| این۔ٹی۔ایم – اے سینئیر قیادت کی سر پرستی کے انوکھے کردار کی شروعات | Array چھاپیے Array |
منجانب Staff Sgt. Lynne Lantin, 16th Sustainment Brigade شئیرمتعلقہ خبریں
سارجنٹ میجر ڈونا کنگ، ڈپٹی آپریشنز کمانڈ سپورٹ، نیٹو تربیتی مشن افغانستان کی آپریشن سارجنٹ میجر، جو مونٹیچیلو آرکنساس سے ہیں، نے افغان نیشنل پولیس سارجنٹ میجر مریم تابش 16سے جنوری کو وزارت داخلہ میں ملاقات کی۔ کنگ نے تابش کی ایک رہنما کے طور پر کردار ادا کیا ہے، جوکہ پہلی خاتون اے-این-پی سارجنٹ میجر ہیں جنہوں نے کابل فوجی تربیتی مرکز سارجنٹ میجر اکیڈمی سے گریجویٹ کی ہے۔ (امریکی آرمی کورٹسی فوٹو)
کابل، افغانستان - سارجنٹ میجر ڈونا شاہ، ڈپٹی آپریشنز کمانڈ سپورٹ، نیٹو ٹریننگ مشن افغانستان آپریشن سارجنٹ میجر، نے کابل ملٹری ٹریننگ سینٹر کی سارجنٹ میجر اکیڈمی کی افغان نیشنل پولیس کی خواتین گریجویٹ سارجنٹ میجر مریم تابش کی رہنمائی کرنا شروع کیا ہے ۔ کنگ ،جو مونٹیچیلو، آرکنساس سے ایک خود کار لاجسٹکس ماہر ہیں، نے تابش سے 12 دسمبر، 2013 کو ان کی کے-ایم-ٹی-سی سے گریجوئیشن کی تقریب میں ملاقات کی۔ دونوں نے مختصر سی گفتگو کی اور اکٹھے چند تصاویر بنوائیں اور وہاں سے نہ صرف ایک پائیدار ہم مرتبہ سرپرستی بلکہ دوستی کا آغاز ہوا۔ کنگ نے کہا کہ"اپنی پہلی ملاقات کے بعد، ہم دونون نے کئی موضوعات پر بحث کی، اور ہم نے فوری طور پر اس دوسرے کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کیے" ۔ "وسیع ثقافتی، رویے اور لسانی اختلافات کے باوجود، ہم نے محسوس کیا ہے کہ ہم کئی طریقوں سے بہت ملتے جلتے ہیں۔ میں نے اس کے لیۓ خود کو ہر وقت تیار رکھا، اور اس نے بخوشی مجھے اپنے مُرشدّ کے طور پر قبول کر لیا۔" دونوں نے کیریئر سے لے کر خاندان تک ہر چیز پر تبادلہ خیال کیا اور یہ جانا کہ ان کے اختلافات کے باوجود، وہ ایک دوسرے سے بہت ملتے جلتے ہیں۔ کنگ نے کہا کہ"ہم نے اپنے خاندان کے بارے میں بات کی اور پتہ چلا کہ ہم دونوں ایسے خاندانوں سے ہیں جن کے نو بھائی بہن ہیں اور یہ کہ دونوں ہی اپنے اپنے خاندان کو بہت اہم مانتے ہیں،" ۔ "میں نے اس کے ساتھ یہ بات شئیر کی کہ میں کس طرح محنت اور تعلیم کی قدر کرتی ہوں۔ وہ دن کے دوران ایک فوجی ہے اور رات کے وقت سکول جاتی ہیں، اور اپنے پیشے میں ایک موڑ پر میں نے بھی ایسا ہی کیا تھا۔ میں نے محسوس کیا کہ اس کی بھی وہ ہی اُمیدیں اور خواب ہیں جو کہ میرے ایک رہنما اور ایک عورت کے طور پر ہیں۔" ان کے خدشات اور جدوجہد کے بارے میں دیگر افغان خواتین سے گفتگو کرتے ہوئے کنگ نے کہا کہ کچھ نے اس بات کا اظہار کیا کہ ان کے خاندان کے اراکین انہیں فوج کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھنا دینا چاہتے، جبکہ دوسروں نے کہا کہ ان کے شوہر اور خاندان کے ارکان ان کی حوصلہ افزائی اور حمایت کرتے ہیں۔ تابش کا منگیتر، انہوں نے کہا کہ، وہ ان کے کیریئر کے بہت حامی ہے۔
کنگ نے کہا کہ "شروع میں جب میں نے امریکی فوج میں شمولیت اختیار کی تو میں ایسی یونٹ میں تھی جس میں زیادہ تر مرد تھے۔ کامیابی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ناجائز تہمتیں تھیں جن کا سب سے زیادہ خواتین کو سامنا کرنا پڑا تھا۔ عام طور پر، مجھے زیادہ محنت، زیادہ تیزی سے اور اپنے مرد ساتھیوں کے مقابلے زیادہ ہوشیار رہنا پڑتا تھا، صرف اپنی اہلیت ثابت کرنے کے لیۓ۔ ایک بار یہ ظاہر کرنے کے بعد کہ میں اپنا کام کرنے کے قابل تھی اور یہ کہ جسمانی طور پر میں اپنا کام خود کر سکتی تھی، میں ٹیم کا حصہ بن گئی، اور یہ ایک بہت مثبت تجربہ میں بدل گيا۔ تعصبات جن کا سامنا مجھے اپنے پیشے کے شروع میں کرنا پڑا ان میں بہت سے پروگراموں، پالیسیوں اور لازمی تربیت کے نفاذ کی وجہ سے، آنے والے سالوں کے دوران نمایاں طور پر کمی آئی ہے۔" کنگ تابش سے ہفتے میں کم از کم ایک بار ملاقات کرتی ہیں اور کہتی ہیں کہ یہ تربیت ان کی ترقی اور افغانستان کے مستقبل کی کامیابی کے لئے اہم ہے۔ کنگ نے کہا کہ "اپنے فوجی کیریئر کے دوران، میرے کئی رہنما رہے تھے " ۔ "مجھے جلد ہی احساس ہوا کہ چاہے کچھ بھی ہوتا میں اپنی طرو پر کامیاب نہیں ہو سکتی تھی۔ ہر کسی کو کسی دوسرے کی ضرورت ہوتی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ میں نے اس تک رسائی حاصل کی اور خود کو اس کے لیے موجود رکھنے کو جاری کا منصوبہ رکھتے ہوں۔" انہوں نے کہا کہ "ایک مختلف ملک، فوجی زبان اور ثقافت نے کنگ کو خوف زدہ نہیں کیا جب فوجیوں کی رہنمائی کا معاملہ آتا ہے۔ یہ ان کی شخصیت کا ایک حصہ ہے ۔ "رہنمائی میرے دل میں ہے۔ میں جانتی ہوں کہ کوئی بھی کسی نہ کسی رہنمائی کے بغیر اس دنیا میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ اگر موقع دیا جاۓ، میں دیگر افغان خواتین کو بغیر کسی ہچکچاہٹ کے انہیں خود اپنے اندر امید دیکھنے ہیں اور ایک بہتر مستقبل میں شراکت کے لئے ان کے لئے مواقع کے تحفظ میں مدد کرنے کی اجازت دینے کے لئے ایک رہنما کے طور پر خدمت کروں گی۔" کنگ نے کہا کہ وہ افغانستان میں ان خواتیں جو فوج میں کیریئر پر غور کر رہی ہیں کو یہ بتا دینا چاہتی ہیں کہ ان کے لئے بہت سے مواقع ہیں اور وہ محنت، عزم اور خود میں یقین رکھنے کے ساتھ وہ اپنے مقاصد کو پورا کر سکتی ہیں۔ "جیسا کہ میرے والدین نے مجھ میں یہ احساس پیدا کیا کہ محنت اور تعلیم کامیابی کی کلید ہیں،" کنگ نے کہا۔ "اگرچہ انھیں اس کے مقابلے میںجس کا میں نے سامنا کیا بہت مختلف چیلنج کا سامنا ہو سکتا ہے، میں انہیں یہ بتا دینا چاہتی ہوں کہ ہر چیز ممکن ہے اگر آپ اپنی صلاحیتوں کا پورا استعمال کرتے ہیں اور اپنا بہترین سے بہترین کو کے دکھاتے ہیں؛ آپ کتنی دور جاتے ہیں یا کامیاب ہوتے ہیں یہ بالآخر آپ پر منحصر ہے۔" کنگ نے کہا "بلا شبہ، ایک بار جب ان کے ساتھ فوجی اور دیگر تنظیمیں یہ سمجھ لیتی ہیں کہ خواتین کتنی قابل قدر اور ناقابل تبدیل وسائل ہیں تو خواتین کے لیۓ اس سے بھی زیادہ مواقع دستیاب ہوں گے۔ " کنگ نے کہا کہ وہ امُید کرتی ہیں کہ خواتین افغانستان کے مستقبل میں ایک کردار ادا کرنے کو جاری رکھیں گی اور دوسرے خواتین کو ان کے مقاصد تک پہنچنے میں مدد کرنا جاری رکھیں گی۔ کنگ نے مزید کہا کہ"بہت سی خواتین اپنی تعلیم کے حق، اپنے مستقبل اور اچھی ملازمتیں حاصل کرنے کے موقع کا انتخاب کرنے کی آزادی کی توقع رکھتی ہیں" ۔ "میں صرف یہ امید رکھتی ہوں کہ آنے والے سالوں میں، 2014 کے بعد، اس قسم کے اہم کام جاری رہ سکتے ہیں۔ افغان خواتین کے حقوق کا تحفظ لازمی ہے اور ان کے لئے شراکت کے مواقع کو محفوظ رکھنا ضروری ہے۔ آج کی دنیا میں، اس کی بات کے بہت سے ثبوت ہیں جو اس کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ کوئی بھی ملک ترقی نہیں کر سکتا اور کامیاب نہیں ہو سکتا اگر اس کی خواتین کا استحصال ہو اور وہ پسماندہ ہوں۔" شاہ کو حال ہی میں افغان قومی فوج کے ہرات میں فوجی ٹریننگ سینٹر-مغربی سے 23 جنوری کو پہلی گریجوئٹ ہونے والی خواتین کی تقریب میں مہمان اسپیکر کے طور پر مدعو کیا گيا۔ کابل فوجی تربیتی مرکز سے علاوہ، وہ اے-این-اے سے گریجوئٹ ہونے والی پہلی خواتین تھیں، افغانستان میں خواتین کے لئے ترقی کی علامات بنتے ہوۓ۔ کنگ نے گریجویٹس کو بتایا کہ"آپ کی محنت اور لگن عزم، ہمت اور عظیم کردار کی ایک علامت ہے۔" "مجھے آپ میں سے ہر ایک پر درست سمت میں ایک قدم اٹھانے کے لئے بہت فخر ہے۔ مجھے امید ہے کہ یہ دوسروں کی بھی صفوں میں شامل ہونے اور زیادہ ذمہ داری کی پوزیشن میں خدمت کرنے کی حوصلہ افزائی کرے گا۔ ایک عظیم رول ماڈل بننا جاری رکھیں اور دوسروں کے لیۓ اس مثال قائم کریں، اور وہ افغانستان کی حفاظت کے لئے خدمت کرنا چاہیں۔ جو علم اور تجربہ آج آپ نے حاصل کیا ہے وہ نہ صرف آپ کو مضبوط بناۓ گا بلکہ افغانستان کو بھی مضبوط بناۓ گآ۔" فرق ڈالنا، کنگ نے کہا، ایک ایسی چیز ہے جو ان کے لیئے بہت ضروری ہے اور وہ امید کرتی ہیں کہ ایک دن افغانستان کی خواتین کو مزید مواقع ملیں گے۔ کنگ نے کہا کہ 'اگر میں رہنمائی کے ذریعے ایک افغان عورت کی زندگی میں یا کام کی کارکردگی میں تبدیلی لا سکوں تو میں اپنا ذاتی اور اس کے ساتھ ساتھ پیشہ ورانہ مقصد بھی پورا کر لوں گی" ۔ "خواتین بہت قیمتی اور ناقابل تبدیل وسائل ہیں، اگر ہم اس ملک میں ترقی اور کامیابی کی توقع کرتے ہیں تو ان کو شامل کیا جانا ضروری ہے۔ رہنمائی کے ذریعے، اس بات کا یقین کرنے کے لئے کہ ان کے حقوق کی محفوظ ہیں اور ان کے لئے شراکت کے مواقع محفوظ ہیں میں اپنے حصے کا کام کرنا چاہتی ہوں۔"
|