| افغان طبی عملے کی بگرام میں تربیت | Array چھاپیے Array |
منجانب David Dobrydney, 455th Air Expeditionary Wing Public Affairs شئیرمتعلقہ خبریں
455ویں مہماتی میڈیکل سپورٹ سکواڈرن کے میڈیکل لیب ٹیکنیشن،سینئیر ائیرمین کرسٹل راڈریگز 16 فروری، 2013 کو بگرام ہوائی اڈے، افغانستان میں افغان ٹراما مینٹور پروگرام کے ارکان کو کریگ جوائنٹ تھیٹر ہسپتال کی لیبارٹری کا دورہ دیتی ہیں افغان ڈاکٹروں نے سی-جے-ٹی-ایچ میں ایک ماہ جدید ترین طبی آلات اور تراکیب کے بارے میں سیکھنے میں گزارا۔ (یو۔ایس ائیر فورس فوٹو/سٹاف سارجنٹ ڈیوڈ ڈوبریڈنی)
بگرام ائیر فیلڈ، افغانستان (3 مارچ، 2013) – چھگڑے کے درمیان بھی، مستقبل پر نظر رکھنا بہت ضروری ہے۔ اس حوالے سے افغان ٹراما مینٹور پروگرام کے ایک حصے کے طور پر، کریگ جوائنٹ تھیٹر ہسپتال نے یہاں 40 سے زائد افغان ڈاکٹروں اور نرسوں کی تربیت کی ہے۔ کیپٹن کلاڈیا نیمیک, جو 455 ویں میڈیکل آپریشنز اسکواڈرن میں انتہائی نگہداشت کی نرس، جو اس پروگرام کے تحت حالیہ کورس کی منصوبہ بندی کے لئے ذمہ دار تھیں، نے کہا کہ "اس کا مقصد افغان صحت کی دیکھ بھال فراہم کرنے والوں کو تازہ ترین ٹیکنالوجی اور طریقوں کا استعمال کرنے کی تربیت فراہم کرنا ہے۔۔۔ تاکہ وہ اپنے ہم وطنوں کے لئے صحت کی بہترین ممکنہ دیکھ بھال فراہم کر سکیں" ۔ کلاسوں میں عام طور پر افغان قومی حفاظتی افواج، جس میں فوج اور مختلف پولیس فورسز شامل ہیں، کی طرف سے چلائے طبی سہولیات سے چار انتخاب شدہ طالب علم ہوتے ہیں۔ تین ہفتوں کے دوران، طالب علموں کو ایک جدید ہسپتال کے ہر پہلو میں، ایمبولینس سے ایک مریض کو حاصل کرنے سے لے کر آپریٹنگ روم کے طریقہ کار اچھی طرح سکھاۓ جاتے ہیں۔ تمام جدید آلات ہونے کے علاوہ، پروگرام میدان جنگ میں سالوں کی طب سے بھی فائدہ اٹھاتا ہے۔ نیمیک نے کہا "علاج کے نقطہ نظر سے، وہاں بہت سے سبق ہیں جو یہاں لڑائی کے دوران سیکھے گۓ ہیں جہاں تک چوٹ کے دوران سانس کی بحالی، نقصان کنٹرول کی سرجری کا تعلق ہے" ۔ طالب علم اکثر رضاکار ہوتے ہیں جنہوں نے پروگرام کے گزشتہ شرکاء سے اس بارے میں سنا ہوتا ہے۔ نیمیک نے کہا کہ "اکثر ڈاکٹر جن کو ہم نے ماضی میں لیا ہے اپنے ہسپتال واپس جا کر اپنے ساتھیوں کو بتایا کہ اس میں شرکت ان کے لئے فائدہ مند ہو گی" ۔ کورس میں شرکت میں دلچسپی رکھنے والے ڈاکٹروں کی شناخت، ہسپتال کے لئے طبی اور ثقافتی مشیر ڈاکٹر عبداللہ فہیم کی طرف سے کی جاتی ہے۔ وہ افغانستان قومی سلامتی کی افواج کی کمانڈ کے ساتھ فورس پروٹیکشن تک بھیجنے کے لیۓ درخواست گزاروں کے بارے میں معلومات جمع کرنے کے لیۓ کام کرتے ہیں۔ " فہیم نے کہا کہ "ان تمام سیکورٹی کے حصوں کی اپنی طبی سہولیات اور ان کے اپنے ڈاکٹر ہیں" ۔ "ہمیں ان سب کو تربیت دینی ہے تاکہ وہ اپنے زخمی جنگجو اور چوٹ زدہ مریضوں کی خودمختارانہ طور پر دیکھ بھال کر سکیں۔" نیمیک نے مزید کہا کہ افغان ہم منصبوں کے ساتھ کام کرنا یہاں کے طبی عملے کو ایک بہت عظیم موقع فراہم کرتا ہے۔ "ہم ایسا کام کر رہے ہیں جو ہمارے یہاں سے جانے کے بہت بعد بھی لوگوں کی زندگیوں پر اثر ڈالے گا" ۔ پروگرام سے حالیہ ترین گروپ کی گریجویشن پر، ایک ڈاکٹر نے اپنے شکریے کا اظہار کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ لیفٹیننٹ (ڈاکٹر) فاروق اعظم، جو افغان نیشنل پولیس کے ساتھ ایک ناک، کان اور گلے کی سرجن ہیں، نے کہا کہ "ہم نے ایسی چیزیں سیکھی ہیں جو ہم نے پہلے نہیں دیکھی تھیں جو ہم اپنے ہسپتال واپس لے جائیں گے". "ہم نے اس عظیم ہسپتال میں گزارے وقت کا لطف اٹھایا ہے اور خواہش کرتے ہیں کہ ہم مزید رک سکتے۔"
|