| افغان بارڈر پولیس نے آپریشن جنوبی حملہ-IV کی قیادت سنبھال لی | Array چھاپیے Array |
منجانب 1st Lt. Veronica Aguila, U.S. Army Central Command شئیرمتعلقہ خبریں
لیفٹیننٹ کرنل سکاٹ سل، جو سکیورٹی فورس اسسٹنس ٹیم 11 کے ساتھ ایک افغان ساتھی اور سینئر نگران، افغان بارڈر پولیس کے رکن کو 15 نومبر، 2012 کو آپریشن جنوبی حملہ IV کے دوران خوش آمدید کہتے ہوۓ۔ آپریشن مقامی عوام پر سے باغیوں کے اثر رسوخ کو ہٹانے اور دور دراز کے گاؤں کو ان کی حکومت اور پولیس سے جوڑنے کے لیۓ کیا گیا تھا۔ (فوٹو منجانب فرسٹ لیفٹیننٹ ویرونیکا آگؤیلا)
فارورڈ آپریٹنگ بیس سپن بولدک، افغانستان (26 نومبر، 2012) – قندھار کے ایک دور دراز گاؤں کے لیۓ، قریب ترین شہر تک پہنچنے کا مطلب باغیوں کے علاقے سے گزرتے ہوۓ تقریباً 55 کلومیٹر کے خطرناک پہاڑی علاقے میں خراب حالت کے راستوں سے گزرنا ہے۔ اس چیلنج کو تسلیم کرتے ہوۓ، تیسرے زون سے افغان بارڈر پولیس، یا اے-بی-پی، اور ان کے سکیورٹی فورسز کی معاونت کی ٹیم کے ارکان نے اسپن بولدک اور تک – تی پول کے اضلاع میں 18-15 نومبر کے دوران صوبہ قندھار میں آپریشن جنوبی حملہ IV کے دوران دور دراز علاقوں تک پہنچنے کے لیۓ، باغیوں کے اثر و رسوخ کو ہٹانے ، اور دیہاتیوں کے اقتصادی اور سلامتی سے متعلق تحفظات کی طرف توجہ دینے کی کوشش کی۔ لیفٹیننٹ کرنل سکاٹ سل، جو ایس-ایف-اے-ٹی 11 کے ساتھ ایک افغان ساتھی اور سینئر نگران کے طور پر کام کر رہے ہیں، نے کہا کہ "ان شہروں کو ابھی انتظامیہ کی طرف سے کوئی مدد نہیں ملتی ہے وہ باقاعدگی سے اے- بی- پی کو نہیں دیکھتے تو اب اچانک ہم دشمن کے زیر اثر علاقے میں موجود ہیں جہاں وہ پُرسکون تھے" ۔ کارروائی کے حصے کے طور پر، تیسرے زون اے-بی-پی کے رہنماؤں اور ماتحت کندکوں نے چار علاقوں کی نشاندہی کی جو طالبان کے محفوظ ٹھکانے سمجھے جاتے تھے۔ تیسرے زون اے- بی- پی فوری ردعمل فورس کندک اور کندک چار کے عناصر کی طرف سے کی گئی کاروائی میں افغان ایئر فورس قندھار ایئرونگ، یا کے-اے-ڈبلیو کی طرف سے فضائی حمایت بھی شامل تھی۔ سل نے کہا کہ "ساتھی کندک کمانڈروں نے ایک دوسرے کو مزید تقویت دی، اس کے ساتھ ساتھ زون نے زمینی تحریکیں اور مطابقت پذیر فضائی تحریکیں مرتب کیں ۔ یہ امریکیوں کے لئے شاید ایک آسان کام ہو، لیکن افغانوں کے لیے یہ پہلی بار ہوگا۔" مشترکہ کے-اے-ڈبلیو اور تیسرے زون اے بی پی کے مشن، اگرجہ پہلی بار ہے، نے اے بی پی کے رہنماؤں کو ہوائی نقل و حمل کے ذریعے کامیابی سے گاؤں رہنماؤں کو شامل کرنے کا موقع دیا جبکہ کندکوں نے دور دراز تک پھیلے راستوں کو محفوظ بنایا اور زمینی راستوں سے دیہاتوں کو باغیوں سے صاف کیا۔ سل کا خیال ہے کہ اے بی پی نے فوجی اثاثوں طبی انخلا یا میڈ ای ویک، حمایت، راستوں کی صفائی اور خود ساختہ دھماکہ خیز آلوں میں کمی کے اوزاروں جبکہ انٹرنیشنل سیکیورٹی اسسٹنس فورسز کے ساتھ کام کرتے ہوۓ اعتماد حاصل کیا ہے۔ سل نے کہا کہ انھوں نے ان فروزاں صلاحیتوں کے ساتھ سیکھا ہے، 'میں اپنے اپنے علاقے میں مزید سامان حاصل کر سکتا ہوں۔ "ہم اس کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ یہ سب کچھ کس طرح کیا جاتا ہے۔ ہم ایک افغان پائیدار حل تلاش کرتے ہیں اور ایسے چھوٹے چھوٹے اقدامات کرتے ہیں تو جو آج انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر امداد پہنچانا ہے؛ دو ایک ماہ میں وہ ایک فضائی حملہ اور میڈی ای ویک ہو سکتا ہے۔" سل کو امید ہے کہ یہ اے-بی-پی کے اندر ہی اثاثوں کی ترقی یا افغان قومی فوج کی طرف سے حمایت میں اضافے کی درخواست کا آغاز ہے۔ سیل نے کہا جیسا کہ ہم نے انہیں دکھایا ہے کہ وہ کس طرح سے وہ اوزار استعمال کر سکتے ہیں جو ایساف فراہم کر سکتی ہے، اگلا قدم ان کو سکھانے اور انھیں ان آلات پر تربیت دینے کا ہے تاکہ ہم ایک قدم پیچھے ہٹ جائیں" ۔ "ہم افغانوں کی قیادت سنبھالنے کی صلاحیت کو بڑھا رہے ہیں۔" آپریشن بھر کے دوران اے-بی-پی نے اس بات کا مظاہرہ کیا کہ وہ کس طرح خود کام کر سکتے ہیں، لیکن اس آپریشن کے آخری مرحلے کے دوران یہ سب سے زیادہ واضح تھا۔ اے بی پی کے رہنماؤں نے گاؤں کے بزرگوں سے بات چیت کی، جیسے کہ انھوں نے اس سے پہلے متعدد بار کیا ہے، ان کے خدشات کے بارے میں سنا، سکیورٹی کے مسائل پر توجہ دی اور لوگوں کو مدد کے لیے پولیس تک رسائی حاصل کرنے کے طریقے کے بارے میں مشورہ دیا۔ تاہم، اس مرتبہ، یہ مختلف تھا۔ گاگری نو کے چھوٹے سے شہر میں گاؤں میں جو کہ باغیوں کی مرمت کے علاقے کے طور پر جانا جاتا ہے، صرف نو خاندان رہتے ہیں۔ گاؤں کے لوگوں کو خوف تھا کہ باغی ان سے انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر دی گئی امداد جس کی وہ حفاظت نہیں کر سکتے چھین لیں گے، اے-بی-پی نے تجویز پیش کی کہ وہ ایک اور گاؤں، جہاں ان کے خاندان کے بہت سے لوگ منتقل ہو گۓ تھے، کے لیئے اضافی خوراک اور متعلقہ اشیاء لے جائیں گے۔ اس سے پہلے کہ اے-بی-پی کی اتحادی فورس کے پارٹنرز تجویز کردہ گاؤں کی شناخت کر سکتے، اے-بی-پی نے ان کے مقامی حقائق کے علم کا استعمال کرتے ہوئے، نقل و حرکت کا منصوبہ بنایا، اپنے پیغام کو اگے پھیلا دیا اور وہ باہر نکلنے کے لیۓ تیار تھے۔ سیل نے کہا کہ "اے-بی-پی اپنے راستے پر تھے اس سے بہت پہلے کہ ہم بنیادی مقصد سے پورا کر سکتے ۔ انہوں نے ہمیں اپنے کام ، مثلاً انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد ہماری فوری مدد کے بغیر اگلے گاؤں تک پہنچانے کی صلاحیتوں سے حیران کر دیا۔ انھوں نے ایک ضرورت کا احساس کیا اور اور ان کے پاس اسے پورا کرنے کی صلاحیت تھی۔ درحقیقت، ہمیں یہ احساس بھی نہیں ہوا کہ ایسا ہونے والا ہے۔ خبریں اتحادی افواج کے آپریشن کے ختم ہونے کا اشارہ دیتی ہیں۔ تاہم، یہ اے- بی- پی کے لئے ان کے مشن میں اگلا قدم ہے۔ پولیس، اب تک اتحادی افواج سے بہت آگے، نے انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر امداد کے ساتھ لدی اگلے گاؤں کے لئے روانہ ہو چکی ہے اور مشن کو خود مختارانہ طور پر جاری رکھے ہوۓ ہے۔
|