افغان فضائیہ، اور این-اے-ٹی-سی/438 اے-ای-ڈبلیو کا مشترکہ فضائی منصوبے پر دستخط Array چھاپیے Array
منجانب , 438th Air Expeditionary Wing
121128-F-PM120-015
میجر جنرل عبد وہاب وردک، افغان ایئر فورس کے کمانڈر اور برگیڈیر جنرل سٹیون شیپرو، نیٹو ایئر ٹریننگ کمانڈ افغانستان کے کمانڈر، نے کابل، افغانستان میں بین الاقوامی ہوائی اڈے پر این-اے-ٹی-سی-اے کے دفتر میں پہلی مرتبہ مشترکہ حکمت عملی پر28 نومبر، 2012 کو دستخط کیۓ۔ (یو ایس ائیر فورس فوٹو/ منجانب ٹیک سارجنٹ ڈینس ہنری)

کابل، افغانستان (9 دسمبر، 2012) - افغان ایئر فورس کے کمانڈر میجر جنرل عبد وہاب وردک اور برگیڈیر جنرل سٹیون شیپرو، نیٹو ایئر ٹریننگ کمانڈ افغانستان کے کمانڈر، نے28 نومبر 2012 کو کابل، افغانستان میں بین الاقوامی ہوائی اڈے پر این-اے-ٹی-سی-اے کے دفتر میں ایک تقریب کے دوران پہلی بار مشترکہ حکمت عملی کو فعال بنانے کے لیۓ اس معاہدے پر دستخط کیا۔ تینوں ونگ اور اے-سٹاف رہنما اس تقریب میں موجود تھے۔ 54 صفحوں پر مشتمل یہ سٹریٹجک فضائی منصوبہ دونوں کمانڈ کو 2012-2013 ایک مشترکہ طور پر تیار کیا گیا نقطہ نظر، مقاصد اور اہم کاموں پر عمل کرنے کے لیۓ رہنائی کرتا ہے۔ تقریب میں تمام گروپوں کی پچھلے تین ماہ کے دوران نچلی سطح سے لے کر اوپر تک کی منصوبہ بندی کی کوششوں، افغان فضائیہ کے ونگ، اے-اے-ایف ایچ-کیو، این-اے-ٹی-سی-اے اور 438 اے-ای-ڈبلیو کے عملے کا احاطہ کیا۔

" وہاب نے دونوں اے-اے-ایف اور این-اے-ٹی-سی-اے کے دفتر کے عملے ، اور وڈیو ٹیلی کانفرنس کے لیۓ جمع ہونے والے اے-اے-ایف کے ونگ سے کہا کہ "یہ سب کے لئے ہے--- ہر کام کی خاص طور پر نشاندہی کی گئی ہے۔ یہ منصوبہ ایک ٹائم لائن کے ساتھ ہے۔ 2013 کے آخر تک، ہمیں ان مقاصد کو پورا کر لینا چاہئے۔"

یہ حکمت عملی اہم تبدیلیوں اور آپریشنل مقاصد کے ساتھ کوششوں کو اس اہمیت کے حساب سے ترجیح دیتی ہے:ایک مضبوط، پیشہ ورانہ افغان ایئر فورس جو کامیابی کے ساتھ اپنے مشن سر انجام دے۔ایک محفوظ اور موثر طریقے سے ایویئیشن، بحالی اور حمایت کا ماحول پیدا کرے اور افغان افواج کو اور بھی اس قابل بنائیں تاکہ وہ منصوبہ بندی، قیادت اور 2013 میں لڑائی کے موسم میں کامیاب اور بااثر کاروائیاں سر انجام دیں۔

لیفٹیننٹ کرنل کوجی گیلیس، این-اے-ٹی-سی-اے کے حکمت عملی کے ماہر، نے وضاحت کی کہ ، "ہماری مشترکہ حکمت عملی کا قدم نہ صرف 2013 کے لیۓ ایک واضح روڈ میپ فراہم کرتا بلکہ افغان ایئر فورس کے ارکان کو ہماری حکمت عملی بنانے کے عمل پر اور ان کے اپنے مستقبل کے لئے حودمخارانہ طور پر منصوبہ بندی کے لیۓ بصیرت فراہم کرتی ہے۔"

کیلیس نے بتایا کہ یہ دستاویز تنظیمی حکمت عملی کے لئے نیچے سے لے کر اوپر تک کے نقطہ نظر کا نتیجہ ہے نیٹو رہنما اور افغان ايئر فورس کے ہر حصے، عملے، لاجسٹکس، خطرات کا اندازہ کرنے والے، مفروضات، رکاوٹوں، اور ان مقاصد کی تشکیل جو ترقی کے بڑے مقاصد کا حصہ بنیں، رہنمائی، زیادہ سے زیادہ رہنمائی، سے تعلق رکھنے والے افغان رہنما۔

شریپرو نے وضاحت کی کہ "ہم بہت سے عظيم کام کر رہے ہیں،" ۔ "یہ ضروری ہے کہ ہم صحیح کام کریں، اور ایک ہی صفحے پر رہیں۔ یہ مثال مشترکہ سمت، اوراگلے سال کی پروازوں کے لیۓ درکار فضائی صلاحیت ، اور افغان ایئر فورس کے سب سے اہم اثاثے – اس کے ائیرمین - کی صلاحیت کو تیار کرنے کے لئے فراہم کرتا ہے۔