| مرکزی کمان کے سینئر لیڈر ویت نام کے سابقہ فوجی کو کانسی سٹار میڈل پیش کرتے ہیں | Array چھاپیے Array |
منجانب Sgt. Fredrick Coleman, CENTCOM Public Affairs
مک ڈل ائیر فورس بیس، فلوریڈا – 46 سال کے انتظار بعد آرمی سارجنٹ رابرٹ فرنچ جو اپنی بیوی کیئی کے ساتھ تھے کو ان کی ویت نام جنگ میں بہادری پر کانسی سٹار میڈل 5 مارچ کو امریکی مرکزی کمان کے خوش آمدید سینٹر میں ایک تقریب کے دوران پیش کیا گیا جس کا انعقاد آرمی میجر جنرل کارل آر۔ ہورسٹ مرکزی کمان کے چیف آف سٹاف نے کیا۔
مک ڈل ائیر فورس بیس، فلوریڈا – 46 سال کے انتظار بعد آرمی سارجنٹ رابرٹ فرنچ جو اپنی بیوی کیئی کے ساتھ تھے کو ان کی ویت نام جنگ میں بہادری پر کانسی سٹار میڈل 5 مارچ کو امریکی مرکزی کمان کے خوش آمدید سینٹر میں ایک تقریب کے دوران پیش کیا گیا جس کا انعقاد آرمی میجر جنرل کارل آر۔ ہورسٹ مرکزی کمان کے چیف آف سٹاف نے کیا۔
"اصلی ہیرو اب بھی وہاں موجود ہیں؛ جو کبھی واپس نہ آ سکے میں ان خوش قسمتوں میں سے ایک ہوں جو وہاں سے واپس آ گۓ،" فرینچ نے کہا۔ "اگر مجھے یہ [تمغہ] ویت نام میں ملتا، مجھے اس سے اتنا فرق نہ پڑتا جتنا آج پڑتا ہے۔ میں اپنے خاندان اور دوستوں کو اپنے ساتھ یہاں پا کر بہت خوش ہوں۔"
فوج میں لازمی بھرتی کے بعد، فرینچ نے موبائل ریویرین فورسز کے ساتھ کمپنی سی، 9 ویں انفنٹری ڈویژن، جو کہ جنوبی ویت نام کے میکانگ ڈیلٹا میں 1967 میں بحریہ کے جہاز پر تھا میں ریڈیو مین کے طور پر خدمات سر انجام دیں، 19 جون کو، فرینچ اور تقریبا 300 فوجی میکانگ ڈیلٹا کے قریب اے-پی بی-اے-سی میں ایک گشت کے دوران گھات لگا کر کیۓ گۓ حملے کی زد میں آ گۓ۔ تین روزہ جنگ کے دوران47 امریکی ہلاک ہوۓ، اور فرینچ کو ان کی ریڑھ کی ہڈی کے قریب کمر میں گولی لگي۔ فرینچ اور دیگر زخمی فوجیوں کو بچانے کے لئے جو چار ہیلی کاپٹر بھیجے گۓ تھے ان میں سے تین کو گولی مار کر گرا دیا گیا تھا۔
جب ایک ہیلی کاپٹر گر گيا، فرینچ کی جان بچانے کو ایک چیپلن نے پانی میں سے کھینج کر نکالا۔ "اگر وہ نہ ہوتا تو میں ڈوب کر مر گیا ہوتا، "کیرل ووڈ، فلوریڈا کے ایک مقامی نے ٹیمپا ٹریبیون کے ایک مُکالمَہ میں کہا۔
فرینچ اور ریٹائرڈ آرمی میجر جیک بینیڈک، جنھوں نے اس وقت فرینچ کی پلاٹون کمانڈر کے طور پر خدمات انجام دیں، نے سن 2000 میں طالب علموں کی ری یونین میں شرکت کی۔ تقریب کے دوران بینیڈک کو معلوم ہوا کہ نہ فرینچ اور نہ دیگر چار فوجیوں کو کبھی بھی میڈل کے لیۓ نامزد نہیں کیا گيا تھا۔ 2011 میں، بینیڈک نے یہ عمل دوبارہ شروع کیا۔ دو سال بعد، امریکی کانگرس کے نمائندے فلوریڈا کی 12 ویں کانگریس ڈسٹرکٹ سے گس بلی ریکس اور آرمی کمانڈ سارجنٹ اینتھونی ماریرو، امیریکی مرکزی کمان کے ہیڈکوارٹر کے کمانڈنٹ سینئر بھرتی شدہ لیڈر، فرینچ، اب 67 سالہ، نے اپنے دوستوں اور خاندان جن میں ان کی12 سالہ پوتی ایمبر بھی شامل تھی کے سامنے ایوارڈ وصول کیا۔
"میں یہ ایوارڈ حاصل کرنے پر اپنے دادا کے لئے بہت خوش ہوں۔ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ انھوں نے یہ سب [ویت نام میں خدمت] کیا کیونکہ وہ ایسا کرنا چاہتے تھے، اس لیۓ نہیں کہ وہ مجبور تھے،" ایمبر نے کہا۔
ہورسٹ نے اپنے افتتاحی کلمات میں کہا کہ تقریب کا بنیادی موضوع یہ ہے کہ صحیح کام کرنے کے لیۓ کبھی بھی دیر نہیں ہوتی، اور آج 46 سال کے بعد، فوج نے سارجنٹ فرینچ کو کانسی سٹار پیش کر کے ایک صحیح بات کی ہے۔
"یہ وہ ایوارڈ ہے جسے انھوں نے 46 سال پہلے حاصل کیا تھا، اور اسے درست کرنے میں ہمیں 46 سال لگے،" ہورسٹ نے کہا۔ آج بہادری، ہیروازم، ایک نوجوان غیر کمشن شدہ افسر کی نوجوان جنگی زندگی جو ایک اور دن لڑنے کے لیۓ زندہ رہے جبکہ ان کے ساتھیوں میں سے کئی نہ کر سکے، کی یاد میں ہے۔"
آج تک، 1967 میں اپنے اعمال کی وجہ کانسی ستارے کے لئے نامزد ہونے والے پانچ فوجیوں میں سے تین نے ایوارڈ حاصل کیۓ ہیں۔ باقی دونوں کی منظوری کا انتظار کر رہے ہیں۔
|