| فل برائٹ کے سابقہ طالب علم اسلام آباد کی گلیوں کے بچوں کو ایک بہتر مستقبل حاصل کرنے میں مدد دیتے ہوئے | Array چھاپیے Array |
منجانب U.S. Dept of State شئیرمتعلقہ خبریں
جینیفر مک اینڈریو اسلام آباد، پاکستان میں امریکی سفارت خانے میں کام کرتی ہیں۔
اسلام آباد، پاکستان (2 جنوری، 2013) – جاوید ایک چار سالہ کچرا اٹھانے والا ہے۔ وہ بڑا ہو کر ایک درخت بننا چاہتا ہے۔ کم سے کم، یہ بات وہ اسلام آباد، پاکستان میں لیٹس-بی بچے کی طرف سے سپانسر کیے گۓ پراجیکٹ میں ایک آرٹ کلاس کے دوران اپنے استاد کو بتاتا ہے۔ "لیکن آپ ایک درخت نہیں ہیں،" استاد نے اس سے کہا ۔ "اگر آپ کو یہ جگہ، جہاں آپ ہو، پسند نہیں تو آپ اپنا مقام بدل سکتے ہیں۔" یہ وہ خیال ہے جو اس لیٹس بی کے پیچھے ہے، جو جاوید جیسے بچوں کو بھیک مانگنے اور کچرا چننے کی زندگی سے باہر نکلنے میں مدد کرتا ہے، اور انھیں فن، موسیقی، اور نگرانی کے ذریعے معاشرے میں دوبارہ ضم کرتا ہے۔ اس پراجیکٹ کے پیچھے فل برائیٹ کی سابقہ طالبہ اور رہوڈ آئیلینڈ اسکول آف ڈیزائن (آر-آئی-ایس-ڈی) کی گریجوئیٹ، سارا عدیل کی سوچ ہے، انھیں لیٹس- بی بچے کا خیال 2008 میں آیا جب وہ پاکستان میں تھیں اور جنوبی ایشیا کے بچوں کی فلاح و بہبود پر اپنے ایم-اے کی ڈگری حاصل کرنے پر کام کر رہی تھیں۔
عدیل نے وضاحت کی کہ"میں یتیم خانے اور رضاعی دیکھ بھال گھروں کے درمیان ایک تقابلی تجزیہ کر رہی تھی، اور یہ سب اتنے بُرے مقامات تھے کہ آپ سوچ بھی نہیں سکتے ۔ میں نے ان بچوں کو جاننے میں گھنٹوں لگاۓ۔ ایک دن میں نے خط لکھنے کو کہا اس کے نام جس کی کمی وہ سب سے زیادہ محسوس کرتے تھے، اور ان میں سے زیادہ تر خطوط خدا کے نام تھے۔ جب میں نے یہ دیکھا کہ ان کے پاس خدا کے علاوہ یاد کرنے لیۓ کوئی نہیں تھا تو میں جانتی تھی کہ میں ان بچوں کی مدد کرنا چاہتی تھی، جو قسمت سے سڑک کے کنارے پر پیدا ہوئے تھے ۔"
2009 میں آر-آئی-ایس-ڈی سے گریجویشن کے بعد، عدیل اپنے آبائی پاکستان لیٹس بی بچے ایک غیر منافع بخش تنظیم شروع کرنے کے لیۓ اپنے ساتھی سابقہ طالب علم جبار بنگش، ایک گلوبل یو-جی-آر-اے-ڈی کے سابقہ طالب علم کارلٹن یونیورسٹی کے گریجوئیٹ، محسن علی افضل، فل برائیٹ کے سابقہ طالب علم اور یو سی برکلے کے گریجویٹ، اور زینب فیروز کپاڈیا، فل برائیٹ کی سابقہ طالبہ اور کولمبیا یونیورسٹی کے گریجویٹ، کے ساتھ واپس آئیں۔
امریکہ فل برائٹ پروگرام میں دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں پاکستان میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری کرتا ہے اور متعدد دیگر تبادلے کے پروگراموں میں بھی مدد کرتا ہے جس کے نتیجے میں پاکستان-امریکہ سابق طلباء کے نیٹ ورک کے 12،000 رجسٹرڈ ارکان ہیں۔
ایشیائی انسانی حقوق کمیشن کے ایک اندازے کے مطابق 1.2 ملین بچے پاکستان کے بڑے شہروں کی سڑکوں پر ہیں۔ بہت سے کچرے کے ڈھیروں سے کچرا چن کر یا چھٹی موٹی نوکریاں کر کے زندہ ہیں۔ باقی چوری اور طوائف بن کر گزارہ کرتے ہیں۔ لیٹس بی بچے کی ٹیم کے پیچھے ان بچوں کو ایک بہتر مستقبل کی تلاش میں مدد کرنے کی خواہش ہے۔
2012 میں امریکی سفارت خانہ اسلام آباد کی طرف سے 5،000 $ سابق طالب علم چھوٹی گرانٹ کی مدد کے ساتھ، لیٹس بی بچے نے اپنا آرٹ تھراپی پروگرام شروع کیا "لیٹس بی ڈیزائن" اسلام آباد کی سڑکوں پر بچوں کو باقاعدگی سے آرٹ کلاس پیش کرتی ہے۔ اب تک سے، سات کلاسیں، مقامی پارکوں سے اسکول، یہاں تک کہ اور چڑیا گھر کے مقامات پر منعقد ہوئی ہیں۔ سفارت خانے کے سابق طالب علم چھوٹی گرانٹس پروگرام تبادلہ کے پروگرام کے شرکا کی ان کی پاکستان واپسی پر اپنی کمیونٹیز میں شراکت میں مدد دیتی ہے۔
اسسٹنٹ ثقافتی امور کی افسر لورا براؤن کا کہنا ہے کہ "لیٹس بی منصوبہ ان بچوں کی زندگیوں اور ان کی کمیونٹی کو تبدیل کر رہا ہے" ۔ "یہ اس بات کی ایک بڑی مثال ہے کہ کس طرح ایک چھوٹی سی سابق طالب علم گرانٹ ایک بڑا فرق بنانے میں مدد کر سکتی ہیں ۔" اسلام آباد میں ایک آرٹ نمائش فروری 2013 میں کی جاۓ گئی، اور طویل مدتی منصوبہ یہ ہے کہ بچوں کے آرٹ ورک کو آمدنی پیدا کرنے اور خود کو برقرار رکھنے کے لیے پروگرام میں تبدیل کرنےکے لیۓ ایک گریٹنگ کارڈ لائن میں بدل دیا جاۓ گا۔
لیٹس بی بچے کے لئے اگلا قدم کمیونٹی باغ کا منصوبہ، اور لیٹس بی بینڈ پروگرام کا اجراء ہے، جو گلی کے بچوں کو موسیقی کی کلاسیں فراہم کرتا ہے۔
بوسٹن سے بلیو گراس گروپ ڈیلا مے، جو محکمہ خارجہ کی امریکی موسیقی کے بورڈ کے ساتھ وسطی ایشیا کے دورے پر ہے خارجہ، گزشتہ نومبر میں اسلام آباد میں ایک ٹور سٹاپ کے دوران لیٹس بی بچے کے لئے سب سے پہلے ایک کلاس کی پیشکش کرنے والے بینڈز میں سے ایک بینڈ تھا۔
"ہم نے ان کے لئے کچھ گانے گاۓ، اور پھر انہیں سکھایا کہ کس طرح انگریزی میں 'میرا یہ چھوٹا سا نور گانا ہے،" بینڈ کے رکن کورٹنی ہارٹ مین نے لکھا "... میں نے اپنا گٹار لڑکیوں کو دیا، اور ان کی اپنی زندگی میں پہلی بار گٹار کو چھیڑ کر حیرت اور جوش کو دیکھنا انمول تھا۔"
عدیل اور لیٹس بی کی ٹیم کے لئے، حتمی مقصد جاوید کی طرح کے بچوں کو سڑک سے اٹھانا، ان کو اپنی قابلیت دریافت کرنے میں مدد دینا ہے۔ ہم ایسا نہ کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے، وہ کہتی ہیں، کیونکہ یہ بچے پاکستان کا مستقبل ہیں۔"
عدیل نے کہا "پاکستان جنوبی ایشیا میں ایک اقتصادی طاقت بننے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ اگر ان بچوں کی نشونما کی جاۓ، تعلیم اور مناسب طریقے سے تربیت فراہم کی جاۓ، یہ بچے ایک بہت بڑی قوت اور پاکستان کی ترقی پسند شہری بن سکتے ہیں۔"
|