افغان فوجی رضاکارانہ طور پر انگریزی زبان سیکھتے ہیں Array چھاپیے Array
منجانب Sgt. Bobby Yarbrough, Regional Command Southwest
022113_English_Lessons
امریکی مرین کیپٹن جیسن تھامس افغان نیشنل آرمی سارجنٹ نجیب اللہ قابل کی کیمپ ڈوور میں16 فروری، 2013 کوایک اعلٰی درجے کی انگریزی کلاس کے دوران جملے کی تشکیل میں مدد دیتے ہوۓ۔ یہ کلاس فرسٹ بریگیڈ، 215 کور اور مرین کور بریگیڈ کے مشیر کی ٹیم کے درمیان تبادلہ کا حصہ ہے۔ (فوٹو منجانب سارجنٹ بابی جے۔ یار برو)

کیمپ الامو، افغانستان –اپنی نوٹ بک کے اندر لائینیں لگاتے ہوۓ نجیب اللہ قابل اپنے ہوم ورک کا کام لکھتے ہیں – ایک پیراگراف لکھیں، پانچ جملوں پر مبنی جس میں ماضی اور حال کے فعل ہوں۔

پچھلے 16 ہفتوں سے، قابل اور دیگر افغان نیشنل آرمی کے فوجی جو فرسٹ بریگیڈ، 215 کور سے رضاکارانہ طور پر روزانہ ہوم ورک لیتے رہے ہیں جو کہ ان کے انگریزی کورس کا حصہ ہیں جسے بریگیڈ کی مشاورتی ٹیم یہاں سیکھاتی ہے۔

قابل کے لیے، یہ کام مشکل ہو سکتا ہے، لیکن ایک وہ کام ہے جو وہ کرنے کے لیے تیار ہے۔

قابل نے کنڑ صوبے میں اپنے ہائی اسکول میں شرکت کے دوران انگریزی کی تعلیم حاصل کی تھی، لیکن اس کو گریجویٹ ہوۓ 12 سال ہو گئے ہیں۔ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ انھیں بہت سی بنیادی باتیں بھول گئی ہیں، لیکن ان کا کہنا ہے کہ وہ دوبارہ سے سیکھنے کے لیۓ پُرجوش ہیں۔

قابل نے کہا کہ "میں کچھ سیکھنے کے موقعے کو گنوانا نہیں چاہتا صرف اس لیۓ کہ میں زبان نہیں سمجھتا" ۔ ہم مشیروں کی ٹیم سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں اور میں ان کے ساتھ بات چیت کرنے کے قابل ہونا چاہتا ہوں۔"

کورس

بریگیڈ کے ایگزیکٹو کرنل محمد سرور نے فرسٹ بریگیڈ کی مشاورتی ٹیم کے ساتھ مرینز سے کہا کہ اگر وہ اے-این-اے کے فوجیوں کو کچھ بنیادی انگریزی سکھا سکتے ہیں، تو انھوں نے انگریزی کا کورس تیار کیا۔

ستمبر 2012 میں، یرینز کے افسران نے اے این اے کے مٹھی بھرافسروں اور بھرتی شدہ فوجیوں کو چار ہفتوں کا کورس پڑھانا شروع کیا۔ اس وقت، یہ ایک دفعہ کے کورس کے طور پر ڈیزائن کیا گیا تھا، تاہم، کلاس اتنی کامیاب رہی کہ انھوں نے اس کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔

یہ کورس دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا ہے: بنیادی اور جدید۔ مختلف اقسام کی کلاسیں ہر طالب علم کو اس کی اپنی رفتار سے جاننے کی اجازت دیتی ہیں اور انفرادی ترقی کا موقع فراہم کرتی ہیں۔

بنیادی کلاس حروف تہجی کے تلفظ سکھاتی ہے، بڑے اور چھوٹے حروف لکھنے، اور تعارفی جملے بولنا سکھاتی ہے۔ اعلٰی درجے کی کلاس میں لکھنے کے کام کے ذریعے طلباء کو چیلنج کرتی ہے، جس میں جملے بنانے، مناسب فعل کا استعمال، فعل مضمون کا اتفاق شامل ہیں۔

کیپٹن جیسن تھامس، فرسٹ بریگیڈ کے مشیر کی ٹیم کے ساتھ معلومات افسر کے مطابق، کلاس مرینز اور بریگیڈ کے درمیان تعلق کی تعمیر کے بنیاد ہے۔

تھامس نے کہا کہ "اس قسم کے پروگرام مشیروں کے لیۓ اہم ہیں کیونکہ پہلا اصول تعلقات کی تعمیر ہے" ۔ "تو ہم ایسا ہی کر رہے ہیں۔ ہم افغانوں کو وہ مہارت سیکھا رہے ہیں جو ہمارے پاس ہے اور جس کو سیکھنے میں وہ دلچسپی رکھتے ہیں۔

تھامس نے کہا کہ انگریزی کی درس و تدریس ان کے لیے فائدہ مند تجربہ ہے کیونکہ یہ انھیں اے-این-اے کے فوجیوں کے قریب لاتا ہے جن کے ساتھ وہ روزانہ کام کرتے ہیں۔

تھامس نے کہا کہ "بعض اوقات چیزیں مصروف اور ہیجان انگیز ہو جاتی ہیں" ۔ "لیکن جب میں کلاس میں جاتا ہوں اور ان لوگوں کو سکھاتا ہوں، جب میں کلاس ختم کرتا ہوں تو میں ہمیشہ خوش ہوتا ہوں۔ یہ بہت فائدہ مند ہے کیونکہ ہر کلاس وہ تھوڑا سا سیکھتے ہیں اور جو کچھ وہ سیکھتے ہیں اسے استعمال کرنے کے لیۓ بہت پرجوش ہو جاتے ہیں۔"

قابل نے کہا کہ وہ اس وقت تک کلاس میں شرکت جاری رکھیں گے جب تک یہ دستیاب ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ سیکھنے سے محبت کرتے ہیں اور وہ زیادہ سے زیادہ جذب کرنے کو جاری رکھیں گے۔

 

قابل نے کہا کہ"میں 30 سال کی عمر کا ہوں اور ہر دن کچھ نہ کچھ سیکھنا جاری رکھتا ہوں" ۔ "انگریزی کے ساتھ بھی اسی طرح ہے۔ آپ کی تعلیم کبھی بھی مکمل نہیں ہوتی۔"