صدر مملکت سی-او-پی کیٹنگ کے ہیرو کو میڈل آف آنر دیتے ہیں Array چھاپیے Array
منجانب , Army News Service
021213_Medal_of_Honor
صدر براک ایچ اوباما11 فروری،2013 کو واشنگٹن، ڈی سی میں وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب کے دوران سابق سٹاف سارجنٹ کلنٹن ایل۔ رومیشا کو میڈل آف آنر.دیتے ہوۓ۔ رومیشا کو جنگی چوکی کیٹنگ، افغانستان میں اکتوبر 2009 میں ایک پورے دن جاری رہنے والی لڑائی کے دوران ان کے دلیرانہ اقدامات دوران، افغانستان کی وجہ سے میڈل آف آنر حاصل کیا۔ (فوٹو منجانب لیروۓ کونسل، اے-ایم-وی-آئی-ڈی)

 

(واشنگٹن( آرمی نیوز سروس، 11فروری، 2013) - صدر براک اوباما نے 11 فروری کو وہائٹ ہاؤس کے ایسٹ روم میں ایک تقریب کے دوران سابق آرمی سٹاف سارجنٹ کلنٹن رومیشا کی گردن میں میڈل آف آنر ڈالا۔

رومیشا آپریشن عراقی فریڈم یا آپریشن اینڈیورنگ فریڈم میں خدمت کے لیئے تمغہ حاصل کرنے والے ارکان میں سے چوتھے زندہ فرد ہیں۔ اس سابق فوجی نے 3 اکتوبر، 2009 جنگی چوکی کیٹنگ پر، ضلع کمدیش صوبہ نورستان، افغانستان میں اپنی کارکردگی کی وجہ سے میڈل آف آنر حاصل کیا۔

اس صبح، جنگی چوکی یا سی-او-پی، کیٹنگ، جس میں صرف 53 فوجی تھے اور جو ایک گہری وادی کی میں سب سے نیچے واقع تھی، 300 طالبان جنگجوؤں کےحملے کی زد میں آئی۔

لڑائی کے دوران، سی-او-پی ‎ دشمن کیٹنگ کی حدود کے اندر آ گيا تھا۔ رومیشا جو جنگ میں زخمی ہو گیا تھا، نے ہلاک شدہ فوجیوں کی لاشوں کی حفاظت کرنے کے لیئے لڑائی کی قیادت کی، طبی امداد کی طالب فوجیوں کو تحفظ فراہم کیا اور امریکی چوکی پر دوبارہ قبضہ کیا، جسے بعد میں "حکمت عملی کے لحاظ سے ناقابل تحفظ" قرار دیا گیا۔

"پوری تاریخ میں، یہ سوال اکثر پوچھا گیا ہے، کیوں؟ وردی میں ملبوس لوگ اس طرح کے غیر معمولی خطرات کیوں مول لیتے ہیں؟ اور وہ کیا ہے جو ان کو اس طرح کی جرات پر مجبور کرتا ہے؟ "صدر نے کہا۔ آپ کلنٹن یا کسی فوجی کو جو آج یہاں موجود ہیں سے پوچھیں، اور وہ آپ کو بتا دیں گے۔ جی ہاں، وہ اپنے ملک کے لیئے لڑتے ہیں، اور وہ اپنی آزادی کے لیئے لڑتے ہیں۔ جی ہاں، وہ واپس اپنے خاندان کے پاس گھر آنے کو لڑتے ہیں۔ لیکن سب سے زیادہ، وہ ایک دوسرے کے لئے لڑتے ہیں، ایک دوسرے کو محفوظ رکھنے کے لیئے اور ایک دوسرے کی حفاظت کو۔"

وائٹ ہاؤس کی تقریب میں سینکڑوں نے شرکت کی جس میں قانون سازوں، دفاعی رہنماؤں، رومیشا کے خاندان، کی رومیشا کے اپنے براوو فوجیوں، تھرڈ سکواڈرن، 61 ویں کیولری رجمنٹ، چوتھی بریگیڈ جنگی ٹیم،چوتھی انفنٹری ڈویژن سے ٹیم کے ارکان شامل تھے۔ اس کے علاوہ وہاں وزیر دفاع لیون ای۔ پینٹا، چیف آف آرمی سٹاف جنرل رے اوڈیرنو ،آرمی سارجنٹ میجر ریمنڈ چینڈلر IIIموجود تھے۔

صدر نے کہا کہ رومیشا نے یہ جاننے کے بعد وہ میڈل آف آنر حاصل کریں گے انھوں نے بہت عاجزی کا مظاہرہ کیا جو فوجیوں کی خصوصیت ہے۔

"جب میں کلنٹ کو بلایا اوریہ بتایا کہ اسے تمغہ ملنے والا ہے، تو اس نے کہا کہ یہ ایک اعزاز تھا، لیکن اس نے یہ بھی کہا کہ، 'یہ صرف میرے اکیلے کا کام نہیں تھا یہ پوری ٹیم کی کوشش تھی،" صدر نے کہا۔ "تو آج ہم اس امریکی ٹیم کو اعزاز بخشتے ہیں، ان لوگوں کو بھی جنھوں نے اپنی جانوں کی قربانی دی۔"

ان لوگوں میں جو افغانستان میں لڑائی میں جاں بحق ہوۓ، سٹاف سارجنٹ جسٹن گیلیگوس، سارجنٹ کرسٹوفر گرفن، سارجنٹ. جاشوا ہارڈٹ، سارجنٹ جاشوا کرک، سپیشل سٹیفن میس، سٹاف سارجنٹ ورنون مارٹن، سارجنٹ مائیکل سکوسا، اور سپیشل فرسٹ کلاس کیون تھامس شامل تھے۔

"ان میں سے ہر ایک محب وطن نے اپنی زندگی ایک دوسرے کی حفاظت میں گنوائی،" اوباما نے کہا۔ "ایک جنگ جو سارا دن جاری رہی بےغرض رویے کا مظاہرہ سارا دن بار بار کیا گیا تھا، فوجیوں نے خود کو دشمن کی گولیوں کے سامنے ڈالا تاکہ دوسرے کو حفاظت کی طرف کھینچ کر لایا جا سکے، ایک دوسرے کے زخموں کی دیکھ بھال کی، (اور) ایک 'دوستوں کو خون' کا مظاہرہ کرتے ہوۓ ایک دوسرے کو اپنا خون دیا۔

صدر نے کہا کہ اس دن، یہ صرف رومیشا ہی نہیں ہے جنہوں نے اپنی کارکردگی کی بنا پر شناخت حاصل کی درجنوں فوجیوں نے ایسا کیا۔ اس محا‍ذ سے، فوجیوں نے 37 فوجی تعریفی تمغے، 27 پرپل ہارٹ، 18 کانسی ستارے اور نو چاندی ستارے حاصل کیۓ۔

یہ جوان تعداد میں کم تھے، ان کے پاس ہتھیار بھی کم تھے اور یہ تقریبا کچلے گۓ تھے،" اوباما نے کہا۔ پیچھے کی طرف مڑ کر دیکھتے ہوۓ، ان میں سے ایک نے کہا کہ 'مجھے حیرت ہے ہم کس طرح بچ کر نکلے۔'' لیکن وہ آج یہاں ہیں۔ اور میں ان فوجیوں سے کہوں گآ، بھائی چارے میں بندھے، کہ وہ کھڑے ہوں اور ہماری پوری قوم کا شکریہ قبول کریں۔"

"خدا کی آپ پر رحمت ہو، کلنٹ رومیشا، اور آپ کی ٹیم پوری ٹیم پر،" صدر نے کہا۔ "اللہ ان تمام لوگوں پر رحمت کرے جو فوج میں خدمت انجام دیتے ہیں، اور خدا ریاستہائے متحدہ امریکہ پر رحمت کرے۔"

صدر نے اس کے بعد میڈل آف آنر کے انفاظ کو پڑھنے کو کہا، اور کے بعد کہ انہوں نے رومیشا کی گردن میں تمغہ ڈالا۔