ارزگان کے کسان بادام کی فصل کو کاروبار میں بدلنا سیکھتے ہیں Array چھاپیے Array
022613_AF_Almonds
صدر محمد، درمیان، صوبائی ڈائریکٹوریٹ زراعت، آبپاشی، اور لائیوسٹاک، 7 فروری، 2013 وضاحت کرتے ہوۓ کہ کس طرح درخت پر چھڑکاؤ کے آلات ترین کوٹ، صوبہ ارزگان، افغانستان، میں بہتر بادام پیدا کرنے کے لیۓ استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ (یو- ایس آرمی فوٹو منحانب سارجنٹ جیسی این مک کورمک/ریلیزڈ)

تارن کوٹ، افغانستان – ایک ایسے ملک جس میں کھیتی باڑی زندہ رہنے کا ایک ذریعہ ہے، یہاں صوبہ ارزگان میں کسانوں نے زراعت کو تجارتی بنانے کے لیۓ اہم اقدامات کیۓ ہیں۔

 

 

صوبے میں بادام کے کسانوں نے حال ہی میں مہارتیں سیکھی ہیں اور اوزار وصول کیۓ ہیں تاکہ ان کو اپنی پیداوار پر مزید کنٹرول اور منافع بڑھانے کے ذریعے کامیاب ہونے میں مدد کی جا سکے۔

صدر محد، صوبائی ڈائریکٹوریٹ زراعت، آبپاشی اور مویشی (ڈی اے آئی ایل)، نے امریکہ کی بین الاقوامی ترقیاتی ایجنسی (یو ایس ایڈ) کے ملازم باب مولن، جو صوبائی تعمیر نو ٹیم ارزگان کے ساتھ ہیں، کے ساتھ شراکت میں7 فروری، 2013، کو اس صوبے میں کئی گروہوں میں سروتا ، درخت پر چڑکاؤ کا سامان، اور حفاظتی سوٹ تقسیم کیے۔

اس امداد کے پیچھے خیال کسانوں کی بیرونی ذرائع، یا مڈل مین سے آزادی حاصل کرنے کے لئے مدد کرناہے۔ موجودہ نظام میں، کسانوں کو [بادام] توڑنے اور پیکئجئنگ کے لئے اپنی فصل دیگر فریقوں کو دینی پڑتی ہے، لہذا وہ منافعے کے ایک حصہ سے محروم رہ جاتے ہیں۔

"مولن نے کہا کہ "مقصد یہ تھا کہ رفاقت آگے بڑھے اور باداموں کو صحیح طریقے سے بغیر چھلکے کے بیگوں میں ڈالا جائے ۔ اس سے ان کے بادام کی قیمت ڈالر میں100 سے200 فیصد تک اضافہ ہو جائے گا۔"

بادام کو بیگوں میں ڈالنے سے پہلے اس کا چھلکا اتارنا سب سے ضروری ہے۔ باداموں کی کئی اقسام ہوتی ہیں، اور ان میں سے زیادہ تر ان کو کھولنے کے لیۓ طاقت کی ضرورت سے درجہ بندی کی جاتی ہے۔ ہاتھ یا منہ سے توڑے جانے والے بادام آسانی سے فروخت ہو جاتے ہیں، اور اس لئے زیادہ نفع بخش ہوتے ہیں۔ اس وقت کسانوں ان کو توڑنے کے لیۓ انھیں پتھروں سے چوٹ پہنچاتے ہیں۔

مولن نے کہا کہ "بادام جو آپ پتھر سے توڑتے ہیں سب سے سستے ہوتے ہیں کیونکہ ظاہر ہے انھیں تورنا مشکل ہوتا ہے، لیکن اگر انھیں تیار کرنا شروع کر دیں تو آپ کو ان کی ڈالر کی قدر میں اضافہ کر سکتے ہیں" ۔ "یہ وہ وقت ہے جب ہم سروتا لاتے ہیں۔"

مولن کا امریکہ میں ایک دوست ہے جو سروتے سے کام کرتا ہے، اور ڈی-اے-آئی-ایل کے ساتھ کام کرنے کے دوران، انھیں ترین کوٹ میں ایک بڑھئی ملا جو اس مشین کا اپنا ایک ورژن بنا سکتا تھا، افغانی اس کو "بادام مطاونکی" کہتے ہیں۔

مولن نے کہا کہ "اصل میں بڑھئی نے ان کے لیۓ 30 سروتے مشینیں بنانی تھیں اور ان ایسوسی ایشنوں کے درمیان تقسیم کرنی تھیں جو پہلے سے ہی تیار کی گئی تھیں" ۔ "لیکن یہ ڈی-اے-آئی-ایل کا ارادہ ہے کہ وہ خواتین کے امور کے شعبہ کے پاس براہ راست جائیں گے۔"

باداموں کا چھلکا اتارنے اور انھیں پیک کرنے کے بعد، ایک پروگرام چیمپس یا کمرشل افقی زراعت مارکیٹنگ پروگرام جسے افغان چلاتے ہیں، فروری کے آخر میں دبئی میں زرعی خوراک مہم میں بادام کے 80 بیگ لے جا رہا ہے۔ ارادا یہ ہے کہ ارزکان کے بادام کے لیۓ ایک بہتر تجارتی راستہ کھولا جاۓ۔

مولن نے کہا کہ ماضی میں انھیں مارکیٹ کی سمجھ نہیں تھی" ۔ "میں نے اصل میں ان کے ساتھ باہر جا کر انہیں دکھا ہے، چھلے ہوۓ بادام چھلکے والے باداموں کے مقابلے میں کیا فائدہ لا سکتا ہے۔ روس ان تمام باداموں کی پیداوار ہم سے خرید لے گا جو درمیانے سائز کے ہیں اور جن میں1 فیصد سے بھی کم کڑوا بادام ہے۔"

ارزگان میں بادام کے درخت میں سے بہت سے تلخ بادام ہیں، کسانوں کی فصل کے طریقوں کی وجہ سے ان باداموں کی پیداوار اور بیچے جانے والے بادام ان کے ساتھ مل جاتے ہیں۔ مولن کا کہنا ہے کہ کسانوں کو کٹائی کی پیداوار کے بعد کی مناسب تعلیم پر زیادہ توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہوگی، لیکن ڈی-اے-آئی-ایل نے پہلے سے ہی زراعت اور فروختمیں مقامی لوگوں کی طرف سے لاگو طریقوں میں بہتری دیکھی ہے۔

محمد نے کہا کہ "ہم پُرامید ہیں کیونکہ ہمارے صوبے کے استحکام میں بہتری آئی ہے" ۔ "اس سے ہمیں اپنے پروگرام کو ضلع بھر میں اور دوسرے ممالک تک توسیع کرنے میں سہولت ملے گی۔"