اوباما، کرزئی افغانستان میں امریکہ کے مستقبل کے بارے میں بات کریں گے Array چھاپیے Array
منجانب Cheryl Pellerin, American Forces Press Service
121214_panetta
وزیر دفاع لیون ای۔ پنیٹا، بائیں، 13 دسمبر، 2012 کو کابل، افغانستان میں افغان صدر حامد کرزئی کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران ایک اخبار نویس کے سوال کا جواب دیتے ہوۓ۔ اس سے پہلے، پنیٹا اور کرزئی نے علاقائی تحفظ کے معاملات جس میں دونوں ممالک کی دلچسپی ہے پر بات چیت کے لیۓ ملاقات کی۔ (ڈیپارٹمنٹ آف ڈیفنس ڈي-او-ڈی فوٹو)

 

کابل، افغانستان (13 دسمبر، 2012) - افغان صدر حامد کرزئی نے صدر براک اوباما کی جانب سے جنوری میں واشنگٹن کا دورہ کرنے ایک دعوت نامہ قبول کر لیا ہے، وزیر دفاع لیون ای۔ پنیٹا نے آج یہاں اخبار نویسوں کو بتایا۔

پنیٹا نے صدارتی محل میں دونوں کے درمیان ایک ملاقات کے بعد افغان رہنما کے ساتھ مشترکہ نیوز کانفرنس کے دوران تبصرے کرتے ہوۓ کہا۔

"مجھے آپ کو مطلع کر کے خوشی ہو رہی ہے کہ امریکہ نے، ہمارے سفیر کے ذریعے، صدر اوباما کی جانب سے رسمی طور پر صدر حامد کرزئی کو7 جنوری کے ہفتے کے دوران واشنگٹن آنے کی دعوت دی ہے تاکہ 2014 کے بعد تک کے فغانستان کے ایک مشترکہ تصور پر بات چیت کی جا سکے،" پنیٹا نے اعلان کیا۔

ایک امریکی اہلکار نے کہا کہ واشنگٹن کے دورے کے دوران بات چیت میں امریکہ اس ملک میں 2014 کے بعد جو کردار ادا کرے گا، وہ بھی شامل ہو گا۔

اجلاس میں اہم اسٹریٹجک پارٹنرشپ جس پر اوباما اور کرزئی نے مئی میں دستخط کیۓ تھے اس کے اطلاق پر بات چیت کرنے کا اہم موقع بھی ہو گا، عہدیدار نے مزید کہا۔

بات چیت میں باہمی سکیورٹی معاہدہ، جو کہ افواج کے معاہدے کی موجودہ حیثیت کو تبدیل کرے گا، کے بارے میں مذاکرات میں پیش رفت بھی شامل ہے، اور 2014 کے بعد امریکی فوج کی ممکنہ موجودگی کے لئے بنیادی قوانین طے کرے گا، عہدیدار نے کہا، اس کے ساتھ ساتھ افغان زیر قیادت امن کا سلسلہ اور افغانستان کی سکیورٹی فورسز کا مستقبل بھی شامل ہے۔

جیسا کہ صدر اوباما نے واضح کر دیا ہے، عہدیدار نے کہا، نیٹو کے مشن کے اختتام کے بعد کسی بھی طرح کی امریکی موجودگی افغان حکومت کی دعوت پر ہو گی اوراس کا مقصد افغان فورسز کی تربیت اور القاعدہ کی باقیات کو نشانہ بنانا ہے۔

پنیٹا نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ ان کا پچھلے چار سالوں میں یہ آٹھواں دورہ ہے۔

"میں نے ذاتی طور اس حقیقت کو جانا ہے کہ افغانستان درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے خود مختاری اور آزادی کی جانب جس کی اس نے ہمیشہ خواہش ظاہر کی گئی ہے، سیکرٹری نے کہا۔

"دوروں کے ان سلسلوں اور دوسری بہت سی مشاورت کے ذریعے، صدر کرزئی اور میں نے دوستی بڑھا لی ہے اور مسلسل بات چیت جو ہمیں آئندہ آنے والی مشکلات اور مواقعوں کے کیلئے تیار کرتی ہے،" انہوں نے مزید کہا۔

پنیٹا نے اس بات کا سختی سے اعادہ کیا کہ امریکہ افغان عوام کی تحفظ اور خود مختار حکومت کی خواہشات کی حمایت کرتا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ 49 ممالک سے تعلق رکھنے والی فورسز اس مقصد کے حصول کے لیۓ مل کر کام کر رہی ہیں۔

"ہم نے گزشتہ چار سال کے دوران جنگ میں اتار چڑھاو اور ساتھ منسلک چیلنجوں کا تجربہ کیا ہے،" انہوں نے کہا،" اور پھر بھی ہم نے لوگوں کو میدان میں مل کر کام کرتے دیکھا ہے - افغان، امریکی، ہماری ایساف اقوام -ان چیلنجوں پر قابو پاتے ہوۓ۔"

پنیٹا نے کہا کہ ان کی قربانیاں، خود کو وقف کر کے، اور ان کی ذمہ داری کے عہد نے جنگ کا رخ بدل دیا ہے۔

"اب ہمارے پاس ان فوائد کو پائیدار بنانے کا موقع ہے۔ یہ ضروری ہے کہ ہم بہادری سے آگے بڑھ کرایک منصوبہ بندی کے ذریعے موقع کا فائدہ اٹھائیں،" انہوں نے کہا۔

فوجی کوشش کا مقصد افغان نیشنل سکیورٹی فورسز کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا ہے تاکہ وہ سکیورٹی کے لئے مکمل ذمہ داری اٹھا سکیں، وزیر دفاع نے کہا۔

اس حکمت عملی کو "امریکہ اور بین الاقوامی برادری کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ اے-این-ایس-ایف محاذ پر ہیں اس وقت جب ہم بات کر رہے ہیں، اپنے ساتھی شہریوں کی حفاظت کے لئے لڑتے اور ہر دن مرتے ہوۓ،" پنیٹا نے کہا۔

"کل رات مجھے افغانستان بھر سے اپنے امریکی کمانڈروں سے ملنے کا موقع ملا،" سیکرٹری نے کہا۔ "انھوں نے کہا کہ ایک عام شخص کے نزدیک افغان فورسز یہ ثابت کر رہی ہیں کہ وہ کام کر سکتی ہیں۔"

افغان فورسز کے لئے مسلسل اتحادی سپورٹ میں قیادت کی ترقی، ان کی منصوبہ بندی کی تعمیر، رسد اور خریداری کی صلاحیتوں کو بنانے کی کوشش، اور تربیت شامل ہے جو ان کو میدان جنگ میں بڑے اور زیادہ پیچیدہ آپریشن کو کرنے کا موقع دے گا، پنیٹا نے کہا۔

افغانستان میں سکیورٹی کی حالیہ پیش رفت "وسیع تر حکمت عملی کے چیلنجوں جن کا ہمیں سامنا کرنا پڑتا ہے کے حل کو اتنا ہی زیادہ اہم بناتا، اور ہم وہی کر رہے ہیں،" انہوں نے کہا۔

دونوں ممالک مل کر اس بات کی کوشش کر رہے ہیں کہ پاکستان کو دہشت گردی اور سرحد پار محفوظ ٹھکانوں میں بغاوت کے چیلنج کا سامنا کرنے کی کوشش پر رضامند کیا جاۓ، پنیٹا نے کہا۔

قانون کی حکمرانی کو مضبوط بنانا چاہیے اور ممالک کو ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا "کرپشن کو کم کرنے اور انتظامیہ کے معیار کو بڑھانے کے لیۓ جو کہ ان مشکل سے جیتے ہوئے سیکورٹی کے فوائد کی مدد کر سکیں،" انہوں نے مزید کہا۔

"ہمیں بین الاقوامی کمیونٹی کے ساتھ مل کر لازمی پائیدار اقتصادی ترقی، تعلیم [اور] حفظان صحت کو فروغ دینا ہے تاکہ افغان عوام کو بہتر مستقبل دیا جا سکے جس کے وہ مستحق ہیں،" پنیٹا نے کہا۔

9/11 کے بعد پہلی بار، "ہمیں ایک مشن جسے ہم نے شروع کیا تھا میں کامیابی حاصل کرنے کا موقع ملا ہے،" انہوں نے مزید کہا کہ اس کے لیۓ مسلسل عزم، ثابت قدمی، تمام ممالک کی طرف سے شراکت، اور قربانی کے جذبے کی ضرورت ہو گی۔