ایساف کی افغان حکومت کو سکیورٹی کی منتقلی پر مبارک باد Array چھاپیے Array
منجانب , ISAF Joint Command
130102_security
نیٹو تربیتی مشن کی طرف سے فراہم کردہ اس تصویری فائل میں - افغانستان، ایک افغان نیشنل آرمی کا فوجی تربیت سے چھٹی لیتے ہوۓ کابل کے مضافات میں متجسس بچوں کے ساتھ گزارتے ہوۓ۔ اسلامی جمہوریہ افغانستان نے حال ہی میں لزبن سربراہی کانفرنس میں قائم کیۓ گۓ منتقلی کے عمل کے مطابق سکیورٹی کی منتقلی کے چوتھے مرحلے کے نفاذ کا اعلان کیا ہے۔ (فوٹو منجانب پیٹی افسر سیکینڈ کلاس دیوڈ آر۔ کویلن)

کابل، افغانستان (21 دسمبر، 2012) - سکیورٹی کی منتقلی کے چوتھے مرحلے کے اعلان پر انٹرنیشنل سکیورٹی اسسٹنس فورس نے اسلامی جمہوریہ افغانستان کی حکومت کو مبارک باد دی ہے۔ یہ منتقلی کا عمل، جس کا قیام لزبن سربراہی کانفرنس میں آیا تھا، کے مطابق ہے۔

ایساف کے کمانڈر جنرل جان آر ایلن نے کہا کہ "منتقلی میں شامل ہونے والے صوبوں کے چوتھے گروپ کے بارے میں صدر کرزئی کا اعلان افغانستان کے لئے ایک تاریخی قدم ہے جس دوران پورے ملک کی سلامتی کی مکمل ذمہ داری سنبھالنے کے قریب آ رہا ہے ۔ منتقلی کے عمل میں ان 12 مکمل صوبوں کے ساتھ، افغان قومی حفاظتی افواج اب ان علاقوں میں، جہاں 87 فیصد افغان عوام رہتے ہیں، کی سکیورٹی کی قیادت سنبھال رہی ہیں۔"

چار اقساط کا اعلان پانچویں قسط کے اقدامات کو سامنے لاتی ہے۔ 2013 ء کے موسم گرما کے دوران، یہ توقع کی جاتی ہے کہ افغانستان کے تمام حصوں میں سکیورٹی کی منتقلی شروع ہو جائے گی اور افغان فوج قوم کی وسیع تر سکیورٹی کی قیادت سنبھال لے گی۔

افغانستان کے 34 صوبوں میں سے تئیس اب منتقلی کے عمل میں مکمل طور شامل ہیں۔ چار اقساط میں شامل 12 صوبے زیادہ تر ملک کے شمال اور اندرونی حصوں میں ہیں۔ اس کے علاوہ، ہلمند میں ایک ضلع اس منتقلی کے اعلان میں شامل کیا گيا ہے۔

افغانستان میں نیٹو کے سینئر سویلین نمائندے سفیر موریٹس آر۔ جوکمز نے اس پیش رفت کا ذکر کیا جو افغان نیشنل سیکورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ مہارت اور اعتماد میں کی گئی ہے اور جس نے منتقلی کی حکمت عملی کو کامیاب ہونے کا موقع دیا۔

نیٹو اور ایساف کے افغانستان کے بارے میں عزم کے بارے میں خطاب کرتے ہوئے سفیر جو کمز کا کہنا ہے کہ، "ایساف افغان قومی حفاظتی افواج کو 2014 کے آخر تک اپنی حمایت جاری رکے گا اور تربیت، مشاورت، اور مدد کے نئے مشن کے ذریعے نیٹو اور اس کے شراکت دار افغانستان کے مستقبل کے استحکام کے لئے مصروف عمل رہیں گے۔"