| زخمی جنگجو کی مشن کی محبت میں دوبارہ تعیناتی | Array چھاپیے Array |
منجانب Sgt. Luke Rollins, U.S. Army Public Affairs شئیرمتعلقہ خبریں
سٹاف سارجنٹ برینڈن ولٹ، ڈیلٹا فوجوں، تیسری سکواڈرن، 17 ویں کیولری رجمنٹ، ٹاسک فورس لائٹ ہارس، کے ساتھ ایک او-ایچ 58 "کیووا" ہیلی کاپٹر کے عملے کے سربراہ ہیں 15 فروری، 2013 کو ایک انٹرویو کے دوران قندھار ہوائی اڈے، افغانستان میں اپنی مصنوعی ٹانگ دکھاتے ہوۓ۔ ولٹ جو کیمرون پارک، کیلیفورنیا، کے مقامی ہیں اور جنہوں نے 2007 میں اپنی عراق میں تعیناتی کے دوران اپنی ٹانگ کھو دی تھی، نے کہا کہ وہ ٹاسک فورس کے لائٹ ہارس کے ساتھ تعینات ہیں کیونکہ وہ اپنے کام سے محبت کرتے ہیں اور وہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ مشن کے لیۓ ایک قابل قدر اثاثہ ہیں۔ (یو ایس آرمی فوٹو منجانب سارجنٹ لیوک رولنز)
قندھار ہوائی اڈہ، افغانستان (21 فروری، 2013) - جس طرح سٹاف سارجنٹ برینڈن ولٹ ڈیلٹا فوج، تیسرا سکواڈرن،17 ویں کیولری رجمنٹ، ٹاسک فورس لائٹ ہارس کی دیکھ بھال کے علاقے پر چلتا پھرتا ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ اس کے ذہن پر اس کا مشن سوار ہے۔ ایک او-ایچ 58 "کیووا" ہیلی کاپٹر کے عملے کا چیف فوجی دستوں کے بیڑے کی دیکھ بھال کا ذمہ دار ہوتا ہے، اور وہ اور اس کے فوجی "موششی" – رکھتے ہیں جو کہ پشتو میں مچھر کو کہا جاتا ہے جو کہ کیووا کی عرفیت ہے اپنے حملے شدت اور شاطرانہ پن کی وجہ سے – اڑ رہا ہے لڑائی کو دشمن تک لانے کے لیۓ۔ "میں صرف اس بات کا یقین کرنا چاہتا ہوں کہ میرے جوان ایک اچھی، معیاری مصنوعات دیں،" ولٹ نے کہا جو کہ کیمرون پارک، کیلیفورنیا، کے مقامی ہیں۔ وہ نہ صرف دیکھ بھال کےعلاقے میں موجود فوجیوں کا ذمہ دار ہے، بلکہ وہ ایک پلاٹون سارجنٹ بھی ہے۔ اگر وہ کیووا کی دیکھ بھال کی نگرانی نہ کر رہا ہو تو وہ اپنے اوپر بنے دفتر میں بیٹھا اپنے فوجیوں کے لئے انتظامی کام کر رہا ہوتا ہے۔ ولٹ اپنے دفتر کی سیڑھیوں پر چڑھتا ہے۔ ہر قدم سیڑھی پر اوپر جاتے ہوۓ اس کے ساتھی کارکنان کے درمیان حوصلہ افزائی کی ایک چنگاری جلاتا ہے، لیکن وہ بہت شائستہ ہے اپنی کسی بھی تکلیف کا اظہار کرتے ہوۓ اگر کوئی ہوتی بھی تو۔ "زینے سب سے برے ہوتے ہیں،" انہوں نے اپنے دفتر کی کرسی میں گرتے.ہوۓ کہا۔ ایک مصنوعی ٹانگ ان کے پیچھے کی دیوار پر لٹکی ہوئی ہے۔ ولٹ اپنی مصنوعی ٹانگ دکھانے کے لیۓ اپنی پتلون کی بائیں ٹانگ اوپر لپیٹی جو اسے قندھار ہوائی اڈے، افغانستان میں اپنا مشن پورا کرنے میں مدد کرتی ہے۔ ولٹ، جنہوں نے 2007 ء میں عراق میں اپنی پہلی تعیناتی کے دوران اپنی ٹانگ کھو دیی تھی، نے کہا کہ انہوں نے ٹاسک فورس لائٹ ہارس اور ٹاسک فورس فالکن، تیسری جنگی ایوی ایشن بریگیڈ کے ساتھ ایک دوبارہ تعینات ہونے کا فیصلہ کیا، کیونکہ انھیں اپنے کام سے محبت ہے۔ وہ ایک داخلے کی کنٹرول پوائنٹ کی حفاظت پر معمور تھے جب ایک ٹرک بہت تیزی سے آیا اور سڑک کے دونوں طرف سیمنٹ کی رکاوٹوں کو گرا دیا۔ ان میں سے ایک اس پر گر گیا۔ "اس وقت میں طوف یہ ہی سوچ رہا تھا، 'مجھ پر سے اس چیز کو ہٹاؤ!'" انہوں نے کہا۔ یہ بتانا کہ ٹانگ ہمیشہ کے لیۓ چلی گئی تھی بہت عجیب تھا۔" انہوں نے سان ڈیاگو، کیلیفورنیا میں باب ولسن بحریہ کے ہسپتال میں سرجری اور جسمانی تھراپی کروائی۔ اگرچہ انہوں نے فوج چھوڑ کر جانے پر غور کیا، لیکن ان کے جنگی منتقلی کی بٹالین کے ساتھ سکواڈ لیڈر کے طور پر تجربات نے انھیں اپنے فوجیوں کی محبت یاد دلائی –اورساتھ ہیلی کاپٹرز بھی۔ "میں ہمیشہ پر امید مزاج میں ہوتا تھا،" انھوں نے کہا۔ "میں نے طرف یہ سوچا کہ 'مجھے لازما" فضائیہ میں واپس جانا تھا۔'" انھوں نے ایسا ہی کیا، امریکی آرمی ایوی ایشن سینٹر میں ایک اعلی درجے کی انفرادی تربیتی انسٹرکٹر بنتے ہوۓ جوائنٹ بیس لینگلی-یوسٹس، ورجینیا میں۔ وہ ہنٹر آرمی فیلڈ، جارجیا میں ستمبر 2011 میں آۓ۔ فرسٹ سارجنٹ پال جلئین، ڈیلٹا فوجوں کے فرسٹ سارجنٹ نے کہا کہ ولٹ کی لچک اور مثبت نقطہ نظر اس ٹاسک فورس بھر کے فوجیوں اوران کے ساتھیوں کے لیۓ مشعل راہ بناتا ہے۔ "اس کے ارد گرد رہنا بہت خوشگوار ہے، جلئین نے کہا۔ "وہ فوجیوں کے ایک شاندار رہنما ہیں، ان کی ترقی کے لئے وقف ہے - وہ اس کا احترام کرتے ہیں جس سے وہ گذرا ہے، اس کے اس سب پر قابو پانے اور حوصلہ مند رہنے کی صلاحیت۔" جلئین نے خاص طور پر ایک مشکل فوجوں کی گشت کا ذکر کیا جب ولٹ کے عزم نے اس کے ساتھی فوجیوں میں چستی بھر دی تھی۔ "ہر کوئی جدوجہد کررہا تھا،" انہوں نے کہا۔ "اور پھر، اچانک سے، سٹاف سارجنٹ ولٹ فارمیشن تک بھاگتا ہوا گیا۔ فوج کے لئے حوصلہ افزائی کی مقدار بیان سے باہر تھی۔" اگرچہ پرائیویٹ فرسٹ کلاس، اینڈرو ویگنر، جو کہ کیووا کی دیکھ بھال پر تفیض ہیں اور ولٹ کے ایک فوجی ہیں، اس ابھی ان کی یونٹ کے ساتھ اس گشت پر ابھی نہیں تھے، وہ ولٹ کی یو-ایس-اے-اے-سی-ای سکول ہاؤس میں کہانیوں کے لطف اٹھاتے ہیں۔ جیسا کہ اکثر ہوتا ہے، مرد اور اس سے پہلے کے قصے کے درمیان ایک فرق ہوتا ہے، لیکن ویگنر نے کہا کہ ولٹ سے ملاقات نے دو باتوں کو واضع کیا کہ ان کا ایک بہت عاجز انسان کا برتاؤ اور ان کی اپنے مشن سے لگن۔ "ان کی ذہنیت مختلف ہے،" ویگنر، جو فورٹ بریگز، کیلیفورنیا کے ایک مقامی ہیں، نے کہا۔ "وہ ایک بہت پرسکون آدمی ہے، لیکن وہ اپنی سی پوری کوشش کرتے ہیں۔ وہ وہاں جاتے ہیں اور دیکھ بھال کا تمام کام کرتے ہیں ہم سب کی طرح۔ وہ اپنی ٹانگ کو کسی کام سے روکنے نہیں دیتے۔" ولٹ تین اقدام کے نقطہ نظر کے ساتھ اپنی حوصلہ افزائی کرتے ہیں: صاف بات کرنا، بات چیت، مزاح۔ کہاں ویگنر اور دیگر نے ایک بار ان کی ٹانگ کے موضوع پر بات کرنے میں احتیاط کرتے تھے، یہ اب ساتھی فوجیوں کے درمیان اچھی طب؛عت کا ایک اور موضوع ہے۔ اپنے طور پر، ولٹ نے کہا کہ وہ اپنی کبھی کبھار عملی مذاق کے لئے مصنوعی ٹانگ کا استعمال کرتے ہوئے نہیں تھکتے۔ "میرا مطلب ہے کہ مجھے اپن ٹانگ کی کمی محسوس ہوتی ہے، لیکن مجھے اس کے ساتھ ساتھ اس کا مزا بھی اٹھا لینا چاہیۓ،" انھوں نے کہا۔ اگرچہ ماحول سازگار ہے، مشن کی کامیابی اب بھی ڈیلٹا ٹروپ کے فوجوں کی اولین ترجیح ہے۔ویگنر نے دونوں ولٹ کی چوٹ اور افغانستان کے مستقبل کی حفاظت کی سنجیدگی کو تسلیم کیا۔ "یہ بہت حوصلہ افزائی والی بات ہے کہ کوئی ایسے تکلیف دہ تجربےسے گزرا ہو اور اس کے پاس اب بھی فوج میں رہنے اور تعینات ہونے کی تحریک ہو،" انہوں نے کہا۔ "انھیں میرا پہلا پلاٹون سارجنٹ کے طور پر پانا بہت اعزاز کی بات ہے۔" ولٹ کے لیۓ، یہ ہمیشہ سے برابر کی محنت اور محبت رہی ہے اور رہے گی۔ "میں اب بھی اپنے کام سےمحبت کرتا ہوں،" انہوں نے کہا۔ "مجھے فوجیوں کے ساتھ کام کرنے سے محبت ہے۔ میں صرف اپنے حصے کی کوشش کر رہا ہوں۔ میں اب بھی قابل ہوں، اور مجھے محسوس ہوتا ہے کہ اس مشن میں شامل کرنے کے لیۓ میرے پاس کچھ قیمتی چیز ہے۔"
|