فراح میں افغان عورتوں کے حقوق مرکزی مقام لیتے ہیں Array چھاپیے Array
منجانب Lt.j.g. Matthew Stroup, Provincial Reconstruction Team Farah
022513_AF_TV_Radio
نرگس کریمی، دائیں، 23 فروری، 2013 کو فراح شھر آر-ٹی-اے کی عمارت میں ایک لائیو انٹرویو کے دوران ریڈیو ٹیلی ویژن افغانستان (آر-ٹی-اے) کے ساتھ فراح میں ایک نشریاتی صحافی، لیلوما صدیقی(بائیں) ، فراح میں خواتین کے امور کی ڈائریکٹر کے ایک جواب کو سنتے ہوۓ۔ (ڈی-او-ڈی فوٹو منجانب لیفٹیننٹ جے۔ جی۔ میتھیو سٹروپ)

فراح شھر، افغانستان --- گزشتہ ایک دہائی کے دوران خواتین کے معاشرے میں حقوق بڑھانے اور ان کو با اختیار بنانا صوبائی تعمیر نو ٹیم (پی آر ٹی) کے نمائندوں اور مقامی رہنماؤں کے درمیان 23 فروری، 2013 کو فراح ریڈیو، ٹیلی ویژن افغانستان نشریاتی سہولت میں ایک اجلاس کے دوران بات چیت کا مرکز تھا۔ گزشتہ پی آر ٹی کے ساتھ اکتوبر 2012 میں کنٹرول سنبھالنے کے بعد سے یہ پی-آر-ٹی فراح کا اس ٹیلی ویژن ریڈیو براڈ کاسٹ کی عمارت کا پہلا دورہ تھا۔

پی-آر-ٹی فرح نے آر-ٹی-اے فراح کے ادارے کا دورہ کیا، فراح میں معلومات اور ثقافت کے مقامی ڈائریکٹوریٹ کے عملے کی طرف سے ایک حالیہ صحافت کی مہارتوں کے ٹریننگ کورس کے بعد تاکہ مرد اور عورتیں دونوں جنسوں کے طالب علموں کے لئے میڈیا کی صلاحیت کی تعمیر کی جاسکے۔ اس میں کل 41 طالب علموں کو، ان میں سے 20 خواتین، ایک ہفتے پہلے فراح شہر میں ایک تقریب میں کورس سے فارغ التحصیل ہوئے ہیں۔ کلاس کے تالب علموں میں سے ، نرگس کریمی، ان پانچ طالب علموں میں سے ایک ہیں جو آر –ٹی-اے فراح کے ساتھ کل وقتی ریڈیو براڈ کاسٹ صحافی ہیں۔ کریمی، جو فراح ٹیچر ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ میں دوسرے سال کی طالبہ بھی ہیں، نے فراح اور ہمسایہ صوبہ ہرات میں بہت سی صحافت کی ورکشاپوں میں شرکت کی ہے۔

کریمی نے کہا کہ"میں نے فراح میں ٹریننگ ورکشاپ کے دوران میڈیا اور صحافت کے بارے میں بہت کچھ سیکھا" ۔ "دراصل میں نے جتنا سوچا تھا اس سے بھی زیادہ سیکھا - یہ واقعی فائدہ مند تربیت تھی۔"

فراح میں ابھی کچھ وقت پہلے، حقیقت میں افغانستان بھر میں، عورتوں کے لیۓ اسکول جانے یا گھر سے باہر کام کرنے کا موقع نہیں تھا۔ یقینی طور سے انھیں ایک مقامی ریڈیو سٹیشن پر ایک ریڈیو شخصیت کے طور پر کام کرنے کا موقع نہیں ملا تھا۔ ایک شخص جسے وہ وقت اچھی طرح یاد ہے وہ فراح کی خواتین کے امور کے ڈائریکٹر، لیلوما صدیقی ہیں۔

صدیقی نے اس وقت جب انھوں نے کابل میں طالبان کی حکومت کے دوران ایک استاد کی حیثیت سے کام کیا، کو یاد کرتے ہوئے کہا ۔ ان کی بیٹی بیمار تھی اور اسے ڈاکٹر کے پاس لے جانے کی ضرورت تھی۔ اس وقت صدیقی کے شوہر پاکستان میں ایک تاجر کے طور پر کام کر رہے تھے، طالبان کے تحت ایک مقامی مستغیث کے طور پر اپنی نوکری کھونے کے بعد۔

صدیقی نے کہا کہ"میں اپنی بیٹی کو ڈاکٹر کے پاس لے گئی، جو میرے شوہر کا کزن تھا" ۔ "جب اس نے میری بیٹی کو دیکھا تو اس وقت ایک طالبان میرے پیچھے بیٹھا تھا اور اس نے دیکھا کہ میں نے اپنے چہرے سے نقاب ہٹا لیا۔ وہ مجھے کوڑے مارنا چاہتا تھا لیکن ڈاکٹر نے اسے روک دیا۔ میں نے جلدی سے اپنا چہرہ ڈھانپ ليا۔ یہ میرا افغانستان میں تاریک ترین دن تھے۔"

افغانستان میں اس وقت کے بعد سے بہت تبدیلی آ گئی ہے، اور حالانکہ خواتین کے حقوق اور مسائل کو حقیقت میں کوئی بعد میں شامل کی گئی اضافی چیز نہیں ہے، ثقافت کے اندر خیالات تبدیل ہو رہے ہیں۔

صدیقی نے کہا کہ"میں دس سال سے خواتین کے امور کے ڈائریکٹر رہی ہوں" ۔ "میں نے پہلے دو سال کے دوران اپنا دفتر نہیں چھوڑا۔ جب طالبان چلے گۓ، خواتین اجلاسوں کا ایک حصہ ہونے اور معاشرے اور حکومت میں حصہ لینے کے قابل تھیں۔"

صدیقی کا خیال ہے کہ فراح میں خواتین کے حقوق کے بارے میں ثقافتی تبدیلی کی دو اہم وجوہات ہیں۔ طالبان کا خاتمہ سب سے پہلی وجہ ہے، اس کے بعد خواتین کے حقوق کے کے بارے میں بیداری اور افہام و تفہیم میں اضافہ ہے۔ صدیقی کا کہنا تھا کہ افغانستان کے تمام صوبوں میں عوامی معلومات کی مہم اور خواتین کے حقوق کے ماہانہ سیمینار لوگوں کی ذہنیت میں تبدیلی کی وجہ بنے ہیں۔ انہوں نے اس حقیقت کی طرف بھی توجہ دلائی کہ افغانستان کے ہر صوبے میں اب خواتین کے امور کی ڈائریکٹوریٹ ہے، ان علاقوں میں پیش رفت جاری رکھنے کے لیۓ۔

فراح میں خواتین کے حقوق میں اضافے کے باوجود، وہاں اب بھی مشکلات ہیں۔ کریمی، جنہیں آر-ٹی-اے فراح میں نوکری حاصل کرنے کے لئے خاندان کے ایک مرد رکن کی طرف سے مدد ملی تھی، نے یہ بھی کہا کہ انھیں اپنے تمام خاندان اور دوستوں کی مکمل طور پر حمایت حاصل نہیں ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ایک مرتبہ ان کے کسی قریبی عزیز نے ان سے پوچھا کہ فراح میں ریڈیو پر کام کرنے کے لیۓ کوئی اور عورت نہیں ملی تھی۔

ان کا جواب یہ تھا، "میں یہ کام کرنا چاہتی ہوں۔"

کریمی، جو اب 25 سال کی ہیں، انھوں نے طالبان کے دور میں اپنی زندگی کے ابتدائی سال ایران میں پناہ گزین کے طور پر گزارے۔ ان چیلنجوں کے باوجود جس کا ان کے خاندان کو سامنا کرنا پڑا، وہ ٹیلی ویژن پر آنے کے خواب کے ساتھ پلی بڑھیں۔ اصل میں، کریمی نے کہا کہ وہ خود کو آئینے میں دیکھتیں اور ایک صحافی ہونے کی نقل کرتیں۔ ان کا خواب آہستہ آہستہ اس کی حقیقت بن رہا ہے۔

خواتین کے حقوق کی ترقی کے ساتھ ساتھ، فراح میں میڈیا میں عہدے خواتین کے لئے آسانی سے دستیاب ہیں، جنرل مینیجر کی تشکیل - ایک دستاویز کا خاکہ جو یہ بتاتا ہے کہ وہ کتنا عملہ رکھ سکتے ہیں، میں دستیاب عہدوں کی کمی کے باوجود۔ فی الحال، ایک اور نوجوان، فراح کی مقامی خاتوں ایک جزوی، رضاکارانہ طور پر پر کام کرتی ہیں، آر-ٹی-آے فراح میں، بچوں کے بارے میں ایک ٹی وی شو بنانے کے لیۓ۔

محمد ہاشم عمری، جوآر-ٹی-اے فراح کے جنرل مینیجر ہیں، نے کہا کہ "پہلے ایسا ہوتا تھا کہ مجھے عورتوں کی طرف سے کام کی درخواستیں کبھی نہیں ملتی تھیں" ۔ "اب مجھے عورتوں کی طرف سے یہاں باقاعدہ بنیادوں پر کام کی درخواستیں ملتی ہیں۔ بدقسمتی سے میری تشکیل مکمل ہے تو میرے پاس مردوں اور عورتوں کے لئے کوئی بھی باقاعدہ بنیادوں پر کام نہیں ہے۔ لیکن، جب عہدے دستیاب ہوتے ہیں تو میں خواتین کو روزگار دینے کی پوری کوشش کرتا ہوں۔"

ریڈیو اور ٹیلی ویژن براڈ کاسٹ سینٹر پی آر ٹی کے دورے کے دوران، پی آر ٹی کے اراکین کو ایک شیشے کے ذریعے کریمی صدیقی کا ایک لائیو ریڈیو انٹرویو دیکھنے کا موقع ملا، ایک ایسا موقع جو یقینی طور پر دس سال پہلے دیکھنے کو نہ ملتا۔ اگرچہ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اتحادی فوجوں کی محنت بیکار رہی ہے، اس طرح کی مصروفیات ایک اشارہ ہیں کہ افغانستان میں اہم طریقوں سے تبدیلی آ رہی ہے۔ لیکن اتحادی فوجوں کے چلے جانے کے بعد خواتین کے حقوق کے لیۓ حاصل شدہ فوائد کا کیا ہو گا؟

اگرچہ بہت سے لوگوں کو پریشانی لاحق ہے کہ افغانستان میں اتحادی افواج کی منتقلی کے بعد سلامتی کی صورت حال خواتین کے حقوق کے مسئلے میں حاصل شدہ فوائد کھو دینے کی طرف بڑھے گی، صدیقی ان میں سے ایک نہیں ہیں۔

صدیقی نے کہا کہ "کچھ لوگ ہیں جو اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ منتقلی کے بعد کیا ہو گا" ۔ "اور شاید سکیورٹی بدتر ہو جائے گی۔ لیکن سکیورٹی کی صورت حال کے ساتھ جو بھی ہوتا ہے، عورتوں اور ان لوگوں کی ذہنیت جو خواتین کے حقوق کو دیکھ چکے ہیں ان کی ذھنیت نہیں بدل جائے گی۔ کوئی بھی ہماری سوچ کو تبدیل نہیں کر سکتا۔"