر آگے بڑھا سکیں۔ سینٹکام کے وسیع تر خطے میں ہماری افواج اپنے شراکت داروں کے ہمراہ اے کیو اور اس کے شدت پسند اتحادیوں کے تعاقب میں ایک ہمہ جہت میدان جنگی مہم میں مصروف ہیں۔ اسی دوران ہم بحرانوں سے نمٹنے اور ہنگامی کاروائیوں کے لیے ہمہ وقت تیار رہنے کے ساتھ ساتھ خطے میں شراکت داری قائم کرنے اور اپنے شراکت داروں کی دفاعی صلاحیت میں اضافے کا عمل جاری رکھتے ہیں۔ ہم اپنی زمینی و بحری افواج پر انحصار جاری رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر، گزشتہ ستمبر میں 36 گھنٹے کے عرصے میں 15ویں میرین مہماتی یونٹ نے پاکستان کے سیلاب متاثرین کو امداد فراہم کی، افغانستان کی فضائی حدود میں ہوائی امداد فراہم کی اور عدن کی خلیج میں قزاقوں کے ہاتھوں لٹنے والے عملے کے ارکان کو بچایا۔ تین ماہ بعد، ہماری دو تہائی میرین مہماتی یونٹ تین دن کے دوران افغانستان میں تعینات ہو گئی۔ II۔ سینٹکام اے او آر کا ایک جائزہ اے۔ اے او آر کی نوعیت سینٹکام اے او آر 20 ممالک اور مصر اور لیونٹ سے لیکر جزیرہ نما عرب بشمول گلف اقوام، اور وسطی اور جنوبی ایشیاء تک تین متنوع ذیلی خطوں میں چار ملین مربع میل سے زیادہ وسیع علاقے پر مشتمل ہے۔ اس خطے میں دنیا کے آدھے بلین لوگ آباد ہیں جو دنیا کے تمام بڑے مذاہب کے پیروکار ہیں اور 18 سے زیادہ زبانیں بولتے ہیں۔ معاشی مسائل میں گھرے متعدد ممالک میں آبادی میں بے تحاشا اضافہ ہو رہا ہے – پاکستان میں 184 ملین لوگ ہیں، مصر میں 80 ملین، اور ایران میں 77 ملین لوگ آباد ہیں۔ خطے کے 20 ممالک میں سے 12 میں، 30 فیصد یا زائد آبادی کی عمر 15 اور 24 سال کے درمیان ہے اس زمرے میں 39 فیصد کی شرح کے ساتھ یمن سرفہرست ہے۔ ان میں سے زیادہ تر ممالک میں، کل آبادی کے مزید 30 فیصد افراد 15 سال سے کم عمر ہیں۔ نوجوان کی تعداد میں یہ زیادتی مستقبل کی قیادت، اور خطے کی تعلیم، ملازمت اور توقعات کے لحاظ سے پیش آئیندہ مسائل کی نمائیندگی کرتی ہے۔ سینٹکام اے او آر ایک زرخیز تاریخ، نمایاں ثقافت اور شاندار امکانات والا خطہ ہے جو کثیر نسلی گروہوں کے قابلِ فخر روایات کا امین ہے، جن میں دیگر کے علاوہ: عرب، ازیری، بلوچ، گلاکی، ہزارہ، کرد، لُر، مزاندرانی، قاشقائی، پشتون، فارسی، تیلش، ترکمان، اور ازبک شامل ہیں۔ اے اوآر میں دنیا کے آدھے سے زیادہ تیل کے مستند ذخائر اور تقریباً آدھی قدرتی گیس کے ذخائر شامل ہیں۔ نتیجتا،ً اس خطے میں دنیا کے مصروف ترین تجارتی راستے واقع ہیں جو یورپ، افریقہ، اور مشرقی ایشیاء کو گلف سے ملاتے ہیں۔ دنیا کی دیرپا عالمی معاشی خوشحالی اور ترقی کے لیے یہ تجارت بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔ اس خطے کے تجارتی راستے پر دنیا کے بڑے بڑے بحری تنگنائے واقع ہیں، جن میں تنگنائے ہرمز، سویز کینال اور باب المدیب تنگنائے شامل ہیں جو بحیرہ احمر کو گلف آف عدن سے ملاتی ہے۔ اگرچہ اس خطے میں توانائی کے وسائل بکثرت ہیں، پانی کی دستیابی اور قابلِ کاشت زمین محدود ہے اور کمی کا شکار ہے۔ بی۔ سینٹکام اے او آر پر بیرونی اثرات اس خطے کی اپنی تاریخی روایات ہیں اور ایک ایسے سماجی، معاشی اور ثقافتی چوراہے کے طور پر اقوام اور غیر ریاستی عناصر کے لیے کشش رکھتا ہے جوعلاقائی واقعات پر اپنا اثرات ڈالنا چاہتے ہیں۔ سینٹکام اے او آر پر ہونیوالے بیشمار اثرات میں سے اہم ترین درج ذیل ہیں: • مشرقِ وسطٰی کا امن: مشرقِ وسطٰی کے جامع امن کے حصول میں کامیابی کا فقدان امریکہ اور سینٹکام کے خطے میں امن کے مفادات پر اثرانداز ہوتا ہے۔ یہ ایسے کئی مسائل میں سے ایک ہے جن سے خطے میں ہمارے حریفین فائدہ اٹھاتے ہیں اور شدت پسند گروہوں کو بھرتی کے ذریعے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ کامیابی کے فقدان کی وجہ سے علاقائی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات میں خلل آتا ہے اور اعتدال پسند آوازوں کے دب جانے سے ہمارے مفادات میں پیش رفت کے لیے سیاسی مشکلات درپیش آتی ہیں۔ جیسا کی سیکریٹری گیٹس نے جولائی 2010 میں ملاحظہ کیا کہ "امن کے عمل میں کامیابی کے فقدان نے مشرقِ وسطٰی اور خطے میں ہمارے حریفوں کو سیاسی اسلحہ فراہم کیا ہے اور اس حلقے میں پیش رفت ہمیں غالباً نہ صرف دوسروں کو امن کے اس عمل کی حمایت کرنے پر آمادہ کرنے کے قابل بنائے گی بلکہ ایران کے خلاف مئوثر پابندیاں لگانے کے لیے ہماری کوششوں میں بھی مددگار ہو گی۔ دسمبر 2010 میں سیکریٹری کلنٹن نے مشاہدہ کیا کہ "اسرائیل اور فلسطین کے مابین اور اسرائیل اور اسکے عرب ہمسائیوں کے مابین تنازعہ تناوَ کا سبب ہے اور اس خطے کے تمام لوگوں کے لیے خوشحالی اور ترقی کے مواقع کے راہ میں ایک رکاوٹ ہے۔ اس کے برعکس، مشرقِ وسطٰی کے امن میں ٹھوس پیش رفت سینٹکام کے لیے علاقائی شراکت داروں کے ساتھ ملکر کر کام کرنے اور سیکیورٹی کی کثیر فریقی کوششوں میں معاون ہو گی۔ دسمبر 2010 میں مانامہ ڈائیلاگ میں مشرقِ وسطٰی میں امن کی ضرورت کے بارے میں بات کرتے ہوئے اوردن کے شاہ عبداللہ نے اپنا مشاہد پیش کیا کہ ہمارا خطہ سلامتی اور استحکام کا اس وقت تک متحمل نہیں ہو سکتا جب تک ہم فلسطین اور اسرائیل کا تنازعہ حل نہیں کرلیتے اور عرب اور اسرائیلی امن نہیں قائم کر لیتے۔ اہم ترین مفادات داوَ پر لگے ہیں۔ جوں جوں ہم حل سے نظر بچاتے جا رہے ہیں، تُوں تُوں امن کے واحد راستے مذاکرات میں یقین ختم ہوتا جا رہا ہے اور اگر امید ختم ہو گئی تو انقلابی قوتیں غالب آ جائیں گی۔ یہ خطہ پہلے سے زیادہ مُوذی جنگ اور عدم استحکام کا شکار ہو جائے گا، جس سے مشرقِ وسطٰی کی سرحدوں کے پار تک سلامتی خطرات سے دوچار ہو جائے گی۔ • سرحدی طاقتیں: چین، روس، ترکی، اور انڈیا – جن میں سے ہر ایک سینٹکام خطے سے باہر واقع ہے لیکن ان کی سرحدیں مشترک ہیں، ان چار تجاذبی قوتوں کی نمائیندگی کرتے ہیں جو اے او آر میں شامل مختلف ممالک پر اثرانداز ہوتی ہیں۔ پاکستان کے ساتھ اپنی روایتی شراکت داری کے اثرات میں اضافہ کرتے ہوئے، افغانستان کی ایانک کاپر مائن میں $3.5بلین کی سرمایاکاری سے لیکر کازکستان سے ترکمانستان تک تیل اور گیس کی پائپ لائن کی تعمیر تک چین اس پورے خطے میں اپنے توانائی سے متعلق متعدد مفادات کا تعاقب کرتا ہے۔ چین کی خطے میں سرگرمیوں سے روس کے علاقائی مفادات کے ساتھ مقابلہ شروع ہو سکتا ہے جو وسطی ایشیائی ریاستوں اور ان سے آگے بھی دفاعی، معاشی اور سماجی تعلقات رکھتا ہے۔ انڈیا کا اثرورسوخ پاکستان کے تزویراتی اعداد و شمار پر اثرانداز ہوتا ہے اور کسی حد تک حقیقتاً سینٹکام اے او آر میں شامل ہر ایک ملک پر بھی۔ ترکی بین الاقوامی برادری میں ایک اہم قوت کے طور پر ابھر کر خطے میں مسلسل اپنے مفادات کا حق جتلا رہا ہے۔ ان چاروں ریاستوں کے ایران سے منفرد تعلقات ہیں جو ایران کی صورتحال کے بارے میں بین الاقوامی نقطہَ نظر پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ ہم ان حرکیات کو زیرنظر رکھتے ہیں کیونکہ ہم اپنی کاوشوں کی یکجائی میں بہتری کے لیے امریکی حکومت اور مسلح کمانڈ کے ساتھ موَثر طور پر کام کو یقینی بنانا چاہتے ہیں۔ • صومالیہ: صومالیہ میں ریاستی ناکامی کی وجہ سے شدت پسند اور مجرمانہ عناصر شمال کی جانب ہارن آف افریقہ کے اندر یمن میں اور سینٹکام اے او آر کے دیگر علاقوں تک گھسنے اور پھیلنے کے قابل ہو چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ صومالیہ میں بے قابو غربت نوجوانوں کے لیے قزاقی کا سودمند کام کرنے کے لیے کشش پیدا کرتی ہے۔ مزید یہ کہ حکومتی عملدادی کی کمی کی وجہ سے شدت پسند آزادانہ یمن کی طرف چلے جاتے ہیں جس سے جزیرہ نما عرب میں القاعدہ اے کیو اے پی کو مواقع حاصل ہوتے ہیں۔ گزشتہ برس میں، صومالیہ میں قائم شدہ دہشت گرد گروہ الشباب نے جنوبی صومالیہ کے زیادہ تر حصے کا تسلّط حاصل کر لیا اور اس گروہ کے انتہا پسند دھڑوں نے جزیرہ نما عرب اور پاکستان میں القاعدہ رابطے کی جستجو میں ہیں۔ سی۔ خطے میں ۔یو۔ایس۔ مفادات سینٹکام اے او آر کی مرکزیت اور طیران پذیری کی بناء پر، امریکہ اور ارگرد کی ریاستیں اس خطے میں اہم مفادات رکھتے ہیں۔ دیگر سے ساتھ ساتھ، اس خطے میں اہم امریکی مفادات میں شامل ہیں: • امریکی شہریوں اور سرزمین کا تحفظ • علاقائی سلامتی • موَثر اور جائز حکمرانی، انسانی حقوق، قانون کی بالادستی، اور دیرپا معاشی ترقی اور مواقع • تزویراتی اہمیت کے حامل بحری تنگنائے کے ذریعے، اور بین الاقوامی منڈیوں تک زمینی تجارتی راستوں کے ذریعے خطے کے اندر کاروبار اور تجارت کا آزادانہ بہاوَ۔ ڈی۔ خطے میں امریکی مفادات کو درپیش خطرات تشدد، عدم استحکام اور تعمیر و ترقی کا فقدان خطے میں امریکہ کے مفادات کے لیے بنیادی خطرات کی نمائیندگی کرتے ہیں۔ کچھ علاقوں کو ناہموار یا گھمبیر سطح کی معاشی ترقی کا سامنا ہے، جس کے ساتھ ساتھ بے قابو بدعنوانی بھی ہوتی ہے۔ سماجی اور معاشی تصادم علاقے، وسائل اور طاقت کے کئی عمیق بنیاد اور طویل المعیاد تنازعات تک لے آیا ہے یا ان میں شدت لایا ہے جن میں کئی مقامی یا قومی سطح پر موزوں دفاعی بندوبست کے فقدان کی وجہ سے حل طلب ہیں۔ کئی علاقے خوراک، پانی، معدنی ذخیروں، تیل، اور دیگر قدرتی وسائل کے لیے روزافزوں مسابقت کا سامنا کریں گے۔ کئی نسلی، قبائلی اور مذہبی گروہوں کے درمیان تنائو اور فرقہ ورانہ رقابت بھی اس علاقے کی پہچان ہیں۔ ایسے حالات، بالخصوص مئوثر حکمرانی اور داخلی سیکیورٹی فورسز عدم کی موجودگی میں وسیع تر تشدد کے لیے امکانات پیدا کرتے ہیں اور بالآخر ایسی پُرتشدد شدت پسند تنظیموں کا سبب بنتے ہیں جو ہم پر اور ہمارے دوستوں پر حملہ آور ہوتی ہیں۔ جہاں ادارے ثالثی، شراکت داری کی تعمیر اور متحارب گروہوں کے مابین کھلے مکالمے یا پُرتشدد شدت پسندوں کا قلع قمع کرنے کو سہل بنانے میں ناکام رہتے ہیں وہاں ہم نے سکیورٹی کے خلاء میں موجود خطرات کو دیکھا ہے۔ ای۔ اپنے سٹریٹیجک چیلنجز کو مربوط کرنا سینٹکام اے او آر کے چیلنجز پیچیدہ انداز میں ایک دوسرے سے مربوط ہیں اور باہمی طور پر تقویت دیتے ہیں اور یوں ان سے علیحدہ علیحدہ نمٹا نہیں جا سکتا۔ مثال کے طور پر، ہم نے شدت پسند گروہوں اور دیگر دھڑوں میں ایک ہم زیستی تعلق دیکھا ہے جو، مجموعی طور پر، ایک دوسرے کو تقویت دینے کی طرف مائل ہوتے ہیں اور جنہیں، اگر آزاد چھوڑ دیا جائے تو، شہری حکومتوں کے استحکام اور وسیع علاقوں میں خطرہ بن جاتے ہیں۔ سینٹکام کے خطّے میں علاقے، بالخصوص نوجوان آبادی میں تیز تر اضافے والے علاقے، حالات کے چکر کے سامنے زدپذیر رہتے ہیں اور اکثر شکار بن جاتے ہیں، جہاں سے نوجوان روزگار کے قلیل مگر جائز مواقع چھوڑ دیتے ہیں اور اس کی بجائے کئی قسم کی مجرمانہ سرگرمیوں بشمول قزاقی، اسلحے کی سمگلنگ، انسانی تجارت، اور منشیات کا رخ کرتے ہیں – جو پُرتشدد شدت پسند کا وسیلہ بنتے ہیں جو معصوم لوگوں کی زندگیاں تباہ کرنے پر تُلی ہوتی ہیں۔ ناکافی حکمرانی، ہتھیاروں کا پھیلائو خاص طور پر بڑے پیمانے پر تباہی والے ہتھیاروں ڈبلیو ایم ڈی – ویپنز آف ماس ڈسٹرکشن کے پھیلائو – مخالف ریاستوں کے اثر، اور قومی سرحدوں کے پار، اور سائبر سپیس میں سرحدی آزادی، شدت پسند عناصر کی آزادانہ نقل و حرکت، خطرناک ترین منظرنامے والے ایسے حالات سے ضرر رساں ارادے سے سرگرم ریاستی اور غیر ریاستی عناصر فوری طور پر فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔کچھ صورتوں میں، عالمگیریت کی کوششوں سے طلسم ربائی، مقصد کی حامل کسی تحریک سے تعلق کی خواہش سے مل کر نوجوانوں اور روزافزاں انداز میں لڑکیوں کو کسی شدت پسند تنظیم میں پُرتشدد کردار ادا کرنے کے لیے جوش کا سامان پیش کر سکتی ہے۔ III۔ تفویض شدہ مقدم ذمہ داریاں ان متعدد چیلنجز کی روشنی میں، ہم اپنے سٹریٹیجک اور آپریشنل انداز کا مسلسل جائزہ لیتے رہتے ہیں تاکہ ہم سینٹکام اے او آر میں اپنے سیکیورٹی، استحکام، اور خوشحالی کے مطلوبہ قومی مفادات حاصل کر سکیں۔ سینٹکام مندرجہ ذیل ذمہ داریوں پر توجہ مرکوز کرتی ہے: • افغانستان میں مشن کی امداد • پاکستان کے ساتھ شراکت • ایران کی عدم استحکام کی سرگرمیوں کا انسداد • عراق میں تبدیلی کی راہ ہموار کرنا • وسطی ایشیاء کے ساتھ شراکت مضبوط بنانا • شراکت داری کی صلاحیت بڑھانا اور تعاون کی سرگرمیوں کے لیے جدوجہد • پُرتشدد شدت پسند تنظیموں کو تہہ و بالا کرنا • وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا مقابلہ کرنا • قزاقی کا انسداد کرنا افغانستان میں مشن کی امداد افغانستان اور پاکستان میں عدم استحکام: افغانستان اور پاکستان پیچیدہ انداز میں جڑے ہوئے ہیں، انہیں ایک غیرمحفوظ سرحد آپس میں ملاتی ہے جو تاریخی طور پر آزادانہ نقل و حرکت اور ڈیورنڈ لائن پار کرنیوالوں کے لیے محفوظ ٹھکانے کا کام کرتی ہے۔ اے کیو کی اعلٰی سطحی قیادت اور ان سے وابستہ شدت پسند گروہ – جو دنیا بھر میں معصوم لوگوں پر حملے کرنے پر کمر بستہ ہیں – اس خطے سے منصوبہ بندی، تیاری اور کاروائیوں کی ہدایت کاری کرتے ہیں، یوں یہ خطہ یو۔ایس۔ اور اس کے اتحادیوں کی سیکیورٹی کے لیے اہم ترین مفاد بن جاتا ہے۔ حالیہ طور پر، سرحدی خطے میں اے۔کیو 2001 کے بعد کے شدید ترین دبائو کے زیر اثر ہے۔ ایک واضح مقصد اور ایک کامل حکمتِ عملی: اپنے نیٹو اور اتحادی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ہم افغانستان کو دوبارہ القاعدہ اور اس سے وابستہ کثیرالقومی شدت پسند گروہوں کی جنت بننے سے روکنے کے بنیادی مقصد کے حصول کی خاطر کام کر رہے ہیں۔ صدر اوبامہ کے "افغانستان-پاکستان سالانہ ریویو" میں افغانستان میں ہماری حکمتِ عملی کے بنیادی عناصر کی تصدیق کی، جس کا پہلا تقاضا مجموعی سیکیورٹی ماحول کو بہتر بنانا اور افغانستان میں تشدد کی سطح کو کم کرنا ہے۔ دشمن سے پہل کاری کی صلاحیت چھیننے کے بعد، ہماری افواج افغان نیشنل سیکیورٹی فورسزاے این ایس ایف کی پشت پر ایک محفوظ پناہ گاہ کا کام کرتی ہیں اور افغانی حکومت کی جڑیں مضبوط ہونا جاری رکھ سکتی ہیں۔ ایک مشترکہ تزویراتی نصب العین کا مقصد رکھنا: افغانستان میں ہمارے فوجی مقاصد اور حکمت عملی یو۔ایس اور افغانستان کی سیاسی قیادت کے مابین سٹریٹیجک وژن تشکیل دینے میں معاون ہوتے ہیں جیسا کہ صدر کرزئی کے ہمراہ نائب صدر کی جنوری کی رائے ظاہر کرتی ہے کہ ہمارا ارادہ حکومت کرنے یا قوم کی تعمیر کا نہیں ہے۔ جیسا کہ صدر کرزئی نے نشاندہی کی ہے یہ ذمہ داری افغان لوگوں کی ہے اور وہ اس کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہم اس جدوجہد میں آپ کی مدد کے لیے تیار کھڑے ہیں۔ اور ہم 2014 کے بعد بھی اس جدوجہد میں آپ کی مدد کے لیے تیار کھڑے رہیں گے۔ افغانستان میں کامیابی ایک ایسی افغان سیکورٹی فورس کی صورت میں ہو گی جو لوگوں کو ایک ایسی حکومت کے ساتھ تحفظ دینے کے قابل ہو گی جو لوگوں کی ضرورتیں پوری کرے گی اور بین الاقوامی دہشت گردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بننے سے بچائے گی۔ جنگی مہم کا منصوبہ: ہم نے افغانستان میں ہمہ گیر لیکن مرتکز فوجی و غیرفوجی مہم میں ہر پہلو سے اپنی کوششوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ اس کوشش کے ایک حصے کے طور پر، ہم نے روایتی زمینی فورسز کی مدد سے اضافہ انٹیلی جنس سے سرکش باغیوں کو پکڑنے یا ہلاک کرنے کے لیے فقید المثال رفتار سے انسداد دہشت گردی کی کاروائیاں کیں ہیں۔ ہماری کوششوں میں بڑی بڑی جنگی کاروائیوں مثال کے طور پر، ہلمند اور دیگر مقامات پر، سے لیکر اسپیشل مشن یونٹ کی کاروائیوں، جو دشمن کے محفوظ پناہ گاہیں ختم کرتے ہیں اور نچلی سطح سے اوپر تک اور چوٹی سے نیچے تک متوازی چلنے والے پہل کاری کے منصوبے شامل ہیںجن کی مثال دیہاتوں کے استحکام کی کاروائیوں میں توسیع ہے۔ ہماری جاری کاروائیوں کی وسعت دشمن کے دوبارہ مضبوط ہونے اور افغان عوام کے لیے خطرہ بننے کی صلاحیت کو کچل دیتی ہے۔ افغان فورسز کی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے؛ سرحدی تحفظ میں توسیع؛ قیدیوں کے انتظام کے مضبوط نظام اور قانون کی بالا دستی کی سرگرمیوں کے لیے؛ مجرموں کی سرپرستی کرنیوالے گروہوں کو نشانہ بنانے کے لیے افغان حکومت کے ساتھ کام کرتے ہوئے بدعنوانی کے مقابلے اور انسداد کے لیے؛ اور غیرقانونی ہتھیاروں اور منشیات کی نقل و حمل کی روک تھام کرنے کے لیے ہماری فورسز نے ان کے ساتھ شراکت داری قائم کی ہے تاکہ مجرموں اور سرکش باغیوں کو ان کی کاروائیوں کے لیے پیسے کے ایک اہم ذریعے سے محروم کیا جا سکے۔ ہم پہل کی صلاحیت کے حصول، دشمن کو پھنسا کر مارنے، اور روایتی جنگی موسم کے آغاز کے لیے قوت محرکہ میں اضافہ کرنے کے لیے موسم سرما میں اپنی سیکیورٹی کی وسیع کامیابیوں کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ انجام کار، ہم ایک ایسا افغانستان تشکیل دینے کے لیے کام کر رہے ہیں جو ہمارے دشمنوں کے لیے معاندانہ ہے اور انھیں مقامی آبادی کی حمایت سے محروم رکھتا ہے تاکہ سرکش باغی اپنی موسمِ سرما کی محفوظ پناہ گاہوں سے واپس آ کر یہاں رہنے کے قابل نہ ہو سکیں۔ یہی انسداد سرکشی کی کاروائیوں کا لب لباب ہے۔ دشمن کی صورتحال روز بہ روز بگڑتی جا رہی ہے اگرچہ ہمیں اس موسم بہار میں سخت لڑائی کا سامنا کرنا ہو گا۔ صحیح طاقت/ اِن پُٹ: افغانستان میں مجموعی بین الاقوامی جدوجہد کی بدولت 3 برس پہلے کی فورس مشن کی معیشیت اب ایک مرتکز اور تقویت شدہ فوجی و غیرفوجی انسداد سرکشی کی مہم میں تبدیل ہو چکی ہے،جسے ستمبر 2010 میں پوری طاقت حاصل ہوئی۔ امریکہ، اتحاد اور شراکت دار اقوام مل کر کام کرتی رہی ہیں تاکہ افغانستان میں تنظیموں، نقطہَ نظر، اور وسائل کے صحیح آمیزے کا اطلاق ہو سکے۔ گزشتہ برس اس وقت، ہمارے پاس افغانستان میں 270،000 سے کم تعداد میں امریکی، اتحادی اور افغان افواج تھیں۔ اس سال، ہمارے پاس 370،000 کی تعداد میں کُل امریکی، اتحادی اور افغان سیکیورٹی افواج لڑائی میں شامل ہیں، اور اگلے سال اس وقت تک 109،000 کی تعداد میں افغان سیکیورٹی افواج کو شامل کیا جائے گا۔ افغانستان میں تعینات اضافی تنظیموں کے علاوہ، پینٹاگان کا جائنٹ اسٹاف پاکستان افغانستان کوآرڈینیشن سیل اور سینٹکام کا افغانستان پاکستان سنٹر آف ایکسی لینس ہمارے وسائل کو ملکی سطح پر بہتر انداز میں منظم کر رہے ہیں اور آگے تعینات افواج کو مشن کے لیے اہم ترین اور پیچھے سے ترسیل کی مدد فراہم کر رہے ہیں۔ سینٹکام کا سینٹر آف ایکسی لینس طویل المعیاد بنیادوں پر علاقائی ماہرین کا عملہ فراہم کرے گا جبکہ ہم 2014 میں قیادت کو افغانوں کے حوالے کریں گے اور افغانستان اور پاکستان کے ساتھ ایک طویل مدتی شراکت کا پختہ عزم کریں گے۔ دشمن کی پُرتشدد کاروائیاں اور اتحاد کی پیش رفت: افغانستان میں ترقی میں رکاوٹ ڈالنے کی دشمن کی کوششوں کے باوجود ہم نے 2010 میں تکمیل کے لیے مقرر کیے ہوئے بیشتر فوجی مقاصد حاصل کر لیے ہیں اور حکمرانی اور ترقی کے اعتبار سے خاصی پیش رفت کی ہے۔ جیسا کہ سیکریٹری گیٹس نے اپنے دسمبر 2010 کے دورہ افغانستان کے بعد ملاحظہ کیا کہ خلاصہ یہ کہ گزشتہ 12 مہینوں میں ہم نے خاصی پیش رفت کی ہے۔ صاف صاف بات کروں تو ،چاہے گزشتہ چند مہینوں میں سہی، ترقی میری توقعات سے کہیں بڑھ کر ہوئی ہے۔ ہمارے دشمن تازہ قیام امن والے علاقوں میں اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں جو امن پسند شہریوں پر ہوتے ہیں اور ان کا مقصد عوام الناس کو خوفزدہ کرنا اور اپنی موجودگی کا احساس برقرار رکھنا ہوتا ہے، اگرچہ ان میں کمی آتی جارہی ہے۔ اور دشمن کی شروع کردہ لڑائی بڑی حد تک مقامی ہوتی ہے۔ نومبر 2010 سے لیکر 31 جنوری 2011 تک افغانستان میں 57 فیصد سے زیادہ تشدد 401 میں سے 12 اضلاع میں مرتکز رہا ہے۔ لائق توجہ حد تک، صوبہ قندھار میں میوند کے کلید اضلاع صوبہ ہلمند میں لشکر گاہ – جو ہلمند اور قندھار کے جنگی خطرات کو مربوط کرنے کی ہماری کوششوں میں اہم ترین ہیں – اب 12 پُرتشدد ترین اضلاع میں شامل نہیں ہیں۔ تشدد کی بلند سطح سرکشی کی بہتر صلاحیت کی عکاسی کم کرتی ہے اور بڑی حد تک، ماضی میں سرکشی کے مضبوط مراکز سمجھے جانیوالے علاقوں میں افغانستان اور آئی ایس اے ایف کی بڑھتی ہوئی کاروائیوں کا نیتجہ ہے۔ دشمن اس پیش رفت کے مطابق خود کو نہیں ڈھال رہا۔ ہم پیش رفت کیے جا رہے ہیں جبکہ ہمارے دشمن تباہ کن غلطیاں کیے جا رہے ہیں، جن میں شامل ہو سکتی ہیں: معصوم افغانوں کا قصداً قتل؛ ماتحتوں کو لڑنے کے لیے پیچھے چھوڑ کر قیادت کا پاکستان فرار اور 2010 کے پہلے دس مہینوں میں تقریباً 5,000 افغانوں کا قتل اس عرصہ میں تمام غیرفوجی جانی نقصان کا تین تہائی۔ ہم دشمن کے بہیمانہ اقدامات کو منظرعام پر لاتے ہیں اور حالیہ مہینوں میں افغان راہنمائوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے آگے بڑھ کر سرکش باغیوں کے شروع کردہ تشدد کی مذمت کی ہے۔ 2014 میں تبدیلی کا راستہ: ہم اور ہمارے نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن نیٹو اور دیگر اتحادی اور اے این ایس ایف کے شراکت دار اے این ایس ایف کے حجم اور معیار میں اضافہ کرتے ہوئے افغان عوام کے لیے سیکیورٹی بڑھا رہے ہیں اور پورے افغانستان میں حکمرانی اور ترقی کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے کوششوں کی مدد کر رہے ہیں۔ آخر کار گزشتہ نومبر کی نیٹو کی سَمٹ اِن لزبن میں ہم نے افغانستان میں مشن کامیابی سے مکمل کرنے کے امریکہ اور بین الاقوامی برادری کے طویل مدتی عزم کی توثیق کروا کر طالبان کی حکمتِ عملی کا ایک کلیدی ستون گرا لیا۔ ہم افغان فورسز کے 2014 کے آخر تک بین الاقوامی برادری سے ذمہ داریاں سنبھالنے کے صدر کرزئی کے مقصد کی حمایت میں متحد ہیں۔ افغان حکومت کے ساتھ شراکت میں ہم صدر اوبامہ کے اس سال جولائی میں افغانستان سے،زمینی حالات کے مطابق رفتار سے، یو۔ایس۔ فوجیں نکالنے کے مقصد کے لیے کام کر رہے ہیں۔ افغانستان کے علاقوں کی شناخت، تخمینہ کاری اور دفاع کے انتقال کا عمل مشترکہ افغان-نیٹو انتقال بورڈ جے اے این آئی بی کی حکومتِ افغانستان کے لیے سفارشات کی بنیاد پر مبنی ہے۔ آئی ایس ایف، جے اے این آئی بی کے ساتھ ملکر کام کر رہی ہے جبکہ ہم انتقال کا عمل اور جنگی مہم میں ترتیب وار پیش رفت کر رہے ہیں۔ اے۔این۔ایس۔ایف امداد/ سپورٹ: خصوصی ترین اہمیت کے ساتھ سیکیورٹی کے میدان میں، اے این ایس ایف میں ہماری سرمایا کاری اپنا اثرا ظاہر کر رہی ہے اور اس فورس کی ترقی صحیح ڈگر پر ہے۔ اے این ایس ایف کی غیرمعمولی عددی طاقت جو اب ایک ضدی دشمن کا سامنا کرتے ہوئے فقید المثال 70،000 کے عملے تک بڑھ چکی ہے کے بعد اب اس فوج میں ایسی ہی بہتری معیار میں بھی آ رہی ہے۔ نیٹو ٹریننگ مشن-افغانستان ہر سطح پر قائدین پیدا کرنے کی افغان حکومت کی کوششوں میں ہاتھ بٹا رہے ہیں تاکہ خواندگی میں اضافہ ہو اور قابلیت اور تربیت کی گنجائش میں اضافہ ہو سکے۔ یکجا ہو کر یہ پروگرام فوج کے معیار کو بڑھاتے ہیں اور فرسودگی میں کمی لانے میں مدد کرتے ہوئے، بھرتی میں اضافے کا سبب بنتے ہیں اوریوں استحکام کا باعث بنتے ہیں۔ اسی دوران ہم اے این ایس ایف کے طبی عملے اور دیگر سہولت کاروں کی بھرتی کے باقی ماندہ چیلنجز پر غالب آنے کے لیے اور اس کے ساتھ ساتھ خواتین کی شرکت میں اضافے اور مزید جنوبی پشتونوں کی بھرتی میں بھی مدد کر رہے ہیں۔ ایڈمرل سٹاوریڈِس کمانڈر، امریکی یوروپئین کمانڈ اینڈ سپریم الائیڈ کمانڈر یورپ کے ساتھ ملکر کام کرتے ہوئے ہم اپنی تربیت کاروں کی کمی کو پورا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اے این ایس ایف کا قائدانہ کردار: افغانستان کے کئی علاقوں میں اے این ایس ایف روز افزوں قائدانہ کردار میں ہے۔ جنوبی افغانستان میں، اے این ایس ایف نے 2010 کے وسط میں مالاجات، قندھار شہر میں قیادت سنبھالی، اضافی جنگی قوت، قریبی ہوائی معاونت اور دیگر سہولت کاری کے لیے آئی ایس اے ایف سے مدد کے ساتھ – جس کے نتیجے میں کئی درجن سرکشوں کی ہلاکت یا گرفتاری عمل میں آئی اور افغانی قیادت تلے ایک نئے ماڈل کا قیام عمل میں آیا۔ بعد ازیں، اے این ایس ایف نے جنوبی افغانستان میں سرکش باغیوں کے اہم ترین محفوظ ٹھکانوں کے خاتمے کے لیے آپریشن ہمکاری کے آخری مراحل کے لیے آدھی سے زیادہ جنگی قوت بھی فراہم کی۔ شمالی افغانستان میں افغان نیشنل آرمی اور پولیس نے دسمبر 2010 میں آئی ایس اے ایف افواج کے ساتھ شمالی صوبے بلخ میں مشترکہ کاروائیاں کیں، اور افغان نیشنل پولیس کندوز صوبے میں امریکہ اور افغان مشترکہ کاروائیوں کے دوران سرکش باغیوں کو گرفتار کرکے اور ہتھیاروں کے ذخیرے پکڑ کر قابلِ ذکر صلاحیت کا مظاہرہ کر چکی ہے۔ اضافی طور پر اے این ایس ایف اب کابل کے 15 میں سے 14 اضلاع میں سیکیورٹی کی کوششوں کی قیادت کرتی ہے اور سرکش باغیوں کے دعووں کے باوجود کہ وہ خلل ڈالیں گے بغیر کسی ناخوشگوار واقعہ کے کئی مواقع کے لیے مربوط سیکیورٹی منصوبوں پر عمل درآمد کر چکی ہے جن میں ماہ جون کا امن مشاورتی جرگہ، ماہ جولائی کی کابل کانفرنس، اگست میں یوم آزادی کا موقع اور جنوری میں پارلیمان کا اجلاس شامل ہیں۔ مقامی سیکیورٹی کی پہل کاریاں: قومی سطح کی سیکیورٹی کے اقدامات افغان حکومت نے شدت پسند عناصر کو ان کے روایتی محفوظ ٹھکانوں سے باہر نکالنے اور ان کی مواصلاتی رابطے منقطع کرنے کے لیے تیار کردہ مقامی سیکیورٹی کے پیشگی اقدامات کو بتدریج وسعت دی ہے۔ کلیدی اضلاع میں قلع قمع کی کاروائیوں سے اقدامات کی شدت کی قوت محرکہ منتقل ہوئی ہے اور دیہی سطح کی شماریات میں تبدیلی آئی ہے۔ افغانستان بھر میں درجنوں دیہاتوں کے مقامی عمائدین اپنی سیکیورٹی کی ذمہ داری خود سنبھالنے کے لیے جرگے بلائے ہیں اور امریکہ اور اتحادی افواج نے افغان دیہاتوں کو دفاعی حصار فراہم کرنے میں وزارتِ داخلہ کو معاونت فراہم کی ہے۔ افغان لوکل پولیس اے ایل پی اور دیگر ویلیج سٹے بِلٹی آپریشن کی پہل کاری، مقامی کمیونٹی کی معاونت کو مرکزی حکومت اور اتحادی شراکت داروں کی صلاحیت سے مربوط کرتے ہوئے نچلی سطح سے اوپر تک اور چوٹی سے نیچے تک کام کرتی ہے۔ طالبان نے اپنی یہ تشویش ظاہر کی کہ اے ایل پی ان کے وجود اور کاروائیوں کی صلاحیت کے لیے ایک براہ راست خطرہ ہے۔ آج کُل 63 اے ایل پی کے مقامات موجود ہیں جن میں سے 24 کی جائے وقوع وزارت داخلہ کی منظوری کی حامل ہیں اور تقریباً 4000 اے ایل پی اب تعینات ہیں۔ مقامی سطح کے یہ اقدامات ایسے علاقوں میں جہاں اے این ایس ایف کی موجوگی محدود ہے وہاں اور دیگر مقامات پر اور اے ایل پی کی جائے ہائے وقوع میں روایتی آئی ایس اے ایف اور اے این ایس ایف کی حاصل کردہ کامیابی کی تکمیل کرتے ہوئے سیکیورٹی کی پشتہ بندی کرتے ہیں۔ اے ایل پی پروگرام کی ابتدائی کامیابی کے پیش نظر وزارتِ داخلہ اب اسے مجوزہ 10,000 کی تعداد میں نگرانی اور نظارت فراہم کرنیوالی تازہ دم خصوصی افواج سے آگے تک وسعت دینا چاہتی ہے۔ مقبول حمایت: 2003 سے اے کیو اور طالبان کچھ حد تک کامیابی کے ساتھ ملک کے زیادہ تر حصوں میں اپنی طاقت اور اثر آزماتے رہے ہیں۔ 2010 میں اتحادی اور افغان فوجوں نے ملک کے زیادہ تر حصوں میں سیکیورٹی کی زمینی صورتحال میں تبدیلی لانے کے لیے مہم کے تمام پہلوئوں میں اضافی وسائل کا اطلاق کیا ہے۔ جیسے جیسے کلیدی علاقوں میں سیکورٹی کی صورتحال میں بہتری آتی ہے ہم عوام کے تحفظ میں مزید بہتر ہو جاتے ہیں، ان علاقوں میں ترقی اور بنیادی خدمات کی فراہمی میں افغان آبادی روزافزوں انداز میں معاون ہے۔ بالخصوص، حالیہ مہینوں میں، افغان سیکیورٹی فورسز نے لڑائی کا زیادہ وزن خود اٹھایا ہے، دیہاتوں کے عمائدین نے نوجوانوں کو افغان پولیس میں شمولیت کے لیے حوصلہ افزائی کی ہے اور کئی علاقوں میں سرکش باغیوں نے ہتھیار پھینک کر معاشرے کا حصہ بننا شروع کر دیا ہے۔ دوبارہ انضام کی کوششیں مقامی اور قومی سطح پر افغان حکومت اور بِلاشبہ، ہماری جنگی مہم کی قوتِ محرکہ کی مدد کے ساتھ اتحادی افواج کی مربوط کوششیں اب ثمرآور ہو رہی ہیں۔ مفاہمت کے حوالے سے، اس عمل کی قیادت افغانیوں کے ہاتھ میں ہے جبکہ آئی ایس اے ایف دشمن کی فتح کی امیدوں کے خاتمے اور سکیورٹی کے حالات پیدا کرنے کی غرض سے اے این ایس ایف کی شراکت میں کام کر رہی ہے۔ یہ ایسے ترقی پسند اقدامات ہیں جو ہماری معموعی مہم میں قوتِ محرکہ کی تعمیر کے لیے لیے کیے جا رہے ہیں۔ قانون کی بالادستی میں بہتری: ہمارے دشمنوں کے برعکس، ہم افغانستان کے 29 ملین سے زائد باشندوں کے لیے قانون کی بالادستی میں بہتری کے لیے افغان حکومت کی جائز کوششوں کی حمایت جاری رکھتے ہیں۔ امریکی افواج اور افغانستان کی مشترکہ ٹاسک فورس / کمبائنڈ انٹرایجنسی ٹاسک فورس 435 اور ہمارے افغان شراکت داروں نے گزشتہ برس غیرمعمولی کامیابی حاصل کی ہے: قیدیوں کی پروان میں قائم دورِ حاضر کی بہترین سہولتوں سے مزین قید خانوں میں منتقلی؛ قیدوبند کے شفاف اور کڑے عمل کا اطلاق اور معاشرتی انضام کے مئوثر پروگراموں کی توسیع، جن میں خواندگی اور فنی تربیت شامل ہیں۔ مزید یہ کہ ہم نے ہر سطح پر بدعنوانی کا مقابلہ کرنے کے لیے، حتٰی کہ ٹھیکیداری اور اپنی مہم کے ہر پہلو میں بدعنوانی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اپنے بہترین طریقہ کار کے اطلاق میں بھی، مئوثر کاوشوں کا قیام عمل میں لایا ہے۔ بنیادی ڈھانچے کے لیے پیشگی اقدامات: ہم ترقی کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے لیے بھی پیشگی اقدامات کر رہے ہیں، مثال کے طور پر، سڑکوں کی تعمیر، ریل اور بجلی کے گرڈز اور ٹرانسمشن لائنوں کی تنصیب تاکہ وسطی ایشیاء کے معاشی مرکز کے طور پر افغانستان کی چُھپی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ ایک علاقائی مواصلاتی ڈھانچہ نجی شعبہ میں ملازمتیں پیدا کرتا ہے اور صلح جُو باغیوں کو لڑائی چھوڑنے کے لیے اضافی فوائد دیتا ہے۔ بالآخر، ایسی معاشی ترقی امریکی فوجوں کی ضرورت میں کمی لاتی ہے اور طویل مدتی انتقال کی سرگرمیوں کو سہارا دیتی ہے اور انسداد بغاوت کی ایک مئوثر مہم کے لیے بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔ کانگریسی حمایت: کانگریس کی قیادت افغانستان میں ہماری کوششوں بشمول افغانستان سیکیورٹی فورسز فنڈ اے ایس ایف ایف، کمانڈرز ایمرجنسی رسپانس پروگرام سی ای آر پی، بنیادی ڈھانچے کے پروگرام کی منظوری اور افغانستان ری-انٹیگریشن پروگرام اے آر پی کے لیے اہم ترین کردار ادا کر رہی ہے۔ اس سے بڑھ کر ہم سیکیورٹی کی ذمہ داریوں کو افغانستان میں باغیوں کے محفوظ ٹھکانوں کی دوبارہ تشکیل کو روکنے کی اہل، ایک مئوثر، تربیت یافتہ اے این ایس ایف کے لیے ہم اے۔ایس ایف ایف پر انحصار کرتے ہیں۔ سی ای آر پی کی حوالے سے، زمین پر ہمارے کمانڈر بار بار رائے دیتے ہیں کہ سی ای آر پی فنڈز افغانستان میں اسٹریٹیجک مقاصد کے حصول کے لیے کی جانیوالی کاروائیوں کے لیے بیش قدر اہمیت کے حامل ہیں جو دشمن کی مواصلاتی سرگرمیوں اور جواز کا قلع قلمع کرتے ہیں۔ 2010 میں، سی ای آر پی نے 8,300 سے زائد منصوبہ جات کے لیے رقوم فراہم کیں، جن میں مثال کے طور پر افغانستان بھر میں آزادانہ نقل و حرکت کے لیے مواصلاتی پہل کار منصوبے، نہری آبپاشی اور کنووں کی مرمت اور کسانوں کو اعلٰی درجے کی کھاد اور بیج کر فراہمی سمیت افغانستان میں زراعتی پیداوار کے منصوبے، 200 سے زائد مقامی افغان تعلیمی آئوٹ ریچ کوآرڈینیٹرز کی خدمات جیسے تعلیمی منصوبے اور زمینی پانی کے تین ہائی-پروڈکشن کنووں کی تنصیب کے پانی اور صفائی کے منصوبے جو کندھار شہر میں 850,000افغان شہریوں کے لیے پینے کے پانی کی دستیابی میں اضافہ کریں گے۔ سی ای آر پی کے علاوہ، نیا افغانستان کا بنیادی ڈھانچے کا پروگرام ہمیں افغان سیکیورٹی، حکمرانی اور ترقی کی ضروریات کی تکمیل کے لیے اول ترجیح کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبے قائم کرنے کے لیے امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ اشتراک سے کام کرنے کے قابل بناتا ہے۔ افغانستان انفراسٹرکچر فنڈ، اس مربوط پروگرام میں محکمہ دفاع کی طرف سے کاوشوں کا ذریعہ ہو گا۔ اپنی دوبارہ انضمام کی کوششوں کے قابل ہونے کے لیے، ہم حکومتِ افغانستان کے پیس اینڈ ری انٹگریشن پروگرام کی حمایت میں فنڈز کا استعمال کرتے ہوئے اے آر پی کی تعمیل جاری رکھتے ہیں۔ مستقبل کے چیلنجز: افغانستان میں ہمارے مقاصد کے حصول کے لیے کافی کام باقی ہے۔ ہمیں ایک ڈٹے ہوئے اور پُرعزم دشمن کا سامنا ہے۔ امریکہ اور بین الاقوامی برادری ایسی صورتحال میں ہیں کہ افغان حکومت کے اندر بدعنوانی کا انسداد کرنے کی غرض سے قانون کی بالا دستی کی طرف پیش رفت میں مثبت طور پر اصلاحات اور مطابقت پیدا کر سکیں۔ 2010 میں ان شعبوں میں قابلِ ذکر ترقی کے باوجود، ہم تسلیم کرتے ہیں کہ مستقبل میں جوں جوں ہم اپنے افغان شراکت داروں کے ساتھ ملکر یہ لڑائی جاری رکھیں گے ہمیں مزید محنت کرنا پڑے گی۔ لیکن، اپنی مئوثر اور تسلیم شدہ حکمتِ عملی کی تعمیل کرتے ہوئے میں یقین رکھتا ہوں کہ ہم افغانستان میں کامیابی کے لیے شرائط طے کر سکتے ہیں۔ پاکستان کے ساتھ شراکت داری کا قیام اسٹریٹیجک شراکت داری: بِلاشبہ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ افغانستان میں کوئی بھی حل علاقائی سیاق و سباق کے مطابق ہونا چاہیے۔ سینٹکام صدر اوباما کے امریکہ-پاکستان اسٹریٹیجک شراکت کو مضبوط تر بنانے کے مقاصد کی پاکستان کے ساتھ نوخیز مگر بہتری کی طرف گامزن باہمی فوجی تعاون کے ذریعے حمایت کرتی ہے اور جیسا کہ سیکریٹری کلنٹن اور دیگر قائدین نے ملاحظہ کیا ہے کہ ہمیں پاکستان کی طرف سے کیے جانے والے اقدامات کو زیرِ نظر رکھنا ہو گا۔ انھوں نے اپنے ملک کے اندر دہشت گردوں کے تعاقب میں اہم اقدامات کیے ہیں۔ گزشتہ برس میں، سینٹکام کے آفس آف ڈیفنس ری پریزنٹیٹیو—پاکستان او ڈی آر پی کے ذریعے ہمارے شراکت داروں کی حمایت کرتے ہوئے سینٹکام نے پاکستان کے ساتھ ہمارے سیکیورٹی کے تعاون کو عمیق تر اور مضبوط تر بنایا ہے۔ او ڈی آر پی کی توجہ پاکستان کی انسدادِ سرکشی کی کوششوں کی مدد کرنے پر ہے اور گزشتہ برس، سیلاب کی تباہی کاریوں سے متاثرہ علاقوں میں اور انسانی بنیادوں پر مدد فراہم کرنے کی غرض سے اس نے امریکہ کی بین الایجنسی کوشش کی قیادت کی۔ مزید یہ کہ پاکستان کے ساتھ اپنی طویل مدتی شراکت کی حمایت میں، سینٹکام سینٹر آف ایکسی لینس موضوعاتی ماہرین کی تعیناتی جاری رکھتی ہے اور او ڈی آر پی اور اسپیشل آپریشنز کمانڈ پاکستان فارورڈ کو پیچھے سے ترسیل کی مدد فراہم کرتی ہے تاکہ تجزیات کو عمیق تر بنایا جائے اور بحرانی مسائل پر بین الایجنسی فرائض کی ٹھیک ٹھیک بجاآوری برتر درجے پر عمل میں لائی جا سکے۔ پاکستان میں خطرات: پاکستان میں عدم استحکام کے پوشیدہ امکانات اور افغانستان-پاکستان سرحدی علاقے میں شدت پسندوں کی آزادانہ نقل و حرکت علاقائی اور عالمگیر سلامتی کے لیے شدید خطرے بنی رہتی ہے۔ پاکستان کے قبائلی علاقے القائدہ کے لیے سب سے بڑی محفوظ جائے پناہ اور دیگر شدت پسند گروہوں کے لیے محفوظ ٹھکانہ بنے ہوئے ہیں جس سے وہ افغانستان میں موجود آبادی اور اتحادی فوجوں، پاکستان کی عوام اور حکومت، اور عالمگیر سطح پر امریکہ اور مغربی مفادات کے لیے خطرہ بننے کے قابل ہوتے ہیں۔ افغانستان-پاکستان خطے کو گھمبیر انسانی تشویش کا بھی سامنا ہے، جس میں پناہ گزین اور کئی دہائیوں کی لڑائی کی وجہ سے انٹرنلی ڈسپلیسڈ پرسنز آئی ڈی۔پی ایس بھی شامل ہیں۔ مزید یہ کہ تقریباً تین ملین افغان پناہ گزین ابھی بھی پاکستان میں رہتے ہیں جو تیس برس قبل افغانستان پر روسی حملے کی وجہ سے بے گھر ہوئے تھے۔ امریکہ انسانی معاونت: پاکستان میں گزشتہ موسم گرما کے تاریخی سیلاب تباہ کن تھے۔ امریکہ کے تمام مشرقی ساحل کو زیرآب لانے کے لیے مئوثر طور پر مساوی خطرے کے حامل تھے۔ ان سیلابوں کے ردعمل میں امریکہ نے تاریخی سطح کی انسانی ہمدردی کی امداد فراہم کی۔ مجموعی طور پرامریکہ کے ہیلی کاپٹروں اور جہازوں نے 40,000 سے زائد بے گھر افراد کو منتقل کیا اور پاکستان کے عوام کو 26 ملین پائونڈز سے زائد امدادی سامان ترسیل کیا۔ ریلیف کی کاروائیوں کے دوران امریکی ہیلی کاپٹروں نے 5,000 گھنٹوں سے زائد طوالت کی پروازیں کیں۔ امریکی حکومت نے پاکستانی فوج کو ریسکیو کی کاروائیوں میں استعمال کے لیے زوڈئیک کشتیاں فراہم کیں اور سیلابوں سے بہہ جانیوالے پُلوں کی جگہ لگانے کے لیے آٹھ 50 میٹر طویل پُل فراہم کیے۔ پاکستانی فوج کے امریکی امداد: سیکیورٹی کے محاذ پر، پاکستان کو انسداد سرکشی کی مئوثر کاروائیاں کرنے کے قابل بنانے کے لیے مسلسل امریکی امداد اہم ترین ہے۔ ہماری افواج پاکستان کی بہتری کی جانب گامزن انسداد سرکشی کی صلاحیتوں کی معاونت میں اہم شراکت اور شمولیتی سرگرمیاں انجام دیتی ہے۔ ایک اہم مثال کے طور پر او ڈی آر پی پاکستان فرنٹئیر اسکائوٹس کو تربیتی معاونت فراہم کر کے اور انھیں انسداد سرکشی کی کاروائیوں کی صلاحیت میں اضافہ کر کے ان کی مدد کرتی ہے۔ امریکی عملہ تعلیم، بجلی اور خوراک کے بنیادی ڈھانچے کے لیے درکار سامان اور خام مال کے حصول میں بھی مدد کرتے ہیں۔ پاکستان کی کاروائیاں اور قربانیاں: پاکستان کی فوج نے ملک گیر تباہی پھیلانے والے سیلابوں کے اثرات کا مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ فاٹا میں جنگجو قبائیلیوں کے خلاف لڑائی میں متاثرکن اقدامات کیے ہیں۔ گزشتہ سال میں دشمن کے مضبوط ٹھکانوں کے خلاف پاکستان کی دیرپا کوششوں کی وجہ سے دشمن جنگی حالات نہیں رہے۔ فاٹا اور کے۔پی۔ کے میں شدت پسند عناصر کے خلاف جارحانہ کاروائی کے آغاز سے لیکر اب تک پاکستان کی فوج کا 2,500 سے زیادہ جانی نقصان ہوا ہے ان کے 500 فوجی کاروائیوں کے دوران جان بحق ہوئے اور 2000 سے زیادہ زخمی ہوئے۔ جون 2009 سے لیکراب تک، پاکستانی فوج فاٹا اور کے پی کے میں جنگجوئوں کے خلاف تقریباً مسلسل کاروائیوں میں مصروف رہی ہے۔ مجموعی طور پر پاکستانی فوج نے افغانستان کے ساتھ ساتھ اپنی مغربی سرحد پر 140,000 سے زائد فوجی تعینات کیے ہیں جن کا ایک اہم حصہ پاکستان کی انڈیا کے ساتھ سرحد سے ہٹا کر یہاں لگایا گیا ہے۔ علاقائی سیاق و سباق: پاکستان کی معاونت کی ہماری کوششیں وسیع تر علاقائی سیاق و سباق میں موزوں ہیں۔ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ پاکستان کا انڈیا کے ساتھ دیرینہ تنائو پاکستان کے فیصلہ سازی کے شماریات اور فوج کی تعیناتی کا ایک اہم حصہ ہوتا ہے۔ تاہم، شدت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہوں کی موجودگی افغانستان میں ہماری پیش رفت پر خاصی اثرانداز ہوتی ہے اور پاکستان کی فوجی کی مدد سے ہم سرحد پار کاروائیوں کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات اٹھا رہے ہیں۔ افغانستان پاکستان سرحد پر موجودہ چیلنجز، آئی ایس اے ایف کے ساتھ رابطے، افغان سیکیورٹی فورسز، اور پاکستانی فوج میں، بالخصوص انٹیلی جنس، سروئیلینس اور ری کانیسنسں آئی ایس آر میں مسلسل بہتری آ رہی ہے۔ ریجنل کمانڈ ایسٹ میں ہم پاکستانی فوج کے ساتھ مربوط کاروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ پاکستانی فوج نے حال ہی میں کنڑ صوبے کے پار واقع مہمند ایجنسی – جہاں سے سرکش باغی افغانستان میں سیکیورٹی کی حالیہ کامیابیوں کو کھوکھلا کرنے کے لیے حملے کرتے ہیں، میں سرکش باغیوں کے محفوظ ٹھکانوں کا قلع قمع کرنا شروع کر دیا ہے۔ پاکستان کی اپنی سرحد کے اندر کاروائیاں ایک "ہتھوڑے" کی مانند کام کر رہی ہیں افغان اورآئی ایس اے ایف افواج ایک "سندان" کی طرح کام کرتے ہوئے بکھرے ہوئے باغیوں کو شکست دینے کے لیے توازن کے ساتھ کھڑی ہیں۔ افغان بارڈر پولیس اور دیگر کمبائنڈ سیکیورٹی فورسز سرحد کے ساتھ ساتھ چوکیوں پر عملہ تعینات کر رہی ہیں، یہ مسلح ڈرون اور کم فاصلاتی جنگی ہوابازی سے لیس ہیں اور ماضی میں شناخت کردہ پہاڑی دروں کی نگرانی کر رہی ہیں جنہیں باغی افغانستان میں محفوظ جائے پناہ کی تلاش کے دوران استعمال کر سکتے ہیں۔ کانگریسی امداد: پاکستان میں ہماری کوششوں کے لیے کثیر سالہ سیکیورٹی تعاون اہم ترین ہے۔ ہم کانگریس کی پاکستان کے کائونٹر انسرجنسی کیپ ابیلیٹی فنڈ /انسداد سرکشی صلاحیت فنڈ کے لیے مسلسل حمایت کو سراہتے ہیں جو شدت پسندوں کے خلاف پاکستانی فوج کی کاروائیوں کے لیے کلیدی سہولت کے طور پر کام آتی ہے۔ یہ فنڈ پاکستان کے ساتھ تعلقات پر امکانی طور پر طویل مدتی تغیراتی اثرات کی حامل وسیع البنیاد شراکتی سرگرمیوں، اگر یہ برقرار رہ سکیں تو اسکا اہتمام بھی کرتا ہے۔ ایران کی عدم استحکام کی کاروائیوں کا انسداد ایران کی عدم استحکام کی کاروائیاں: ایران کے عدم استحکام کے رویے اور اس کے جوہری ہتھیاروں کی صلاحیت کے مستقل تعاقب کے پیش نظر، ایرانی حکومت کا موجودہ نقطہَ نظر علاقے کے لیے سب سے بڑے طویل مدتی خطرے کی نمائیندگی کرتا ہے۔ خود کو باقی خطے اور بیشتر بین الاقوامی برادری سے مزید علیحدہ اور تنہا کرتے ہوئے ایران باہمی تعلقات کی کوششوں کو مسلسل مسترد کرتا رہا ہے۔ ایرانی قیادت کی سرگرمیاں اس کی اپنی تعلیم یافتہ عوام کی صلاحیتوں کو ضائع کر رہی ہیں اور ایک روزافزوں درشت اور جابر حکومت کے بداندیش مفادات کے تحفظ کے لیے خیالات کے تبادلے کو قربانی کر رہی ہیں۔ حال ہی میں، ایک خیالی اور کلی طور پر غیرصحیح تعلق قائم کرتے ہوئے تہران نے مصری مظاہروں کو 1979 کے ایرانی اسلامی انقلاب کے مساوی قرار دیا۔ ترغیب، دبائو، جارحیت اور مقررہ ہدف پر پیغام رسانی کے ذریعے اس تمام خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے اور اثرورسوخ بڑھانے کے لیے ایرانی حکومت اسلامی القلابی گارڈ کور-قدس فورس آئی آر جی سی۔کیو۔ایف پر انحصار کرتی ہے۔ درحقیقت، اس پورے خطے میں عراق، لبنان، شام، غزا، افغانستان اور دیگر علاقوں میں ایجنٹوں، آلہَ کاروں، اور کارندوں کے گروہ کو رقم فراہم کرنے، مسلح کرنے، تربیت دینے اور لیس کرنے کا کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ لیونٹ کے مرکزی خطے میں ایران، لبنانی حزب اللہ اور حماس کو جائز حکمرانی کو کمزور کرنے، معاشی ترقی کو محدود کرنے، اور سیکیورٹی کی شراکت کو کھوکھلا کرنے کے کسی حد تک قابل بنانا چاہتا ہے، تا کہ اپنا اثرورسوخ پھیلانا چاہتا ہے۔ مزید یہ کہ ایران اپنے آلہء کاروں کو ہتھیار اور فوجی تربیت فراہم کرتا ہے جو کہ اسرائیل ایک قوم جسے تباہ کرنے کی ایرانی قیادت نے قسم کھائی ہوئی ہے کو نشانہ بنانے اور مشرقِ وسطٰی کے امن کے عمل میں رکاوٹ ڈالنے کی ایک کوشش ہے۔ اس سے زیادہ تشویش ناک امر یہ ہے کہ آئی آر جی سی-کیوایف عراق اور افغانستان میں ان جنگجوئوں کو مسلح کرنا جاری رکھے ہوئے ہیں جو امریکہ اور اتحادی افواج پر حملہ کرتے ہیں اور ان دونوں ممالک میں استحکام اور حکمرانی کی جڑِیں کاٹتے ہیں۔ حالیہ جنوری 2011 میں عراق میں امریکی افواج پر بڑے آئی آر اے۔ایم مارٹر حملوں نے ایران کی کینہ پرور نیت کا پول کھول دیا اور ان کی جب اور جہاں چاہیں تشدد کو ہوا دینے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔ ایران کی جوہری اور بیلسٹک میزائیل ہتھیاروں کے لیے سعی: اقوامِ متحدہ کی پابندیوں کے چوتھے دور کے باوجود، ایران اپنے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کو آخری نہج تک لیجانے میں پُرعزم معلوم ہوتا ہے – جو ایک ایسی خواہش ہے جو غیرقانونی جوہری مواد کے پھیلائو کا باعث بن کر خطے میں جوہری ہتھیاروں کی دوڑ شروع کروا سکتی ہے۔ ایڈمرل مُلن نے دسمبر 2010 میں اس نقطے پر اِن الفاظ کے ساتھ زور دیا تھا کہ میں ایران کو اس رستے پر سفر جاری رکھ کر جوہری ہتھیار تیار کرتے ہوئے دیکھتا ہوں اور میں یقین رکھتا ہوں کہ یہ مقصد رکھنا اور حاصل کرنا خطے کے لیے عدم استحکام لائے گا۔ ایران اپنے 2,200 بیلسٹک میزائیلوں اور لمبی رینج والے راکٹوں اور تقریباً 225 نصب شدہ اور موبائل لانچرز کے ذخیرے میں اضافہ بھی جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ مشرقِ وسطٰی میں سب سے بڑی بیلسٹک میزائیل اور لانگ رینج راکٹوں کی حامل قوت بن سکے۔ ایران ان بیلسٹک میزائیلوں اور راکٹوں کو، بڑھتی ہوئی بحری طاقت کے ساتھ، عالمی تجارت کے لیے خطرہ بننے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ ایران کی عدم استحکام کی کاروائیوں کا انسداد کرنا اور اپنے شراکت داروں کے ساتھ امن برقرار رکھنا: ایران کے بارے میں امریکی حکومت کے وسیع البنیاد نقطہء نظر کے اندر رہتے ہوئے، سینٹکام ایران کی عدم استحکام اور ترغیبی کاروائیوں کا انسداد خطے میں موجود اپنے شراکت داروں کے ساتھ اعتماد سازی کے ذریعے پُرعزم ہے۔ ایک مثال کے طور پر ہم گلف کوآپریشن کونسل کے شراکت داروں اور دیگر اقوام کے ساتھ انٹگریٹڈ ائیر اینڈ میزائیل ڈیفنس میں ترقی کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔ ہم خطے میں اپنے دوستوں کو اپنے ساتھ کا احساس دلانے، تنازعے کی ابتداء اور ایران کی عدم استحکام کی سرگرمیاں روکنے کے لیے کاروائیاں بھی کرتے رہتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ہنگامی کاروائیاں سرانجام دینے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ عراق میں تبدیلی کو قابلِ عمل بنانا عراق میں مستقبل: عراق میں آئندہ سال علاقائی استحکام کے اس کلیدی پتھر کے لیے طویل مدتی حمایت امریکہ کے لیے اہم موقع کو ظاہر کرتا ہے۔ عراق میں ہماری مسلسل سرمایا کاری اس موقع پر، بالخصوص زندگیوں اور کامیابی کے لیے ہمارے اہم عزم کے پیشِ نظر، انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ عراق میں ہمارے مشن کے حوالے سے اب یہ وہ وقت نہیں ہے کہ اشرفیاں لوٹیں اور کوئلوں پر مہر لگائیں۔ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی ایک پائیداد یو۔ایس-عراق اسٹریٹیجک شراکت سے پیوستہ سینٹکام اپنے ممالک کے مابین مشترکہ قربانیوں کی بنیاد پر آگے بڑھنے کے لیے قواعد طے کر رہی ہے۔ عراق میں صورتحال: عراق طویل نسلی اور فرقہ ورانہ بے اعتمادی، سیاسی جماعتوں کے درمیان کشیدگی اور بنیادی سہولیات فراہم کرنے کی لیے آزمائشی حکومتی صلاحیت کا سامنا کر رہا ہے۔ عراق میں القاعدہ اے کیو آئی عراقی حکومت کو نقصان پہنچانے سے وابستہ ہے اور منظم، اعلی پیمانے پر حملے کرنے کی اہل ہے۔ اسی طرح ایران سے متاثر اور ہتھیار سے لیس نمائندے بھی عراقی تحفظ اور طرز حکمرانی کے لیے مسلسل خطرہ ہیں۔ حالانکہ 2007 کے وسط میں ہونے والے فرقہ ورانہ تشدد کے مقابلے میں عراق میں تحفاظتی صورت حال بہت بہتر ہوئی ہے۔2003 سے لے کر اب تک، تشدد اس وقت سب سے کم درجے پر ہے، عراق بہت نمایاں سیاسی، معاشی اور تحفظاتی خطروں کا مسلسل سامنا کر رہا ہے۔ آنے والے سالوں میں، کئی عناصر عراق کے دور رس فیصلوں کا تعین کریں گے، بشمول عراقی سیکیورٹی فورسز آئی ایس ایفکی جاری ترقی، نو خیز حکمران اتحاد اور وہ درجہ جس پر ملک ایران کے زیر اثر ہے اور اے کیو آئی اور شیعہ نفری جیسے عناصر سے خوف ذدہ ہے۔ متحدہ امریکہ کی افواج – عراق: اب سے لے کر اس سال کے آخر تک متحدہ امریکہ کی افواج – عراق یو ایس ایف – آئی اس تاریخ ساز عبوری دور میں آئی یس ایف کے ساتھ شراکت جاری رکھے گی۔ یو ایس ایف – آئی سرگرمیوں کا سلسلہ شروع کر رہی ہے ان میں آئی یس ایف کو مظبوط بنانا، حفاظت سے متعلقہ سرگرمیاں عراق اور یو ایس انٹر ایجنسی کے حوالے کرنا اور حدود کا نظم و نسق اور وزرائی ترقی سب سے اہم ہیں۔ او ایس سی – آئی کا قیام: یو ایس ایف – آئی اور سفارتی ملکی ٹیم کی شراکت داری کے زریعے، ہم اس سال جون میں آفس آف سیکیورٹی کوآپریشن – عراق او ایس سی – آئی کا باضابطہ آغاز کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں اور امید کی جاتی ہے کہ اس اکتوبر تک یہ مکمل طور پر کام کرنے لگے گا۔ او ایس سی – آئی ہماری آئی ایس ایف کے ساتھ شریک کار کی استعداد بڑھانے کی طویل مدتی مہم کا سنگ بنیاد ہے۔ اس کے ساتھ، او ایس سی – آئی ملٹری سے ملٹری تک کے تعلقات جاری رکھنے کو بھی یقینی بناۓ گی جو عراقی سیکیورٹی فورسز کو ہدایات، تربیت اور معاونت دیں گے۔ عراق کی علاقائی یکجائی: ماضی کی صری میں ہمسائوں کو حفاظتی مشکلات پیش کرنے والا عراق اب اس دوراہے پر کھڑا ہے جہاں سے وہ علاقے کے لیے ایک مثبت طاقت کے طور پر تیار ہے۔ عرب لیگ سمٹ کے لیے بغداد کا چناؤ بطور میزبان مقام علاقے میں عراق کے واپس اُبھرنے کا ایک واضح ثبوت ہے۔ عراق نے مصر کی دعوت کو بھی قبول کیا ہے کہ وہ سینٹکام کی بڑی مشق، برائٹ سٹار، میں بطور مبصر شرکت کرے۔ اردن نے بھی عراق میں 1،500سے زائد عراقی فوجی افسران، عراقی ہوآئی فوج کے پائلٹوں کی تربیت کر کے اور بغداد میں اردن کا دفاعی اتاشی تعیانات کر کے بشمول عراقی پولیس کی تربیت کے لیے ایک جامع پروگرام کی میزبانی کر کے کافی مثبت اثر چھوڑا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ ، اردن، سعودی عرب، اور کویت نے عراق کی کاروباری سرگرمیوں میں بحالی کے لیے معاشی امداد کی اور بار برداری کا جاری لائحہ عمل ترتیب دیا۔ آخر میں متحدہ عرب امارات نے جاپان اور جرمنی کے ساتھ شراکتی پروگرام میں عراقی پولیس افسران کو تربیت دی۔ عراق کے علاقے میں تعمیری تکمیل ایران کے بے باک تخنیبی اثر کو ختم کرنے میں بھی معاون ہو گا۔ اگر تہران کی دخل اندازی سے دوچار ہونے کے لیے چھوڑا تو عراق کا با اقتدار مستقبل خطرے میں پڑ جاۓ گا۔ اب جبکہ ایران، عراق میں دوبارہ خانقاہیں تعمیر کر رہا ہے، برقی قوت فراہم کر رہا ہے اور اسکول اور کلینک تعمیر کر رہا ہے اس کے ساتھ ساتھ ایران عراق کے سیاسی عمل کو تباہ کر رہا ہے، معصوم عراقی شہریوں کے خلاف تشدد کی سہل کاری کر رہا ہے اور ان شدت پسندوں کی مہلک ہتھیاروں کی امداد کر رہا ہے جو امریکی فورسز کو نشانہ بناتے ہیں۔ امریکہ اور بین القوامی کمیونٹی کے لیے، مستحکم اور بشمول حکومت کے تحت با اقتدار عراق علاقائی استحکام کے لیے لازمی ہے۔ کانگرس کی امداد: عراق میں پر اثر عبوری حکومت کی سہل کاری کے لیے اور قائم رہنے والی یو ایس – عراق شراکت داری کے لیے حالات ترتیب دینے کے لیے کانگریس کی حمایت بہت ضروری ہے۔ ہم کانگریس کی حمایت ایف واۓ 11 میں مناسب حکام حاصل کرنے کے لیے ڈھونڈتے ہیں کہ او ایس سی –آئی کے لیے فوری سہولت اور جگہ پر کام شروع کریں تاکہ یہ اکتوبر 2011 تک کام انجام دینے کی مکمل صلاحیت تک پہنچ جاۓ۔ یہ اشد ضرورت والا موضوع ہے کیونکہ ہم اپنے جارحانہ وقتی حدود تک پہنچنے کے لیے کام کرتے ہیں۔ عراقی سیکیورٹی فورسز کا فنڈ عراق کو فیصلہ کن طور پر اس قابل بناتا ہے کہ وہ اپنے اندرونی اور بیرونی دفاع کی بنیادیں ترتیب دے اور عراقی وزیر داخلہ کو وزارت دفاع کی مدد کے بغیر پولیس فورس کو وہ تربیت اور آلات دے جو اندرونی دفاع کو قائم رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آئی ایس ایف ایف عراقی فوج کو بغاوت ختم کرنے کی صلاحیت کے قابل بناتی ہے اور عراقی حکومت اور کرد پولیس فورس کے مابین تعاون کو بڑھاتی ہے تاکہ عراق بھر میں پولیس کی تربیت اور آلات کے معیار کی مطابقت کو یقینی بناتی ہے۔ وسطی ایشیائی شراکت داری کو مظبوط کرنا وسطی ایشیاء میں سینٹکام ان تعلقات کو مضبوط کرنے میں جتی ہوئی ہے جن کا انحصار ان متفقہ دلچسپیوں اور مقاصد پر ہے جو ہمارے اور وسطی ایشیائی ریاست کازکستان، کریغستان، تاجکستان، ترکمنستان اور ازبکستان کے ایک جیسے ہیں۔ اس وقت جب ہماری اقوام وسیع معاشی صورتحال کو بہتر بنانے میں لگی ہوئی ہیں، سینٹکام ہمارے ساتھیوں کے ساتھ شدت پسندوں کی وسطی ایشیا میں مہاجرت پر کام کر رہی ہے اور ناجائز نشہ آور اشیاء کی تجارت اور انسانی تجارت کو روکنے میں مصروف عمل ہے۔ اکثر سرگرمیاں ایک دوسرے کو باہم مربوط کرتی ہیں۔ شمالی تقسیم کاری کا نیٹ ورک ناردرن ڈسٹریبیوشن نیٹ ورک: گذشتہ دو سالوں میں ہماری اپنے وسطی ایشیا کے ساتھیوں کے ساتھ مدد کے زمرے کا سب سے وسیع حصہ مظبوط بار برداری کے نیٹ ورک کی ترقی رہا ہے۔ ہمارے کریغستان، کازکستان، تاجکستان، اور ازبکستان کے ساتھ مشترکہ معاہدہ نے ایک لوجسٹیکل سسٹم بنایا ہے جسے ناردن ڈسٹریبیوشن نیٹ ورک این ڈی این کہتے ہیں جو افغانستان میں اتحادی کاروائیوں کے لیے سپلائی کرتا اور سپلائی کے پاکستانی راستوں سے دباؤ ہٹاتا ہے۔ یہ متنوع نیٹ ورک مختلف بحری، ہوائی اور زمینی راستوں کا استعمال کر کے افغانستان کے لیے تمام معاونتی مواد کا تقریبا آدھے کی منتقلی میں معاونت کرتا ہے۔ باقی کا بچا ہوا سامان براہ راست افغانستان پہنچایا جاتا ہے، ایک جہاز سے دوسرے جہاز پر لادتے ہوۓ بحری رسد سے ہوائی رسد یا وہ پاکستان سے خشکی کے راستوں کے زریعے پہنچتا ہے۔ حتما" این ڈی این اور اس سے متعلقہ انفرا سٹرکچر کی ترقی اور وسعت، وسطی اور جنوبی ایشیا کے خام مال کی برآمد اور بین القوامی منڈی میں اشیاء کی ادلا بدلی کے لیے نئی راہ پیش کرتے ہوۓ علاقے میں طویل مدتی معاشی نشو نما کو سہل کرے گا۔ ناردرن ڈسٹریبیوشن نیٹ ورک کو تقویت دینا: مستقبل میں این ڈی این کی کوششیں کچھ ممالک کے ساتھ شراکت پر مرکوز ہیں تاکہ ہر قسم کے پہیوں والی سواری اور ان کے متعلقہ مرمت کے حصوں کے لیے دو طرفہ گزرنے کی اجازت دیں اور این ڈی این پر پہلے سے اجازت یافتہ جہاز پر لادے جانے والے سامان جیسے کہ تعمیراتی مواد کا لداؤ زیادہ کریں۔ ہوائی رسد کے زمرے میں کریغستان میں مانس ٹرانزٹ سینٹر اہم ایشیائی مقام ہے جو ہوائی جہازوں کو ایندھن فراہم کرنے اور مسافر برداری کی مہمات میں مدد کرتا ہے۔ ساتھی کی استعداد بڑھانا اور اشتراکی سرگرمیوں کو بڑھانا
باہمی مفادات پر مبنی اشتراک: ساتھی ملک کیےسیکورٹی فورسز کی صلاحیت بڑھانے کے لیے عسکری تا عسکری مصروفیت کے عمل میں ہم جو سرمایہ کاری کر رہے ہیں وہ علاقے میں جامع حکومت کا بہت اہم عنصر ہے۔ یہ نفع بخش کاوشیں حفاظتی ذمہ داریوں کو دوسری با اقتدار حکومت کے حوالے کرتی ہیں اور کشمکش اور عدم استحکام کو روکتی ہیں۔ دور رس تناظر کے ساتھ، سینٹکام ہماری شراکت داری کی سرگرمیوں کو جاری رکھتی ہے جو حفاظتی استعداد اور علاقے میں ہمارے دوستوں کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے کے لیے ترتیب دی گئی ہیں۔ تربیت: سینٹکام کی ہمارے ساتھیوں کے ساتھ تربیت اور تبادلے ہمارے علاقائی مفادات کے لیے بہت اہم ہیں۔ سینٹکام نے ہمارے اتحادیوں اور ساتھیوں کو بین الاقوامی معیار کی مہم کی مخصوص تربیت دیتے ہوۓ ساتھی ممالک کی میزبانی میں کئی ٹریننگ سینٹرز آف ایکسیلینس کی تشکیل میں پہل کی ہے۔ موجودہ سینٹرز آف ایکسیلینس میں متحدہ عرب امارات میں ائیر وار فیئر سینٹر اور انٹیگریٹیڈ ائیر اینڈ میزائل ذیفنس سینٹریو اے ای، اردن میں شاہ عبداللہ کا سپیشل آپریشن ٹریننگ سینٹر، کازکستان میں نیٹو پارٹنرشپ فار پیس کوم بیٹ انجینئیرنگ اینڈ انٹرپول کاؤنٹر ناکوٹک سنٹر، اور تنظیموں کی وسیع ترتیب بشمول دوسرے ملکوں کے پروفیشنل ملٹری ایجوکیشن پروگرام۔ سینٹر جن کو بتر کیا گیا مشتمل ہے۔ بحرین میں موجود این اے وی سی ای این ٹی میری ٹائم سینٹر؛ سعودی عرب میں نیا ایکسپلوسوز آرڈیننس ڈسپوزل اسکول جس کے ساتھ ہے مستقبل کا سینٹر آف ایکسیلنس، بحرین میں مجوزہ نیئر ایسٹ ساؤتھ ایشیا این ای ایس اے برانچ سینٹر آف ایکسیلنس اور بحرین کے وزیر اطلاعت کی طرف سے گلف ریجن کمیونیکیشن، کمپیوٹر، کمانڈ اینڈ کنٹرول سی 4 سینٹر آف ایکسیلنس۔ تبادلے: سینٹکام تھیٹر سیکیورٹی کوآپریشن پلان کی معاونت کے لیے سینٹکام اے او آر میں موجود مخصوص ساتھی ممالک کے ساتھ مخصوص مصروفیت کے پروگرام کا انتظام اور انصرام کرتی ہے۔ اس کا مقصد ہمارے دوست کے خیالات جاننا اور تعلقات اور علاقائی تنظیموں کم مضبوط کرنا ہے تاکہ ان پرتشدد شدت پسندوں کے نیٹ ورک یا حالات کو شکست دی جاۓ جن سے علاقے اور یو ایس کو خطرہ ہے۔ اس میں استعداد بڑھانا شامل ہے۔ مزید براں، سینٹ کام کا صدر دفتر ٹیمپا میں ہے، ایف ایل 58 مدد گار ممالک سے 193 سے زیادہ اتحادی ساتھیوں کی میزبانی کرتی ہے اور یو ایس فورسز اور ہمارے مددگاروں دونوں سے نایاب تجربہ حاصل کرتی ہے۔ ضروری آلات سے لیس کرنا: ہم اپنے علاقائی ساتھیوں کو ضروری آلات اور حفاظتی تعاون بھی مہیا کرتے ہیں۔ یہ سرگرمیاں ان عملی اقدامات میں سب سے اہم ہیں جو ہم سینٹکام کے قائم رہنے والے عہد کا مظاہرہ کرنےاور لڑائی کے درمیان فوجوں کو قابل عمل بنانے کے لیے اٹھا سکتے ہیں۔ میں ان کوششوں کے لیے اجتماعی تعاون کا کہتا ہوں بشمول عالمی تربیت اور آلات، ساتھ ساتھ تحفظاتی امداد کے متعدد پروگرام جن کا انتظام سٹیٹ ڈپارٹمنٹ، بشمول فارن ملٹری فائنینسنگ ، فارن ملٹری سیلز،اور آئی ایم ای ٹی پروگرام۔ جیسا کہ ایڈمرل ملن نے اپنی تحریری شہادت میں رقم کیا ہے، ہمارے تحفظاتی تعاون کے مختیار کار بے لچک ہیں اور طریقہ کار آج کل کے سیکیورٹی چیلنز کو بروقت توجہ دینے کے لیے ناموافق ہے۔ ہم فارن ملٹری فائنینسنگ کے سلسلے کے لیے جاری کوششوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں تاکہ ہم تربیت اور اپنے اہم ساتھیوں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کریں۔ سینٹکام میں اپنے مشن کی تکمیل کے لیے جب ہم بین الاقوامی نظم و نسق کے بچاؤ کے لیے بڑھتے ہوۓ خرچوں کو اکیلے نہ اٹھا سکیں تو ہمیں چاہیۓ کہ ہم اپنے شراکت داروں کی درخواست پر اپنے رد عمل کا مظاہرہ کریں۔ مشقیں: ملٹری کی مشق کا پروگرام سینٹکام کی شراکت داری کی سرگرمیوں میں حتمی ستون ہے۔ مشقیں ہماری فورسز اور ساتھیوں کے مابین موزوں افعال کو تقویت دیتی ہیں۔ ہر سال ہماری کومپوننٹ کمانڈ علاقے میں ہمارے شراکت دار ممالک کے ساتھ 50 سے زائد مشقیں کرتی ہے بشمول 5 سینٹکام کی زیر نگرانی۔ ہمارے مشق کے پروگرام کے دور رس اوصاف: مسلح کمانڈرز مشق اور انگیجمنٹ پروگرام سینٹکام کے مشترکہ تربیتی سپورٹ ، قومی سطح کی حکمت عملی کی ترجیحات میں تربیت اور عمل کی ضروریات ، تیاری، اور اے او آر میں شراکت داری بنانے میں ضروری معاونت فراہم کرتا ہے۔ 2001 میں ہمارے افغانستان میں آپریشن کے وقت سے، سینٹکام نے اے او آر میں جاری لڑائی کی کاروائیوں کی وجہ سے ہماری مشق میں کمی دیکھی ہے ۔ جیسے ہی لڑائی کی کاروائیاں مکمل یا کم ہوتی ہیں ویسے ہی اپنے ساتھیوں کے ساتھ امدادی عمل کی سرگرمیوں کے لیے حسب ضرورت فنڈ بحال کرنا مشکل ہوتا ہے۔ حسب ضرورت فنڈ کی بحالی کے بغیر، سینٹکام ، اے او آر کے اندر مستقبل میں رسائی اور حاضری اور تھیٹر سیکیورٹی کوآپریشن پلان پر اثر انداز ہوتے ہوئے نظم و ضبط کی مشق اور انگیجمنٹ پروگرام سے حاصل ہونے والے فوائد سے محروم ہو سکتا ہے۔ دریں اثناء، ہم اپنے مشق کے بجٹ کو بہترین طور پر استعمال کرنے کے لیے تخلیقی طور پر کام کریں گے۔ علاقے بھر میں پرتشدد شدت پسند تنظیموں میں ابتری پھیلانا
دہشتگرد جھوٹے مزہبی لوگوں کے بھیس میں: سینٹکام اے او آرمتعدد پر تشدد شدت پسند تنظیموں وی ای او ایس کا گھر ہے جو مشتمل ہے ایک نیٹ ورک پر اپنےطور پر جو کہ امریکہ کی ملت، امریکہ اور مغربی مفاد اور علاقے میں ہمارے اتحادیوں کے لیے کافی خطرہ ہے۔ ان میں سب سے نمایاں اے کیو ہے۔ اے کیو اپنے اخلاق سے عاری نظریہ کو دنیا بھر میں مسلط کرنے کی کوشش میں ہے، اور اس کے علاقائی دفاتر قطعہ عرب میں ، عراق میں، مغرب میں، صومالیہ ال شباب میں، اپنے معاون ساتھیوں کے ساتھ، جو کہ مشتمل ہیں تحریک طالبان پاکستان ٹی پی ٹی، افغانستان کے طالبان، لشکر طیبہ ایل ای ٹی ہیں۔ وی ای او ایس کے مابین بڑھتی ہوئی تنظیمی امداد مافیا کے فروغ کو دہرا رہی ہے۔ وی ای او ایس کی تنظیمی کامیابی اکثر سائبر سپیس میں قریبا" آزادی کے ساتھ کاروائی کرنے کی وجہ سے معاون ہوتی ہے۔ وی ای او ایس پر حملے: سائبر اور زمینی علاقوں میں دہشتگردوں کے نیٹ ورک میں ابتری پھیلانے اور انہیں ذلیل کرنے کے لیے سینٹکام اپنی ایجنسی اور علاقائی ساتھیوں کے ساتھ مل کر میدان جنگ میں حملے بڑھا اور رو بہ عمل لا رہی ہے۔ پچھلے سال کے عرصے میں انٹر ایجنسی کی کو ششوں کے نتیجے میں، مالیات سے متعلقہ متعدد عہدے ، انصاف محکمے آریسٹ وارنٹ، انٹر پول نوٹس حاصل کرتے ہوئے، اور 100 سے زائد افراد اور املاک کو امریکی ڈپارٹمنٹ آف کامرس ڈینائل لسٹ پر رکھتے ہوۓ، القاعدہ کو خطہ عرب میںاے کیو اے پی اور ٹی ٹی پی کو بیرونی دہشتگرد تنظیم متعین کیا ہے۔ کانگرس کا رقم مہیا کرنے کا شکریہ، مالی سال 2010 میں عراق اور افغانستان میں 700 سے زائد افراد، باغیوں اور دہشگردوں کو پکڑنے کے لیے دفاع کے محکمے ریوارڈ پروگرام کا استعمال ہوا۔ حفاظتی تعطل سے بچاؤ: آنے والے طویل مدت میں، سینٹکام ایک باضابطہ شہری عسکری کاوش کے حصہ کے طور پر کام کررہا ہے تاکہ اس حفاظتی تعطل کو روکیں جو شدت پسندی کو اُکساتی ہے اور وی ای او ایس کو پناہ گاہ فراہم کرتی ہے۔ یمن میں ہم نے سینٹکام اور ثناء میں ہمارے سفارتخانے کی ٹیم کے درمیان مضبوط تعلق بڑھایا ہے تاکہ اے کیو اے پی کے بڑھتے ہوۓ خطرے سے طویل مدتی دہشت گردی کا جواب دینے کے لیے استعداد بڑھانے کے زریعہ نمٹا جائے۔ اے کیو اے پی نے اپنا کردار امریکہ کے ملک کے لیے ایک پنپنے اور قائم رہنے والے خطرے کے طور پر جمایا ہے، جسے اکتوبر 2010 کے اواخر یں ترتیب دیۓ جانے والے 25 دسمبر کے "پرنٹر کارٹریج" پارسل بم سے نارتھ ویسٹ ائر لائن کی پرواز 253 کو اڑانے کی ناکام کوشش سے تسلسل قائم رکھا ہے۔ مزہبی انتہا پسند انوار ال اولاقی نے مغرب کے خلاف اے کیو اے پی ایس کی مہم کی پیش روی کی ہے سب سے زیادہ نمایاں اسپائر میگزین کی تخلیق ہے جو مغربی بنیاد کے مسلمانوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور الگ تھلگ رہ کر کام انجام دینے والے طریقے کے حملے کرواتا ہے۔ لبنان میں لبنان کی آرمڈ فورسز ایلا ے ایف کو ایک مشکل صورتحال سے راستہ نکالنا پڑا تھا جس میں ابھی تک ملک میں تشدد کی اجارہ داری نہیں تھی۔ ہماری امدادی کاروائی کے مقام پر خاطر خواہ اثر ہوا جس مں لبنان کی مسلح فورسز ایلا ے ایف کا 2006 سے یو این ایچ سی آر 1701کا ساتھ دینے کے لیے جنوب میں چار بریگیڈ تعینات کرنے کے لیے تعاون شامل ہے - اس قطعہ کو حاصل کرتے ہو جہاں کبھی حزب اللہ تھی ۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم نے ، لبنان کی آرمڈ فورسز ایلا ے ایف کی مخصوص کاروائی کرنے والی افواج کی بھی استعداد بڑھائی ہے، جس نے 2007 میں شمالی لبنان میں نہر ال برید فلسطینی ریفیوجی کیمپ میں القاعدہ سے منسلک فتح ال اسلام کی تحریک کے خلاف شدید دشوار لڑائی جیتی تھی۔ اس کاروائی میں لبنان کی مسلح فورسز ایلا ے ایف کی ہمت بندھی تھی 200 مارے گۓ تھے اور 2000 زخمی ہوئے تھے۔ ہم لبنان کی مسلح فورسز ایلا ے ایف آفیسرز کارپس کے ساتھ دو طرفہ عزت اور اعتماد کی بنیاد پر بنے تعلق کی قدر کرتے ہیں۔ ہم لبنان میں حکومت بننے کے طریقہ کار پر نظر رکھے ہوئے ہیں اورہمارے تعلقات سے متعلق کسی قسم کا فیصلہ کرنے سے پہلے ہمیں اگلی حکومت کی حتمی ساخت، پالیسیوں اور رویوں کی جانچ کی ضرورت ہو گی، بشمول حفاظتی تعاون کے، جبکہ اس بات کی شناختت کرتے ہوئے کہ لبنان کی آرمڈ فورسز ایلا ے ایف کے ساتھ جاری کام اس کے غیر سیاسی، غیر فرقہ ورانہ اور پیشہ ور تنظیم کے طور پر اپنی حیثیت کے تحفظ کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ شام میں دہشت گرد تنظیموں کو نظام حکومت سے مسلسل ملنے والی امداد سینٹکام کو ملٹری تا ملٹری تعلقات سے روکتی ہے اور امریکہ کے کام کے دائرہ عمل کو محدود کرتی ہے۔ نتیجتہً، ہم امریکی سفیر کے دمشق واپس آنے کو ہمارے علاقائی تحفظ کی ساخت کے اہم حصے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ہم سفیر فورڈ کی سفارتی کوششوں میں تعاون کے لیے تیار کھڑے ہیں تاکہ ہم شام کے ساتھ جتنا ہو سکے زیادہ تعمیری تعلقات پیدا کر سکیں اور سینٹکام سے اصرار کرتے ہیں کہ کہ وہ ان کی نامزدگی کی توثیق کرے تاکہ وہ 2011 کے بعد اپنا ضروری کام جاری رکھے۔ علاقے بھر میں، تھیٹر سیکیورٹی کارپوریشن ایکٹیویٹیز ایران اور شدت پسند عناصر کی علاقے کو غیر مستحکم کرنے کی صلاحیت کے خلاف کام کر رہا ہے۔ ان پروگراموں کو ترک کریں تو حفاظتی تعطَل سے نکلنے کے زیادہ امکانات ہیں اور ایران پر تشدد کرداروں کے زیادہ اثر کے لیے دروازہ کھولنا ہے۔ ان خطروں سے نمٹنے کی طویل مدتی کوشش کے لیے علاقائی ساتھیوں کے ساتھ ہماری امدادی کوششیں بہت اہم ہیں۔ دشمنوں کے معلوماتی ماحول کے استعمال کا توڑ کرنا: ہمارے دشمن معلوماتی ماحول کے میسر ہر زریعے کا استعمال کر رہے ہیں تاکہ اپنے تصورات کو پھیلائے اور تقویت دے ۔ اور ہمارے انٹر ایجنسی شراکت دارروں کے ساتھ سازش کریں۔ سینٹکام ہمارے ان مخالفین کی کوششوں کا جواب دینے پر ڈٹا ہوا ہے۔ ہمارے دشمن سائبراسیس کے اندر سے کاروائی کرتے ہیں اور ان سے متعلقہ جڑے ہوۓ مادی ڈھانچے تاکہ امریکہ اس کےاتحادیوں اور ان کے مفاد کے خلاف کاروائی کے لیے امداد کی منصوبہ بندی، ترتیب، بھرتی، تربیت، آلات سے لیس، عملدرآمد، اور زخیرہ کرے۔ عمر فاروق عبددل مطلب، کرسمس ڈے کا ناکام بمبار، کی بھرتی ہمارے دشمن کی بارڈر کے پار پہنچنے کی صلاحیت ، اپنے بیان کی تشہیر اور اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے روایتی ملٹری ساخت کا کھلے بندوں مقابلےکا مظاہرہ کرتی ہے۔ واضح طور پر، معلومات کے زمانے میں ہماری ملٹری اپنےآپ کو جنگ و جدل کی نئی عملداری کے مطابق ڈھالے۔ ہم کانگریس سے مدد کی درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ان پروگرموں کی مالی امداد کرے جو معلومات کے زمرے میں ہمارے دشمن کو جوابی کاروائی کی کوشش کرتے ہیں ، بالکل اسی طرح جیسے ہمیں زمینی علاقے میں شدّت پسندوں میں ابتری پھیلانے کے لیے مالی امداد کی ضرورت ہوتی ہے۔ معلوماتی ماحول میں سینٹ کام کی سرگرمیاں: پچھلے دسمبر میں سیکریٹری گیٹس کی طرف سے مہیا ہونے والی متواتر رہنمائی سے، ہم نے آپریشن ایمسٹ وائس او ای وی انجام دیا جو کہ ہمارے معلوماتی عملیات کی تمام سرگرمیوں کو مربوط کرتا اور ان کی نگرانی کرتا ہے۔ او ای وی خود کش بمباروں کی بھرتی اور تربیت میں ابتری پھیلانے کی سعی کرتا ہے، ہمارے مخالفین کو محفوظ پناہ گاہوں سے محروم کرتا ہے اور شدت پسند تصورات اور تشہر کا مقابلہ کرتا ہے۔ او ای وی کی مکمل مالی امداد دشمن کے بیانات کی تذلیل سے متعلق تمام سرگرمیوں کی حمایت کرتی ہے، بشمول ویب پر مصروفیات اور ویب بر منحصر اشیاء کی تقسیم کی صلاحیتوں کے۔ ہمارے دشمنوں کی سائبر اسپیس میں پر اثر مصروفیت، ہم سے روایتی ملٹری سرگرمیوں کو ان کے خلاف اسی جگہ پر، کل وسعت میں انجام دینے کی صلاحیت مانگتی ہے، بشمول معلوماتی کاروائی اور اسٹریٹیجک کمیونیکیشن کے تمام پہلوؤں کے۔ ہم اپنے مشترکہ عملے، انٹر ایجنسی، انٹیلیجنس کمیونٹی، اور اتحادی ساتھیوں کے ساتھ باہم مل کر مخالفین کا سائبر اسپیس کے استعمال کا معائنہ کرتے ہیں اور تراکیب، تدابیر اور طریقہَ کار کی شناخت کرتے ہیں کہ ہم انہیں سائبر کے میدان میں اپنے مخالفین سے مقابلے میں استعمال کر سکیں۔ مہلک تباہی کے ہتھیاروں سے مقابلہ ڈبلیو ایم ڈی
ڈبلیو ایم ڈی سے خطرہ: سینٹکام میں ہم سنگین خطرے اور امکانی تباہی کی شاخوں والے دہشتگرد گروپ ، شدت پسند تنظیموں ، یا ریاستی کردار جو حاصل کر رہے ہیں، افزائش کر رہے ہیں اور انکو پہچانتے ہیں جو ڈبلیو ایم ڈی کا استعمال کر رہے ہیں۔ شدت پسند گروپوں، ضرر رساں ریاستی کرداروں اور ڈبلیو ایم ڈی کے مابین رابطہ ، اے او آر میں ایک سرے سے دوسرے سرے تک سنگین اندیشہ رہا ہے اور ہمارے شراکت داروں، اتحادیوں اور امریکہ کی ملت کو واضح خطرہ پیش کرتا رہا ہے۔ سینٹکام ڈبلیو ایم ڈی سے لڑنے کے لیے امریکہ کی نیشنل اسٹریٹیجی کے غیر افزائشی، افزائش کے خلاف جوابی کاروائی اور بیرونی نتائج کے انتظامی ستونوں سے کام لینے میں چوکس رہا ہے۔ افزائش کے خلاف جوابی کاروائی اور ڈبلیو ایم ڈی سے مقابلہ: سینٹکام ڈبلیو ایم ڈی سے مقابلے کی تمام کوششوں کا بنیادی جزو ، ڈبلیو ایم ڈی سے متعلق تمام مواد کی افزائش کے خلاف جوابی کاروائی کررہا ہے۔ اپنے علاقائی شراکت داروں کے ساتھ اتفاق رائے سے، سینٹکام انٹر ایجنسی کاوشوں میں مصروف ہے تاکہ ڈبلیو ایم ڈی سے متعلقہ اشیاء کے حصول کے لیے صلاح کاروں کی فائنانس کی صلاحیت کو کم کرے اور ضرر رساں کرداروں کی مشتبہ دوہرے استعمال کے مواد کی ملکی حدود کے پار سے بار برداری کی صلاحیت کو رد کرے۔ اس سرے پر، سینٹکام ایران کے جوہری ہتھیاروں کے لیے ظاہری وجوہات حاصل کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے جو کہ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی عملی طور پر نافذ شدہ قرارداد جو ایرانی نظام حکومت پر پابندیاں عايد کرتی ہے کی معاہدہ براۓ جوہری غیر افزائش کی خلاف ورزی ہے۔ سینٹکام ، پرولیفریشن سیکیورٹی انیشی ایٹو پی ایس آئی کے تحت افزائش کی ممانعت اور جوابی کاروائی کے لائحہ عمل کی بھی حمایت کرتا ہے۔ کوآپریٹو ڈیفنس پروگرام سی ڈی پی سینٹکام کی ڈبلیو ایم ڈی سے مقابلہ کی سرگرمیوں کا پشت پناہ پروگرام ہے ۔ سی ڈی پی شراکت دار ممالک کی ڈبلیو ایم ڈی سے مقابلہ کی صلاحیتوں کو مضبوط کرتے ہوئے، امریکہ اور شراکت دار ممالک کی کاروائی کے درمیان بہتری کے دو فریقی یا کئی فریقی سرگرمیوں کا سلسلہ فراہم کرتا ہے ۔
قذاقی حملوں کا دفاع
قذاقی کا حقیقی اور بڑھتا ہوا خطرہ: صومالیہ میں متعین قزاقوں نے خلیج عدن، بحیرہ احمر، اور بحر ہند میں کھلے سمندروں میں بین القوامی بحری جہازوں کو اپنا ہدف بنانا جاری رکھا۔ قزاق پہلے سے قبضہ کیے گۓ جہازوں کو بیڑے کے ممتاز سفینے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں تاکہ صومالی ساحل 1400 سمندری میل کے فاصلے سے کامیاب حملے کر سکیں۔ کامیاب قزاقی حملوں کی تعداد 2008 میں 42 سے بڑھ کر 2009 میں 51 سے 2010 میں 68 ہوگئی ۔ قزاقوں نے قریباً 700 یرغمالی برائے تاوان رکھے ہوۓ ہیں۔ کئ ملین ڈالر فی جہاز قزاقوں اور اس کاروبار میں ملوث دوسرے لوگوں کو نفع بخش قزاقی کی یقین دھانی کراتا ہے۔ بین الاقوامی امداد باہمی کا نمونہ: سینٹکام بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ کام کرتا ہے تاکہ علاقے کی گشت میں مدد کرے اور حراست میں لیے گۓ قزاقوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے لیے انٹر ایجنسی شراکت داروں کے ساتھ کام کرے، گو کہ اس وقت ہمارے پاس قزاقوں کو حراست میں لینے اور ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے کے بین الاقوامی قانونی لائحہ عمل کی کمی ہے۔ قزاقی سب کے لیے خطرہ ہے اور اس نے بین الاقوامی عسکری امداد باہمی کو فروغ دیا ہے جو کہ دوسرے علاقوں میں امداد باہمی کے نمونے کے طور پر کام کرتا ہے۔ ہم اعتراف کرتے ہیں کہ گو کہ عسکری کاروائی حل کا صرف ایک حصہ ہے، لیکن پھر بھی بہت اہم حصہ ہے۔ این اے وی سی ای این ٹی 25 سے زائد شریک ممالک کی کوششوں کو مربوط کرتا ہے تکہ سمندر میں قزاقی کے خلاف لڑیں اور یوریپین یونین ٹاسک فورس اٹلانٹا اور نیٹو سٹینڈنگ نیول میری ٹائم گروپ کے ساتھ باہم مل کر آپریشن اوشین شیلڈ میں مؤثر عمل کرتا ہے۔ پاکستان موجودہ طور پر کمبائنڈ ٹاسک فورس 151 کی کمان میں ہے جو قزاقی کے خلاف لڑائی کا بین القوامی اتحاد ہے۔ نیو سینٹ این اے وی سی ای این ٹی بحرین میں ماہانہ شیئرڈ آوئرنس اینڈ ڈی کانفلکشن ایس ایچ اے ڈی ای کی بھی میزبانی کرتا ہے جو کپ ملکی امداد باہمی کو پروان چڑھاتا ہے اور سمندری انڈسٹری کو اپنے جہازوں کو قزاقی سے بچانے کے لیے بہترین طریقے اپنانے کے لیے حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ اتحاد ، نیٹو اور ای یو کی نمائندگی کے ساتھ ساتھ، کانفرنس میں سولین میری ٹائم تنظیمیں اور چین، روس، جاپان اور انڈیا کے وفود بھی شامل ہیں۔ IV۔ حکمت عملی تک رسائی ہمارے بہت سے چیلنجز ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور طویل مدتی مکمل حل چاہتے ہیں، جو ہمیں مجموعی طور پر ایسے طریقہ کار کی ترغیب دیتی ہے جو باہم امداد پر مبنی، باضابطہ اور قائم رہنے والا ہو۔ جب ہم مختلف درجوں کی کاروائیوں اور سرگرمیوں کی ذمہ داری لیتے ہیں تو تین اصول ہماری کوششوں کی رہنمائی کرتے ہیں: مشترکہ مفاد پر مبنی شراکت داری سے امداد باہمی کے طریقہ کار کو اپنانا: سب سے پہلے ہمیں مشترکہ چیلنجوں کو حل کرنے کے لیے امداد باہمی کے طریقہ کار کو اپنانا چاہیۓ۔ امریکہ کی طاقت اور تحفظ کا انحصار ہماری صلاحیت پر ہے کہ ہم علاقے میں اپنے دوستوں کی اپنی حفاظت کرنے میں مدد کریں، سینٹکام کی شراکت داروں کی استعداد بڑھانے اور دو طرفہ اور کثیر اطرافی اقدامات جاری رکھیں۔ مشترکہ مفاد سے شروع کرتے ہوئے، ہمیں بالضرور تمام شرکاء ممالک کے تقابلی فوائد کا حساب لگانا ہے – مثال کے طور پر منفرد زمینی ہیئت یا مخصوص صلاحیت سے فائدہ اٹھانا۔ مثال کے طور پر اس قسم کی کوششیں ان لوگوں کی سیاسی، معاشی اور تحفظاتی دائرہ عمل کو ملائیں گی، اورحصوں میں منقسم سے زیادہ کلی طور پر مضبوط کرے گا۔ خلیجی علاقوں میں ن انٹیگریٹڈ ائیر اینڈ میزائل ڈیفنس کے مؤثر حل کے لیے ہماری کوششیں امداد باہمی کی کوششوں کی منفرد قسم کی مثال پیش کرتی ہیں جو ہمارے مشترکہ خطرات کو روکنے اور شکست دینے کے لیے ضروری ہے۔ جیسے کہ اوپر بیان کیا جاچکا ہے، کہ صومالی بندرگاہ پر قزاقی سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی اتحاد علاقے میں کثیر اطرافی امداد باہمی کا نمونہ ہے جو نہ صرف قزاقی سے نمٹتا ہے بلکہ دوسری جگہوں میں کام کرنے کے مواقع بھی فراہم کرتا ہے۔ ہماری اپنے شراکت داروں کے ساتھ امداد باہمی کی صلاحیت، اعتبار پر منحصر ہے۔ وکی لیکس کی بصیغۂ راز سفارتی اور عسکری رپورٹنگ کو سب کے سامنے آشکارہ کرنے کے نتیجے میں، ہمیں اپنے شراکت داروں کے ساتھ اپنے اعتبار کو بالضرور رفتہ رفتہ مضبوط کرنا ہے۔ ہم اپنے شراکت داروں کے ساتھ اس واقعے سے متعلق صاف گو ہیں جس نے ہمارے معاون سربراہوں اور ساتھ ساتھ ہماری چالوں، مہارتوں اور طریقہ کار کے بارے میں ہمارے دشمنوں کو مطلع کر دیا ہے۔ ہم پھر بھی، ہمیشہ کی طرح مشترکہ مقاصد کے حصول کے لیے سچا رابطہ رکھنے میں لگے ہوئے ہیں۔ ہم اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ رابطوں کے تحفظ اور باہم مقاصد کی مضبوطی کو بڑھانے پر توجہ مرکوز رکھنے کو یقینی بنانے کے لیے اپنی کوششوں کو مزید تقویت دے رہے ہیں۔ شہری ۔ عسکری طریقوں پر عمل درآمد سے ہماری کاوشوں کی یکجائی: دوئم، جو جنگیں آج ہم لڑ رہے ہیں ان کے لیے بھر پور یکجائی، اوپر کے درجے سے لے کر نچلے درجے تک مکمل سفارتی، معلوماتی، عسکری، اور معاشی طریقہ کار پر مشتمل مربوط کوشش کی ضرورت ہے جو ہم کاری کو استوار کرے۔ سینٹکام اے او آر میں تحفظ اور استحکام صرف عسکری زرائع سے ہی نہیں حاصل کیا جا سکتا۔۔ چنانچہ ہمیں عسکری قوت کے روايتی اطلاق سے آگے دیکھنا ہے اور ہمارے متعدد چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ملکی قوت کے تمام عناصر کو یکجا کرنا ہے۔ سینٹکام کے تجربے نے یہ بتایا ہے کہ جن خطرات کا ہم اپنے شراکت داروں سمیت سامنا کر رہے ہیں ان سے نمٹنے کے لیے صرف عسکری قوت ہی کافی نہیں۔ ہمارے قومی مفاد کے حصول کے لیے بین الاقوامی سفارتی تعلقات اور ترقی بھی اتنی ہی اہم ہے جتنا کہ دفاع ۔ سینٹکام ان کوششوں میں تعاون کرتی ہے جو موجودہ تضاد کو بھڑکانے والی عدم استحکام کی تہہ میں کار فرما وجوہات سے نمٹنے کے لیے کی جاتی ہیں۔ اس قومی قوت کے ان زرائع کا کامیاب اطلاق ،بدلے میں، ہمارے شہری – عسکری تعلقات میں ہم آہنگی جاصل کرنے کی صلاحیت پر منحصر ہے۔ پس جب علاقے میں سفارتی اسامیاں خالی رہ جاتی ہیں تو یہ ہمارے لیے تحفظاتی اندیشہ ہوتا ہے۔ سینٹکام اے او آر میں متجاوز قوتیں، وہ جو علاقے کے اندر اور باہر سے پیدا ہو رہی ہوں، ان کے لیے کراس کمباٹنٹ کمانڈ کی غیر معمولی امداد باہمی اور تراکیب کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہم نے اے او آر، جغرافیائی حدود کے پار کامیابی حاصل کی ہے جن کی مثال پیکوم کے ساتھ چین اور انڈیا کے ساتھ معاملات طے کرنے پر امداد باہمی اور ای یو سی او ایم کے ساتھ روس، ترکی اور ایم ای پی پی پر امداد باہمی ہے۔ سینٹکام اور پیکوم مشترکہ خطرات جیسے کہ قزاقی، ڈبلیو ایم ڈی کی افزائش، پر تشدد شدت پسند تنظیموں کے خلاف لڑائی کی کوششوں کو باقاعدگی سے باہم مربوط کرتے ہیں۔ مزید براں، ہم ایفریکوم کے ساتھ صومالیہ میں ریاستی ناکامی سے نمٹنے اور ساتھ ساتھ فوج کی اہم وقتی ضرورت کے ضروری اثاثے بانٹنے میں بھی شانہ بشانہ کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ہم نے باہم مل کر صومالی بندرگاہ پر قزاقی کے لیے جوابی کاروائی کرنے کے لیے مشترکہ سرگرمی کا علاقہ قائم کیا ہے۔ہم امریکی سائبر کمانڈ کے ساتھ سائبر اسپیس میں عالمی تعلقات کی حمایت کرتے ہیں اور یو ایس ناردرن کمانڈ کے ساتھ امریکہ کی حدود اور ملکی تحفظ کے لیے شریک کار ہیں۔ مجموعی طور پر کراس مسلح کمانڈ کی کوشش اچھی جا رہی ہے۔ طویل مدتی عہد کے زریعے دیر پا حل کی حمایت: حتمی طور پر علاقے کے لیے ہماری رسائی دیر پا ہونا چاہیے۔ اے او آر میں ہمارے طویل مدتی عہد کا اتباع، علاقے میں ہمارے تعلقات کی گہرائی، وسعت اور معیار کو بہتر کرتا ہے اور آغاز میں ہی تعاون کے امکان کو بڑھاتا ہے۔ دنیا کے اس خطے میں ہمارے بارے میں راۓ ہمارے کارناموں کے زریعے قائم کی جاتی ہے، الفاظ سے نہیں۔ بھروسے کے عملی مظاہرے کی مثالیں علاقے میں صدیوں سے گونج رہی ہیں۔ جن مسائل کا ہمیں سامنا ہے، ان کا دیرپا حل، استحکام اور طرز حکمرانی میں مسلسل نشو نما اور ترقی پر منحصر ہے۔ اس مد میں، سینٹکام ہمارے شراکت داروں کی معاشی نشو نما کی طویل مدتی کوششوں اور مؤثر قانونی اداروں کی ترقی کی حمایت کرتا ہے۔ V۔ لڑائی میں وسائل فراہم کرنا: اوپر نمایاں کیے گۓ مالی امداد فراہم کرنے والے با اختیار عہدے داروں کے علاوہ، ہماری مہم کی تکمیل کے لیے ضروری ہے کہ ہم مواقع فراہم کرنے والوں کو پوری طرح اور فرض شناسی کے ساتھ وسائل فراہم کریں۔ ہم کانگرس کی امداد کی قدر کرتے ہیں کہ وہ ہمارے جنگجؤں کو محاز جنگ پر وہ آلات فراہم کرتا ہے جن کی انہیں سنگین مہمات کو مکمل کرنے کے لیے ضرورت ہوتی ہے۔ جب ہم مخالف سوچ کے مطابق اپنے آپ کو بدلتے ہیں تو ہم اپنے حصول کے طریقہ کاروں کو تیز کرنے کی شناخت کرتے ہیں تاکہ ہم عملی تدبیر میں اپنے دشمنوں سے سبقت لے جانے کے قابل ہوں۔ ہم اپنے ملک کے حامل زر وسائل کے اچھے نگراں بننے کی ضرورت کی بھی نشاندہی کرتے ہیں۔ سینٹکام نے ملکی محاصل اختیارت کو چلانے کے لیے کنٹرول کے ایسے طریقے بنائے ہیں جن میں ڈھیل کی کوئی گنجائش ہی نہیں اور جنہیں ہمارے تمام پروگراموں کی ممکنہ مؤثر نگرانی کے لیے استعمال کیا جاۓ۔ سراغ رسانی، نگرانی اور ابتدائی معائنہ
ایک ناگزیر لوازم: آئی ایس آر کی صلاحیتوں کے لیے سینٹکام اے او آر میں معقول اور قابل توجیہ اشتہاء ہے۔ افغانستان میں پائیدار آئی ایس آر صلاحیتں ایک بہت اہم اور مؤثر ضرب قوت کی نمائندگی کرتی ہیں اور آئی ایس آر کے زریعے ہمارے فوجی دستوں کی بروقت تیار ہونے والے آتشگیر آلات کے خطرے سے تحفظ میں براہ راست شریک ہے۔ ہم نے آئی ایس آر ٹاسک فورس کے ساتھ امداد باہمی میں، ایساف افواج کی طالبان سے لڑنے اور جس ماحول میں ہم کاروائی کر رہے ہیں اس کو سمجھنے کی بڑھتی ہوئی صلاحیت کے ساتھ افزائش کی ہے۔ مزید یہ کہ جب تک ہم عراق میں اپنی افواج کی کمی کریں، ہم آئی ایس آر کی تقسیم نپے تلے انداز میں مرتب کر رہے ہیں تاکہ ہم اس بات کی یقین دہانی کریں کہ عراق میں ہماری افواج کی مدد کے لیے ہمارے پاس اطمینان بخش صلاحیت بچی ہے اور ساتھ ہی ہم افغانستان یا کہیں اور ضروری وسائل بھی فراہم کر رہے ہیں۔ ہم اپنی صلاحیتوں کو نکھارنا جاری رکھیں گے کہ ہم امریکہ اور اتحادی آئی ایس آر تنظیموں میں زم ہو سکیں تاکہ عبوری شدت پسند تنظیموں کے محفوظ مقامات، تربیت گاہوں اور حملہ کرنے کی مشق کے علاقوں کو ختم کر سکیں۔ آئی ایس آر کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا: ہم کانگرس اور انڈر سیکریٹری آف ایکیوزیشن اینڈ ٹیکنالجی کی زیادہ تیزی سے آئی ایس آر کے مجموعی، استعمال اور تقسیم کی صلاحیتوں کی جاری مانگ کو پورا کرنے کی امداد کی قدر کرتے ہیں۔ ہماری آئی ایس آر کی ضروریات سے منضبط، ہوائی اور زمینی عناصر جو کہ حمایتی ہوائی لڑائی اور بغاوت کے توڑ کے اصولوں کے لیے ضروری ہیں، کے درمیان یکجائی اور ہم کاری کو مزید نمایاں کرنے کی ضرورت کی بھی شناخت کرتے ہیں۔ ہم محدود مقصد کے تجربے کی حمایت کرتے ہیں تاکہ شخصی، اسلحہ جاتی آئی ایس آر کے اثاثوں کو افغانستان میں بغاوت کے خلاف منفرد رکاوٹوں کے موافق بنائیں۔ آئی ایس آر ٹیکنالوجی، تنصیبات، تعمیراتی وضع، آلات اور عملے خاص طور پر تربیت یافتہ آئی ایس آر منتظمین میں جاری سرمایہ کاری، سینٹکام اے او آر میں حاصل شدہ مخصوص فوائد کو استوار کرنے میں مدد دے گی اور آئی ایس آر کی صلاحیتوں کے ذخائر کو میدان میں استمعال کرنے کے قابل کرے گی۔ تشویشناک سراغ رسانی کی صلاحیتیں: انسانی ذہانت اور جوابی کاروائی کی ذھانت اتنی ہی اہم ہیں جتنی کہ فوجی اہمیت کی حامل دور دراز کی اطلاعات کو جمع کرنے کے لیے، خصوصاً جنگ میں لوگوں کے درمیان کاروائی انجام دینے کے لیے تکنیکی حل۔ اس قسم کی اطلاعات کی سرگرمیاں فطری طور پر حکومت کا کام ہیں جن کو بڑھانے کے لیے طویل تکمیلی مدت کی ضرورت ہوتی ہے۔ سینٹکام ہماری انسانی صلاحیتوں کے معاونتی استمعال کے لیے وضع اختیار کر رہا ہے تاکہ ہم مخالف منصوبوں اور ارادوں کو بھانپنے کی استطاعت حاصل کریں۔ ہم اپنی جوابی کاروائی کی افواج کو بھی نئی وضع دے رہے ہیں تاکہ وہ بیرونی پر تعصب وی ای او ایس جو مہذب سائبر طریقوں اور اپنے با اعتماد لوگوں سے کام لے رہے ہیں تاکہ وہ ہمارے نیٹ ورکس میں داخل ہوں اور ہماری کاروائیوں کا تصفیہ کریں اور خطرات کا سامنا کر سکیں۔ فوج کی حفاظت میں بہتری اور بروقت تیار ہونے والے آتشگیر آلات آئی ای ڈی ایس
دشمن کی مرضی کا ہتھیار: اس وقت اور قابل قیاس مستقبل میں، دشمن ہمارے فوجی دستوں کو مارنے یا ناکارہ بنانے کے لیے آئی ای ڈی ایس بروقت تیار ہونے والے آتشگیر آلات کا استمعال کر رہا ہے۔ یہ ایک ایسا خطرہ ہے جس کا افغانستان اور عراق میں متعین یو ایس اور اتحادی فوجوں کو سامنا ہے اور ساتھ ساتھ سینٹکام کی زیر ذمہ داری پورے علاقے میں امریکہ کے مفاد اور علاقے کے استحکام کو بھی خطرہ ہے۔ افغانستان میں آئی ای ڈی بروقت تیار ہونے والے آتشگیر آلات کے حملے امریکہ اور اتحادی فوجوں کے 60 فیصد سے زائد فوجیوں کو زخمی کرنے کا باعث بنتے ہیں، گو کہ آئی ای ڈی بروقت تیار ہونے والے آتشگیر آلات کے سبب زخمی ہونے والے فوجیوں میں پچھلے 6 ماہ میں رفتہ رفتہ کمی آئی ہے ۔ مہلک امداد، آئی ای ڈی بروقت تیار ہونے والے آتشگیر آلات کی ٹیکنالوجی اور مواد کی مہاجرت، نئی چالوں، ترکیبوں اور طریقوں کی ترقی کا بہاؤ عالمی خطرے کو ظاہر کرتا ہے۔ گھریلو طور پر تیار آتشگیر آلات ، جو کہ اب تمام آئی ای ڈی ایس بروقت تیار ہونے والے آتشگیر آلات کا %85 فیصد شمار کیے جاتے ہیں، کاروباری طور پر میسر آئی ای ڈی بروقت تیار ہونے والے آتشگیر آلات کے مواد کی افزائش اور کاروباری درجے کے آتشگیر آلات کے ساتھ مل کر کافی سستے، اور بنانے اور استمعال میں آسان ہوتے ہیں۔ انٹر ایجنسی سی۔ آئی ای ڈی بروقت تیار ہونے والے آتشگیر آلات کے خلاف جاری کوششیں: سینٹکام تمام سروسز اور جائنٹ آئی ای ڈی ڈفیٹ آرگنائزیشن جے آئی ای ڈی ڈی او کے ساتھ مل کر آئی ای ڈی بروقت تیار ہونے والے آتشگیر آلات کے خطرے کا مقابلہ کر رہا ہے۔ سروسز نئی ٹیکنالجی سے یو۔ایس۔ اور اتحادی افواج کو لیس کرنا جاری رکھے ہوۓ ہے تاکہ وہ آئی ای ڈی ایس بروقت تیار ہونے والے آتشگیر آلات کو کم کرے اور اسے شکست دے۔ کانگریس اور وزیر دفاع کا شکریہ، سینٹکام اور ہمارے ملکی اور بین القوامی شراکت داروں نے پورے افغانستان میں مائن ریزسٹنٹ ایمبش پروٹیکٹڈ گاڑیوں کے سلسلے کو پہنچایا اور اس کا معائنہ کیا۔ ان گاڑیوں سے ہمارے جنگجؤں کی نقصان دہ راستوں میں حکمت عملی پر مبنی حرکت پذیری کی حفاظت کر کے اپنی اہمیت ظاہر کی ہے۔ سینٹکام نے، سی۔ آئی ای ڈی بروقت تیار ہونے والے آتشگیر آلات کے خلاف جاری کوششیں کے سینئر انٹیگریٹڈ گروپ کے ساتھ مل کر اور جائنٹ آئی ای ڈی ڈفیٹ آرگنائزیشن جے آئی ای ڈی ڈی او نے حال ہی میں استعداد بخش سی۔ آئی ای ڈی بروقت تیار ہونے والے آتشگیر آلات کے خلاف جاری کوششوں کا معائنہ کیا اور میدان جنگ میں جان بچانے کو ثابت کیا ہے۔ نتیجے کے طور پر ہم عراق اور افغانستان میں زیادہ آئی ای ڈی ایس بروقت تیار ہونے والے آتشگیر آلات ڈھونڈ رہے اور انہیں پچھلے 12 ماہ میں 60 فیصد اور 2010 کے آخری عشرے میں 70 فیصد کی شرح پر ختم کر رہے ہیں۔ یہ بہتری ابھی حصوں پر منحصر باقی ہے کہ آبادی کی طرف سے مشورے ملیں، بہتر چالیں ہوں اور مزید استعداد یافتہ لوگ ہوں، بشمول اضافی آئی ایس آر کے مؤثر استمعال کے جو کہ اس خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے سروسز کی طرف سے فراہم کیا گیا ہے۔ نیٹ ورک پر حملہ: ہم پورے، بروقت تیار ہونے والے آتشگیر آلات آئی ای ڈی کے نیٹ ورک اور باغیوں کی امدادی لائنوں کے پیچھے جا رہے ہیں۔ ہماری بہت سی حالیہ کامیابیاں علاقے میں موجود نظام کے زیر استمعال آئیں ہیں تاکہ مقامی علاقے میں حقائق جانچنے کی صلاحیت کی ترقی میں مد کریں۔ موجودہ طور پر ہم افوج کی حفاظت کر رہے ہیں جو تربیت یافتہ کتوں، مائن رولر، جیمر اور ہاتھ سے استعمال ہونے والے آلات کا استمغال کر رہی ہے۔ جنوبی افغانستان میں مرین، ایک کتا فی اسکواڈ کا استمعال کر رہی ہے اور جلد ہی افغانستان میں ہمارے پاس 200 سے زائد استمعال میں لاۓ جانے والے کتے ہوں گے۔ سروسز کے جائنٹ آئی ای ڈی ڈفیٹ آرگنائزیشن جے آئی ای ڈی ڈی او اور ایکیڈیمیا کے ساتھ، ہم اپنے اختیار میں موجود ہر کام کریں گے تاکہ ہم اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہمارے سروسز ممبران اور اتحادی شراکت داروں کو بروقت تیار ہونے والے آتشگیر آلات آئی ای ڈی کے خطرے کو شکست دینے کے لیے بہترین ٹیکنالوجی اور تربیت میسّر ہے۔ اضافی سی آئی ای ڈی بروقت تیار ہونے والے آتشگیر آلات کے خلاف جاری کوششیں کی حمایت: ہم دفاعی صنعت کو بروقت تیار ہونے والے آتشگیر آلات آئی ای ڈی ایس کے خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے جدید حل فراہم کرنے کا کہتے رہیں گے۔ ایئر لفٹ اور ایئر ڈراپ سے حملوں نے بروقت تیار ہونے والے آتشگیر آلات آئی ای ڈی کے خطرے کی زد میں آنے والے سروسز ممبران کی تعداد کو ڈرامائی انداز میں کم کیا ہے۔ حقیقت میں، افغانستان میں، 2005 سے ہر سال، ہوا سے پھینکا گیا سامان دوگنا ہوا ہے۔ بہر حال، ہوا سے تمام اہم فوجی نقل و حمل نہیں کی جا سکتیں۔ ہم کانگریس سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ان اداروں کو امداد دینا جاری رکھے جو نۓ اور موجودہ بروقت تیار ہونے والے آتشگیر آلات آئی ای ڈی کی جوابی کاروائی کے طریقہ کار اور ٹیکنالجی کے عمل ارتقاء کی تحقیق اور ترقی کی معلومات فراہم کرتے ہیں، خاص طور پر دھماکے سے پہلے کی معلومات، بروقت تیار ہونے والے آتشگیر آلات آئی ای ڈی کی الگ تھلگ تفتیش، اور غیر مہلک ہتھیاروں کے شعبے میں، تاکہ دشمن کی بروقت تیار ہونے والے آتشگیر آلات آئی ای ڈی ایس پہنچانے یا جگہ پر رکھنے کی صلاحیت کو ناکارہ کر سکیں۔ ہم کانگرس سے یہ بھی درخواست کرتے ہیں کہ وہ نۓ، ابھرتے ہوۓ اور مستقبل کے خطروں، جو یا تو میدان جنگ میں موجود ہیں یا امکانی خطرات جو زخم پذیری پیدا کریں اور ان کا جواب دینا مشکل ہو تو ان کی فوری اور پیش افدامی جوابی کاروئی کے لیے لچک فراہم کرے۔ کمانڈ کی وحدت اور سی 5 نیٹ ورکوں کا کنٹرول
سینٹکام میں اتحاد، کمانڈ ،اختیار، ابلاغ اور کمپیوٹر سی 5 نیٹ ورک ہے جو میدان عمل میں ہمارے فوجی دستوں کی مشکل ضروریات کو پورا کرتا ہے۔ اس وقت ہماری متعین افواج کو کمانڈ اور اختیار کا جو نیٹ ورک ملا ہے وہ سروسز، ایجنسیز اور کمباٹنٹ کمانڈ میں تقسیم ہے، جس کا نتیجہ کمتر اور تاخیری کاروائیاں ہیں ، جنہوں نے ہمارے مخالفین کو بنیادی سائبر کے خسارے سے لمبی مدت تک فائدہ اٹھانے کا موقع دیا ہے۔ ایک روشن نیٹ ورک کا مقام، بہرحال، افغان مشن نیٹ ورک ہے جو یو ایس اور اتحادی افواج اور شہریوں کو رابطے میں رہنے اور میدان جنگ میں ہم آہنگی رکھنے کے قابل کرتا ہے اور دنیا بھر میں امداد اثاثوں کے ساتھ رابطہ رکھتا ہے۔ ہم کانگرس کی امداد مانگتے ہیں تاکہ ہم جہاں بھی لڑیں، سمندری ماحول سے ہوائی سطح پر اور ناہموار پہاڑی سلسلے پر، ہم مؤثر یکجائی اور نیٹ ورک کو وسیع کرنے کے قابل ہوں۔ IV۔ اختتام اختتام میں، ہم سینٹکام کے علاقے میں کام کرنے والے امریکی فوج کے عملے کی طرف سے کانگرس کی امداد کے بہت ممنون ہیں۔ آج کی فوج میں حوصلہ مند امریکی، سینٹکام اے او آر میں تقریباً دس سالوں سے دو جنگیں لڑ رہے ہیں۔ یہ قابل تعریف حوصلے کے ساتھ آج کی گمبھیر اور دشوار کاروائیوں کے پار دیکھتے ہیں اور اپنے ملک کے آواز پر دوڑے آتے ہیں۔ ان کی جرات، کردار اور اقرار، مسلسل تعیاناتی کی صورت میں قابل تعریف ہے۔ بطور ان کے کمانڈر کے، میں ان کے ساتھ کام کرنے پر فخر کرتا ہوں۔ آپ لوگوں کا ہمارے فوجی دستوں کے مشکل وقت اور ان کے گھرانوں کا یہاں اپنے گھر میں انتھک حمایت کا بہت شکریہ۔ |
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 




















