| امریکہ صوبہ قنداھار میں بجلی کے گرڈ کو بہتر بناۓ گا | Array چھاپیے Array |
منجانب Karla Marshall, U.S. Army Corps of Engineers شئیرمتعلقہ خبریں
بائیں جانب سے: ایرک ملسٹری، یو-ایس ایڈ میوند ضلع کے ضلعی استحکام ٹیم کے سربراہ، ایلن ایوری، امریکی فوج کی 565ویں انجینئرز کور کی فارورڈ انجینئر کی معاونت کی ٹیم-ایڈوانس، اور لیفٹیننٹ کرنل رابرٹ بینس برگ، ریجنل کمانڈ جنوب استحکام ڈویژن، بنیادی ڈھانچے کے انچارج افسر، قنداھار صوبے میں بجلی کی افادیت کی بہتری کے مجوزہ منصوبے پر 29 نومبر کو بات چیت کرتے ہوۓ۔ (کورٹسی فوٹو)
قندھار ائیر فیلڈ، افغانستان - قندھار شہر میں بجلی کمیاب وسائل میں سے ایک ہے لیکن اب جب شہر کے اہم علاقوں میں بجلی کی تقسیم کو بہتر بنانے کے لئے چار ڈیزائن کیے گۓ الگ الگ منصوبے 2013 کے موسم سرما میں مکمل ہو رہے ہیں تو اس کمی کو قنداھار حکومت کے ضلعی مراکز اور کاروباروں کے لئے کم ہو جانا چاہیے۔ ریجنل کمانڈ جنوب، اس وقت ان منصوبوں کی منصوبہ بندی کے مرحلے میں نگرانی کر رہا ہے۔ ان میں سے ہر ایک کو آر-سی جنوب، یو ایس ایڈ، امریکی فوج کے انجینئرز کور اور ڈا افغانستان برشنا شرکت، افغان الیکٹرک یوٹیلٹی کمپنی کے درمیان جامع ہم آہنگی درکار ہے۔ آر سی جنوبی کے استحکام ڈویژن میں بنیادی ڈھانچے کے انچارج افسر لیفٹیننٹ کرنل رابرٹ بینس برگ نے کہا کہ "آر-سی جنوبی کا مقصد ان منصوبوں کے ذریعے قندھار شہر پاور گرڈ کو افغان حکومت کے ضلعی مراکز سے جوڑ دیا جاۓ جو کہ بجلی کا ایک پائیدار منبع ہے" ۔ "جب ہم یہ مکمل کر لیں گے ہم آر-سی جنوبی کے فیصلہ کن پوائنٹس میں سے ایک حاصل کر لیں گے۔" آر سی جنوبی کے بہت سے مشن اور مقاصد ہیں، ان میں افغانستان کی کابل میں قومی حکومت کے ساتھ صوبائی حکومت کو روابط کی سہولت بہم پہنچانا ہے۔ یہ بنیادی ڈھانچے کے منصوبے ان مقاصد کے حصول میں مدد دیتے ہیں کیونکہ یہ چار اہم ضلعی حکومت کے مراکز - میوند، زہری / پشمل، ارغنداب اور پنجوائی - کو قندھار شہر کے پاور گرڈ سے ملا دیں گے۔ بینس برگ نے کہا کہ"یہ چار منصوبے اس وقت قندھار شہر یو-ایس-اے-سی-ای میں اس وقت محفوظ تکمیلی کٹس کو استعمال کریں گے جو کہ ایک اور فائدہ ہے کیونکہ منتخب کردہ ٹھیکیدار کو بہت سے مواد تک فوری رسائی حاصل ہو گی" ۔ انہوں نے وضاحت کی کہ "تکمیلی کٹ کے مواد کو معاہدے میں 'حکومت کی صرف سے فراہم کردہ مواد' کے طور پر شامل کیا جائے گا" ۔ چیف وارنٹ افسر رابرٹ ہاپکنس، جو یو-ایس-اے-سی-ای پرائم پاور آر-سی کے رابطہ افسر اور مال اور سامان کے نگران ہیں نے وضاحت کی کہ کٹس میں ٹرانسفارمر، انسولیٹرز، بجلی کے کنڈکٹر، تاریں، لائن مین عملے کے لیۓ آلات کے سیٹ، یوٹیلٹی کے ٹرک اور میٹرشامل ہیں ۔ بینس برگ نے کہا کہ یو-ایس-اے-سی-ای 565ویں کی فارورڈ انجینئر کی معاونت کی ٹیم-ایڈوانس اور یو ایس ایڈ نے یو-ایس-اے-سی-ای کے جنوب مشرقی پاور سسٹم کے دو منصوبوں کے ساتھ ساتھ چار منصوبے تیار کیۓ ہیں - ایک صوبہ ہلمند میں اور ایک قنداھار صوبے میں جاری ہے۔ یو-ایس-اے-سی-ای نے دوسرے منصوبے کا ٹھیکہ دے دیا ہے، ایس-ای-پی-ایس- قنداھار، 28 ستمبر کو اور جب وہ مکمل ہو جائیں ڈی-اے-بی-ایس مستقل، قابل اعتماد اور محفوظ بجلی کی تقسیم کر سکے گی۔ ایس-ای-پی-ایس- قنداھار کے منصوبے میں پشمل میں ایک سب-سٹیشن کی تعمیر نو اور میوند میں ایک نئے سٹیشن کی تعمیر بھی شامل ہے۔ یہ منصوبہ ایک موجودہ ٹرانسمیشن لائن جو درئی جنکشن سے قندھار شہر میں برشنا کوٹ سب-سٹیشن تک جاتی ہے کی بھی مرمت کرے گا۔ بینس برگ نے کہا کہ"ایک بار جب یو-ایس-اے-سی-ای نے ایس-ای-پی-ایس ہلمند اور ایس-ای-پی-ایس قندھار کے بجلی کی بہتری کے منصوبوں کا ٹھیکہ دے دیا، تو ہم قنداھار کے ان اہم علاقوں میں تقسیم کی لائنوں کو ان مین ٹرانسمیشن لائنوں جن کی یو-ایس-اے-سی-ای کی طرف سے بحالی کی گئی تھی سے ملانے کے لئے ایک منصوبہ تیار کرنے کے قابل ہو گۓ تھے" ۔ بینس برگ نے وضاحت کی کہ پہلا تیار کیا گیا منصوبہ ارغنداب ضلع کے لئے ہے کیونکہ اس میں سب سے کم تکنیکی مشکلات ہیں ۔ "فیسٹ-اے آر-سی جنوب کو کام کی گنجائش کی حد کیا تعین کرنے میں مدد دے گي، ہم اسے ڈی-اے-بی-ایس کے ساتھ ہم آہنگ بنائیں گے، منصوبے کو چلائیں گے اور ہم اس کا ٹھیکہ مارچ 2013 میں دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔" اس پر تعمیر اپریل میں شروع ہو جانی چاہیۓ اور ٹھیکیدار کو to120 90 دنوں کے اندر اندر اس کی تعمیر مکمل کر لینی چاہئے۔ پنجوائی منصوبہ چاروں میں سے سب سے زیادہ مشکل ہو گا، ایلن ایوری نے کہا جو فیسٹ-اے کے الیکٹرکل انجنیئر ہیں اوریو-ایس-اے-سی-ای ہونولولو ڈسٹرکٹ سے یہاں تعینات ہیں۔ "ہمیں اس بات کا تعین کرنا ہے کہ کیا سب-سٹیشن سے براہ راست طریقے سے پنجوائی ضلع مرکز تک بجلی کی لائنیں لانی ممکن ہیں۔ اگر ہم ایسا کر سکتے ہیں، تو اس کا مطلب ہو گا کہ 17 کلومیٹر لمبی لائنوں اور کھوبوں کے بجائے چار کلومیٹر اگر ہم ایک موجودہ سڑک کو استعمال کریں۔" بینس برگ نے آخر میں میں کہا کہ "یہ اصل میں بہتری کے منصوبے گزشتہ ایک دہائی سے اتحادی اور امریکی کوششوں کی پائیدار میراث ہیں۔ افغان حکومت کو اپنے شہریوں کو کثیر سطح پر سہولتیں فراہم کرنے کا موقع حاصل کری گی جو شائد انھیں اگلے تیس سال تک بھی نہ ملتا" ۔
|