| جسمانی تھرپی کی مدد سے جسم کے عضو بچانے کے امکانات ہیں | Array چھاپیے Array |
منجانب David Dobrydney, 455th Air Expeditionary Wing Public Affairs شئیرمتعلقہ خبریں
کیپٹن (ڈاکٹر) کینٹ ڈو، 455ویں ای-ایم-ڈی-او-ایس کے ساتھ جسمانی تھراپسٹ، 14 مارچ، 2013 کو 83 ویں ای-آر-کیو-ایس کی عمارت میں بگرام ائیر فیلڈ، افغانستان میں فرسٹ لیفٹیننٹ میتھیو فار، جو 83ویں مہماتی ریسکیو اسکوارڈن پائلٹ ہیں، کا معائینہ کرتے ہوۓ۔ ڈو ان ارکان کی تشخیص اور علاج کے لیۓ جو کریگ جوائنٹ تھیٹر ہسپتال نہیں جا سکتے، باقاعدگی سے یونٹ کا دورہ کرتے ہیں۔ (امریکی ائیر فورس فوٹو/سٹاف سارجنٹ ڈیوڈ ڈوبریڈینڈی)
بگرام فضائیہ بیس، افغانستان (17 مارچ، 2013) – جدید سرجیکل طریقوں سے، مزید لوگ اپنی ان ٹانگوں اور بازوں کو بچانے کے قابل ہیں جو اس سے پہلے وہ بچا نہ پاتے۔ تاہم، سرجری صرف آدھی کہانی ہے، کریگ جوائنٹ تھیٹر ہسپتال میں 455 ویں مہماتی طبی آپریشنز سکواڈرن جسمانی تھرپی کلینک اس بات کو یقینی بنانے کے لئے، کہ یہ اعضاء کام کرتے رہیں، کام کرتا ہے۔ سٹاف سارجنٹ کیرولائنا مارن سوٹو جو455 ویں ای-ایم-ڈی-او-ایس کی جسمانی تھراپی این-سی-او کی انچارج ہیں نے کہا کہ"ہمارا مشن اس ہسپتال میں آنے والے تمام فوجیوں اور مقامی شہریوں کی بحالی ہے،" ہر ماہ، کلینک تقریباً 350 مریضوں کا علاج کرتا ہے، امریکی اور اتحادی افواج کے ارکان کے ساتھ ساتھ مقامی شہریوں کا بھی۔ کیپٹن( ڈاکٹر) کینٹ ڈو، 455ویں ای-ایم-ڈی-او-ایس کے ساتھ جسمانی تھراپسٹ نے کہا کہ ان کے زیادہ تر مریضوں کو ہلکی سی چوٹیں لگی ہوتی ہیں مثلاً ٹخنے میں موچ یا کندھے کی ہڈی کا نکل جانا۔ ڈو بیس بھر میں مختلف یونٹوں کو بھی جاتے ہیں موقعے پر تشخیص اور علاج فراہم کرنے کے لئے۔ ڈو نے کہا کہ"ہم لوگوں کو گھر واپس جانے سے دور رکھنے کے لئے کوشش کر رہے ہیں" ۔ یونٹ کے ارکان اس ذاتی نوعیت کے طریقہ علاج کی تعریف کرتے ہیں۔ فرسٹ لیفٹیننٹ میتھیو فار جو، 83 مہماتی ریسکیو اسکواڈرن پائلٹ، نے کہا کہ "یہ بہت اچھا ہے کہ وہ یہاں آتے ہیں "۔ "چونکہ ہم ہوشیار رہنے کی وجہ سے عمارت نہیں چھوڑ سکتے۔" انفرادی مریض جو سی-جے-ٹی-ایچ سے آتے ہیں، ڈو سب سے پہلے ان کی ایک ابتدائی تشخیص کریں گے اور علاج کا ایک منصوبہ بنائیں گے۔ اس کے بعد مارن سوٹو مریض کے اس منصوبہ پر عمل در آمد میں مدد کرتی ہیں۔ جب مریض یہاں بڑے زخم لگنے کے بعد آتے ہیں، کبھی کبھی صرف ابتدائی تشخیص ہی ہے جو یہاں کی جا سکتی ہے اس کے بعد انھیں اعلٰی سطح کےعلاج کے لیۓ افغانستان سے باہر لے جایا جاتا ہے۔ ڈو نے کہا کہ "ہم عام طور پر بہت سے امریکیوں کو زیادہ زخمی نہیں دیکھتے کیونکہ انھیں بہت جلدی سے باہر بھیج دیا جاتا ہے، عام طور پر 24 سے 48 گھنٹے کے اندر اندر" ۔ امریکی ایئرمین اس ہسپتال میں ہم منصبوں کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں جسے جمہوریہ کوریا کے افواج کے تحت چلایا جاتا ہے، یہاں زیادہ تر مقامی شہریوں، جو علاج کے لیے یہاں آتے ہیں کو دیکھتے ہیں۔ ایک حالیہ کیس ایک نوجوان افغان لڑکی کا تھا جسے ایک گاڑی نے رونڈ ڈالا تھا۔ اس کے والد نے آرتھوپیڈک سرجن کو بتایا کہ سی-جے-ٹی-ایچ میں انھوں نے اس کی دونوں ٹانگوں کو کاٹنے کی سفارش کی۔ مارن سوٹو نے یاد کیا کہ" آرتھوپیڈک سرجن نے اس سے اتفاق نہیں کیا اور وہ اس کی دونوں ٹانگوں کو بچانے کے قابل تھے" ۔ سی-جے-ٹی-ایچ میں مختلف سرجریوں کے بعد، لڑکی کو جسمانی تھراپی کے لیۓ لایا گیا، تین مہینوں سے بھی زیادہ تک بالکل نہ ہلنے کے بعد۔ سوٹو مارن نے کہا کہ "اسے پہلے یہ بتایا گيا تھا کہ وہ اپنی ٹانگوں کو بچا نہیں پاۓ گی،" ۔ "تو ہمارے لئے یہ جاننا کہ ہمارے آرتھوپیڈک [سرجن] اسے بچانے کے قابل تھے ... اسے چلانے کے قابل بنانا ہمارے لئے بہت حوصلہ افزائی کی بات تھی۔" تین ماہ بعد، لڑکی اب بیساکھی کی مدد سے چلنے کے قابل ہے اور کوریا کے ہسپتال میں صحتیاب ہو رہی ہے۔ مارن سوٹو ان دنوں میں جب کوریا کا عملہ حاضر نہیں ہوتا لڑکی تھراپی کے سیشن کرواتی ہے۔ مارن سوٹو کو توقع ہے کہ لڑکی جلد ہی مدد کے بغیر چلنے کے قابل ہو جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ"یہ بہت محنت طلب کام رہا ہے، لیکن بالآخر محنت کام آئی" ۔
|