افغان فضائیہ جہاز اپنی پہلی پرواز پر زخمیوں کو نجات دلاتا ہے۔ Array چھاپیے Array
منجانب Capt. Anastasia Burgess, 438th Air Expeditionary Wing
022013_CASEVAC
کابل میں افغان فضائیہ کلینک پر موجود نرسیں، اے-اے-ایف سرجن جنرل کرنل عبد الرسول مائیل کی مدد کرتے ہوۓ، افغان فضائیہ کی تاریخ میں پہلی دفعہ زخمی مریضوں کو اٹھانے والا سیسنا 208 جہاز ان کو ہسپتال منتقل کرتے ہوۓ۔ (فوٹو منجانب ووگین لائٹاؤلر، کنیڈئین فورسز کامبیٹ کیمرہ)

کابل، افغانستان (19 فروری، 2013) - افغان فضائیہ کے لئے ایک تاریخی قدم میں، ایک اے-اے-ایف سیسنا 208، جو میدان جنگ میں زخمیوں کی کامیابی کے ساتھ انخلاء کے لئے استعمال ہوئی ہے، نے 11 فروری کو چار زخمیوں کو قندھار سے کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے تک منتقل کیا۔

اس مشن کی منصوبہ بندی اور قیادت حال ہی میں افغان اے-اے-ایف کمانڈر میجر جنرل عبد الوہاب وردک اور نیٹو ایئر ٹریننگ کمان افغانستان کے کمانڈر، برگیڈیئر اسٹیو شیپرو کے درمیان دستخط کیۓ گۓ سی-اے-ایس-ای-وی-اے-سی (زخمیوں کا انخلا) کاروائی کے نقطہ نظر کی توثیق کرتا ہے۔ اے-اے-ایف اور این-اے-ٹی-سی کا عملہ دونوں، فیلڈ یونٹس اور مشیروں کی راۓ کے ساتھ، سی-او-این-او-پی-ایس اور اے-اے-ایف-سی – 208 میدان میں افغان نیشنل سکیورٹی فورسز کو زیادہ تر فضائی حمایت پہنچانے کی تربیت دیتے ہیں۔

"ہم نے اپنے ۔ اے-اے-ایف/این-اے-ٹی-سی اسٹریٹجک فلائٹ پلان میں ایک اہم سنگ میل حاصل کیا ہے،" وہاب نے مشترکہ طور پر ڈیزائن کی گئی حکمت عملی کا حوالہ دیتے ہوۓ کہا جس پر گزشتہ اکتوبر میں دستخط کئے گئے اور جس کا مقصد 2013 میں اے-اے-ایف کی میدان جنگ میں کامیابی پر اثرات اور 2017 تک خودمختارانہ طور پر کاروائیوں میں اس کے اثرات کو یقینی بنانا ہے۔

شیپرو، جو کہ اس مہم کی کامیابیوں کو آگے بڑھانا اور اس کے اثرات کو جاری رکھے ہوۓ ہیں، نے اتفاق کیا کہ "یہ اے-اے-ایف کے لئے ایک اور جیت تھی

جب اس واقعہ کی اہمیت کے بارے میں کرنل مائیکل پاسٹن، 438ویں ایئر مہماتی ایڈوائزری ونگ سرجن جنرل، سے سوال کیا گيا تو انھوں نے کہا کہ " سی-اے-ایس-ای-وی-اے-سی میدان جنگ میں طبی فضائی انخلا کی مدد میں بہت اہم ہے اور یہ پہلی بار ہے کہ افغان فضائیہ سی-208 زخمی مریض کی نقل و حمل کے قابل ہوا ہے،" "یہ صلاحیت نہ صرف افغان ائیر فورس میں، بلکہ پوری افغان قومی حفاظتی افواج کے حوصلوں میں اضافہ کرے گی، انہوں نے مزید کہا۔ یہ افغانوں کو سیکورٹی کا احساس فراہم کرتا ہے یہ جاننا کہ اگر میدان جنگ میں چوٹ لگ گئی، ان کی فوری طور پر دیکھ بھال کی جاۓ گی۔"

مشن این-اے-ٹی-سی- اے اور اے-اے-ایف کے ایک مخلوط فضائی عملے نے سرانجام دیا، جس میں ایک تربیت یافتہ افغان فضائی طبی عملے کا رکن، جس نے سی-او-این-او-پی-ایس کے ڈیزائن میں مدد کی، بھی شامل تھا۔ اے-اے-ایف کے طبی عملے کے رکن نے سی- 208 میں دو گھنٹے کی پرواز کے دوران مریضوں کو بنیادی طبی نگہداشت فراہم کی جس میں مریضوں کے زخموں کا اندازہ، آکسیجن فراہم کرنا، مریضوں کو حرکت دینا اور اس بات کو یقینی بنانا کہ وہ بحفاظت بندھے ہوۓ تھے شامل تھا۔

کینیڈین فورسز کے میجر کیتھی ماؤنٹ فورڈ، جو 438ویں اے-ای-ڈبلیو کی فضائی سرجن مشیر ہیں، نے کہا کہ "جن افغانوں کے ساتھ میں کام کرتا ہوں وہ کسی بھی طرح کی تربیت کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے" ۔ "افغان طبی عملہ اس مشن کو پورا کرنے کے لئے ہفتہ وار تربیت حاصل کر رہا ہے اور ایسے طبی عملے میں سے سب سے زیادہ متحرک ہیں جن کے ساتھ مجھے کبھی بھی کام کرنے کا اعزاز ملا ہے۔"

پاسٹن نے مختصراً کہا کہ "یہ مستقل طور پر بدلتا ہوا آپریشن ہے جس میں بہتری کے بہت سے موقعے ہیں، لیکن مجموعی طور پر نقل و حمل اور مشن ایک بڑی کامیابی تھا" ۔ "اپنے ان افغان ساتھیوں ، جن کے ساتھ مل کر ہم روز کام کرتے اور جن کی ہر روز مشاورت کرتے ہیں، کو باہر جہاز کی طرف دوڑتے اور مریضوں کا علاج کرتے جن کی انھیں تربیت دی گئی تھی، بہت متاثر کن تھا۔ یہ واقعی میں افغان ہوا فوج کے لئے ایک تاریخی اور شاندار دن تھا۔"