| سابقہ عراقی ریپبلکن گارڈ کے فوجی امریکی فوجی کی حیثیت سے افغانستان میں خدمات سر انجام دے رہا ہے | Array چھاپیے Array |
منجانب Sgt. Gene Arnold, 4th BCT PAO, 1st Inf. Div. شئیرمتعلقہ خبریں![]()
صوبہ پکتیکا، افغانستان – ریاض الہاشمی نے کہا کہ"میرے بارے میں بہت سی ایسی چیزیں ہیں جن کو لوگ نہیں جانتے، مثلاً شائد میرا نام ۔ جو بھی اس سے ملتا ہے وہ اسے "ال" کے نام سے جانتا ہے، الہاشمی، جن کے بال عمر کے ساتھ سفید ہو رہے ہیں، ایک شائستہ، دلچسپ مہذب شخص ہیں۔ وہ ہمیشہ مصروف رہتے ہیں، دوسروں کی مدد کرنے اور متاثر کن حکایات سنانے میں، اگرچہ ان کی زندگی ہمیشہ شاندار نہیں رہی ہے۔ وہ بغداد، عراق میں پیدا ہوئے، پلے بڑھے، اس 44 سالہ فوجی نے ایک سے زیادہ جنگوں کا تجربہ کیا ہے اور دونوں امریکی اور عراقی فوجی تاریخ میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ اب امریکی فوج میں سٹاف سارجنٹ، الہاشمی اس وقت چوتھی انفنٹری بریگیڈ کی لڑاکا ٹیم، فرسٹ انفنٹری ڈویژن کے ایک حصے کے طور پر انسانی انٹیلی جنس جمع کرنے کے ٹیم لیڈر کے طور پر افغانستان تعینات ہیں۔ الہاشمی کو یقین ہے کہ قسمت انھیں اس راستے پر لائی ہے۔ الہاشمی عراق میں ایسے وقت کے دوران بڑا ہوا جب ملک میں بحران تھا۔ عراق اور ایران کے درمیان آٹھ سالہ جنگ ابھی بھی تمام عراقی شہریوں کے ذہنوں میں تازہ ہے۔ ایک بچے کے طور پر اسے مستقبل میں عراقی فوجی بننے کے لئے تربیتی کیمپ میں شرکت پر مجبور کیا گیا تھا۔ جب کم عمر لڑکے ایک خاص عمر کو پہنچتے اور اعلٰی تعلیم ختم کر لیتے تو انھیں لازماً عراقی فوج میں خدمتات سر انجام دینی پڑتی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ "جب ہم بچے تھے تو ہم اپنے ارد گرد کے حالات کے بارے میں ریڈیو پر سنتے تھے، اور ہمیں یہ سکھایا جاتا تھا کہ ہمیں فوجیوں کی ضرورت تھی" ۔ "تو موسم گرما کے دوران ایک ماہ، آپ کو ایک قسم کے بوٹ کیمپ میں لے جایا جاتا تھا جہاں ہم ہتھیاروں کا استعمال سیکھتے تھے۔ ایسا چار سال کے لئے ہر سال موسم گرما میں ہوتا تھا۔" بغداد یونیورسٹی، لسانیات کالج ، جہاں انہوں نے فرانسیسی اور انگریزی کا خصوصی مطالعہ کیا، اور عربی زبان کے 15مختلف لہجے سیکھے، اپنی ڈگری مکمل کرنے کے بعد، انھوں نے ایک سپاہی بن کر اپنے فرض کو پورا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 1990 کے وسط میں بنیادی اور اعلٰی درجے کی انفرادی تربیت مکمل کرنے کے بعد، اس وقت 20 سالہ الہاشمی کو ریپبلکن گارڈ کے ایک رکن کے طور پر منتخب کیا گیا جہاں وہ ڈیزرٹ سٹارم اور ڈیزرٹ شیلڈ کے دوران ریڈیو مواصلات آپریٹر تھے۔28 جنوری، 1991 کو جنگ کے آغاز کے تیرہ دن بعد، جب عراقی حکومت نے سعودی عرب کے ایک چھوٹے سے شہر الخلیفہ میں عراقی فرسٹ بکتر بند ڈویژن کے ساتھ ایک آپریشن شروع کیا تو الہاشمی اور دو دیگر افسران کو چھوٹے موبائل مواصلات اسٹیشن میں تعینات کیا گیا۔ " الہاشمی نے کہا کہ" ہم سرحد پار کر گۓ... اور ہمیں لڑنا تھا" ۔ "تو جب ہم وہاں پہنچے، تو ہم رک جاتے، اپنے بیرل (ٹینکوں پر لگے) کا رخ پیچھ کی طرف کر لیتے اور سفید پرچم لہرا دیتے یہ ظاہر کرتے ہوۓ جیسے ہم سعودی عرب کی افواج کے سامنے ہتھیار ڈال رہے تھے۔" یہ حربہ استعمال میڈیا کی اس اطلاع کی بنیاد پراستعمال کیا گیا تھا کہ حملے سے دو دن پہلے، عراقی فوجیوں کے ایک گروہ نے مصری افواج کے سامنے ہتھیار ڈال دیۓ تھے۔ اس چال کا استعمال کرتے ہوئے انھوں نے دو دن کے لئے شہر کو محفوظ بنا لیا، اس سے پہلے کہ وہ آپریشن کرکے مزید آگے بڑھنے کے قابل ہوتے۔ اس جنگ کے دوران، عراقی فوجی اس بات کی توقع نہیں کر رہے تھے کہ امریکی میرینز اور قطری فوج کے فوجی ایک چھوٹے سے گاؤں کے لوگوں کی مدد کو موجود ہوں گے۔ اس آپریشن کے دوران، الہاشمی اتحادی افواج کی طرف سے زخمی ہو گۓ تھے۔ اپنے زخموں سے بے خبر، وہ اپنے مشن پر لگے جاری ہے جب تک اس کے ایک ساتھی فوجی نے اسے اس کے زخموں کا احساس دلایا۔ الہاشمی نے کہا کہ "جنگ زوروں پر جاری تھی، ہم اپنی گاڑیوں سے نیچے اتر آۓ تھے اور شہر کی طرف بھاگے۔ میرے دائیں ہاتھ پر زخم آۓ لیکن میں نے اسے محسوس نہیں کیا۔ میرے لیفٹیننٹ نے مجھ سے کہا کہ 'آپ کے ہاتھ کو کیا ہوا ہے؟" ۔ "اُس وقت میں نے نیچے دیکھا اور دیکھا کہ میری بغلوں کے نیچے دو سوراخ تھے اور میرا ہاتھ بھاری محسوس ہو رہا تھا۔" انہوں نے مزید کہا کہ "مجھے کوئی درد محسوس نہیں ہوا، ہو سکتا ہے کیونکہ میں بہت پرجوش تھا" ۔ "یہ خوف، جوش، اور جذبات کا ایک مرکب تھا۔" آپریشن کو شروع ہوۓ دو دن ہوۓ تھے کہ ہمیں ایک پیغام آیا کہ آپریشن کو ختم کر کے اپنے سابقہ مقامات پر واپس جایا جاۓ۔ اس لیۓ نہیں کہ یہ کوئی دوسرا حربہ تھا، لیکن کیونکہ قبضہ جاری رکھنا ممکن نہیں تھا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ انھوں نے اس وقت کے دوران عراقی فوج میں خدمات انجام دیتے ہوۓ کیا محسوس کیا تو انہوں نے کہا کہ: "ایک فوجی کے طور پر، اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کہاں ہیں یا آپ کس سے تعلق رکھتے ہیں، آپ ایک فوجی تنظیم میں خدمت سر انجام دے کر اعزاز محسوس کرتے ہیں۔ اگرچہ ہم جانتے تھے جنگ مشکل ہو گی اور ہمارے لئے جنگ جیتنے کا کوئی موقع نہیں تھا ... کم از کم ہمیں یہ محسوس ہوتا تھا کہ ہم اپنے ملک کا دفاع کر رہے تھے۔" انہوں نے مزید کہا کہ بہت سے لوگوں کو ایسا لگتا تھا کہ کویت پر حملہ ایک منصفانہ جنگ نہیں تھی، لیکن ایک فوجی کی حیثیت سے آپ اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہیں اور آپ اس پر فخر کرتے ہیں" ۔ وقت گزر گيا اور ان کی بھرتی ختم ہو گئی۔ بعد میں انہوں نے شادی کر لی اوران کے پانچ بچے ہوگئے، لیکن انہیں اپنے خاندان کی کفالت کی ضرورت تھی۔ یہ موقع تب پیدا ہوا جب اتحادی افواج نے آپریشن عراقی فریڈم کے دوران زبانی مواصلات رکاوٹ پر قابو پانے کے مختلف عربی لہجوں کے لیۓ ان کے لسانی تجربہ کا استعمال کیا۔ "وہ کہتے ہیں کہ "میں نے عراق میں 2004 سے لے کر 2007 تک ایک ترجمان کے طور پر کام کیا۔ اس کے بعد وہاں ایک پروگرام ہے جو مقامی شہریوں کو امریکہ آنے کی اجازت دیتا ہے، اگر وہ فوج کے لئے کام کریں، لہذا میں نے درخواست دی" ۔ "ایک سال سے بھی کم عرصے میں، میں امریکہ آ گیا اور 09 ایل عربی زبان دان کے طور پر فوج میں شمولیت اختیار کر لی۔ میں عراق میں تعینات کیا گیا جہاں میں لسانی امداد فراہم کی" ۔ اپنی تعیناتی کے دوران انہوں نے محسوس کیا ہے کہ وہ عراقی عوام کے لئے ٹیم سے بھی زیادہ کام کر رہے تھے۔ اگرچہ ان کی آپریشنل مہارت کا سب سے زیادہ استعمال ان کے یونٹ اور مقامی لوگوں کے ساتھ ترجمہ کرنے کے ذریعے تھا، اس نے انھیں یہ احساس دلایا کہ وہ ایک بہتر عراق بنانے اور تبدیلی لانے کے لیۓ کام کر رہے تھے۔ "میری ٹیم کہے گی کہ ترجمان ان کی مدر کرتے ہیں کیونکہ ہم انہیں مشن پورا کرنے میں مدد دیتے ہیں، لیکن ہم نے پھر بھی یہ محسوس کیا کہ ہم دونوں اطراف کی مدد کر رہے تھے" ۔ "میں اپنے بچوں، اپنے پڑوسیوں اور محلے بھر کے بچوں کے لئے ایک روشن مستقبل کے خواب کے لیۓ مدد کر رہا تھا۔" الہاشمی اب ٹاسک فورس4-1 کے ساتھ افغانستان میں تعینات ہیں اور ابھی تک عربی کے کئی لہجوں میں رواں ہیں، الہاشمی ارد گرد کے دیہات میں دشمن کے جنگجووں کو نکالنے میں مدد کے لئے مقامی آبادی سے انٹیلی جنس جمع کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ الہاشمی نے کہا کہ "جہان تک مذھب اور ثقافت کا تعلق ہے ہم میں اور افغان لوگوں میں بہت سی چیزیں مشترک ہیں۔ میں بہت خوش ہوں کہ امریکی فوجی کے طور پر یہاں اپنا کام کرتا ہوں" ۔ "میں محسوس کرتا ہوں کہ میں اور بھی کچھ زیادہ کر رہا ہوں، میں جو کچھ کر رہا ہوں اس کا ایک ٹھوس نتیجہ دیکھ سکتا ہوں،" ۔ "میں اپنے یونٹ کے مشن کو کامیاب بنانے اور جو ترقی ہم افغانستان کے لیۓ کر رہے ہیں کو دیکھ رہا ہوں۔"
اچھے اور برے تجربات جو انہوں نے اپنی زندگی میں دیکھے، انھوں نے الہاشمی کو ایک مثبت نقطہ نظر دیا ہے۔ اس نقطہ نظر کے ساتھ، انہوں نے نہ صرف اپنے ماتحت فوجیوں بلکہ ان لوگوں جو اس کے ساتھ رابطے میں آتے ہیں کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ الہاشمی نے عراق اور ایران کے درمیان آٹھ سال کی جنگ، آپریشن عراقی فریڈم اور آپریشن اینڈیورنگ فریڈم دیکھی ہیں۔ ان واقعات کے ذریعے انہوں نے ان کے ذریعے اپنی زندگی میں ایک تلاش کرنے کے قابل ہوۓ ہیں۔ "جب لوگوں میری زندگی کے سفر کے پروگرام کا تجزیہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، میں دیکھتا ہوں کہ یہ سب حادثاتی طور پر نہیں ہوا، یہ قسمت ہے، یہ نصیب ہے، یہ تو ہونا ہی تھا" ۔ "یہ میرے ساتھ ہونا تھا، ان سب چیزوں کا تجربہ کرنا۔"
|