| اعزاز اور محبت بھری یادوں کے ساتھ، جنرل شوازکوف کو ویسٹ پوائنٹ میں دفنا دیا گیا | Array چھاپیے Array |
شئیرمتعلقہ خبریں
ویسٹ پوائنٹ، نیو یارک، (28 فروری، 2013) بائیس سال پہلے اور آج کے آپریشن ڈیزرٹ سٹارم میں اتحادی افواج کی زمینی فورس کی قیادت جس جنرل نے کی تھی ان کو ویسٹ پوائنٹ، نیو یارک میں دفنا دیا گیا۔ ریٹائرڈ جنرل ایچ نارمن شوازکوف، جو امریکی ملٹری اکیڈمی سے 1956 میں گریجویٹ ہوۓ، کی یاد میں ایک سروس کا انعقاد کیڈٹ چیپل میں 28 فروری کو کیا گيا تھا جس میں ان کے خاندان دوستوں اور ساتھیوں نے شرکت کی۔ سروس کے بعد، شوازکوف کو ویسٹ پوائنٹ قبرستان میں ان کے والد میجر جنرل ایچ نارمن شوازکوف سینئر، کے قریب دفن کیا گیا۔ ان کے والد، 1917 میں یو-ایس ایم اے کے گریجویٹ اور گھڑسوار فوج کے افسر، پہلی عالمی جنگ میں نیو جرسی کے ریاست پولیس کے بانی اور اس کے پہلے سپرنٹنڈنٹ کے طور پر خدمات انجام دیں۔نیو جرسی ریاستی پولیس افسران، اور 100سے زیادہ یو- ایس ایم اے کیڈیٹوں، سینئر رہنماؤں، عملے اور اساتذہ نے سروس میں شرکت کی۔ ریٹائرڈ میجر جنرل لیروۓ سوداتھ نے میموریل کا پہلا خراج عقیدت پیش کیا، اکیڈمی میں شوازکوف سے ان کی ملاقات 61 سال پہلے ہوئی۔سال کی عمر 21 میں، سوداتھ نے کالج کے تین سال مکمل کیۓ ہوۓ تھے لیکن انھیں تعلیمی مائل نہیں ہے کے طور پر ویسٹ پوائنٹ میں داخلہ ملا تھا۔ شوازکوف کے ساتھ روم میٹ کے طور وہ واقعی خوش قسمت تھے۔ 17 سال کی عمر میں شوازکوف کیڈیٹ کور میں عمر یمں سب سے چھوٹے تھے اور اس کے ہم جماعتوں نے مشرق وسطی کی ثقافت کے بارے میں ان کے علم اور ان کی "ذمہ داری، عزت، ملک" سے لگن سے فائدہ اٹھایا۔ سوداتھ نے کہا کہ "وہ کیڈیٹ کور میں ایک رہنما تھے، اور نارمن کے لئے سبق سیکھنا بہت آسان تھا" ۔" انہوں نے زیادہ تر وقت اپنی تعلیم کی بجاۓ اپنے روم میٹس پر گزارا۔" شوازکوف 1956 کی کلاس میں 480 کیڈٹوں میں43 ویں گریجویٹ تھے اور انھوں نے ایک انفینٹری کے سیکینڈ لیفٹیننٹ کے طور پر ویسٹ پوائنٹ کی طرف سے کمیشن حاصل کیا۔ جنوبی کیلی فورنیا یونیورسٹی سے میکینکل انجینئرنگ میں ایم اے کرنے کے بعد، شوازکوف ویسٹ پوائنٹ میں واپس آئے جہاں انہوں نے میکینکل انجینئرنگ کے سیکشن میں دو سال کے لئے کیڈیٹوں کو تعلیم دی۔ شوازکوف ویت نام میں دو مرتبہ تفویض رہے، گریناڈا میں فوج کے ایک مشیر کے طور پر بحریہ کے لیۓ خدمت سر انجام دیں اور بعد میں امریکی فوج کی مرکزی کمان کے کمانڈر بن گئے۔ لیکن یہ خلیج کی جنگ کے دوران تھا جب انھوں نے اتحادی فوجوں کی قیادت کی 700،000 فوجیوں جن کا تعلق دنیا کے 34 ملکوں سے تھا جس نے دنیا کی توجہ ان پر کی۔ شوازکوف نے کویت سے ٹیلی ویژن پر پریس کانفرنس کے دوران کشش شخصیت کی وجہ سے مشہور ہو گئے- ایک با اثرکارکردگي ایک 24 گھنٹے کی خبروں کے سلسلے میں صبح سب سے پہلے۔ سوداتھ نے کہا کہ جنگ میں شوازکوف کی قیادت نے امریکی فوج کے سب سے عظیم کمانڈروں کی ایک کے طور پر ان کی جگہ کی ضمانت دی اور ان اعلی ذھانت کی بصیرت کا اعتراف کیا۔ سیاست میں داخل ہونے کا دباؤ کو نظر انداز کرتے ہوۓ، شوازکوف خیراتی نے اپنے آرمی کے بعد کے وقت میں اپنی توجہ خیراتی کاموں پر مرکوز رکھی۔
سوداتھ نے کہا کہ "وہ سٹارلائیٹ فاؤنڈیشن کے بہت حمایتی تھے، ـجو بچوں کو بد سلوکی کے حالات سے بچانے کے لئے وقف ایک تنظیم تھی ۔ انھوں نے زخمی فوجیوں کے لیے بھی بہت کام کیا۔۔۔ اور وہ کینسر کی بیداری کے قومی نمائندے بھی تھے" ۔ "وہ فرض، غیرت اور ملک کی خدمت کرنے کے اصولوں پر زندگی گزارتے تھے۔" سوداتھ نے کہا کہ شوازکوف کے پاس اخلاقی جرات اور ذھانت موجود تھی جس نے ایک پوری قوم کا احترام حاصل کیا اور ایک عظیم میراث پیچھے چھوڑی۔ انہوں نے مزید کہا کہ "وہ ویسٹ پوائنٹ کی لمبی گرے لائن میں نہ صرف ایک روشن روشنی تھے، بلکہ وہ لمبی گرے لائن کی بتیوں میں سے ایک تھے اور ہم سب ان کی کمی محسوس کریں گے" ۔ وزیر خارجہ کالن پاول کے سابق سکیرٹری، جنہوں نے اس یادگار سے خطاب کیا، جو نیویارک کے سٹی کالج میں ایک آر-او-ٹی-سی گریجویٹ تھے، اور شوازکوف کی طرح پیدل فوج میں کمیشن حاصل کیا۔ پاول نے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے طور پر شوازکوف اور سابق نائب صدر ڈک چینی کے ساتھ جب فوج سرد جنگ کے بعد کی حکمت عملی کے لئے تیاری کر رہی تھی کام کرنے کے بارے میں بات کی۔ پاول، فورس میں کمی کر کے ایک چھوٹی مگر مکمل طور پر قابل فورس کی حمایت کرتے ہوۓ کہا کہ "(ان) کے پاس تبدیلی کی ضرورت کی سب سے زیادہ دانشورانہ سمجھ تھی" ۔ پاول جنہوں نے، 1991-1990 میں جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین کے طور پر خدمات سرانجام دیں نے کہا کہ شوازکوف نے کویت پر عراقی حملے کے جواب میں جو درست منصوبہ بندی کی اس میں بڑے پیمانے پر کوئی تبدیلی نہیں کی گئی تھی اوربعد میں آپریشن ڈیزرٹ شیلڈ اور ڈیزرٹ سٹارم.بن گی۔ امریکی عوام نے جو کچھ ہر روز ٹیلی ویژن پر دیکھا اس پر حیران تھے، پاول نے کہا نوجوان مرد اور عورتیں جن کو نظم و ضبط، غیرت کے نام پر، اور عزت کے ساتھ لڑنے کے لئے تربیت دی گئی تھی۔ شوازکوف اتحادی فورس کے اقدامات کو دنیا کے سامنے اس کا صاف الفاظ میں اظہار میں ماہر تھے۔ "انہوں نے امریکی عوام کا مکمل اعتماد حاصل کیا"۔ شوازکوف نے پاول کے ساتھ، دن رات، اپنی فوج کے ارکان کے بارے میں کہانیاں سنائیں جو ان کی یادوں میں زندہ رہیں گیں۔ پاول نے کہا کہ شوازکوف نے امریکی تاریخ میں ایک انمٹ نقش چھوڑا ہے اور ہمیشہ کے لئے "سٹامن نارمن" "ریچھ" اور ایک آدمی، جس کی اپنے فوجیوں سے لگن نے انہیں فتح دلائی اور جس کی زندگی سے بڑی شخصیت نے "ملک اور دنیا کو روشن کیا، کے طور پر یاد رکھا جاۓ گا۔ سنتھیا شوازکوف نے اپنے والد کی زیادہ ذاتی تصویر پیش کی، ایک ایسا شخص جو اپنی جو اپنی آرام کرسی آرام سے بیثھ کو پیواراٹی یا "لے میزراب" کے گانے سنتا تھا اور اگلے دن سٹیج پر جا کر جانی کیش کے ساتھ گانے گاتا تھا۔ زندگی بھر کے بین الاقوامی سفر، پرتعیش محلات اور ہوٹلوں میں سونے، کے باوجود ہم خاندان کے کیمپنگ سفر پر خیموں میں بھی اتنی ہی آرام دہ اور پرسکون نیند سوۓ اور ایک دن پرانی، ہاٹ چاکلیٹ پی۔ انہوں نے کہا کہ "جہاں عوام جنگ کے ہیرو کو یاد کرتے ہیں، چاہے صحرای کپڑوں میں ملبوس ہے یا تمغے اور ربن کے ساتھ سجی وردی پہننے، ہم ایک باپ کو یاد کرتے ہیں جو جوکر کے بہروپ میں۔۔۔ ہمارے بچپن کی سالگرہ پارٹی میں جادو کے کرتب کرتے یاد ہیں" ۔ آنسوں کو روکتے ہوۓ، انھوں نے ایک باپ اور شوہر کے بارے میں اس سے زیادہ ذکر کیا جتنا عام لوگوں جانتے تھے۔ انھوں نے یاد کیا وہ جنہوں نے ویسٹ پوائنٹ انسٹرکٹر کی حیثیت سے کیڈیٹوں کو فوجی افسران میں بدلنے میں فخر محسوس کیا یاد، اور پھر گھر آ کر اس بات کا یقین کیا کہ ان کے بچے پہاڑوں کے فلیش کارڈ کی مشق کر رہے تھے۔ شوازکوف 78 سال کے تھے جب وہ 27 دسمبر،2012 کو ٹیمپا، فلوریڈا میں نمونیا کی پیچیدگي سے وفات پا گۓ۔ سنتھیا نے ان کی موت کے بعد کہا، خاندان نے ٹی وی پر کو شوازکوف خراج تحسین نے ان اطمینان بخشا اور ہیجان کو کم ہے، ان کے نقصان کے غم کو ان کی یاد کو منانے میں تبدیل کرتے ہوۓ۔ انھوں نے کہا کہ "زندگی میں جب بھی فرض کی پکار آئی، وہ وہاں موجود تھے" ۔ "فرض، غیرت، اور ملک ان کا وطیرہ تھا۔ وہ کرنا جو درست تھا، ان کا رہنما تھا۔"
|