| خاتون ڈائیور تاریخ میں اپنا نشان بناتی ہیں | Array چھاپیے Array |
منجانب Third Army Public Affairs Office شئیرمتعلقہ خبریں
فرسٹ لیفٹیننٹ کرسٹی پلیکس، آرمی کی تاریخ میں صرف چوتھی خاتون ڈائیور، شعیبا پورٹ، کویت میں سی پوائنٹ اترنے/چڑھنے پر سٹاف سارجنٹ ایرک بیلی، ڈایورز کے نگران، کو ہاتھ کے اشارے اپنی آمادگی سے آگاہ کرتے ہوئے۔ (فوٹو منجانب سارجنٹ میکاہ وین ڈائیک)
شعیبا پورٹ، کویت – جسے سپارٹن مشکلات کو خاطر میں لاۓ اور ہزاروں کی تعداد میں دشمن کی فوج کو پیچھے دھکیلے رکھا، جدید زمانے کی یونانی نژاد خاتون فوجی نے بھی امریکی آرمی کی تاریخ میں پہلی خاتون ڈائیور بنتے ہوۓ ویسے ہی عزم کا مظاہرہ کیا۔ اس چھوٹی سی نوجوان عورت نے ایک ایسی دنیا ،جس پر مردوں کا غلبہ ہے، میں اپنے ڈائیور بننے کے خواب کا مسلسل تعاقب کیا۔ وہ اسی "کڑے پن" کا مظاہرہ کیا جس کا اظہار فلموں میں ڈیمی مور نے کیا۔ فرسٹ سارجنٹ کرسٹی پلیکس، 74ویں انجینئر ڈائیو ڈیٹیچمنٹ کو تفویض ایگزیکٹو افسر، جو جوائنٹ بیس لینگلی- یوسٹس،ورجینیا سے یہاں تعینات ہیں، نے کہا کہ"میرا خیال تھا کہ یہ فلم 'جی آئی۔ جین' کی طرح ہوگا۔ جو کہ میں ہوں گی" ان کے والدین نے کبھی فوج میں خدمات انجام نہیں دیں، تو انھیں کچھ اندازہ نہیں تھا کہ آرمی کی زندگی کیسی ہوتی ہے۔ آٹھ سال کی عمر میں اس نے تیراکی کے مقابلوں میں حصہ لینا شروع کیا، جس نے اسے اپنی قسمت کے لئے تیار کیا:ایک ڈائیور ہونے کی حیثیت سے۔ اس کے ہائی اسکول اور کالج کے سالوں کے دوران اس کا پانی سے مستقل تعلق رہا، جس میں کوچنگ اور لائف گارڈ بھی شامل ہے جس نے انھیں آنے والے ان چیلنجوں کے لیۓ جس کا انھیں سامنا کرنا تھا کے لیۓ اپنی بہترین جسمانی شکل میں رکھا۔ 2007 میں لیفٹیننٹ کرنل کینٹ رائڈ آؤٹ، سان ڈیاگو سٹیٹ یونیورسٹی میں اس کے فوج کے آر-او-ٹی-سی کے کمانڈنگ افسر نے اسے بتایا کہ فوجی افسران بھی ڈائیور بن سکتے تھے۔ اس طرح، شعلہ روشن کیا گیا اور یہ کبھی نہیں بجھا ہے۔ پلیکس نے بڑے اعتماد سے کہا کہ"یہ وہ ہے جو میں کرنے جا رہی ہوں" ۔ "مجھے اس بات کی پرواہ نہیں کہ اعداد و شمار میرے خلاف ہیں یا میں واحد خاتون ہوں۔" فورٹ لینورڈ ہوڈ، میزوری م؛ں بنیادی افسر لیڈر کورس کے دوران، اس نے ہر اس سے جس نے غوطہ خوری کا ذکر کیا اس کی وضاحت کرنے کر کہا۔ بہت مرتبہ جوابات خوشگوار نہیں تھے۔ پلیکس نے کہا کہ"میں غوطہ خور بننے کے بارے میں اتنی پر جوش تھی کہ میں نے اپنے انسٹرکٹر سے غوطہ خوری کے بارے میں سوالات کیۓ" ۔ "جب میں نے اسے بتایا کہ میں ڈائیور بننا چاہتی تھی تو اس نے یہ جواب دیا، 'نہیں، تم بہت چھوٹی اور کمزور ہو۔"' اس طرح کا ردعمل اس چھٹے ڈھانچے والی نوجوان خاتون کے لیۓ بہت جانا پہچانا تھا۔ اس نے اس کی پرواہ نہ کی۔ پلیکس نے کہا کہ"وہاں بہت سے منفی سوچ کے لوگ تھے۔ مجھے ایک قدم پیچھے ہٹینا پڑا اور خود کو یہ یاد دلانا پڑا کہ وہ مجذے نہیں جانتے تھے" ۔ "اس نے جلتی پر تیل کا کام کیا تاکہ میں اور بھی زیادہ محنت سے ٹریننگ کرتی۔ اس نے آگ کو اور بھی بھڑکا دیا۔ اس نے مجھے غصہ دلایا، لیکن اور پر عزم بھی بنایا۔ اس نے مجھے تحریک دلائی۔" اپنے نئے کیریئر کو سیکھنے میں گزارے طویل اور محنت طلب دن کے بعد اس نے ہر شام سوئمنگ کو جاری رکھا یہاں تک کہ اتنخاب کا دن آ پہنچا۔ ڈائیونگ میں، ذہنی اور جسمانی طور پر تیاری موقع ملنے کا واحد طریقہ ہے۔ ڈائیو آفیسر انتخابی بورڈ، آرمی انجنئیر ڈائیونگ فیلڈ کی قیادت پر مشتمل، نے پلیکس کا پانی کا شدید جسمانی فٹنس امتحان جو کئی گھنٹے جاری رہا کے بعد انٹرویو کیا۔ " سپیشل ڈیگن انڈیک، سیکینڈ کلاس ڈائیور جس نے اس کے ساتھ تربیت کا ہر مرحلہ گزارا اور اب 74 ویں ای-ڈی-ڈی میں خدمات سر انجام دیتا ہے نے کہا کہ "یہ بہت اچھا ہے۔ وہ بہت پُر جوش تھی، وہ فوراً ہی مردوں سے مقابلے کو تیار تھی ۔ اسے ڈائیور کے فرق معیار پر نہیں جانچا جاۓ گا۔ اسے ڈائیور کے اسی جسمانی فٹنس ٹیسٹ کو پاس کرنا ہوگا، مرد یا عورت۔" پہلے مرحلے کے ایک غوطہ خوری کے اسکول میں تین ہفتوں کی انتہائی محنت طلب تربیت ختم کرنے کے بعد اس نے فروری 2011 میں دوسے مرحلے پر پیش قدمی کی۔ اس نے بحریہ کے ڈائیونگ اور سالویج ٹریننگ سینٹر، پانامہ سٹی، فلوریڈا میں فوج کی ڈائیونگ کے ہر پہلو کو اچھی طرح سیکھنے میں چھ ماہ گزارے۔ پلیکس نے ان شدید محنت طلب جسمانی فٹنس کے معمولات کی یاد کرتے ہوۓ کہا جس میں 100 پل اپ، 500 پش اپ اور دوسری شدید قسم کی ورزشیں شامل تھیں کہ"مجھے فزیکل فٹنس پی-ٹی پسند ہے، لیکن یہ ہمیشہ سے میرے لیۓ بہت مایوس کن رہا ہے، ہر کوئی کراس فٹ کے دوران میرے سے پہلے ختم کر لیتا تھا" ۔ فوج اور بحریہ کے غوطہ خور غوطہ خوری اسکول میں اکٹھے تربیت حاصل کرتے ہیں۔ اس کے ہم جماعتوں میں سے ایک، بحریہ کے غوطہ خور، نے جس کے اس بارے میں کہ وہاں کسے ہونا چاہیے اور کسے نہیں بہت روایتی تصورات تھے گریجویشن سے پہلے اسے ایک طرف لے جا کر بہت غیر متوقع بات کہی۔ " مجھے نہیں معلوم کہ میں کیسے کہوں، میرے دل میں تمہارے لیۓ بہت احترام ہے،" اس غوطہ خور نے کہا جو اس کے ذھن میں ہمیشہ اس کا سب سے بڑا ناقد تھا۔ "تم نے کام کے بعد پش اپ اور پل اپ پر بہت محنت کی۔ مشکل اوقات کے دوران تمہیں دیکھتے ہوۓ، ہم یہ کہنے پر مجبور ہو گۓ کہ 'ہم کس طرح چھوڑ سکتے ہیں؟ اگر یہ ایسا کر سکتی ہے تو ہم بھی ایسا کر سکتے ہیں۔" پلیکس نے کہا کہ " اس سے میری بہت حوصلہ افزائی ہوئی تھی۔ مجھے احساس ہوا کہ ڈائیور اسکول میں میری موجودگی - میرا وجود - لوگوں کو بہتر بناتا ہے، صرف یہ حقیقت کہ میں وہاں موجود ہوں اور میں نے اسے نہیں چھوڑا، اس کا مطلب تھا کہ وہ بھی چھوڑنے والے نہیں تھے۔ میں معیار پر پوری اترنے کے لیۓ وہاں گئی، میں کسی سے کم محنت کرنے کے لئے وہاں نہیں گئی تھی۔ اس رویے سے انھوں نے نہ صرف اپنے انسٹرکٹروں کا احترام حاصل کیا، بلکہ اس انسٹرکٹر کا بھی جو اس وقت ماسٹر غوطہ خور کے طور پر ان کی یونٹ میں خدمات سر انجام دے رہا ہے۔ ماسٹر دائیور سارجنٹ فرسٹ کلاس مائیکل رانڈل نے کہا کہ "ماضی میں، عورتوں کو عام طور پر اجازت نہیں دی گئی یا ڈائیور اسکول تک نہ پہنچ سکیں۔ سب سے زیادہ "پُل اپس" میں ناکام رہیں ۔ لیکن اس کے ساتھ ایسا نہیں تھا۔ میں وہاں موجود تھا جب اس نے شروع کیا اور اس کی تمام تربیت کے دوران بھی موجود تھا اس کے ختم کرنے کے بارے میں کوئی شک نہیں تھا۔ اسے واضع طور پر زبردستی نہیں گھسایا گیا تھا۔ اپنی تیراکی سے محبت کو استعمال کرتے ہوۓ اور ذاتی جرات اور روحانی عقائد کے ذریعے پلیکس کامیاب رہی جہاں بہت سے دوسرے، مرد اور عورتیں ناکام رہے۔ اس نے بہت سے جسمانی اور ذہنی چیلنجوں قابو پایا، اس وقت بھی جب کچھ لوگ اس کے بارے میں پر اعتماد نہیں تھے، آرمی میں صرف چوتھی غوطہ خور بن کر تاریخ میں اپنا مستحکم مقام بناتے ہوۓ۔ آج اس کی رول ماڈل کے طور پر اس منفرد پوزیشن کو نوجوان خواتین اپنے خوابوں پر عمل کرنے کی حوصلہ افزائی کے لئے استعمال کیا جا سکتا، ان مشکلات اور چیلنجز سے قطع نظر جو ان کو پیش آئیں۔
|